قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور مصطفٰی کمال اتاترک

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۸ نومبر ۱۹۹۹ء

اسلامی جمہوریہ پاکستان کے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ایک انٹرویو میں جمہوریہ ترکیہ کے بانی اور جدید ترکی کے معمار مصطفی کمال اتاترک کا ذکر کیا اور جنرل صاحب سے منسوب یہ جملہ بھی اخبارات کی زینت بنا کہ اتاترک ان کے آئیڈیل لیڈر ہیں۔ اس پر قومی اخبارات میں مختلف حلقوں کی طرف سے اظہار خیال کیا گیا اور حمایت و مخالفت میں بہت کچھ لکھا گیا۔ راقم الحروف نے بھی اس حوالہ سے مصطفی کمال اتاترک کی جدوجہد کے بارے میں کچھ معروضات پیش کی تھیں۔ اس کے بعد جنرل پرویز مشرف ترکی کے دورہ پر گئے، ان سے ایک انٹرویو میں اس سلسلہ میں سوال کیا گیا تو انہوں نے یہ کہہ کر بات صاف کر دی کہ مصطفی کمال اتاترک کو وہ ایک اچھا لیڈر سمجھتے ہیں لیکن ان کا آئیڈیل قائد اعظم محمد علی جناحؒ ہیں۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور مصطفی کمال اتاترک دونوں مسلم دنیا کے معاصر لیڈر ہیں جنہوں نے ایک دور میں دنیائے اسلام کے دو مختلف حصوں میں مسلم کمیونٹی کی رہنمائی کی۔ دونوں میں بعض باتیں مشترک ہیں جبکہ بہت سی باتوں میں دونوں کے رجحانات اور فکر و خیال میں واضح فرق اور تضاد پایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے عالم اسلام کے ان دو عظیم لیڈروں کی جدوجہد اور خیالات و افکار کا ایک تقابلی جائزہ لینے کو جی چاہتا ہے۔

خاندانی لحاظ سے دونوں کا تعلق مسلمانوں میں شامل سمجھے جانے والے ایسے اقلیتی گروہوں سے ہے جو ملت اسلامیہ کے اجتماعی دھارے سے الگ داخلی تشخص رکھتے ہیں۔ قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا خاندانی تعلق اسماعیلی فرقہ سے تھا، البتہ ان کی وفات اہل سنت کے ماحول میں ہوئی اور ان کا جنازہ شیخ الاسلام علامہ شبیر احمد عثمانیؒ نے پڑھایا۔ جبکہ مصطفی کمال اتاترک کا خاندانی تعلق دونمہ فرقہ سے بتایا جاتا ہے۔ دونمہ فرقہ کے بارے میں تاریخی روایات یہ ہیں کہ ایک یہودی ساباتائی زیفی نے سترہویں صدی عیسوی کے وسط میں اسلام قبول کیا، یہ نسلاً ہسپانوی اور پیدائش کے لحاظ سے ترکی تھا۔ اسلام قبول کرنے کے بعد اس نے خلافت عثمانیہ سے یہودیوں میں اسلام کی تبلیغ کی اجازت مانگی جو دے دی گئی۔ مگر اس نے اسلام کے نام پر جن باتوں کو پھیلانا شروع کیا وہ اس قسم کی تھیں کہ وہ یعنی سباتائی زیفی مسیح موعود ہے جس کا صدیوں سے انتظار کیا جا رہا ہے، عورتوں کا پردہ کرنا غلط ہے، اور مخلوط تعلیم میں کوئی حرج نہیں ہے۔

سباتائی زیفی کے پیروکار نماز اور روزہ کے عادی نہیں تھے البتہ عید میں مسلمانوں کے ساتھ شرکت کرتے تھے۔ وہ مسلمانوں کے ساتھ نکاح و شادی وغیرہ سے گریز کرتے تھے اور ایک الگ معاشرتی تشخص انہوں نے قائم کر رکھا تھا اور بعض جداگانہ اقدار اور رواجوں کے ساتھ ساتھ ان کے ہاں غسل جنابت کی ضرورت بھی محسوس نہیں کی جاتی تھی۔ رفتہ رفتہ اس کے افکار و خیالات پھیلنے لگے او رحکومت عثمانیہ کو اس کے خطرات کا احساس تو اسے البانیہ جلا وطن کر دیا گیا جہاں 1675ء میں اس کا انتقال ہوگیا۔ مگر اس نے جس گروہ کی فکری آبیاری کی تھی اس نے ترکی معاشرہ میں جڑ پکڑ لی ور دونمہ تحریک کے نام سے اس کے برگ و بار پھیلنے لگے۔ حتیٰ کہ بعض تاریخی روایات میں مصطفی کمال اتاترک کی قائم کردہ ’’جمعیۃ اتحاد و ترقی‘‘ کے بیشتر ارکان کا تعلق اسی تحریک کے ساتھ بتایا جاتا ہے۔

قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور مصطفی کمال اتاترک دونوں اپنے طرز معاشرت اور بود و باش کے لحاظ سے مغربی طرز معاشرت کے پیروکار سمجھے جاتے ہیں۔ اور لباس و وضع قطع سے لے کر روز مرہ معمولات تک ان پر مغربی معاشرت کا رنگ غالب نظر آتا ہے۔ دونوں عالم اسلام میں نئی مملکتوں کے بانی ہیں۔ مصطفی اتاترک جمہوریہ ترکیہ کے بانی و معمار ہیں جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے پاکستان کے نام سے ایک نئی مسلم مملکت کی بنیاد ڈالی۔ مگر ظاہری طور پر نظر آنے والی اس مشابہت کے باوجود دونوں کے افکار و نظریات اور جدوجہد کے اہداف میں واضح فرق پایا جاتا ہے اور اپنی تگ و دو اور مقاصد کے حوالہ سے دونوں ایک دوسرے کے بالکل مقابل کھڑے نظر آتے ہیں۔

مثلاً مصطفی کمال اتاترک نے اسلامی قومیت کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے ترک قومیت کو اپنی جدوجہد کی بنیاد بنایا اور وطنی قومیت کے نام پر خلافت عثمانیہ کا خاتمہ کر دیا۔ جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے وطنی قومیت کا تصور رد کر دیا اور اسلامی قومیت کے عنوان سے مسلمانوں کی جداگانہ جدوجہد کی قیادت کی۔ اس کا عملی نتیجہ یہ سامنے آیا کہ مصطفی کمال اتاترک نے اسلامی حکومت خلافت عثمانیہ کو ختم کر کے اس کی جگہ سیکولر ریاست قائم کی، جبکہ قائد اعظم اسلام کے نام پر پاکستان کی نئی اسلامی ریاست قائم کر کے ایک نئی اسلامی نظریاتی مملکت کے بانی ٹھہرے۔

اسی طرح مصطفی کمال اتاترک نے اسلامی نظام کو جدید دور کے تقاضوں کے لیے ناکام اور ناکافی قرار دیتے ہوئے ترکی میں شرعی قوانین اور شرعی عدالتوں کا خاتمہ کر دیا اور مغربی قوانین اور نظام مختلف شعبوں میں نافذ کیے۔ جبکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے مغربی نظام کو ناکام قرار دیتے ہوئے اسلامی نظام کو پاکستان کی منزل قرار دیا اور اس کے لیے مسلمانوں کو منظم کیا۔ اور اس طرز فکر و نظریہ اور ہدف و مقصد کے لحاظ سے دونوں لیڈروں کا رخ ایک دوسرے سے بالکل الٹ دکھائی دے رہا ہے۔ ایک لیڈر اسلامی قومیت اور اسلامی نظام دونوں کو مسترد کرتے ہوئے سیکولر ریاست کے قیام اور مغربی نظام کے نفاذ کا علم اٹھائے ہوئے ہے،جبکہ دوسرا لیڈر وطنی قومیت کو رد کر کے اور مغربی نظام کو ناکام قرار دے کر اسلامی ریاست کے قیام اور اسلامی نظام کے نفاذ کا پرچم تھامے ہوئے ہے۔ لیکن دونوں میں فرق یہ ہے کہ مصطفی کمال اتاترک کو نئی مملکت کے قیام کے بعد اس کے سربراہ کی حیثیت سے اپنے پروگرام پر عمل کا وقت مل گیا اور انہوں نے عملاً ترکی کو ایک جدید سیکولر ریاست بنا کر دکھا دیا۔ مگر قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو پاکستان کے قیام کے بعد وقت نہیں ملا اس لیے ان کے پروگرام پر ابھی تک عمل نہیں ہو سکا۔

