مروجہ قوانین کی اسلامائزیشن کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۶ دسمبر ۱۹۹۸ء
اصل عنوان: 
صدرِ مملکت اور اسلامی نظریاتی کونسل

صدر مملکت جناب محمد رفیق تارڑ نے گزشتہ دنوں اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت سپریم کورٹ سے اپنی وہ اپیل واپس لے لے گی جو اس نے سودی قوانین کو غیر اسلامی قرار دینے کے بارے میں وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے خلاف دائر کر رکھی ہے۔ جبکہ اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر شیر زمان نے صدر سے یہ استدعا کی تھی کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارش کے مطابق یہ رٹ واپس لے لی جائے کیونکہ سودی نظام کو جاری رکھنے پر اصرار قرآن کریم کے ارشاد کی رو سے اللہ تعالیٰ اور رسول کریمؐ کے خلاف اعلان جنگ کرنے کے مترادف ہے۔

کونسل کے چیئرمین نے کونسل کی طرف سے دیگر سفارشات بھی اس موقع پر صدر مملکت کے گوش گزار کی ہیں۔ ان میں اتوار کی ہفتہ وار تعطیل ختم کر کے جمعہ کی چھٹی بحال کرنے اور ملک میں رائج جوئے کی مختلف صورتوں کو ختم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔ اور اس کے ساتھ یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ پارلیمنٹ میں قرآن و سنت کے منافی قانون سازی کو روکنے کے لیے یہ طریق کار اختیار کیا جائے کہ اسمبلی یا سینٹ میں کوئی بل بحث کے لیے منظور ہو تو اسے متعلقہ ایوان کی مجلس قائمہ کے ساتھ ساتھ اسلامی نظریاتی کونسل کو بھی ریفر کر دیاجائے تاکہ کونسل اس کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں بروقت رائے دے سکے۔

اسلامی نظریاتی کونسل ایک آئینی ادارہ ہے جو 1973ء کے دستور کے تحت قائم کیا گیا تھا۔ اس کونسل کے ذمہ یہ کام لگایا گیا تھا کہ وہ سات سال کی مقررہ مدت کے اندر ملک کے تمام مروجہ قوانین کا جائزہ لے کر ان کے بارے میں قرآن و سنت کی روشنی میں رپورٹ پیش کرے تا کہ اگر کوئی قانون یا کسی قانون کی کوئی دفعہ قرآن و سنت سے متصادم ہے تو اس میں ترمیم کر کے اسے قرآن و سنت کے مطابق بنایا جا سکے۔ اور اس طرح دستور کی فراہم کردہ اس ضمانت کی عملی صورت سامنے آئے کہ ملک میں رائج تمام قوانین کو قرآن و سنت کے سانچے میں ڈھال دیا جائے گا اور آئندہ کوئی قانون قرآن و سنت کے خلاف نہیں بنایا جا سکے گا۔

1973ء کے دستور کے نفاذ کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی تشکیل عمل میں آئی تو سات سال کی دستوری مدت پوری ہونے سے پہلے ہی بھٹو حکومت رخصت ہوگئی اور دستور معطل کر دیا گیا۔ اس کے بعد اسلامی نظریاتی کونسل کی ازسرِنو تشکیل ہوئی اور اس کے ڈھانچے میں کئی بار تبدیلیاں ہوئیں مگر صدر ضیاء الحق مرحوم کے 90 دن کی طرح اسلامی نظریاتی کونسل کے سات سال بھی لمبے ہوتے چلے گئے۔ اس دوران اسلامی نظریاتی کونسل نے مروجہ قوانین کے جائزے اور متبادل اسلامی قوانین کی ترتیب کا بہت سا کام کیا۔ بالخصوص جسٹس (ر) ڈاکٹر تنزیل الرحمن کی چیئرمین شپ کے دور میں کونسل نے خاصا کام نمٹا دیا مگر وہ حتمی رپورٹ تیار نہ کر سکی جو دستور کے نفاذ کے بعد سات سال کے اندر پیش کرنا ضروری تھی۔ اور جس رپورٹ کے پیش ہونے کے بعد پارلیمنٹ دستوری طور پر پابند ہے کہ وہ دو سال کے اندر اس رپورٹ کو قانون کی شکل دے اور اس کے مطابق ضروری قانون سازی کرے۔ چنانچہ طویل انتظار کے بعد جناب اقبال احمد خان کی چیئرمین شپ کے دور میں اسلامی نظریاتی کونسل نے حتمی رپورٹ مکمل کر کے حکومت کو پیش کردی۔

اب دستور کے مطابق ملک میں رائج تمام قوانین کے بارے میں اسلامی نظریاتی کونسل کی مکمل رپورٹ پارلیمنٹ کے سپرد کی جا چکی ہے جس میں متعدد قوانین اور ان کی مختلف شقوں کا جائزہ لے کر ان کی شرعی حیثیت کا تعین کر دیا گیا ہے۔ اور کونسل نے جن قوانین اور دفعات کو قرآن و سنت سے متصادم محسوس کیا ہے ان کی جگہ متبادل قوانین کے مسودہ جات بھی رپورٹ میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ دستور کے مطابق پارلیمنٹ اس بات کی پابند ہے کہ حتمی رپورٹ اس کے حوالے ہونے کے بعد دو سال کے اندر اس کے مطابق قانون سازی کرے۔ اس طرح قوم کا یہ دیرینہ خواب کسی حد تک پورا ہوتا نظر آرہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ پاکستان کو اس کے بنیادی نظریہ اور مقصد قیام کے مطابق غیر اسلامی قوانین سے نجات مل جائے۔

مگر گزشتہ دنوں اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا سید امیر حسین گیلانی نے ایک ملاقات کے دوران بتایا کہ اندرون خانہ اس رپورٹ کو نظر ثانی کے بہانے ایک بار پھر اسلامی نظریاتی کونسل کے پاس واپس بھجوانے کی سازش ہو رہی ہے جس کا مقصد یہ معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح رپورٹ کی تیاری میں سات سال کی بجائے کم و بیش ربع صدی کا وقت صرف ہوگیا ہے، اسی طرح نظر ثانی کے نام پر بھی کچھ وقت اور حاصل کر لیا جائے اور قوانین کی اسلامائزیشن کا یہ عمل جتنا مؤخر ہو سکے اسے غنیمت سمجھا جائے۔ اگر یہ بات درست ہے اور اسلامی نظریاتی کونسل کی رپورٹ کو پارلیمنٹ کے فلور پر آجانے کے بعد پھر نظر ثانی کے لیے کونسل کو بھجوانے کی کوئی تجویز واقعی چل رہی ہے تو یہ تجویز انتہائی افسوسناک ہے اور اسے دستور کے اسلامی تقاضوں سے انحراف اور اسلامائزیشن کے خلاف مکروہ سازش کے علاوہ اور کوئی عنوان نہیں دیا جا سکتا۔

اس لیے ہم صدر محترم سے اس موقع پر یہ گزارش ضروری سمجھتے ہیں کہ وہ اس صورتحال پر ذاتی طور پر نظر رکھیں، وہ ملک کے سربراہ ہیں اور انہوں نے دستور کے تحفظ اور پاسداری کا حلف اٹھا رکھا ہے، اور وہ شخصی طور پر بھی ایک متدین، باشعور نظریاتی، اور عملی مسلمان کا تعارف رکھتے ہیں۔ اس لیے اسلامی نظریاتی کونسل کے مذکورہ اجلاس میں کونسل کے چیئرمین نے کونسل کی طرف سے جو سفارشات اور تجاویز ان کے گوش گزار کی ہیں وہ حکومت کو ان پر عملدرآمد کے لیے تیار کریں، اور خود انہوں نے سود کی اپیل کے بارے میں کونسل کے فورم پر جو وعدہ کیا ہے اس کو پورا کرنے کا اہتمام کریں۔ صدر مملکت اس بات کی کڑی نگرانی فرمائیں کہ اسلامی نظریاتی کونسل کی حتمی رپورٹ کو پارلیمنٹ کے فلور سے کونسل کے پاس نظر ثانی کے بہانے واپس بھجوانے کی کوئی سازش پروان نہ چڑھ سکے اور دستور کے مطابق پارلیمنٹ اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر دو سال کے اندر قانون سازی کرے۔