اقوام متحدہ، بی بی سی اور عالم اسلام

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۴ جون ۱۹۹۹ء

گزشتہ ہفتہ کے دوران مغرب اور عالم اسلام کی کشمکش کے حوالہ سے دو اہم خبریں نظر سے گزریں۔ ایک خبر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل جناب کوفی عنان کے اس خطاب کے اقتباسات ہیں جو انہوں نے چند روز قبل آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں کیا۔ جبکہ دوسری خبر برطانیہ کے ہاؤس آف لارڈز کے مسلمان رکن لارڈ نذیر احمد کی بی بی سی حکام کے ساتھ گفتگو کی کچھ تفصیلات ہیں جو انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں بی بی سی کے طرز عمل کے پس منظر میں بی بی سی کے ذمہ دار حضرات سے کی۔

لندن سے شائع ہونے والے ایک پاکستانی اردو اخبار (30 جون 1999ء) کے مطابق اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے مسلمان اور مغربی اقوام سے کہا ہے کہ وہ ایک نیا عالمی ضابطہ اخلاق اپنائیں تاکہ مختلف ثقافتیں مل جل کر باہمی اختلافات ختم کر کے مفاہمت کے پل تعمیر کر سکیں۔ آکسفورڈ سنٹر فار اسلامک اسٹڈیز میں خطاب کرتے ہوئے کوفی عنان نے ایرانی صدر محمد خاتمی کی طرف سے اسلام اور مغرب کے درمیان ڈائیلاگ کے مطالبہ کو سراہا اور کہا کہ دو تہذیبوں کے درمیان رابطہ ’’باہمی احترام کے ساتھ ڈائیلاگ‘‘ کی صورت میں ہونا چاہیے۔ ہمیں دنیا کے ہر ریجن میں مختلف روایات کے وجود کو تسلیم کرنا بلکہ فروغ دینا چاہیے۔

کوفی عنان نے کہا کہ مسلمانوں اور مغرب کے درمیان تقسیم قوموں کے مابین ایک واضح ثقافتی تنازعہ ہے جو مسلمانوں میں اس تلخی کا باعث ہے کہ مغربی طاقتیں ان کے ساتھ زیادتی کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آج نوآبادیاتی نظام ختم ہوگیا ہے لیکن مسلمان اب بھی پاور پالیٹکس میں مغرب کے ساتھ عدم مساوات کی بنا پر ناراض ہیں۔ ان کی ناراضگی فلسطینیوں کے ساتھ غیر منصفانہ رویہ اور حالیہ دنوں میں سابق یوگوسلاویہ میں مسلمانوں پر مظالم سے اور بھی بڑھی ہے۔ دنیا کو مسلمانوں کی اپنے مذہب اور ثقافت کے احترام کی خواہشات پر توجہ دینا ہوگی لیکن احترام فوجی طاقت سے نہیں کرایا جا سکتا۔ جدید معاشرے ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں جبکہ جدید ہتھیار بہت تباہی پھیلا سکتے ہیں۔ کوفی عنان نے کہا کہ مغربی ملکوں میں لاکھوں مسلمان آباد ہیں جبکہ ان کی ثقافت بھی ساتھ ہے۔ یہ بات اہم ہے کہ جہاں بھی ہو سکے ہم مختلف ثقافتوں سے فائدہ اٹھائیں۔ انہوں نے کہا کہ تہذیبوں کے درمیان ڈائیلاگ معاشروں کے اندر اور ان کے درمیان ہونا چاہیے اور یہ ڈائیلاگ باہمی احترام کے ساتھ ہو۔

دوسری طرف اسی اخبار کی (27 جون 1999ء) رپورٹ کے مطابق ہاؤس آف لارڈز کے لیبر رکن لارڈ نذیر احمد نے بی بی سی پر اسلام کے بارے میں زیادہ پروگرام نہ دکھانے اور ادارہ میں مسلمانوں کی کم نمائندگی کے بارے میں جنگ جیت لی ہے۔ بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل سرجان برٹ اور اعلیٰ انتظامیہ نے اعتراف کیا ہے کہ لارڈ احمد کا موقف صحیح ہے اور وہ اس بات کا بہت جلد ازالہ کریں گے۔ یہ وعدہ ہاؤس آف لارڈز میں منعقدہ ایک اجلاس میں سرجان برٹ نے کیا۔ اجلاس جوناتھ ڈمیلی کی صدارت میں ہوا جس میں ایلن نیٹوٹ، سر کرسٹوفر، ٹونی بال، وال وائٹ اور بیرونس ینگ بھی شریک تھے۔

لارڈ نذیر احمد نے یہ سوال اٹھایا تھا کہ بی بی سی میں مسلمانوں کی نمائندگی کم ہے اور ان کے بارے میں پروگرام نہیں بنائے جاتے جبکہ بی بی سی کا محکمہ عیسائیوں کے بارے میں پروگرام بناتا ہے۔ برمنگھم میں ایشین پروگرام ڈیپارٹمنٹ خاص عمر کے ایشیائیوں کے ایک مخصوص سماجی گروپ کے لیے ہالی وڈ اور بھنگڑا کا پروگرام تو بناتا ہے لیکن اس بات کے شواہد ہیں کہ پروگرام یونٹ پاکستانی، کشمیری اور بنگالی مسلمانوں سے امتیاز برت رہا ہے۔ انہوں نے یہ بھی دریافت کیا تھا کہ بی بی سی دو ملین مسلمانوں کی ضروریات کس طرح پورا کرے گا جو ٹی وی کے لائسنس خریدتے ہیں۔ چیف ایگزیکٹو پروگرام ڈیپارٹمنٹ اس اقربا پروری کے بارے میں کیا کر رہے ہیں؟