جہاں تک فکر و فلسفہ اور اہداف و مقاصد کا تعلق ہے قائد اعظم محمد علی جناح مرحوم نے اس کی وضاحت میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی تھی۔ اور ایک صحیح اسلامی ریاست کے حوالہ سے ان کے عزائم کا اندازہ ان کے اس خطاب سے کیا جا سکتا ہے جو انہوں نے 15 جولائی 1948ء کو اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے افتتاح کے موقع پر کیا اور اس میں واضح طور پر اعلان کیا کہ:

’’میں اشتیاق اور دلچسپی سے معلوم کرتا رہوں گا کہ آپ کی مجلس تحقیق بینکاری کے ایسے طریقے کیونکر وضع کرتی ہے جو معاشرتی اور اقتصادی زندگی کے اسلامی تصورات کے مطابق ہوں۔ مغرب کے معاشی نظام نے انسانیت کے لیے مسائل پیدا کر دیے ہیں اور اکثر لوگوں کی یہ رائے ہے کہ مغرب کو اس تباہی سے کوئی معجزہ ہی بچا سکتا ہے۔ مغربی نظام افراد انسانی کے مابین انصاف کرنے اور بین الاقوامی میدان میں آویزش اور چپقلش کو دور کرنے میں ناکام رہا ۔ بلکہ گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی دو عظیم جنگوں کی ذمہ داری سراسر مغرب پر عائد ہوتی ہے۔ مغربی دنیا صنعتی قابلیت اور مشینوں کی دولت کے زبردست فوائد رکھنے کے باوجود انسانی تاریخ کے بدترین باطنی بحران میں مبتلا ہے۔ اگر ہم نے مغرب کا معاشی نظریہ اور نظام اختیار کیا تو عوام کی پرسکون خوش حالی حاصل کرنے کے اپنے نصب العین میں ہمیں کوئی مدد نہیں ملے گی۔ اپنی تقدیر ہمیں منفرد انداز میں بنانی پڑے گی، ہمیں دنیا کے سامنے ایک مثالی معاشی نظام پیش کرنا ہے جو انسانی مساوات اور معاشرتی انصاف کے سچے اسلامی تصورات پر قائم ہو۔ ایسا نظام پیش کر کے گویا ہم مسلمانوں کی حیثیت سے اپنا فرض سر انجام دیں گے، انسانیت کو سچ اور صحیح امن کا پیغام دیں گے، اور صرف ایسا امن ہی انسانیت کو جنگ کی ہولناکی سے بچا سکتا ہے، صرف ایسا امن ہی بنی نوع انسان کی خوشی اور خوشحالی کا امین ہو سکتا ہے۔‘‘

اسی طرح 1944ء میں مہاتما گاندھی کے نام ایک خط میں قائد اعظمؒ نے اپنے موقف کی یوں وضاحت کی کہ:

’’قرآن مسلمانوں کا ضابطۂ حیات ہے۔ اس میں مذہبی اور مجلسی، دیوانی اور فوجداری، عسکری اور تعزیری، معاشی اور معاشرتی، غرض کہ سب شعبوں کے احکام موجود ہیں۔ مذہبی رسوم سے لے کر روزانہ امور حیات تک، روح کی نجات سے لے کر جسم کی صحت تک، جماعت کے حقوق سے لے کر فرد کے حقوق و فرائض تک، اخلاق سے لے کر انسداد جرم تک، زندگی میں سزا و جزا سے لے کر عقبیٰ کی جزا و سزا تک، ہر قول، فعل اور حرکت پر مکمل احکام کا مجموعہ ہے۔ لہٰذا میں جب یہ کہتا ہوں کہ مسلمان ایک قوم ہے تو حیات اور مابعد حیات کے ہر معیار اور ہر مقدار کے مطابق کہتا ہوں۔‘‘

اس لیے چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف نے جب یہ کہا کہ وہ مصطفی کمال اتاترک کو ایک اچھا لیڈر سمجھتے ہیں مگر ان کے آئیڈیل وہ نہیں بلکہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ ہیں تو ایک حد تک قلبی اطمینان حاصل ہو اکہ جنرل پرویز مشرف کے ذہن میں مصطفی کمال اتاترک اور قائد اعظم محمد علی جناحؒ کے درمیان فرق کا تصور موجود ہے اور اس فرق و تضاد کے حوالہ سے ان کی ترجیح بھی واضح ہے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ جنرل پرویز مشرف کو ان کے آئیڈیل لیڈر قائد اعظم محمد علی جناحؒ کا ادھورا چھوڑا ہوا مشن اور پروگرام مکمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