خلافتِ عثمانیہ اور مولانا احمد رضا خانؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۲ جون ۲۰۰۰ء

جناب محمد مسکین عباسی صاحب کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے بالآخر میرا یہ موقف تسلیم کر لیا ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ ترکوں کی خلافت کو تسلیم نہیں کرتے تھے۔ بات سادہ سی تھی کہ میں نے ایک مضمون میں یہ ذکر کر دیا کہ مولانا احمد رضا خانؒ نے ترکوں کی خلافت کے خلاف فتویٰ پر دستخط کیے تھے اور متحدہ ہندوستان میں خلافت عثمانیہ کی حمایت میں چلنے والی تحریک خلافت کی مخالفت کی تھی۔ اس پر محمد مسکین عباسی صاحب نے مجھ سے ایک مراسلہ میں اس بات کا حوالہ طلب کیا جس کے جواب میں راقم الحروف نے تحریک پاکستان کے راہنما چودھری خلیق الزمان مرحوم کی کتاب ’’شاہراہ پاکستان‘‘ کا حوالہ دیا کہ انہوں نے اس امر کا تفصیل کے ساتھ ذکر کیا ہے۔

اس کے ساتھ محمد مسکین عباسی صاحب کے مذکورہ مراسلہ کی بنیاد پر میں نے عرض کیا کہ اگر ان کے بقول مولانا احمد رضا خانؒ خلافت کے لیے قریشی ہونے کی شرط کو لازمی سمجھتے تھے تو فی الواقع ان کے لیے ترک سلاطین کو خلفاء اسلام کے طور پر قبول کرنا مشکل تھا، کیونکہ اس طرح موقف میں تضاد لازم آتا۔ اس کے جواب میں عباسی صاحب موصوف کا مراسلہ شائع ہوا ہے جس میں انہوں نے مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی دینی خدمات کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کے ساتھ عقیدت و محبت کا اظہار کیا ہے۔ اور پھر سلطنت اور خلافت کا فرق بیان کر کے یہ بتایا ہے کہ مولانا احمد رضا خانؒ ترک حکمرانوں کو سلاطین مانتے تھے مگر خلفاء تسلیم نہیں کرتے تھے۔ یعنی عثمانی سلاطین کی حیثیت ان کے نزدیک صرف مسلم حکمرانوں کی تھی اور امیر المومنین اور خلیفۃ المسلمین کی حیثیت انہیں حاصل نہیں تھی۔

جہاں تک مولانا احمد رضا خان بریلویؒ کی دینی خدمات کا تعلق ہے اس کا تذکرہ اور ان کے ساتھ محبت و عقیدت کا اظہار ان کے ہر پیروکار کا حق ہے اور ملت اسلامیہ کے ایک بڑے گروہ کے مذہبی پیشوا کے طور پر ان کے اس مقام و مرتبہ اور استحقاق سے کسی طرح انکار نہیں کیا جا سکتا۔ لیکن اس کا تعلق ہمارے موضوع سے نہیں ہے کیونکہ ہم تاریخ کے بعض واقعات کے بارے میں گفتگو کر رہے ہیں اور تاریخ کے معاملات عقیدت و محبت کے حوالہ سے نہیں بلکہ مستند ماخذ اور حوالہ جات کی بنیاد پر طے پاتے ہیں۔ اس لیے اس پس منظر میں مجھے یہ شکوہ کرنے کا حق حاصل ہے کہ میں نے جن کتابوں کا حوالہ دیا ہے محمد مسکین عباسی صاحب نے ان کے بارے میں کچھ ارشاد نہیں فرمایا۔ ہاں! ان کے ہاں اگر محض عقیدت و محبت کا اظہار تاریخی حوالہ جات اور مستند ماخذ کا خلاء بھی پر کر دیتا ہو تو پھر اس کے بارے میں مزید کچھ عرض کرنے کی ضرورت بلکہ گنجائش باقی نہیں رہ جاتی۔

مجھے عباسی صاحب موصوف کے اس ارشاد سے سو فیصد اتفاق ہے کہ مولانا احمد رضا خان بریلویؒ سلطنت اور خلافت میں فرق کرتے تھے اور ترکی کے عثمانی حکمرانوں کو مسلم سلاطین کے طور پر تسلیم کرتے تھے مگر انہیں خلیفہ اور امیر المومنین نہیں سمجھتے تھے۔ اور مولانا احمد رضا خانؒ نے خلافت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کرنے والے شریف مکہ حسین بن علی کی حمایت کی تھی۔ مگر عباسی صاحب کی اس بات سے مجھے اتفاق نہیں ہے کہ خود عثمانی حکمرانوں نے بھی خلافت کا دعویٰ نہیں کیا تھا۔ اور چونکہ وہ سلطان کے لقب سے پکارے جاتے تھے اس لیے وہ خلافت اسلامیہ کے حامل نہیں تھے اور نہ ہی عالم اسلام میں انہیں خلیفہ سمجھا جاتا تھا۔

دراصل محمد مسکین عباسی صاحب یہ کہہ کر مولانا احمد رضا خان مرحوم کے مذکورہ موقف کو عالم اسلام کا موقف ثابت کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ امر واقعہ نہیں ہے۔ کیونکہ یہ تاریخی حقیقت ہے کہ خلافت عباسیہ کے خاتمہ کے بعد ترکوں کے آل عثمان نے خلافت کا پرچم تھام لیا تھا اور اس کے بعد امت نے اجتماعی طور پر ان کی خلافت کو صدیوں تک قبول کیے رکھا ہے۔ وہ امیر المومنین اور خلیفۃ المسلمین کہلاتے تھے اور اسی حیثیت سے شرعی احکام صادر کرتے تھے۔ عالم اسلام کے ایک بڑے حصے بشمول مکہ مکرمہ، مدینہ منورہ اور بیت المقدس کی مساجد میں صدیوں تک ان کے نام کا خطبہ پڑھا جاتا رہا ہے۔ یورپ کی مسیحی حکومتوں نے ان کی حکومت کو اسلامی خلافت سمجھ کر ہی اسے ختم کرنے کے لیے سازشوں کے جال بچھائے تھے۔ اور برصغیر پاک و ہند میں مولانا محمد علی جوہرؒ کی قیادت میں ان کی حمایت میں خلافت ہی کے عنوان سے تحریک چلائی گئی تھی۔ اس لیے یہ کہنا کہ عثمانی خلفاء نے خلافت اسلامیہ کا دعویٰ نہیں کیا تھا یا عالم اسلام نے انہیں خلیفۃ المسلمین کے طور پر قبول نہیں کیا تھا، قطعی طور پر خلاف واقعہ ہے اور امت مسلمہ کی کم از کم پانچ سو سالہ اجتماعی تاریخ کی نفی کے مترادف ہے۔

میں اس موقع پر حوالہ جات کی تفصیلی بحث میں الجھے بغیر صرف اس تاریخی مرحلہ کا ذکر کرنا مناسب سمجھوں گا کہ سلطان عبد الحمید ثانی مرحوم کو خلافت سے معزول کرنے کا پروانہ لے کر جو وفد ان کے پاس گیا تھا ان میں نامور یہودی لیڈر عمانوئیل قرہ مو بھی تھا جسے دیکھ کر خلیفہ مرحوم نے حسرت کے ساتھ یہ تاریخی جملہ وفد والوں سے کہا تھا کہ

’’کیا تمہیں خلیفۃ المسلمین کو معزولی کا پیغام پہنچانے کے لیے اس یہودی کے سوا اور کوئی شخص نہیں ملا تھا؟‘‘