حلال و حرام کا فرق اور عام مسلمان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۷ دسمبر ۱۹۹۸ء

گزشتہ روز مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ میں ظہر کی نماز سے قبل اپنے دفتر میں بیٹھا تھا کہ دو اصحاب تشریف لائے۔ ان میں سے ایک ہمارے قریبی محلہ کے رہنے والے ہیں، انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ پوچھنے آئے ہیں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ایک دوست نے، جو یورپ کے ایک ملک میں رہتا ہے، لا علمی میں اس جانور کا گوشت کھا لیا ہے جس کا نام بھی نہیں لینا چاہیے۔ اب اس کا کیا حکم ہے اور اسے اس کی تلافی کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ میں نے عرض کیا کہ اگر لاعلمی میں کھایا ہے تو اس کا قصور نہیں ہے، البتہ اس بے احتیاطی پر اسے توبہ استغفار کرنی چاہیے کیونکہ کوئی چیز کھاتے وقت ایک مسلمان کو اس کے بارے میں باخبر ہونا چاہیے۔ اس جواب پر ان دوستوں کا اطمینان نہ ہوا، پھر پوچھنے لگے کہ اس شخص پر کوئی کفارہ تو نہیں؟ میں نے کہا کہ شرعاً تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے مگر وہ اپنے اطمینان کے لیے کچھ صدقہ خیرات کرنا چاہتا ہے تو کر دے، اس کی تسلی ہو جائے گی اور کسی غریب کا بھلا بھی ہو جائے گا۔ ان دوستوں کو اس پر بھی اطمینان نہ ہوا، ان کا تیسرا سوال یہ تھا کہ کیا اس کے نکاح پر تو کوئی اثر نہیں ہوا؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں نکاح پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ اس سوال و جواب کے بعد وہ حضرات یہ کہتے ہوئے رخصت ہوگئے کہ ہم اس مسئلہ میں بے حد پریشان تھے، آپ نے ہماری پریشانی دور کر دی۔

وہ حضرات تو چلے گئے مگر میں سوچ کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈبکیاں کھانے لگا۔ میرے لیے یہ بات خوشی کی تھی کہ مسلمانوں میں حلال و حرام کا تصور نہ صرف موجود ہے بلکہ اس قدر راسخ ہے کہ ایک حرام جانور (خنزیر) کا نام زبان پر لاتے ہوئے بھی ایک عام مسلمان کو ہچکچاہٹ محسوس ہوتی ہے۔ وہ لاعلمی میں اس کا گوشت معدہ میں چلے جانے پر اس کی تلافی کے لیے کفارہ دینے کے لیے تیار ہو جاتا ہے، اور کسی ایسے شخص سے جسے وہ عالم دین سمجھتا ہے رجوع کیے بغیر اسے اطمینان کی کیفیت حاصل نہیں ہوتی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حلال و حرام کے تصور سے آزاد ’’فری سوسائٹی‘‘ کا جو فلسفہ گزشتہ دو صدیوں سے مسلمانوں کو گھول کر پلانے کی مسلسل اور عالمگیر کوشش جاری ہے وہ مسلمان معاشرہ کے ایک عام فرد کو ہضم نہیں ہوا۔ اور اس کے دل و دماغ پر نقش حلال و حرام کا فرق ابھی تک کھرچا نہیں جا سکا۔

مگر اس کے ساتھ ہی تصویر کا دوسرا رخ ذہن کو مسلسل کچوکے دے رہا ہے کہ حرام سے بچنے کے خواہشمند مسلمان کے سامنے حلال و حرام کا نقشہ پوری طرح واضح کیوں نہیں ہے؟ اور ایک حرام سے بچنے کی کوشش کرنے والا مسلمان دوسرے کئی حراموں کی دلدل میں کیوں پھنسا ہوا ہے جو حرام ہونے میں اس پہلے حرام سے کسی درجہ میں بھی کم نہیں ہیں؟ مثلاً قرآن کریم نے خنزیر کو حرام قرار دیا ہے اور اس کے ساتھ سود، جوا، شراب اور زنا کو بھی حرام کہا ہے۔ حتیٰ کہ سود کے بارے میں کہا گیا کہ سود کھانے پر اصرار اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کے خلاف اعلان جنگ کے مترادف ہے۔ جوئے اور شراب کے بارے میں تو قرآن کریم نے کہا ہے کہ یہ گندے اور شیطانی کام ہیں۔ جبکہ زنا کے بارے میں یہ حکم دیا گیا کہ اس کا ارتکاب تو کجا اس کے قریب بھی مت جاؤ، یعنی ان اسباب اور دواعی سے بھی گریز کرو جو انسان کو اس برے عمل کے قریب لے جاتے ہیں۔

یہ سب حرام ہمارے معاشرے میں اس قدر سرایت کیے ہوئے ہیں کہ ان کی تباہ کاریوں اور حشر سامانیوں کو دیکھنے اور بھگتنے کے باوجود ان سے چھٹکارے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ زنا نے ہماری معاشرتی زندگی کو، جبکہ سود اور جوئے نے معیشت کے ڈھانچے کو کھوکھلا کر کے رکھ دیا ہے۔ بالخصوص سود اور جوئے کی وبا تو اس قدر عام ہو چکی ہے کہ شاید جاہلیت کے اس دور میں بھی ان کی آج جیسی مروجہ صورتیں اور شکلیں موجود نہ ہوں جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان خرابیوں سے انسانی معاشرے کو پاک کیا تھا۔ اور یوں لگتا ہے کہ جناب رسالت مآبؐ نے یہ پیشین گوئی ہمارے دور کے بارے میں ہی فرمائی تھی کہ ایک روز آئے گا جب سود اس قدر عام ہو جائے گا کہ جو شخص سود نہیں کھانا چاہے گا اس کے سانس کے ساتھ سود اس کے جسم میں داخل ہوگا۔

اسی یورپ کے ایک ملک برطانیہ میں جہاں رہنے والے ایک مسلمان کو بے خبری میں سور کا گوشت کھا لینے پر اس قدر کوفت اور پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، وہاں بے شمار مسلمان ایسے ہیں جو جھوٹ اور جعلسازی کے ذریعے سرکاری اداروں سے سوشل بینیفٹ کی رقوم حاصل کرتے ہیں اور بڑے مزے و اطمینان کے ساتھ کھاتے ہیں۔ اور ستم کی بات یہ ہے کہ اسے کسی درجہ میں ناجائز یا حرام نہیں سمجھا جاتا، بلکہ بسا اوقات اس کے جواز کے لیے مذہبی حوالے بھی پیش کیے جاتے ہیں۔

خود ہمارے ہاں بھی جعل سازی، دھوکے بازی، فریب اور چالبازی کے ساتھ رقم حاصل کرنا، اور خاص طور پر سرکاری اداروں کی رقوم پر ہاتھ صاف کرنا تو نہ صرف ہمارے کلچر کا حصہ بن گیا ہے بلکہ اسے فن اور کمال کی علامت سمجھا جانے لگا ہے۔ اور جو شخص سرکاری رقوم تک پہنچ رکھتے ہوئے بھی اس سے بچنے کی کوشش کرتا ہے اسے بے وقوف اور نا اہل تصور کیا جاتا ہے، جبکہ کسی بھی قسم کے سرکاری مال کو ’’حسب استطاعت‘‘ ہضم کرنا حقوق میں شمار ہونے لگا ہے۔ یوں حرام سے بچنے کا خواہشمند مسلمان اسی طرح کے کئی ’’حراموں‘‘ میں پھنسا ہوا ہے، اور ان حراموں کی بہتات نے ہماری معاشرتی زندگی کو جہنم بنا کر رکھ دیا ہے۔

یہ ذمہ داری اصل میں تو حکومت کی ہے لیکن جس حکومت اور حکومتی ڈھانچے کی بنیاد انہی قسم کے حراموں پر ہو، اس سے اس سلسلہ میں کیا توقع کی جا سکتی ہے؟ البتہ اگر ابلاغ، تعلیم اور مسجد کے تینوں شعبے اس ضرورت کو محسوس کریں اور حلال و حرام کے تمام دائروں کو عام آدمی کے سامنے اجاگر کرنے کے لیے مناسب ترجیحات اختیار کرلیں تو پھر اس صورتحال کے بہتر ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔

درجہ بندی: