مومن قوم کی بیس اچھی خصلتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۲ مارچ ۱۹۹۹ء

اچھی عادات و خصائل انسانی معاشرہ میں افراد اور قوموں کا زیور ہیں۔ اچھی قومیں اچھی خصلتوں اور اوصاف کے ساتھ ہی بنتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرات انبیاء کرام علیہم الصلوٰۃ والتسلیمات کا بنیادی مشن یہی رہا ہے کہ انسانوں کی اصلاح کی جائے اور افراد کے عقائد اور اخلاق و عادات کو سنوارا جائے تاکہ وہ بن سنور کر انسانی معاشرہ کی اجتماعی مشینری کے کارآمد پرزے بن سکیں۔

ایک بزرگ نے کیا خوب بات کہی ہے کہ وسائل و اسباب کو ترقی دینا اور ان میں اضافہ کرنا بہت اچھی بات ہے کہ اس سے انسانوں کو فائدہ پہنچتا ہے اور سہولت حاصل ہوتی ہے۔ لیکن اس سے کہیں زیادہ ضروری یہ ہے کہ وسائل و اسباب کو استعمال کرنے والے ہاتھوں کی اصلاح کی جائے اور انہیں ان کے صحیح استعمال کا سلیقہ بخشا جائے۔ کیونکہ مشین عمدہ اور نئی ہو مگر استعمال کرنے والے ہاتھ اناڑی ہوں تو اس مشین کا بیڑا غرق ہو جاتا ہے۔ اور اگر مشین پرانی اور کمزور ہو مگر استعمال کرنے والا کاریگر تجربہ کار اور اہل ہے تو وہ اسے کسی نہ کسی طرح استعمال میں لے ہی آئے گا۔

اس لیے صوفیاء کرامؒ سب سے زیادہ توجہ افراد کی اصلاح کی طرف دیتے ہیں۔ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ افراد کے عقائد اور اخلاق و عادات کی جس قدر اصلاح ہوگی دنیا کے وسائل کا استعمال بھی اسی قدر صحیح ہوگا اور انسانوں کی آخرت سنورنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی امن و خوشحالی کا دور دورہ ہوگا۔ ایک اچھی قوم میں کون سی باتیں اور خصلتیں ہونی چاہئیں؟ اس پر سیرت نبویؐ کا ایک سبق آموز واقعہ مطالعہ کے دوران نظر سے گزرا ہے جسے قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔ یہ واقعہ حافظ ابن کثیرؒ نے ’’البدایہ والنہایہ‘‘ صفحہ ۱۱۱جلد ۵ میں بیان کیا ہے۔ جبکہ اردو میں سیرت کی معروف کتاب ’’اصح السیر‘‘ میں مولانا عبد الرؤف دانا پوریؒ نے اسے تفصیل کے ساتھ نقل کیا ہے۔

بنو ازد قبیلے کا ایک وفد جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جس میں سات افراد شامل تھے۔ ان میں حضرت سوید بن الحارث ازدیؓ بھی تھے اور وہی اس واقعہ کے راوی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جب ہم حضورؐ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بات چیت کی تو آپؐ ہمارے طرز گفتگو اور انداز سے خوش ہوئے اور دریافت کیا کہ تم کون لوگ ہو؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ ہم سب اہل ایمان ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کہ ہر دعویٰ پر دلیل کی ضرورت ہوتی ہے، تمہارے اس دعوے کی دلیل کیا ہے؟ ہم نے عرض کیا کہ ہمارے اندر پندرہ خصلتیں موجود ہیں جو ہمارے مومن ہونے کی دلیل ہیں۔ رسول اکرمؐ نے اس کی تفصیل بیان کرنے کا کہا تو ہم نے عرض کیا کہ:

آپ کے نمائندے نے ہمیں ہدایت کی تھی کہ ہم ان پانچ باتوں پر ایمان لائیں:

  1. اللہ تعالیٰ کی ذات پر،
  2. اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر،
  3. اللہ تعالیٰ کی کتابوں پر،
  4. اللہ تعالیٰ کے فرشتوں پر، اور
  5. اس بات پر کہ مرنے کے بعد ہمیں دوبارہ زندہ کیا جائے گا اور زندگی کے اعمال کا حساب ہوگا۔

اور آپ کے نمائندے نے ہمیں ہدایت کی تھی کہ ان پانچ باتوں پر عمل کریں:

  1. زبان سے کلمہ طیبہ پڑھیں،
  2. نماز کی پابندی کریں،
  3. روزے رکھیں،
  4. زکوٰۃ ادا کریں، اور
  5. استطاعت ہو تو بیت اللہ کا حج کریں۔

جبکہ ہم میں پہلے سے جو خصلتیں موجود تھیں وہ یہ ہیں:

  1. آسائش اور راحت کے وقت اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا،
  2. آزمائش اور تنگی کے وقت صبر کرنا،
  3. جو بات واقع ہو چکی ہو قدرت کا فیصلہ جان کر اس پر راضی ہو جانا،
  4. دشمن کے مقابلے میں ثابت قدم رہنا، اور
  5. دشمن کی مصیبت پر خوشی کا اظہار نہ کرنا۔

جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا کہ جن لوگوں نے تمہیں ان امور کی تعلیم دی ہے وہ حکمت و دانش والے لوگ تھے، اصحاب علم تھے اور انہیں انبیاء کرامؑ جیسا فہم عطا کیا گیا ہے۔ اس کے بعد حضورؐ نے ارشاد فرمایا کہ ان پندرہ خصلتوں کے ساتھ پانچ خصلتیں تمہیں اور بتا دیتا ہوں تاکہ ۲۰ مکمل ہو جائیں:

  1. جس چیز کے کھانے کی نوبت نہ آئے اس کا ذخیرہ نہ کرو،
  2. ایسی عمارتیں نہ بناؤ جن میں تمہیں رہنا نصیب نہ ہو،
  3. جو چیز کل ہاتھ سے نکل جانے والی ہو اس پر آج آپس میں ایک دوسرے پر برتری کا اظہار نہ کرو،
  4. جس خدا کے پاس تمہیں لوٹ کر جانا ہے اس سے ڈرتے رہو، اور
  5. جس جگہ تم نے ہمیشہ رہنا ہے اس کی طرف دھیان دو کہ تم وہاں اپنے لیے کیا کچھ بھیج رہے ہو۔

آج ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اہل ایمان کی ان خصلتوں کا بار بار مطالعہ کریں اور اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھیں کہ مومن قوم کے خصائل کے حوالہ سے ہماری عملی کیفیت کیا ہے؟ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو آخرت میں جنت کی کامیاب زندگی کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی غلبہ اور برتری کی بشارت دے رکھی ہے جو قرآن کریم میں واضح طور پر موجود ہے، اور اللہ تعالیٰ سے زیادہ کون سی ذات وعدوں کا ایفا کرنے والی ہوگی؟ دیکھنا صرف یہ ہے کہ کیا اپنے عمل و کردار کے حوالہ سے ان اہل ایمان میں ہم بھی شامل ہیں؟

درجہ بندی: