اسلام میں متعہ کا تصور

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جون ۱۹۹۹ء
اصل عنوان: 
متعہ اور پاکستان لاء کمیشن

پاکستان لاء کمیشن کی تجاویز و سفارشات میں سے ایک سفارش یعنی چائلڈ لیبر کی کم از کم عمر 15 سال مقرر کرنے کے بارے میں گزشتہ مضمون میں کچھ گزارشات پیش کی تھیں۔ آج کی صحبت میں کمیشن کی ایک اور تجویز کے حوالہ سے کچھ عرض کرنے کو جی چاہتا ہے جو ’’متعہ‘‘ کے بارے میں ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ طلاق یافتہ عورت کو متعہ کا حق دینے کے سلسلہ میں مختلف فقہی مکاتب فکر کی آراء کا جائزہ لیا جائے اور اس کو عملی شکل دینے کے بارے میں غور کیا جائے۔

’’متعہ‘‘ کا لفظی معنٰی فائدہ اٹھانے کے ہیں اور قرآن کریم میں احکام کے باب میں یہ لفظ جن الگ الگ معنوں میں استعمال ہوا ہے انہیں فقہاء کرام نے متعۃ الحج، متعۃ النکاح اور متعۃ الطلاق کی تین اصطلاحات کی صورت میں پیش کیا ہے۔

متعۃ الحج

متعۃ الحج کا معنٰی ہے کہ ایک شخص حج کے مہینے شروع ہونے یعنی یکم شوال کے بعد مکہ مکرمہ پہنچا اور عمرہ ادا کر کے احرام کھول دیا۔ پھر اسی سفر میں اس نے نئے احرام کے ساتھ حج کیا تو وہ شخص متمتع کہلائے گا۔ کیونکہ اس نے ایک سفر میں حج کے ساتھ ساتھ عمرہ کا فائدہ بھی اٹھایا ہے۔ لیکن اگر عمرہ کا احرام کھولے بغیر اسی احرام میں حج بھی کر لیا تو وہ شخص قارن کہلائے گا۔ ’’تمتع‘‘ اور ’’قران‘‘ دونوں ایک ہی سفر میں حج اور عمرہ جمع کرنے کو کہتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ تمتع میں عمرہ الگ احرام سے ہوتا ہے اور ایام حج میں الگ احرام باندھا جاتا ہے، جبکہ قران میں عمرہ اور حج ایک ہی احرام کے ساتھ ادا کیے جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں شکرانے کا ایک دم واجب ہوتا ہے جسے دم تمتع اور دم قران کہتے ہیں۔ یعنی قربانی کے دن منٰی میں ایک جانور ذبح کرنا ہوتا ہے جو تمتع یا قران کے شکرانے کی نیت سے ذبح کیا جاتا ہے۔ یہ جانور ذبح کیے بغیر حاجی احرام کی پابندیوں سے فارغ نہیں ہوتا۔

ہمارے حاجی صاحبان کی غالب اکثریت ایسی ہے جو مسئلہ سے بے خبر ہونے کی وجہ سے منٰی میں قربانی کی نیت سے جانور ذبح کرتے ہیں لیکن تمتع یا قران کرنے کے باوجود اس کے شکرانے کے طور پر جانور قربان نہیں کرتے۔ اس لیے وہ احرام کی شرعی پابندیوں سے فارغ نہیں ہوتے اور گناہ گار ہوتے ہیں۔ جبکہ قربانی الگ چیز ہے اور تمتع یا قران کا دم اس سے بالکل مختلف چیز ہے۔

متعۃ النکاح

متعۃ النکاح متعین وقت کے لیے کیا جاتا ہے اور یہ جاہلیت کے زمانے میں رائج نکاح کی مختلف صورتوں میں سے ایک ہے۔ معروف محقق السید سابق نے ’’فقہ السنۃ‘‘ میں دور جاہلیت میں مرد اور عورت کے جنسی ملاپ کی جائز سمجھی جانے والی جو صورتیں بیان کی ہیں وہ مندرجہ ذیل آٹھ شکلیں بنتی ہیں:

  1. کسی مرد کے کسی عورت کے ساتھ خفیہ تعلقات جاہلی سوسائٹی میں جائز تصور ہوتے تھے۔ ان کا فلسفہ یہ تھا کہ مرد اور عورت کے تعلقات کا اظہار بری بات ہے، اگر یہ تعلقات خفیہ ہوں تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اس صورت کو قرآن کریم نے ’’متخذات اخدان‘‘ سے تعبیر کیا ہے۔
  2. کوئی بھی دو مرد آپس میں بیویوں کا تبادلہ کر سکتے تھے اور یہ اس معاشرہ میں جائز سمجھا جاتا تھا۔
  3. دس سے کم افراد ایک عورت کے ساتھ باری باری جنسی تعلق قائم کرتے تھے۔ اور اگر بچہ پیدا ہوتا تو وہ عورت ان سب کو جمع کر کے بچہ ان میں سے کسی ایک سے منسوب کر دیتی تھی اور اس شخص کے لیے انکار کی گنجائش نہیں ہوتی تھی۔
  4. بعض عورتیں اپنے دروازے پر خاص قسم کا پرچم گاڑ دیتی تھیں جو اس بات کی علامت ہوتا تھا کہ کوئی بھی شخص جنسی بھوک مٹانے کے لیے وہاں آسکتا ہے، چنانچہ لوگ آتے رہتے تھے۔ اور اگر بچہ پیدا ہو جاتا تو اس دوران آنے والے افراد کو جمع کیا جاتا تھا اور قیافہ و علامات کے ذریعہ باپ کا تعین کر کے بچے کی ذمہ داری اسے سونپ دی جاتی تھی۔
  5. کسی خاص قبیلہ، سردار، یا بہادر شخص کا تخم حاصل کرنے کے لیے خاوند خود اپنی بیوی کو متعینہ وقت کے لیے اس کے پاس بھیج دیتا تھا جو حمل ٹھہرنے کے بعد واپس آجاتی تھی اور ایسے بچے پر فخر کیا جاتا تھا۔
  6. متعینہ وقت یعنی چند گھنٹوں، دنوں، مہینوں یا سالوں کے لیے باقاعدہ نکاح کیا جاتا تھا جو مقررہ وقت ختم ہونے پر خود بخود ختم ہو جاتا تھا۔ اسے نکاح متعہ کہتے ہیں۔
  7. مرد اور عورت کا عمر بھر کے لیے کسی وقت کی تحدید کے بغیر نکاح ہوتا تھا جو آج بھی شرعی نکاح کے طور پر رائج ہے۔
  8. بیوی کے علاوہ مملوکہ لونڈی کے ساتھ جنسی تعلق کی بھی اجازت تھی۔

یہ سب صورتیں دور جاہلیت کے عرف اور سوسائٹی میں مرد و عورت کے جنسی تعلق کی جائز صورتیں شمار ہوتی تھیں۔ ان میں سے دو صورتوں کو قرآن کریم نے باقی رکھا اور باقی تمام شکلوں کو ممنوع قرار دے دیا۔ چنانچہ سورۃ المومنون کی آیات نمبر 5،6 اور 7 میں اہل ایمان کے اوصاف بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ:

’’وہ لوگ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں مگر اپنی بیویوں اور مملوکہ عورتوں کے بارے میں ان پر کچھ ملامت نہیں ہے۔ البتہ ان کے علاوہ جس نے کسی اور عورت کا قصد کیا تو ایسے لوگ حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔‘‘

گویا اپنی بیوی اور لونڈی کے علاوہ کسی عورت سے جنسی تعلق کی باقی تمام صورتوں کو قرآن کریم نے ممنوع قرار دے دیا اور شریعت کی نظر میں وہ حرام کاری کی صورتیں شمار ہوتی ہیں۔ لونڈی کے بارے میں شرعی حکم اور آج کے دور میں اس کے امکانات کے حوالہ سے کسی مستقل مضمون میں گزارشات پیش کی جائیں گی، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

البتہ باقاعدہ بیوی اور نکاح کے بارے میں اہل سنت اور اہل تشیع کے ایک بنیادی اختلاف کا تذکرہ ضروری معلوم ہوتا ہے۔ وہ یہ کہ نکاح کی جس شکل کو قرآن کریم نے جائز قرار دے کر باقی رکھا ہے اس میں ’’نکاح متعہ‘‘ یعنی متعینہ وقت کے لیے کیا جانے والا نکاح شامل ہے یا نہیں؟

اہل سنت کے نزدیک ’’متعہ‘‘ نکاح کی جائز صورت نہیں ہے اور مستند روایات کے مطابق جناب نبی اکرمؐ نے غزوۂ خیبر کے موقع پر اسے ممنوع قرار دے دیا تھا اور اس پر صحابہ کرامؓ کا اجماع ہے۔ چنانچہ وقت مقرر کر کے کیا جانے والا نکاح اہل سنت کے ہاں زنا شمار ہوتا ہے۔

جبکہ اہل تشیع کا موقف یہ ہے کہ ’’متعہ‘‘ کا جواز اب بھی موجود ہے اور اسے منسوخ نہیں کیا گیا۔ چنانچہ وہ قرآن کریم میں جائز قرار دی جانے والی بیوی میں متعہ والی عورت کو بھی شمار سمجھتے ہیں۔

متعۃ الطلاق

متعۃ الطلاق کا مطلب یہ ہے کہ جس عورت کو طلاق ہو جائے اسے اس کا خاوند اپنی حیثیت کے مطابق لباس کا ایک جوڑا دے۔ یہ بھی فقہی اصطلاح میں متعہ کہلاتا ہے۔ طلاق یافتہ عورت کو لباس کا جوڑا دینا احناف کے ہاں ایک صورت میں واجب ہے جب کہ نکاح میں مہر کا تعین نہیں ہوا اور میاں بیوی کے ملاپ سے پہلے طلاق ہوگئی۔ ایسی صورت میں چونکہ مہر واجب نہیں ہے تو اس کے بدل کے طور پر ایک جوڑا خاوند کے ذمہ واجب ہے کہ وہ اپنی طلاق یافتہ بیوی کو ایک جوڑا دے۔ چنانچہ سورۃ البقرۃ کی آیت 236 میں ہے کہ:

’’تم پر کوئی حرج نہیں کہ اگر تم عورت کو چھونے سے پہلے یا مہر مقرر کرنے سے پہلے طلاق دے دو اور ان کو متعہ (یعنی لباس کا جوڑا) دو۔ خوشحال شخص پر اس کے حساب سے اور تنگ دست پر اس کے حساب سے ہے۔‘‘

مگر اس ایک صورت کے سوا باقی تمام صورتوں میں جن میں مہر مکمل یا نصف واجب ہوتا ہے، احناف کے نزدیک یہ متعہ واجب نہیں ہے۔ البتہ مستحب ہے کہ خاوند اگر مہر کے ساتھ جوڑا بھی دے دے تو زیادہ بہتر ہے۔ مگر باقی فقہاء کے نزدیک طلاق کی تمام صورتوں میں متعہ دینا واجب ہے۔

پاکستان لاء کمیشن کی تجویز

یہ متعہ کی تین الگ الگ صورتیں ہیں جو ہم نے فقہی اصطلاحات کی روشنی میں بیان کی ہیں۔ اب پاکستان لاء کمیشن کی تجویز پر ایک بار پھر نظر ڈال لیجیے۔ متعۃ الحج تو اس کے موضوع سے خارج ہے۔ اس لیے باقی دو صورتوں یعنی متعۃ النکاح اور متعۃ الطلاق میں سے ہی کسی ایک پر اس تجویز کو محمول کیا جا سکتا ہے۔ خدا نہ کرے کہ پاکستان لاء کمیشن کی مراد اس سے متعۃ النکاح ہو کیونکہ یہ ایک نئے فتنے کا دروازہ کھولنے کے مترادف ہوگا۔

اولاً اس لیے کہ پاکستان اہل سنت کی غالب اکثریت کا ملک ہے اور اہل سنت کے تمام فقہی مذاہب کے نزدیک نکاح متعہ قطعی طور پر حرام ہے۔

ثانیاً اس لیے کہ اگرچہ اہل تشیع اس کے جواز کے قائل ہیں مگر اس کے تلخ نتائج ان کی قیادت کی نظر سے بھی مخفی نہیں ہیں۔ چنانچہ آیت اللہ خمینی نے ایران میں برسراقتدار آنے کے بعد متعہ کی بعض صورتوں کو ممنوع قرار دے دیا تھا، ان کے بعد جناب رفسنجانی نے دوبارہ ان میں لچک پیدا کی ہے۔ حتیٰ کہ 1987ء میں ایران کے دورے کے موقع پر ایک وفد کے ہمراہ راقم الحروف نے مشہد میں جناب آیت اللہ شیرازی کا جمعہ کا خطبہ خود سنا جس میں انہوں نے متعہ پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ اصولاً یہ جائز ہے مگر جس طرح لونڈی کی شرعی شرائط آج کے دور میں نہیں پائی جاتیں اسی طرح متعہ کی سب شرائط بھی آج کے دور میں موجود نہیں ہیں۔ اس لیے آج عملاً متعہ کی اجازت نہیں ہے۔

اور ثالثاً اگر آج کے ماحول میں تھوڑے سے معاوضہ پر مقرر وقت کے لیے کسی عورت کے ساتھ جنسی تعلق کا جواز قانوناً فراہم کر دیا جائے تو حرام کاری اور زنا کے بہت سے دروازے خودبخود کھل جائیں گے۔ اور اس کے رسیا لوگوں کو اور کسی ’’شیلٹر‘‘ کی تلاش کی ضرورت باقی نہیں رہے گی۔

ہاں اگر پاکستان لاء کمیشن کی متعہ سے مراد طلاق یافتہ عورت کو خاوند کی طرف سے دیا جانے والا لباس کا جوڑا ہے تو پھر بات الگ ہے، جبکہ تجویز کے سیاق و سباق سے بھی یہی معلوم ہوتا ہے۔ اس پر مسلّمہ فقہی اصولوں کے دائرہ میں رہتے ہوئے غور و فکر کی گنجائش موجود ہے۔ فقہائے احناف ہر طلاق یافتہ عورت کو یہ جوڑا دینے کے استحباب کے تو پہلے ہی قائل ہیں۔ اگر کسی اجتماعی اور عمومی مصلحت کی خاطر اس استحباب کو وجوب کا درجہ دے دیا جائے تو شاید انہیں بھی اس پر کوئی خاص اعتراض نہ ہو۔

درجہ بندی: