اسلام کا نظامِ حکومت اور رائے عامہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۱ نومبر ۱۹۹۸ء

روزنامہ اوصاف کے مدیر محترم نے مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک نفاذ شریعت کے سربراہ مولانا صوفی محمد کے اس بیان کو اپنے ایک ادارتی شذرہ میں موضوع بحث بنایا ہے جس میں انہوں نے جمہوریت کو مغرب کی مسلط کردہ لعنت قرار دیتے ہوئے اس سے بیزاری کا اظہار کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ جمہوریت کا مروجہ نظام جس میں علامہ اقبالؒ کے نزدیک ’’بندوں کو گنا کرتے ہیں تولا نہیں کرتے‘‘ مغرب ہی کا عطیہ ہے اور یہ نظام اپنی تمام تر خوبیوں اور خامیوں سمیت اب اس مقام پر پہنچ گیا ہے کہ تاریخ کو پیچھے مڑ کر جمہوری نظام کے نفع و نقصان کے تناسب کا اندازہ کرنے کی ضرورت محسوس ہونے لگی ہے اور اس کے مداح بھی کبھی کبھی اس کی فریب کاریوں کا تذکرہ کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ لیکن اس سے قطع نظر ہم آج کی محفل میں جمہوریت اور اسلام کے حوالے سے ایک ’’کنفیوژن‘‘ کے بارے میں کچھ عرض کرنا چاہتے ہیں جو بسا اوقات ادھوری بات کی وجہ سے عام ذہنوں میں پیدا ہو جاتا ہے اور روزنامہ اوصاف کے مدیر محترم نے بھی غالباً اسی کنفیوژن کی طرف اشارہ کیا ہے۔

سوال یہ ہے کہ اگر اسلام جمہوری طرز حکومت کو تسلیم نہیں کرتا تو اس کے اپنے نظام میں حکومت کی تشکیل کا اصول کیا ہے؟ اور اگر اسلام حکومت کی تشکیل اور اسے چلانے میں رائے عامہ کی اہمیت کو تسلیم کرتا ہے اور عام لوگوں کے ساتھ مشاورت کو ضروری قرار دیتا ہے تو اسے جمہوریت قرار دینے میں کیا مضائقہ ہے؟

جہاں تک اسلام کے نظام مشاورت کو جمہوریت قرار دینے سے گریز کا تعلق ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ بہت سے مسلم دانشوروں کا موقف یہ ہے کہ ’’جمہوریت‘‘ اپنے لغوی معنوں کے لحاظ سے اسلام کے لیے کوئی ناپسندیدہ یا اجنبی چیز نہیں ہے اور مروجہ جمہوریت کی پیدائش سے صدیوں پہلے مسلم علماء اور محققین کی تصانیف میں ’’جمہور‘‘ کی اصطلاح مسلسل استعمال ہوتی چلی آرہی ہے۔ لیکن جب سے یہ لفظ اپنے لغوی مفہوم سے آگے بڑھ کر ایک مخصوص نظام کے لیے متعین ہوگیا ہے اور اس کے زبان پر یا تحریر میں آتے ہی ایک مخصوص سسٹم کا تصور ذہنوں میں آنے لگا ہے تو اس کے بعد اس لفظ کے لغوی معنوں کا کوئی اعتبار نہیں رہا۔ اور یہ معاملہ صرف اس لفظ کے ساتھ خاص نہیں بلکہ جو لفظ بھی اپنے لغوی معنوں میں عام رہنے کی بجائے کسی مخصوص مفہوم اور اصطلاح کے لیے متعین ہو جاتا ہے تو پھر اس کے بعد اس کے لغوی مفہوم کا اعتبار باقی نہیں رہتا۔ خود لفظ ’’اسلام‘‘ کو دیکھ لیجیے، یہ لفظ اپنے لغوی مفہوم کے لحاظ سے دنیا کے کسی بھی مذہب کے پیروکاروں کے لیے ناقابل قبول نہیں ہے۔ لیکن جب سے ’’اسلام‘‘ کا لفظ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لائے ہوئے دین کے لیے بولا جانے لگا ہے اور دین محمدؐ کے لیے مخصوص ہوگیا ہے تب سے دنیا کے کسی اور مذہب کا کوئی پیروکار اسے اپنے لیے استعمال کرنے کے لیے تیار نہیں ہے، اور یہ ایک اصولی بات ہے۔ اس لیے اگر مسلم علماء اور دانشور اسلام کے سیاسی نظام کے لیے ’’جمہوریت‘‘ کی اصطلاح کو پسند نہیں کرتے تو ان کا یہ طرز عمل بلا وجہ نہیں ہے کیونکہ اب یہ لفظ ایک متعین نظام کے لیے خاص ہوگیا ہے۔ اور آپ جب بھی ’’جمہوریت‘‘ کا لفظ بولیں گے تو عام ذہن کسی توقف کے بغیر مغربی نظام سیاست کی طرف مڑ جائے گا اور اس نظام سے ہٹ کر آپ اس لفظ کی جو تشریح بھی کرنا چاہیں گے خود جمہوریت کا لفظ اسے قبول نہیں کرے گا۔

لیکن اس مسئلہ کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ اسلام کے سیاسی نظام کے حوالے سے ’’جمہوریت‘‘ کی نفی کرنے والے حضرات بھی عام طور پر ادھوری بات کہتے ہیں جس سے کنفیوژن پیدا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہ یہ بات تو کہہ دیتے ہیں کہ مغربی جمہوریت کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ یہ وضاحت نہیں کرتے کہ خود اسلام میں حکومت کی تشکیل کا اصول کیا ہے اور حکومت کے قیام اور اسے چلانے میں رائے عامہ کو کیا مقام حاصل ہے؟ چنانچہ اس سلسلہ میں ایک دو اصولی باتیں قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔

پہلی بات یہ کہ اسلام میں سیاسی نظام کے لیے ’’خلافت‘‘ کی اصطلاح استعمال ہوئی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کا حاکم حکومت کا نظام چلانے میں جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کرتا ہے اور آنحضرتؐ کی لائی ہوئی تعلیمات کا پابند ہے اسی لیے اسے خلیفہ کہا جاتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ خلیفہ کا تقرر کون کرے گا؟ اس سلسلہ میں امت میں دو واضح مکتب فکر پائے جاتے ہیں، اہل تشیع اور اہل سنت۔

اہل تشیع کے بقول نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو اپنا جانشین نامزد کر دیا تھا، اسی وجہ سے اہل تشیع کی اذان میں حضرت علیؓ کے لیے وصی رسول اللہ یعنی رسول اللہؐ کے نامزد کردہ اور خلیفتہ بلا فصل کے الفاظ شامل ہوتے ہیں جو دراصل ان کے سیاسی نظام اور فلسفے کا اعلان ہوتا ہے۔ اہل تشیع کے نزدیک حضرت علیؓ کے بعد یہ سلسلہ جسے وہ ’’امامت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں ان کی اولاد میں مسلسل چلتا رہا تو ان کے بارہویں امام غائب ہوگئے تھے اور قیامت سے پہلے ان کا ظہور ہوگا جبکہ درمیان کا عرصہ امام کے غائب ہونے کا زمانہ کہلاتا ہے اور اس دوران ’’ولایت فقیہ‘‘ کا درجہ ہے جس کے تحت کوئی مذہبی شخصیت امام غائب کی نمائندگی کرتے ہوئے امت کی حکمران ہوتی ہے۔ چنانچہ ایران کے دستور کے مطابق یہ حیثیت پہلے جناب خمینی کو حاصل تھی اور اب اس مقام پر جناب خامنہ ای فائز ہیں جو امام غائب کے نمائندہ ہیں اور انہی کے اختیارات سے بہرہ ور ہیں۔ اہل تشیع کے نزدیک چونکہ امام کا تقرب من جانب اللہ ہوتا ہے اس لیے وہ امام معصوم ہوتا ہے اور شریعت کی تعبیر و تشریح میں ا سے فائنل اتھارٹی کی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

دوسرا مکتب فکر اہل سنت کا ہے جن کا موقف ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگرچہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بارے میں واضح اشارات دے دیے تھے لیکن نامزد کسی کو نہیں کیا تھا، آپؐ نے خلیفہ کا انتخاب امت کی عمومی صوابدید پر چھوڑ دیا تھا۔ چنانچہ عملاً بھی ایسا ہی ہوا کہ رسول اللہؐ کے وصال کے بعد عامۃ الناس کی رائے سے حضرت ابوبکرؓ کو حکمران چنا گیا۔ اس لیے علم عقائد و کلام کے ائمہ جب اسلام کے سیاسی نظام کے حوالے سے اہل سنت اور اہل تشیع کے مذاہب کا فرق بیان کرتے ہیں تو تین باتوں کا بطور خاص تذکرہ کرتے ہیں۔

  1. ایک یہ کہ اہل سنت کے ہاں یہ نظام ’’خلافت‘‘ کہلاتا ہے جبکہ اہل تشیع اسے ’’امامت‘‘ سے تعبیر کرتے ہیں۔
  2. دوسرا فرق یہ ہے کہ اہل سنت کے نزدیک خلافت کا قیام عامۃ الناس کی رائے سے عمل میں آتا ہے جبکہ اہل تشیع کے ہاں امامت موروثی ہے اور نامزدگی کے ذریعہ اس کا تعین ہوتا ہے۔
  3. اور تیسرا فرق یہ ہے کہ اہل سنت کے ہاں خلیفہ کو معصومیت کا درجہ حاصل نہیں ہوتا، وہ قرآن و سنت کی تصریحات کا پابند ہوتا ہے اور نئے پیش آمدہ معاملات میں متعلقہ حضرات کے ساتھ مشاورت اس کے فرائض میں شامل ہوتی ہے۔ جبکہ اہل تشیع کے نزدیک امام ’’معصوم‘‘ ہوتا ہے اور شریعت کی تعبیر میں اس کی رائے حتمی ہوتی ہے۔

اس کے بعد مملکت کا نظام چلانے کا معاملہ ہے، اس میں بھی یہی بات واضح ہے کہ قرآن و سنت کے صریح اور منصوص مسائل میں کسی کی رائے کا کوئی دخل نہیں اور اسے ہر حکومت ہر حالت میں بجا لانے کی پابند ہے۔ البتہ اس کے بعد دو قسم کے مسائل رہ جاتے ہیں۔ ایک وہ مسائل ہیں جن کا تعلق قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح سے ہے، ان کے بارے میں اہل علم کے ساتھ مشاورت اور ان کی راہنمائی ضروری ہے۔ اور دوسرے وہ مسائل جو عام لوگوں کے حقوق و معاملات اور روزمرہ پیش آمدہ امور سے متعلق ہیں، ان کے بارے میں عام لوگوں کو صلاح مشورہ میں شریک کرنا اور ان کی رائے پر فیصلہ دینا سنت نبویؐ بھی ہے اور خلفاء راشدینؓ کی سنت بھی ہے۔ حتیٰ کہ جناب نبی اکرمؐ نے تو غزوۂ احد پر خود اپنی رائے کے خلاف شرکاء مجلس کی رائے پر فیصلہ کر دیا تھا جس سے رائے عامہ کی اہمیت اور حیثیت کا سنت نبویؐ کی روشنی میں بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے۔ جناب رسول اللہ نے روز مرہ مسائل اور عام لوگوں کے حقوق و معاملات پر ان کے ساتھ براہ راست بھی مشورہ کیا ہے اور بالواسطہ بھی ہزاروں لوگوں کو مشاورت کے نظام میں شریک کیا ہے، جبکہ غزوہ حنین کے بعد قیدیوں کی واپسی کے مسئلہ پر مسلمانوں کے بارہ ہزار افراد پر مشتمل لشکر سے ان کی رائے ان کے نمائندہ ’’عرفاء‘‘ کے ذریعہ معلوم کر کے نبی اکرمؐ نے عوامی نمائندگی کے اصول کی توثیق فرما دی تھی۔

چنانچہ اگر علماء کرام جمہوریت سے بیزاری کے ساتھ یہ بھی فرما دیا کریں کہ اسلامی نظام میں اہل سنت کے نقطۂ نظر کے مطابق:

  1. حکومت کی تشکیل عوام کی رائے سے ہوتی ہے۔
  2. حکومت اور عوام قرآن و سنت کے منصوص اور صریح احکام کے یکساں پابند ہوتے ہیں۔
  3. قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح سے متعلقہ امور اہل علم کے مشورہ سے طے ہوتے ہیں۔
  4. عوام کے حقوق و معاملات اور روز مرہ پیش آمدہ امور کا فیصلہ اسلامی اصولوں کی روشنی میں براہ راست یا بالواسطہ نمائندگی کی صورت میں عام لوگوں کی رائے سے ہوتا ہے۔

تو اس سے نہ صرف یہ کہ کوئی کنفیوژن لوگوں کے ذہنوں میں پیدا نہیں ہوگا بلکہ اسلام کے سیاسی نظام کا ایک واضح نقشہ لوگوں کے سامنے آجائے گا اور وہ زیادہ اعتماد اور شرح صدر کے ساتھ اسلامی نظام کے حق میں آواز بلند کریں گے۔

درجہ بندی: