قرآنی اصول اور جناب معین قریشی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۷ اکتوبر ۲۰۰۰ء

پاکستان کے سابق وزیراعظم معین قریشی نے گزشتہ دنوں واشنگٹن میں ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ چودہ سو سال قبل کے حالات اور قوانین کو آج کے دور میں لاگو کرنا مناسب نہیں ہے اور شریعت کے نفاذ کا مطالبہ بھی ضروری نہیں ہے۔ البتہ قرآن کریم کی روح کے مطابق قوانین بننے چاہئیں اور اصول قرآن کریم سے اخذ کرنا چاہئیں۔

معین قریشی کا تعلق علماء کے ایسے معروف خاندان سے ہے جس نے اس خطہ میں اسلامی علوم و روایات کے تحفظ اور آزادئ وطن کے لیے گراں قدر خدمات سر انجام دی ہیں اور ان کی ملی و دینی خدمات کا ہر حلقہ میں احترام و اعتراف کیا جاتا ہے۔ حضرت مولانا عبد القادر قصوریؒ اور حضرت مولانا محی الدین قصوریؒ کا شمار برصغیر کے ممتاز اہل حدیث علماء میں ہوتا ہے۔ معین قریشی اسی خاندان کے چشم و چراغ ہیں لیکن موقف کے حوالے سے وہ اپنے بزرگوں کی روایات اور مسلک سے بالکل الٹ چل رہے ہیں۔ ان کے بزرگ اہل حدیث کہلاتے تھے جو سنت کے دائرہ تک محدود رہنے کے لیے تیار نہیں ہیں بلکہ اسے مزید وسعت دے کر ظاہر حدیث پر عمل کو بھی ضروری سمجھتے ہیں۔ جبکہ معین قریشی سنت و حدیث کو ایک طرف چھوڑتے ہوئے قرآن کریم کے ظاہری احکام کو بھی غیر ضروری بلکہ آج کے حالات کے لیے نامناسب قرار دے رہے ہیں۔ اور ان کا ارشاد ہے کہ قرآن کریم کی روح کشید کر کے اس میں سے اصول اخذ کیے جائیں۔

قرآن کریم کو اصول اخذ کرنے تک محدود رکھنا اور اس کے ظاہری اور واضح احکام پر عمل کرنے کی بجائے اس کی روح کے مطابق قوانین و ضوابط ترتیب دینا کوئی نیا موقف نہیں ہے، اور نہ ہی علمی حلقوں کے لیے اس میں کوئی اجنبیت باقی رہ گئی ہے۔ کیونکہ ایک عرصہ سے یہ موقف ان حلقوں کی طرف سے سامنے لایا جا رہا ہے جو مغرب کے جدید فلسفہ، ذہنی و فکری ارتقاء، اور معاشرتی روایات و اقدار کو اصل معیار سمجھتے ہیں لیکن قرآن کریم کے واضح احکام و ارشادات کو اس سے مختلف بلکہ متضاد پا کر کنفیوژن کا شکار ہو جاتے ہیں۔ پھر انہیں قرآن کریم سے انکار کرنے کا حوصلہ نہیں ہوتا تو وہ دونوں طرف کی وابستگی کو بیک وقت برقرار رکھنے کے لیے درمیان کا یہ راستہ نکالتے ہیں کہ قرآن کریم کو تو اصول اور روح کی حد تک رکھا جائے جبکہ اس کے شیلٹر کے نیچے مغربی فلسفہ کے مطابق سوسائٹی کو ہر معاملہ میں فیصلہ کن اتھارٹی تسلیم کرتے ہوئے حالات اور ضروریات کے مطابق حسب منشاء قوانین وضع کر لیے جائیں۔

حسب منشاء نئے احکام و قوانین وضع کرنے کی یہی خواہش فقہائے اربعہ حضرت امام ابوحنیفہؒ ، حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ ، اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ کے فقہی اجتہادات کے حوالہ سے تعامل امت سے انحراف کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اسی خواہش کی کوکھ سے اجماع صحابہؓ کی اہمیت سے انکار جنم لیتا ہے۔ یہی خواہش سنت نبویؐ کو غیر ضروری قرار دینے پر اکساتی ہے۔ اور یہی تقاضا قرآن کریم کے ظاہری احکام کو چودہ سو سالہ پرانے دور کی ضرورت قرار دینے اور اس کی روح کے مطابق نئے احکام و قوانین تشکیل دینے پر آمادہ کرتا ہے۔

لیکن اس وقت اس پہلو کو زیر بحث لانے کی بجائے ہم جناب معین قریشی اور ان کے ہم خیال حضرات کی خدمت میں قرآن کریم ہی کے چند راہ نما اصولوں کا تذکرہ کرنا چاہتے ہیں۔ اور یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ اگر قرآن کریم سے اپنا مطلب نکالنے اور اس سے اپنی بات کہلوانے کا راستہ اختیار نہ کیا جائے بلکہ خود اس سے راہ نمائی حاصل کرنے کی کوشش کی جائے تو قرآن کریم کی اصولی راہ نمائی آج بھی وہی ہے جس کی تفصیلات و تشریحات سنت نبویؐ، اجماع صحابہؓ، فقہاء اربعہؓ کے اجتہادات، اور امت کے چودہ سو سالہ تعامل کی صورت میں صدیوں سے ہمارے سامنے موجود ہیں۔ اور جس کی نمائندگی اور ترجمانی کا فریضہ آج بھی امت کے کم و بیش تمام مکاتب فکر کے سنجیدہ علماء کرام اور مجتہدین سر انجام دے رہے ہیں۔ اصولی رہنمائی کے حوالے سے قرآن کریم کی تعلیمات میں سے سردست دس اصولوں کا تذکرہ اس موقع پر مناسب معلوم ہوتا ہے۔

  1. قرآن کریم کی سب سے پہلی سورۃ الفاتحہ میں اللہ رب العزت نے ہمیں ہر وقت ہدایت پر قائم رہنے کی دعا مانگتے رہنے کی تلقین فرمائی ہے اور ہدایت کا معیار یہ بتایا ہے کہ جن لوگوں پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کی بارش ہوئی ہے وہ ہدایت یافتہ ہیں، اور جو اللہ تعالیٰ کے غیظ و غضب کے مستحق ٹھہرے ہیں وہ ہدایت سے محروم ہیں۔ پھر قرآن کریم میں ماضی کی بیسیوں اقوام کا ذکر کر کے بتایا گیا ہے کہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی پر عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے انعام اور رحمت کا حقدار ٹھہرایا ہے جبکہ ان سے انحراف کرنے والوں کو ملعون و مغضوب قرار دیا ہے۔ اس لیے قرآن کریم سب سے پہلے ہمیں یہ اصول سمجھاتا ہے کہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی ہی ہدایت کا واحد معیار ہیں اور اس کے سوا سب گمراہی ہے۔
  2. سورۃ البقرہ آیت 85 میں قرآن کریم ہمیں یہ اصول دیتا ہے کہ آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی میں تقسیم درست نہیں ہے کہ جس بات کو جی چاہے مان لیا جائے اور جس کو جی نہ چاہے اس سے انکار کر دیا جائے۔ بلکہ وحی الٰہی کے ایک حصے پر ایمان لانا اور اسی کے دوسرے حصے کو نہ ماننا اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عذاب اور رسوائی کا باعث ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کے سب احکام و قوانین کو بیک وقت ماننا اور ان پر ایک مربوط اور مکمل نظام کے طور پر عمل کرنا ضروری ہے۔ اور ان میں سے اپنی مرضی کے احکام و قوانین کا انتخاب کرنا گمراہی ہے۔
  3. سورۃ المائدہ آیت 49 میں اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ہے کہ آسمانی تعلیمات پر عملدرآمد اور قرآنی احکام کے نفاذ کے بارے میں لوگوں کی خواہشات کا کوئی دخل نہیں ہے۔ اور اگر اس میں لوگوں کی خواہشات کا لحاظ کیا جائے گا تو یہ فتنہ کا باعث ہوگا اور ایسا کرنے والے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سزا کے مستحق ہوں گے۔
  4. سورۃ المائدہ آیت 44 تا 47 ارشاد ربانی ہے کہ خدائی قوانین کا نفاذ اختیاری بات نہیں ہے بلکہ سوسائٹی میں ان کا نفاذ ضروری ہے۔ اور اگر کوئی شخص یا گروہ اختیار رکھتے ہوئے بھی معاشرہ میں قرآن کریم کے احکام و قوانین کا نفاذ نہیں کرتا ہے تو وہ کافروں، ظالموں، اور فاسقوں کے زمرہ میں شمار ہوگا۔
  5. سورۃ النساء آیت 80 اور سورۃ الحشر آیت 7 میں قرآن کریم نے جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت قرار دیا ہے، اس سے انحراف کو گمراہی کہا ہے، اور یہ تلقین کی ہے کہ جناب رسول اللہؐ جس بات کا حکم دیں اس پر عمل کرو اور جس بات سے روکیں اس سے رک جاؤ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی منشاء اور قرآن کریم کے احکام کی تشریح معلوم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ جناب نبی کریمؐ کی سنت ہے۔ اس لیے قرآن کریم کے ساتھ سنت نبویؐ بھی قانون سازی کا بنیادی سرچشمہ ہے۔
  6. سورۃ البقرہ آیت 13 اور آیت 137 میں اللہ تعالیٰ نے صحابہ کرامؓ کو ایمان اور راہنمائی کا معیار قرار دیا ہے اور باقی تمام لوگوں کو صحابہ کرامؓ کی طرح ایمان لانے کی تلقین کی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن و سنت کی تعبیر و تشریح میں سنت نبویؐ کے ساتھ ساتھ صحابہ کرامؓ کا اسوہ اور تعامل بھی رہنمائی کا اہم ذریعہ ہے۔
  7. سورۃ الشوریٰ آیت 38 میں اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی ہے کہ وہ اپنے معاملات باہمی مشاورت سے طے کرتے ہیں۔ سورۃ آل عمران 159 میں جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کو مشورہ میں شریک کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اسلام کا نظام باہمی مشاورت پر مبنی ہے اور اجتماعی معاملات طے کرنے میں درجہ بدرجہ لوگوں کو مشاورت کے نظام میں شریک کرنا ضروری ہے۔
  8. سورۃ النساء آیت 83 میں قرآن کریم نے یہ ہدایت دی ہے کہ امن یا خوف کے حوالے سے کوئی نیا معاملہ پیش آجائے تو اس کی عوام میں تشہیر کرنے کی بجائے پہلے اسے ایسے لوگوں کے سامنے پیش کیا جائے جو اس کی گہرائی تک پہنچ کر اس سے نتائج اخذ کر سکتے ہوں، پھر ان کی رہنمائی میں بات کو آگے چلایا جائے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بھی نیا مسئلہ یا واقعہ ہو تو پہلے اس کے بارے میں متعلقہ ماہرین کی رائے لی جائے اور پھر اسے عوام کے سامنے لایا جائے ورنہ مسئلہ براہ راست عوام کے سامنے لانے سے خرابی پیدا ہو سکتی ہے۔
  9. سورۃ النساء آیت 59 میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو حکم دیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ اور رسول اللہؐ کے بعد اپنے اولی الامر یعنی حکام کی بھی اطاعت کریں۔ لیکن اگر ان کے درمیان کسی بات پر تنازعہ ہو جائے تو اس کا فیصلہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ سے حاصل کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت وقت اور مسلمان حکام کی اطاعت ضروری ہے لیکن حکومت اور رعایا کے درمیان کوئی معاملہ متنازعہ ہو جانے کی صورت میں اس کا فیصلہ قرآن و سنت کی روشنی میں کرنا ضروری ہوگا۔
  10. سورۃ النساء آیت 115 میں یہ ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ سنت رسول اللہؐ واضح ہو جانے کے بعد اس کی مخالفت کرنا اور اس کے بعد مسلمانوں کے اجتماعی طرز عمل سے ہٹنا بھی گمراہی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اجماع امت کا خیال رکھنا بھی ضروری ہے اور قرآن و سنت کے بعد امت مسلمہ کے اجماعی تعامل کا ساتھ دینا بھی لازم ہے۔ اس لیے قرآن و سنت کے احکام کی تشریح و تعبیر اور اسلامی نظام کے بنیادی خدوخال کے حوالے سے امت کی اکثریت چودہ سو سال سے جو سمجھتی رہی ہے اور جس پر عمل کرتی رہی ہے وہی اسلام کی حقیقی تعبیر و تشریح ہے، اور اس سے ہٹ کر نئی راہ اختیار کرنا سراسر گمراہی ہے۔