معاشی خود کفالت کی اسلامی بنیادیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۸ جون ۱۹۹۸ء
اصل عنوان: 
معاشی خود کفالت اور چودہ سو سال پہلے کا ’’زیرو پوائنٹ‘‘

غزوۂ خیبر کے بعد مال غنیمت کی کثرت ہوئی اور سرسبز و شاداب علاقے بھی مسلمانوں کی تحویل میں آئے تو مدینہ منورہ کے عام لوگوں کی زندگی میں بہتری کے آثار نمودار ہوئے اور تنگی و عسرت کے دن پھرنے لگے۔ یہ دیکھ کر جناب رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات نے باہم مشورہ کیا کہ رسول اللہؐ سے تقاضہ کیا جائے کہ ہمارے حالات میں بھی کچھ بہتری آنی چاہیے اور خرچ اخراجات کا معاملہ پہلے سے کچھ سہولت والا ہونا چاہیے۔ سب ازواج نے مل کر جناب نبی اکرمؐ سے بات کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کے لیے ام المومنین حضرت عائشہؓ کو اپنا نمائندہ اور متکلم بنایا۔ انہوں نے بڑی حکمت اور دانشمندی کے ساتھ ازواج مطہراتؓ کی یہ درخواست حضورؐ کے گوش گزار کی لیکن پھر بھی درخواست الٹی پڑ گئی۔ رسول اللہؐ ناراض ہوگئے، اپنی بیویوں سے بول چال بند کر دی اور مسجد کے حجرہ میں گوشہ نشین ہوگئے۔ اتنے دن گزر گئے کہ شہر میں چہ مگوئیاں شروع ہوگئیں اور یہ افواہ پھیل گئی کہ رسول اللہؐ نے اپنی ازواجؓ کو طلاق دے دی ہے۔ آپؐ کی ازواج میں حضرت عمرؓ کی دختر حضرت حفصہؓ بھی تھیں، حضرت عمرؓ یہ سن کر تڑپ اٹھے اور بے چینی و اضطراب کے عالم میں اس حجرے کا رخ کیا جس میں آنحضرتؐ گوشہ نشین تھے۔ بڑی مشکل سے اندر جانے کی اجازت ملی، سامنے ہوتے ہی بے ساختہ پوچھا کہ کیا آپؐ نے اپنی بیویوں کو طلاق دے دی ہے؟ حضورؐ نے نفی میں سر ہلایا تو حضرت عمرؓ الٹے پاؤں واپس پلٹے، حجرہ سے نکل کر نعرۂ تکبیر بلند کیا اور لوگوں کو خوشخبری دی کہ طلاق والی افواہ غلط تھی۔ اس اطلاع پر لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور ان کے چہروں پر رونق واپس آئی۔

پھر سورۃ الاحزاب کی آیات نازل ہوئیں جن میں ازواج مطہراتؓ سے خطاب کر کے کہا گیا ہے کہ اگر وہ دنیا کی سہولت چاہتی ہیں تو وہ بھی مل سکتی ہے لیکن اس کے لیے انہیں پیغمبر خدا کا گھر چھوڑنا ہوگا۔ اور اگر وہ اسی مقدس گھر میں رہنا چاہتی ہیں تو جیسی تنگی ترشی کی زندگی پہلے سے گزارتی آرہی ہیں اسی پر قناعت کرنا ہوگی۔ چنانچہ انہیں اختیار دے دیا گیا کہ انہیں دنیا کی سہولتوں اور رسول اللہؐ کی رفاقت میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا کیونکہ یہ دونوں چیزیں ایک جگہ جمع نہیں ہو سکتیں۔ اس کے جواب میں سب سے پہلے ام المومنین حضرت عائشہؓ نے اور پھر باقی سب امہات المومنین نے رسول اللہؐ کی رفاقت میں رہنے کا اعلان کیا۔ اور یوں ان کا مدینہ منورہ کے عام لوگوں کی طرح کی سہولتوں کا تقاضہ بھی مسترد ہوگیا جو اسی بستی کی ان جیسی دوسری عورتوں اور انہی جیسے دوسرے گھروں کو میسر تھیں۔

سیرت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گھریلو زندگی فقر و فاقہ کی زندگی تھی۔ ام المومنین حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ حضورؐ کی زندگی میں کبھی ایسا نہیں ہوا کہ تین دن مسلسل عام قسم کی کھجوریں بھی پیٹ بھر کر کھانے کو ملی ہوں۔ ارباب دانش کا کہنا ہے کہ یہ فقر و فاقہ اختیاری تھا۔ رسول اللہؐ اگر چاہتے تو دنیاوی سہولتیں بے دام غلام کی طرح ہاتھ باندھے ان کے دروازے پر کھڑی نظر آتیں، لیکن نبی اکرمؐ نے فقر و فاقہ اور تنگی و عسرت کا راستہ اختیار کیا جو ان کی حکمت و دانش کا خوبصورت اظہار تھا ۔ اور اسی میں پوری امت کے لیے اور خاص طور پر حکمران طبقہ کے لیے سبق ہے جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبرؐ نے یہ تعلیم دی ہے کہ حکمران اور رہنما جس قدر سادہ زندگی گزاریں گے اور عام لوگوں کے قریب رہیں گے اسی قدر انہیں عام لوگوں کے مسائل اور مشکلات سے آگاہی حاصل ہوگی اور اس سوسائٹی کی اجتماعی نفسیات پر ان کی گرفت قائم رہے گی۔ یہی وجہ ہے کہ حضرات خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم نے اس معاملہ میں جناب نبی اکرمؐ کے اسوۂ حسنہ کو اپنانے کا بطور خاص اہتمام کیا اور انسانی تاریخ میں زندہ و جاوید ہوگئے۔

کہا جاتا ہے کہ متحدہ ہندوستان میں انگریزی عملداری کے تحت داخلی و خودمختاری فارمولا کے مطابق جب پہلی بار انتخابات ہوئے اور چند صوبوں میں کانگریس کی وزارتیں قائم ہوگئیں تو جناب گاندھی نے اپنے وزراء کو اس بات کی تلقین کی کہ اگر وہ حکمرانی میں کسی شخصیت کو بطور آئیڈیل سامنے رکھنا چاہتے ہیں تو اس کے لیے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ سب سے پہلی شخصیات ہیں۔ یہ تاریخ کا خراج عقیدت ہے جو خلفائے راشدینؓ کے حصے میں آیا اور اس کی وجہ ان کا کوئی کروفر یا بلند و بالا محلات اور پرشکوہ ایوان نہیں تھے بلکہ سادگی، قناعت اور فقر و فاقہ کی زندگی تھی۔ اس طرز زندگی نے انہیں اپنی ہی رعیت کے عام لوگوں سے ممتاز نہیں ہونے دیا تھا اور یہی ان کی کامیابی اور فخر و امتیاز کا سب سے بڑا راز ہے۔

خلفائے راشدینؓ نے قومی خزانے کو امانت کا درجہ دیا اور اس حد تک آگے چلے گئے کہ ایک بار امیر المومنین حضرت عمرؓ بیمار ہوگئے۔ بیماری کیا تھی کہ خشک روٹی کھاتے کھاتے انتڑیوں میں خشکی اور سوزش پیدا ہوگئی تھی۔ طبیب نے زیتون کا تیل بطور علاج تجویز کیا تو فرمایا کہ میرے پاس زیتون کا تیل استعمال کرنے کی گنجائش نہیں ہے۔ کسی نے کہا کہ زیتون کا تیل بیت المال میں موجود ہے اس میں سے لے لیں۔ حضرت عمرؓ نے بیت المال کے انچارج کو بلایا اور پوچھا کہ بیت المال میں زیتون کا جو تیل ہے اسے اگر مدینہ منورہ میں عام دستور کے مطابق تقسیم کیا جائے تو میرے حصے میں کتنا آئے گا؟ اس نے جواب میں جتنی مقدار بتائی وہ بہت تھوڑی تھی، طبیب نے کہا کہ اس سے کام نہیں چلے گا۔ اس پر امیر المومنین حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ اس سے زیادہ اس تیل پر میرا کوئی حق نہیں ہے۔ اور ساتھ ہی اپنے پیٹ پر ہاتھ مار کر کہا کہ ’’جتنا چاہے گڑگڑاتا رہ، تجھے وہی ملے گا جو مدینہ کے عام شہریوں کو ملتا ہے‘‘۔

یہ محض قصے کہانیاں نہیں کہ انہیں پڑھ سن کر ہم سر دھنتے رہیں اور ان بزرگوں کو خراج عقیدت پیش کر کے راہنمائی کے لیے دوسری قوموں کی لائبریریاں کھنگالنے میں لگ جائیں۔ یہ ہماری تاریخی روایات ہیں، شاندار ماضی ہے، راہنمائی کی اصل بنیادیں ہیں اور حکمت و دانش کے سرچشمے ہیں جو آج بھی ہمارے لیے مشعل راہ اور سنگ میل ہیں۔

آج ہمارے قائدین معاشی خودکفالت اور اقتصادی استحکام کا نعرہ لگا کر ملک کے نظام معیشت میں اصلاحات کی باتیں کر رہے ہیں، قناعت اور سادگی کی نوید سنائی جا رہی ہے، ایوان صدر، وزیرعظم اور گورنر ہاؤس چھوڑنے کے اعلانات ہو رہے ہیں اور قوم کے منتخب نمائندے بجٹ اور اقتصادی اصلاحات پر بحث و تمحیص میں مصروف ہیں۔ اس لیے ان سب سے گزارش ہے کہ جی چاہتا ہے تو آؤ ہم سب مل کر چودہ سو سال پہلے کے ’’زیرو پوائنٹ‘‘ پر واپس چلے جائیں اور وہاں سے ازسرِنو انہی خطوط پر اجتماعی زندگی کا آغاز کریں کیونکہ اس کے سوا سب فریب ہے۔

درجہ بندی: