امریکی جرائم اور شہر سدوم

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۹ مارچ ۱۹۹۸ء

گوجرانوالہ سے شائع ہونے والے ایک مسیحی جریدہ ماہنامہ ’’کلام حق‘‘ نے جنوری ۱۹۹۸ء کی اشاعت میں امریکہ کے ایک دانشور ڈاکٹر جم فال ویل کا یہ مقولہ نقل کیا ہے کہ ’’اگر خدا نے امریکہ کے گناہ معاف کر دیے تو خدا کو سدوم اور عمورہ سے معافی مانگنا ہوگی۔‘‘

سدوم اور عمورہ ان پانچ بستیوں میں سے ہیں جو حضرت لوط علیہ السلام کے زمانے میں اپنی بد اعمالیوں کی وجہ سے خدا کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ ان پر آسمان سے پتھروں کی بارش ہوئی، آگ برسی، اور پھر وہ زمین میں دھنس گئیں۔ آج بحیرۂ مردار اسی عذاب الٰہی کی نشانی کی صورت میں سطح زمین پر ان بستیوں کی تباہی کی یاد زندہ رکھے ہوئے ہے۔ سدوم، عمورہ، اومہ، خیبان، اور نفر نامی ان پانچ بستیوں میں سے صرف نفر کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ اس کے کھنڈرات خشکی پر پائے جاتے ہیں جبکہ باقی چاروں بستیاں بحیرۂ مردار میں غرق ہو چکی ہیں۔ ان بستیوں کے باشندوں کا قصور کیا تھا؟ قرآن کریم نے اس کا ذکر کرتے ہوئے دو باتوں کی بطور خاص نشاندہی کی ہے۔ ایک یہ کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کے پیغمبر حضرت لوط علیہ السلام پر ایمان لانے اور ان پر نازل ہونے والی آسمانی تعلیمات کو قبول کرنے سے انکار کر دیا تھا۔ اور دوسری یہ کہ وہ ’’ہم جنس پرستی‘‘ کی لعنت کا شکار ہوگئے تھے۔ حتیٰ کہ حضرت لوط علیہ السلام کو قوم کی تباہی کی خبر دینے کے لیے اللہ تعالیٰ کے فرشتے آزمائش کے طور پر خوبصورت لڑکوں کی شکل میں آئے تو پوری قوم ان کے گرد جمع ہوگئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کے معصوم پیغمبر کو اپنے مہمانوں کی عزت بچانے کے لیے بصد حسرت یہ کہنا پڑا تھا کہ الیس منکم رجل رشید کیا تم میں بات کو سمجھنے والا ایک آدمی بھی نہیں ہے؟

کہتے ہیں کہ تاریخ اپنے آپ کو دہراتی ہے اور ہم آج اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں کہ نسل انسانی کا ایک بڑا حصہ آسمانی تعلیمات سے انکار پر ڈٹا ہوا ہے اور ’’ہم جنس پرستی‘‘ کے مادر پدر آزاد کلچر اور ’’فری سیکس سوسائٹی‘‘ کا دائرہ پوری دنیا تک وسیع کرنے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اس کی قیادت امریکہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ اس دو نکاتی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے اپنی پوری توانائیاں ، وسائل اور صلاحیتیں وقف کر چکا ہے۔ امریکی نفسیات کو سمجھنے کے لیے اس کے ماضی پر ایک نظر ڈالنا ضروری ہے، اس لیے کہ امریکی ایک قوم نہیں ہیں۔ بلکہ امریکہ کے دریافت ہونے کے بعد یورپ کے مختلف ممالک کے ان مہم جو اور طالع آزما لوگوں نے ادھر کا رخ کیا جو اپنی اپنی سوسائٹیوں پر قناعت نہ کر سکے اور نئے دریافت شدہ براعظم میں جا کر ایک جتھے کی شکل اختیار کر گئے۔ انہوں نے اس خطہ کے اصل باشندوں کو دھکیلتے دھکیلتے ’’کارنر‘‘ کر دیا، حتیٰ کہ انہیں ان کی اصل شناخت سے محروم کر کے ’’ریڈ انڈین‘‘ کا مصنوعی نام دے دیا اور وہ آج اسی نام سے پکارے جاتے ہیں۔ ’’ریڈ انڈین‘‘ جو اس براعظم کے اصل باشندے ہیں آج قومی، سیاسی، تجارتی، اور عملی زندگی میں کہیں نظر نہیں آتے اور سوسائٹی کا جزو معطل بن کر رہ گئے ہیں۔ جبکہ یورپی آباد کاروں نے امریکہ کو اپنی من مانیوں کی آماجگاہ بنا رکھا ہے۔

پہلی جنگ عظیم کے بعد بوڑھے برطانوی استعمار کو عالمی معاملات پر اپنی گرفت ڈھیلی پڑتی دکھائی دی تو اس نے اس برخوردار کی اٹھتی جوانی کا سہارا لینے کی ضرورت محسوس کی۔ دوسری جنگ عظیم تک ’’ریشماں‘‘ جوان ہو چکی تھی اور نودریافت شدہ براعظم امریکہ میں یورپی آباد کاروں کا جتھہ ایک منظم قوم کی شکل اختیار کر کے عالمی معاملات سے چھیڑ چھاڑ کرنے کی پوزیشن میں آچکا تھا۔ چنانچہ اس نے ’’ہیروشیما‘‘ اور ’’ناگاساکی‘‘ پر ایٹم بم گرا کر عالمی سیاست میں اپنی آمد کا اعلان کیا۔ یہ امریکہ بہادر کا پہلا ’’عالمی تعارف‘‘ تھا جس کے بعد یہ نئی عالمی قوت اسی رخ پر آگے بڑھتی چلی گئی۔

امریکہ کا دوسرا عالمی کارنامہ اسرائیل کی سرپرستی ہے جہاں اس نے فلسطینیوں کو ان کے وطن سے بے دخل کر کے ’’ریڈ انڈین‘‘ کا تجربہ دہرانے اور یہودیوں کو وہاں آباد کر کے انہیں ناقابل شکست طاقت کی حیثیت دینے کا برطانوی منصوبہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ اور آج اسرائیل صرف اور صرف امریکہ کی پشت پناہی کی وجہ سے تمام تر اخلاقی، سیاسی، اور قانونی تقاضوں کو رد کرتے ہوئے فلسطینیوں کے وطن پر قابض ہے۔

امریکہ کا تیسرا تجربہ ’’ویت نام‘‘ میں گھسنے کا تھا جو بری طرح ناکام ہوا اور ’’ویت کانگ‘‘ نے جس عزیمت و جرأت کے ساتھ اپنے وطن کی آزادی کی حفاظت کی، اس کی یاد آتے ہی اب بھی امریکیوں کو جھرجھری آجاتی ہے۔

امریکہ کو ’’افغانستان‘‘ میں اس حد تک کامیابی ملی کہ اس کا سب سے بڑا عالمی حریف ’’سوویت یونین‘‘ بکھر گیا جس کے نتیجے میں مشرقی یورپ اور وسطی ایشیا میں ’’امریکہ بہادر‘‘ کو نئی شکار گاہیں میسر آگئیں۔ لیکن افغانیوں کی یہ حکمت عملی بھی کامیاب رہی کہ انہوں نے امریکہ کی ’’فوجیں‘‘ قبول کرنے کی بجائے اس کی مالی، سیاسی، اور عسکری امداد پر قناعت کر کے میدان جنگ اپنے ہاتھ میں رکھا۔ جبکہ روسی افواج کی واپسی کے بعد مختلف افغان گروپوں کو آپس میں الجھا کر اپنی مداخلت کا راستہ کھلا رکھنے کی امریکی پالیسی کو ’’طالبان‘‘ نے سبوتاژ کر دیا۔ آج امریکہ افغانستان کے حوالے سے حیران و پریشان ہے کہ ایک طرف اسے کابل پر طالبان کی حکومت کو ایران اور چین (سنکیانگ) کے خلاف حرکت میں لانے کے امکانات نظر آرہے ہیں جنہیں وہ ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ جبکہ دوسری طرف افغانستان میں طالبان کا واحد قوت کے طور پر آگے بڑھنا اور بے لچک اسلامی نظریاتی ریاست کا قیام اس کے لیے کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہے۔ اور امریکہ اقوام متحدہ کو آگے کر کے طالبان کو ان دو اہداف سے محروم کرنے کے لیے پورا زور صرف کر رہا ہے۔

امریکہ کا تازہ شکار عراق ہے جسے وہ ’’ایٹمی قوت‘‘ بننے کی کوشش کرنے کی سزا دے رہا ہے۔ اور اسرائیل کے ہاتھوں اس کی ایٹمی تنصیبات تباہ کرانے کے بعد سے مسلسل ایسے اقدامات میں مصروف ہے کہ عراق یا خلیج کا کوئی بھی ملک اسرائیل کے لیے فوجی خطرہ نہ بن سکے۔ امریکہ اس صورت حال کو خلیج میں اپنی فوجی موجودگی کا جواز بنانے کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے تاکہ تیل کے چشموں پر اس کا کنٹرول قائم رہے۔ اور ان مقاصد کے لیے اسے نہ صرف خلیج کی بادشاہتیں اور آمریتیں قبول ہیں بلکہ اسے اس خطہ کے عوام کے لیے ووٹ کا حق، رائے کی آزادی، اور دیگر سیاسی و شہری حقوق بحال کرانے سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں اس بات کا تذکرہ دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ لاہور میں امریکہ کے سابق قونصل جنرل مسٹر رچرڈ مکی نے ایک ملاقات میں بتایا کہ وہ سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض میں بھی سفارتی خدمات سر انجام دیتے رہے ہیں۔ راقم الحروف نے ان سے دریافت کیا کہ کیا وہاں بھی انہوں نے ’’شہری حقوق‘‘ کے لیے کبھی بات کی ہے؟ اس پر مسٹر رچرڈ مکی نے کانوں کو ہاتھ لگا کر کہا کہ ’’وہاں کون ایسی بات کر سکتا ہے‘‘۔ اور لطف کی بات یہ ہے کہ چور کا ہاتھ کاٹنے، زانی کو سنگسار کرنے، قاتل کو قصاص میں کھلے بندوں قتل کرنے، اور شرابیوں کو کوڑے مارنے کی جو شرعی سزائیں افغانستان میں امریکہ کے نزدیک بنیاد پرستی، رجعت پسندی اور تہذیب دشمنی کی علامت قرار پاتی ہیں، سعودی عرب میں انہی سزاؤں کے نفاذ اور ان پر عملدرآمد پر امریکہ کو کوئی ’’تکلیف‘‘ نہیں۔ بات کچھ لمبی ہوگئی ہے لیکن گفتگو جب امریکی جرائم کے حوالہ سے ہو رہی ہے تو چند بڑے جرائم کا مختصر تذکرہ ضروری تھا۔

امریکہ اور اس کے ’’ددھیال‘‘ یورپ کے داخلی معاشرتی جرائم کی فہرست اس سے کہیں زیادہ طویل ہے جہاں عصمت اور عزت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی، خاندانی سسٹم بکھر کر رہ گیا ہے، رشتوں کا تقدس پامالی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے، اولاد کے دھتکارے ہوئے بوڑھوں کے لیے ’’اولڈ پیپلز ہومز‘‘ کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بن بیاہی ماؤں اور نامعلوم باپوں کی اولاد کا تناسب بڑھتا جا رہا ہے، ’’ہم جنس پرستی‘‘ حقوق میں شمار کی جانے لگی ہے جس کے لیے باقاعدہ مظاہرے ہوتے ہیں اور قانون سازی کی جاتی ہے، چوری و ڈکیتی کی وارداتوں کے پچھلے سب ریکارڈ ٹوٹ چکے ہیں، اور آسمانی تعلیمات سے انحراف بلکہ انکار اور ان کا تمسخر اڑانے کی روش نے مہذب ہونے کی علامت کی حیثیت اختیار کر لی ہے۔

ان حالات میں اگر ڈاکٹر جم فال نے امریکہ کے گناہوں کا ذکر کرتے ہوئے سدوم اور عمورہ کا حوالہ دینا ضروری سمجھا ہے تو یہ کوئی خلاف واقعہ بات نہیں ہے۔ امریکہ آج کی دنیا میں سدوم اور عمورہ کے کلچر کا ہی نمائندہ ہے اور اگر اس نے اپنے طرز عمل پر نظر ثانی کی ضرورت محسوس نہ کی تو اسے سدوم اور عمورہ جیسے انجام سے کوئی نہیں بچا سکے گا۔ اس لیے کہ فطرت کے قوانین سب کے لیے یکساں ہوتے ہیں اور ان میں کبھی کوئی تبدیلی نہیں آتی۔

درجہ بندی: