دینی مدارس کا نصاب تعلیم

دینی مدارس میں مروج نصاب تعلیم کو درس نظامی کا نصاب کہا جاتا ہے جو ملا نظام الدین سہالویؒ سے منسوب ہے۔ ملا نظام الدین سہالویؒ المتوفی (۱۱۶۱ھ)حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے معاصرین میں تھے۔ ان کا قدیمی تعلق ہرات (افغانستان)کے معروف بزرگ حضرت شیخ عبد اللہ انصاریؒ سے تھا۔ اس خاندان کے شیخ نظام الدینؒ نامی بزرگ نے یوپی کے قصبہ سہالی میں کسی دور میں درس وتدریس کا سلسلہ شروع کیا تھا اور پھر ان کے خاندان میں یہ سلسلہ نسل درنسل چلتا رہا۔ اکبر بادشاہ نے اپنے دور میں اس خاندان کو سہالی میں معقول جاگیر دے دی تھی جس کی وجہ سے خاندانی اور تدریسی نظام کسی رکاوٹ اور دقت کے بغیر چلتا رہا حتی کہ اورنگ زیب عالمگیرؒ کے دور میں سہالی کے شیخ زادوں نے کسی تنازع کی بنیاد پر اس خاندان کے بزرگ ملا قطب الدینؒ کو شہید کر کے ان کا گھر، سامان اور کتب خانہ جلا دیا اور اس خاندان کو سہالی کا قصبہ چھوڑنا پڑا۔ سلطان اورنگ زیب عالمگیرؒ نے ۱۱۰۵ھ میں لکھنؤ میں’’فرنگی محل‘‘ کے نام کی ایک کوٹھی انہیں الاٹ کی جو ان کی تدریسی اور علمی سرگرمیوں کا مرکز بن گئی اور علماء فرنگی محل کا وہ عظیم علمی خاندان پورے برصغیر میں متعارف ہوا جس میں ملا نظام الدین سہالویؒ ، مولانا عبد الحلیم فرنگی محلیؒ اور مولانا عبد الحئی فرنگی محلیؒ جیسے اکابر ومشاہیر کے نام بھی شامل ہیں۔

اس دور میں برصغیر میں فقہ اور معقولات کی تعلیم کا دور دورہ تھا اور فرنگی محل کے علما ان دونوں علوم میں نمایاں ا ور امتیازی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا اپنا ایک انداز تعلیم تھا اور تعلیمی نصاب بھی خود ان کا اپنا طے کردہ تھا۔ یہ نصاب تعلیم دراصل اس خاندان کے مسلسل تجربات کا نچوڑ اور حاصل تھا جسے ملا نظام الدین سہالویؒ نے مرتب شکل میں پیش کیا اور اسی وجہ سے ان سے منسوب ہو کر ’’درس نظامی‘‘ کہلایا۔ اس نصاب میں درج ذیل گیارہ علوم وفنون میں اس دور کی بہترین کتابیں شامل کی گئیں:

  1. صرف
  2. نحو
  3. منطق
  4. حکمت و فلسفہ
  5. ریاضی
  6. بلاغت
  7. فقہ
  8. اصول فقہ
  9. علم کلام
  10. تفسیر قرآن
  11. حدیث

اس نصاب کے ساتھ اس خاندان کا طرز تدریس روایتی اور کتابی تھا جس میں کتاب کا متن، حاشیہ اور حاشیہ در حاشیہ سمجھنے اور حل کرنے کی صلاحیت بڑھانے پر زور دیا جاتا تھا اور کتاب کے نفس مضمون کی بہ نسبت اس کے دیگر متعلقات وتفصیلات کی طرف استاذ اور شاگرد کی توجہ زیادہ ہوتی تھی۔ اس طرز تدریس کی افادیت یہ تھی کہ اس سے ذہن وفکر کو تعمق اور گہرائی حاصل ہوتی تھی اور مطالعہ واستنباط کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا تھا۔ چنانچہ ۱۸۵۷ء کی جنگ آزادی میں مسلمانوں کی ناکامی اور پورے جنوبی ایشیا میں صدیوں سے چلے آنے والے ہزاروں دینی مدارس کی یک لخت بندش وخاتمہ کے بعد جب حضرت مولانا محمد قاسم نانوتویؒ ، حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ اور حضرت حاجی عابد حسینؒ جیسے بزرگوں نے ضلع سہارنپور کے قصبہ دیوبند میں رضاکارانہ چندہ اور امداد باہمی کی بنیاد پر ۱۸۶۵ء میں مدرسہ عربیہ کے نام سے ایک نئی درس گاہ قائم کی تو اس میں درس نظامی کے اسی نصاب کو تعلیم وتدریس کے نئے سلسلہ کی بنیاد بنایا اور یہی سلسلہ آگے چل کر پورے جنوبی ایشیا میں آزاد دینی مدارس کے ایک وسیع نظام کا نقطہ آغاز قرار پا گیا۔ مگر دیوبند کے حضرات نے درس نظامی کے نصاب کو من وعن قبول نہیں کیا بلکہ اس میں اس وقت کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے ترمیم واضافہ بھی کیا۔ ان حضرات کا علمی وفکری تعلق حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ سے تھا اور جہاد بالاکوٹ کی ناکامی کے باعث ولی اللہی خاندان کے مسند نشین حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ کی حجاز مقدس کی طرف ہجرت کے بعد اس خاندان کے علمی ورثہ اور فکری مشن کے یہی حضرات وارث تھے اس لیے انہوں نے دونوں علمی سرچشموں کے درمیان سنگم اور پل کی حیثیت اختیار کر لی اور درس نظامی کے مذکورہ نصاب کے ساتھ شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے علوم وفلسفہ کا جوڑ لگا کر ایک ایسا نصاب تعلیم رائج کیا جو تھوڑے بہت رد ودبدل کے ساتھ جنوبی ایشیا کے اکثر دینی مدارس میں اس وقت بھی رائج ہے اور اب تک مختلف ادوار اور مختلف حلقوں کی ترامیم اور اضافہ کے باوجود ’’درس نظامی‘‘ ہی کہلاتا ہے۔

دار العلوم دیوبند نے جب اس نصاب کو اپنایا تو اس وقت کی ضروریات کو سامنے رکھتے ہوئے اس میں دو بنیادی تبدیلیاں کیں۔ ایک یہ کہ درس نظامی کے پرانے نصاب میں حدیث کی صرف ایک کتاب، مشکوۃ شریف تھی لیکن حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کی تعلیمات وارشادات کو سامنے رکھتے ہوئے دیوبند کے نصاب میں صحاح ستہ یعنی بخاری ، مسلم ، ابو داؤد ، ترمذی ، ابن ماجہ اور نسائی کو بھی شامل کر لیا گیا۔ یہ اس وقت کی اہم ضرورت تھی جسے دیوبند کے اکابر نے محسوس کرتے ہوئے نصاب کے اندر سمودیا۔ اسی طرح جہاد بالاکوٹ کے بعد جب حضرت شاہ محمد اسحاق دہلویؒ ہجرت کر کے حجاز مقدس چلے گئے تو ان کی جگہ دہلی کی مسند حدیث پر حضرت میاں نذیر حسین محدث دہلویؒ متمکن ہوئے جن کا رجحان حنفیت سے گریزاں اس مکتب فکر کی طرف تھا جو بعد میں اہل حدیث کے نام سے موسوم ہوا۔ ظاہر ہے کہ حدیث کی تعلیم میں ان کے ہاں انہی احادیث وروایات کی ترجیح کا پہلو غالب ہونا تھا جو ان کے رجحانات سے مطابقت رکھتا تھا اس لیے یہ تاثر عام ہونے لگا کہ حدیث نبویؐ اور فقہ حنفی الگ الگ بلکہ ایک دوسرے کے مقابل علوم کا نام ہے۔ اس تاثر کو دور کرنے کے لیے حضرت مولانا رشید احمد گنگوہیؒ نے حدیث کی تعلیم وتدریس کے دوران فقہ حنفی کے مسائل واحکام کے احادیث نبویہؐ سے اثبات اور ان کی ترجیح کے طرز کو اپنایا جسے بعد میں حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ اور حضرت مولانا خلیل احمد سہارنپوریؒ نے کمال تک پہنچا دیا۔

ان دو تبدیلیوں میں سے ایک کا تعلق نصاب میں اضافہ سے ہے اور دوسری تبدیلی طرز تدریس سے تعلق رکھتی ہے جو ظاہر ہے اس وقت کی ضروریات اور تقاضوں کو سامنے رکھتے ہوئے عمل میں لائی گئیں لیکن اس کے بعد نصاب اورطرز تعلیم پر جمود کی ایسی مہر ثبت کر دی گئی کہ زمانے کی ضروریات اور تقاضوں سے آنکھیں بند کر لینے کوہی عافیت کا واحد ذریعہ سمجھ لیا گیا حتی کہ بڑے بڑے اکابر چیختے چلاتے رہ گئے مگر مدارس دینیہ کے ارباب حل وعقد کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اس سلسلہ میں ارباب مدارس کے بھی کچھ تحفظات اور مجبوریاں ہیں جو ہمارے پیش نظر ہیں اور ہم نے اپنے مضامین میں ان کا تفصیل سے ذکر کیا ہے لیکن ان تحفظات اور مجبوریوں کے دائرے قائم رکھتے ہوئے بھی جو ضروری ترامیم اور اضافے آسانی کے ساتھ ہو سکتے تھے، بدقسمتی سے انہیں بھی نظر انداز کر دیا گیا اور ابھی تک مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔

حضرت مولانا محمد منظور نعمانی رحمہ اللہ تعالی ہمارے دور کے اکابر علما میں سے تھے اور ان کا شمار حضرت علامہ سید محمد انور شاہ کشمیری رحمہ اللہ تعالی کے ابتدائی دور کے مایہ ناز شاگردوں میں ہوتا ہے جب حضرت شاہ صاحبؒ دار العلوم دیوبند میں پڑھایا کرتے تھے۔ مولانا نعمانی اپنی خود نوشت میں لکھتے ہیں کہ جس سال وہ دورۂ حدیث سے فارغ ہوئے تو حضرت شاہ صاحبؒ نے دورۂ حدیث کے طلبہ کو رخصت کرنے سے قبل ایک خصوصی نشست میں ہدایات اور نصائح سے نوازا جن میں سب سے اہم نصیحت یہ تھی کہ اگر اسلام کی دعوت وتبلیغ کا کام صحیح طریقے سے کرنا چاہتے ہو تو اس کے لیے انگریزی زبان سیکھنا ضروری ہے۔ اس واقعہ کو پون صدی گزر چکی ہے مگر ہمارے مدارس اب بھی انگریزی زبان کے بارے میں تردد کا شکار ہیں کہ سرے سے اس کی ضرورت بھی ہے یا نہیں؟

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیز نے بھی اس مسئلے پر بہت کچھ فرمایا مگر ان کی آواز بھی صدا بصحرا ثابت ہوئی۔ میں اس موقع پر ان کے دو تین ارشادات نقل کرنا چاہوں گا جس سے بخوبی اندازہ ہو جائے گا کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام میں تبدیلی کی ضرورت پر اکابر علما کے احساسات اور اس کے ارباب اختیار کے ذہنی وفکری جمود کے درمیان کتنا فاصلہ تھا۔

حضرت تھانویؒ قرآن کریم کی تدریس کے مروجہ طرز پر گفتگو کرتے ہوئے فرماتے ہیں:

’’قرآن شریف کا طرز عام مصنفین کے طرز پر نہیں ہے بلکہ محاورہ بول چال کا طرز ہے۔ نہ اس میں اصطلاحی الفاظ کی پابندی۔ ناواقف لوگ اس کو عام تصانیف کے طریقہ پر منطبق کرنا چاہتے ہیں اس لیے سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ اس مضمون کو صاحب کشاف نے بھی لکھا ہے۔ اس لیے میں کہا کرتا ہوں کہ ضروری صرف ونحو اور کسی قدر ادب پڑھا کر قرآن شریف کا سادہ پڑھا دینا مناسب ہے کیونکہ کتب درسیہ کی تحصیل کے بعد دماغ میں اصطلاحات رچ جاتی ہیں پھر طالب علم قرآن شریف کو اسی طرز پر منطبق کرنے لگتا ہے۔ اس طرح قرآن شریف کا ترجمہ پڑھ کر پھر فنون ضرور پڑھے کیونکہ بعض مقامات قرآنیہ بغیر فنون کے حل نہیں ہوتے‘‘ (کلام الحسن ص ۳۲)

اسی مسئلہ کو ایک اور انداز میں یوں بیان فرماتے ہیں کہ

’’اہل مدارس طرز تعلیم میں کچھ ترمیم کریں۔ جیسے بعض متون بغیر شرح کے پڑھائی جاتی ہیں، اسی طرح جلالین سے پہلے قرآن مجید بھی بغیر کسی خاص تفسیر کے زبانی حل کے ساتھ پڑھایا جایا کرے۔ یا تو پورا قرآن پہلے پڑھا دیا جائے یا ایسا کریں کہ مثلا ربع پارہ اول خالی قرآن کریم میں پڑھا دیا جائے پھر اسی قدر جلالین پڑھا دی جائے اور مدرس اپنی سہولت کے لیے خواہ جلالین اپنے پاس رکھے یا اور کوئی مبسوط تفسیر۔ تو طلبہ کو پڑھنے میں، اسی طرح یاد کرنے کی اور مطالعہ کر کے حل کرنے کی عادت پڑ جائے گی‘‘ (اصلاح انقلاب ص ۴۷)

جبکہ نصاب میں ضروری اضافوں کے حوالے سے حضرت تھانویؒ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ:

’’یہ میری بہت پرانی رائے ہے اور اب تو رائے دینے سے بھی طبیعت افسردہ ہو گئی اس لیے کہ کوئی عمل نہیں کرتا۔ وہ رائے یہ ہے کہ تعزیرات ہند کے قوانین اور ڈاک خانہ اور ریلوے کے قواعد بھی مدارس اسلامیہ کے درس میں داخل ہونے چاہییں۔ یہ بہت پرانی رائے ہے مگر کوئی مانتا اور سنتا ہی نہیں۔‘‘ (الافاضات الیومیہ، جلد ششم، ص ۴۳۵)

حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی قدس اللہ سرہ العزیزکے ان ارشادات کو نقل کرنے کا مقصد یہ ہے کہ دینی مدارس کے نصاب ونظام اور طرز تدریس دونوں میں تبدیلی اور وقت کی ضروریات کو ان میں سمونے کی ضرورت کا احساس بہت پرانا ہے اور اس کا اظہار بڑے بڑے اکابر نے کیا ہے لیکن دوسری طرف مدارس کے ارباب حل وعقد کے جمود کی بھی داد دیجیے کہ حضرت تھانویؒ جیسے بزرگ کو بھی اس حسرت کے ساتھ سپر انداز ہونا پڑا ہے کہ ’’کوئی مانتا اور سنتا ہی نہیں‘‘۔

ہمارے دور میں اس مسئلہ پر سب سے زیادہ بحث حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز نے کی ہے اور درجنوں مضامین ومقالات میں انہوں نے نصاب تعلیم اور طرز تدریس میں وقت کے تقاضوں کے مطابق تبدیلی کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ ان کا ارشاد ہے کہ نصاب میں تین طرح کی تبدیلیوں کی ضرورت ہے:

  1. تخفیف، یعنی بھاری بھرکم نصاب کو کچھ ہلکا کیا جائے اور ایک ہی فن میں درجنوں کتابیں الگ الگ پڑھانے کے بجائے تین چار اہم اور زیادہ مفید کتابوں کی تعلیم دی جائے-
  2. تیسیر، یعنی مشکل پسندی کا طریقہ ترک کر کے غیر متعلقہ مباحث میں طلبہ کے ذہنوں کو الجھانے کے بجائے نفس کتاب اور نفس مضمون کی تفہیم کو ترجیح دی جائے۔
  3. اثبات وترمیم، یعنی غیر ضروری فنون کو حذف کر کے جدید اور مفید علوم کو شامل کیا جائے۔ حضرت بنوریؒ نے اس سلسلہ میں جن نئے علوم کو نصاب میں شامل کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے، ان میں (۱) تاریخ اسلام، (۲) سیرت النبیؐ، (۳) جدید عربی ادب و انشا، (۴) جدید علم کلام، (۵) ریاضی اور (۶) معاشیات بطور خاص قابل ذکر ہیں۔

اس مسئلہ پر حضرت مولانا ابو الکلام آزادؒ نے بھی بحث کی ہے اور انہوں نے ۲۲ فروری ۱۹۴۷ء کو لکھنؤ میں عربی مدارس کے نصاب کے بارے میں ایک کمیٹی کی صدارت کرتے ہوئے جو خطبہ ارشاد فرمایا، وہ ہمارے نصاب ونظام پر ایک جامع اور مکمل تبصرہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اس موضوع سے دل چسپی رکھنے والے ہر شخص کو اس کا بار بار مطالعہ کرنا چاہئے۔ یہ خطبہ صدارت ادارہ نشریات اسلام اردو بازار لاہورکے طبع کردہ ’’خطبات آزادؒ ‘‘ میں موجود ہے اور ہم نے بھی ماہنامہ الشریعہ کے نومبر ۱۹۹۳ء کے شمارے میں اسے شائع کیا ہے۔ اس مختصر مضمون میں اس کے تمام ضروری مباحث اور پہلوؤں کا تذکرہ تو ممکن نہیں ہے مگر دو اقتباسات ضرور پیش کرنا چاہوں گا تاکہ وقت کی ضروریات اور تقاضوں سے ہماری بے خبری بلکہ بے پروائی کا کچھ اندازہ ہو سکے۔

’’حضرات ! مجھے معاف کیا جائے۔ ۱۴ تا ۱۵ برس تک لڑکے پڑھتے ہیں اور دس سطریں عربی کی صلاحیت کے ساتھ نہیں لکھ سکتے۔ اگر لکھیں گے تو ایسی عربی ہوگی جس کو ایک عرب نہ پہچان سکے گا۔ تو یہ ایک بہت بڑا نقص ہے جو ہندوستان میں پیدا ہوا۔ ضرورت ہے کہ عربی کی تعلیم کی نیو نئے سرے سے قائم کریں۔ بہترین کتابیں موجود ہیں، بہترین مواد موجود ہے، ایسی کتابیں موجود ہیں کہ عربی ادب کے معجزات میں جن کا شمار ہو سکے۔‘‘

اسی خطبہ میں مولانا آزادؒ فرماتے ہیں:

’’میں نے بھی پھٹی ہوئی چٹائیوں پر بیٹھ کر انہی کتابوں کو پڑھا ہے اور میری ابتدائی تعلیم کا وہ سرمایہ ہیں۔ ایک منٹ کے لیے بھی میرے اندر مخالفت کا خیال نہیں پیدا ہو سکتا مگر میرا دل اس بارے میں زخمی ہے۔ یہ معاملہ تو ایسا تھا کہ آج سے ایک سو برس پہلے ہم نے اس چیز کو محسوس کیا ہوتا اور اس حقیقت کو تسلیم کیا ہوتا کہ اب دنیا کہاں سے کہاں آ گئی ہے اور اس کے بارے میں کیا تبدیلی ہمیں کرنا ہے لیکن اگر سو برس پہلے ہم نے تبدیلی نہیں کی تو کم از کم یہ تبدیلی ہم کو پچاس برس پہلے کرنا چاہئے تھی۔ لیکن آج ۱۹۴۷ء میں اپنے مدرسوں میں جن چیزوں کو ہم معقولات کے نام پر پڑھا رہے ہیں، وہ وہی چیزیں ہیں جن سے دنیا کا دماغی کارواں دو سو برس پہلے گزر چکا۔ آج ان کی دنیا میں کوئی جگہ نہیں ہے۔‘‘

الغرض دینی مدارس کی تمام تر خدمات، قربانیوں، ایثار اور تاریخی کردار کے باوجود آج کے دور کے تقاضوں اور ضروریات کے حوالے سے ان کے نصاب ونظام میں ضروری رد وبدل اور مناسب ترمیم واضافہ وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے جس کی طرف اکابر علماء حق ہر دور میں توجہ دلاتے چلے آ رہے ہیں اور ہماری گزارش بھی یہی ہے کہ وقت کے تقاضوں کو محسوس کیا جائے، دینی ضروریات کو سامنے رکھا جائے اور مستقبل کے امکانات وخطرات کا ادراک کرتے ہوئے باہمی مشاورت کے ساتھ جو تبدیلی بھی ناگزیر ہو ،اسے اختیار کرنے میں تامل سے کام نہ لیا جائے۔ اس سلسلہ میں دینی مدارس کے سینئر اساتذہ اور دور حاضر کے مسائل وضروریات پر نظر رکھنے والے ارباب علم ودانش کے درمیان وسیع پیمانے پر مذاکروں اور مباحثوں کی ضرورت ہے۔ ایک دوسرے کے نقطہ نظر کو سنجیدگی کے ساتھ سننے اور اس کی روشنی میں تمام پہلوؤں کا جائزہ لیتے ہوئے قدم بڑھانے کی ضرورت ہے۔ خدا کرے کہ ہمارے ارباب مدارس اس ضرورت کا جلد احساس کریں اور اسے پورا کرنے کے لیے حوصلہ اور جرات کے ساتھ پیش رفت کر سکیں۔ آمین یا رب العالمین

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
اپریل ۲۰۰۱ء