لارڈ نذیر احمد نے بی بی سی کو یہ تفصیلات بھی دی تھیں کہ کس طرح بھارتی نژاد لوگوں نے ڈیپارٹمنٹ پر قبضہ کر رکھا ہے، کسی پاکستانی یا کشمیری کو اہم عہدہ پر جانے نہیں دیا جاتا۔ اور اردو یا اسلام کے بارے میں پروگراموں کے کرتا دھرتا ایسے لوگ ہیں جو اردو لکھ اور بول نہیں سکتے۔ اور یہ کہ کئی پاکستانی یا کشمیری ملازمین کو ان کے عہدوں سے ہٹا دیا گیا ہے۔ لارڈ احمد نے بعض بھارتی نژاد افراد کی نشاندہی بھی کی تھی جو مسلمانوں کو ادارہ سے باہر رکھنے یا ان کے غیر اہم عہدوں پر تعین کے پس منظر میں ہیں۔

بی بی سی نے لارڈ نذیر احمد کو 21 جون کو ایک خط بھی لکھا ہے جس میں بی بی سی میں اسلام کے بارے میں کم کوریج اور مسلمان عملہ کی کمی کا اعتراف کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ادارہ اس کے ازالہ کی کوشش کر رہا ہے جبکہ مسلمان عملہ کی بھرتی کی حوصلہ افزائی کی جا رہی ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ وہ مذہبی بنیاد پر ملازموں کے اعداد و شمار نہیں رکھتے البتہ آئندہ مردم شماری کے درمیان ایسا ممکن ہوگا۔

قارئین جانتے ہیں کہ ہم ان کالموں میں ایک عرصہ سے انہی گزارشات پر زور دیتے آرہے ہیں کہ:

  • عالم اسلام اور مغرب کے درمیان تہذیبی کشمکش دن بدن فیصلہ کن حیثیت اختیار کرتی جا رہی ہے۔
  • مغرب نے اسلام اور دیگر فلسفہ ہائے حیات کے وجود کو تسلیم کرنے کی بجائے انہیں ختم کرنے اور اپنے خود ساختہ سیکولر فلسفہ کو عالم اسلام پر مسلط کرنے کے لیے تمام وسائل وقف کر رکھے ہیں۔
  • اقوام متحدہ کا انسانی حقوق کا منشور مغرب کے یکطرفہ فلسفہ پر مبنی ہے جس کی کئی شقیں اسلام کی بنیادی تعلیمات سے متصادم ہیں۔ مگر اقوام متحدہ کے ادارے مسلمانوں پر اسے من و عن قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔
  • فلسطین، کشمیر، کوسووو اور دیگر بہت سے تنازعات میں مغربی حکومتوں کا طرز عمل مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ اور جانبدارانہ ہے۔
  • مغربی ذرائع ابلاغ اسلام، مسلمانوں اور اسلامی روایات و اقدار کیخلاف جانبدارانہ رویہ اپنائے ہوئے ہیں اور مسلمانوں کا موقف اور اسلامی تعلیمات صحیح طور پر سامنے نہیں لائی جا رہیں۔
  • مغربی حکومتیں، ادارے اور ان کی امداد پر چلنے والی ہزاروں این جی اوز مسلمان ممالک میں وہاں کے ثقافتی اور معاشرتی ڈھانچوں کو سبوتاژ کرنے کے لیے مسلسل مصروف عمل ہیں۔

اس لیے اب اگر وہی باتیں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان اور بی بی سی کے ڈائریکٹر جنرل سرجان برٹ کی زبانوں پر بھی آرہی ہیں تو ہمارے لیے خوشی کی بات ہے کہ مسلمانوں کا موقف کسی حد تک تو سنا اور سمجھا جانے لگا ہے۔ لیکن اس سلسلہ میں اصل کام ابھی باقی ہے کہ درج ذیل امور کے اہتمام کے لیے مسلمان حکومتیں منظم اور مربوط لائحہ عمل کی راہ ہموار کریں:

  1. اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے چارٹر پر نظر ثانی، یا جناب کوفی عنان کے بقول ’’نئے عالمی ضابطہ اخلاق‘‘ کی تشکیل و تدوین،
  2. اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مسلمان ممالک کی مستقل نشستوں اور ویٹو پاور کا حق تسلیم کرانا،
  3. عالمی اداروں میں مسلمان ممالک کی متناسب نمائندگی،
  4. اور عالمی ذرائع ابلاغ میں اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں متوازن طرز عمل

کیونکہ مغرب اگر فی الواقع مسلمانوں کی ناراضگی کو محسوس کر رہا ہے اور اسے کم کرنے کا خواہشمند ہے تو اس کا کم سے کم درجہ یہی ہو سکتا ہے، ورنہ اس کے علاوہ تو صرف زبانی جمع خرچ ہوگا۔

درجہ بندی: