نظام کی ناکامی کا فطری ردعمل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۹ جنوری ۲۰۰۳ء

گوجرانوالہ پولیس نے گزشتہ روز بازار الماریاں کے ایک دکاندار حاجی محمد سرور کو گرفتار کر لیا ہے جس پر الزام ہے کہ اس نے متعدد کال گرلز کو قتل کیا ہے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق حاجی محمد سرور نے چار کال گرلز کے قتل کا اعتراف کیا ہے اور کہا ہے کہ اس نے برائی کو مٹانے کے لئے یہ کارروائی کی ہے اور وہ اس پر پوری طرح مطمئن ہے۔ حاجی محمد سرور کا تعلق ایک مذہبی خاندان سے بتایا جاتا ہے،اس کے گھر میں نہ ٹی وی ہے نہ ریڈیو، اور خاندان کی عورتیں پردہ دار ہیں جبکہ خود حاجی سرور کی اہلیہ کا کہنا ہے کہ وہ فرشتہ سیرت انسان ہے۔

ایک قومی اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے حاجی سرور نے بتایا ہے کہ اس کاکسی مذہبی تنظیم سے کوئی تعلق نہیں۔ جی ٹی روڈ پر اکثر فاحشہ عورتیں کھڑی ہوکر لوگوں کو کھلے عام دعوت گناہ دیتی تھیں جس پر میں نے اعلیٰ پولیس افسروں کو متعدد خطوط لکھے اور ان سے استدعا کی کہ وہ اس فحاشی کو روکیں مگر پولیس نے کوئی کارروائی نہ کی جس پر میں نے از خود برائی مٹانے کا فیصلہ کر لیا اور اسی جذبہ کے تحت میں نے کال گرلز کو قتل کیا۔ میں نے سنا کہ لاہور میں بھی فحاشی عام ہے، جب میں وہاں بازار حسن گیا تو مجھے کچھ عورتوں نے گاہک سمجھ کر پھنسانے کی کوشش کی تو میں نے تین عورتوں پر فائرنگ کی ۔ میں نے بعد میں اخبارات میں پڑھا کہ ان میں سے ایک مر گئی ہے۔ میں ان کال گرلز کو قتل نہیں کرنا چاہتا تھا اگر انہیں قتل کرنا ہوتا تو ان کے سروں میں گولیاں مارتا، میں صرف پیٹ میں گولیاں مار کر انہیں ناکارہ بنانا چاہتا تھا تاکہ وہ اس مکروہ دھندے سے باز آجائیں مگر تین چار مر گئیں۔ اس پر میں نے چار کال گرلز کے مرنے پر چار ہزار روپے اور چھ زخمی ہونے کے تین ہزار روپے خیرات دی۔ میں وقوعہ کے بعد نفل ادا کرتا تھا اور خدا کے حضور گڑگڑا کی زارو قطار روتا تھا۔

حاجی محمد سرور کی گرفتاری اور اس کی طرف منسوب اس اخباری بیان کی اشاعت کے ساتھ حسب معمول اخبارات میں اس کے بارے میں مثبت اور منفی دونوں قسم کے رد عمل کا اظہار شروع ہو گیا ہے۔ ایک قومی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ہیومن رائٹس ونگ پی پی پی پنجاب کے صدر سلیمان کھوکھر نے کہا ہے کہ قانون کسی دوسرے شخص کو قتل کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دیتا کیونکہ قتل بذات خود ایک بڑا جرم ہے۔ جبکہ پیپلز لائرز فورم گوجرانوالہ کے صدر حاجی جاوید پال نے کہا ہے کہ حاجی سرور برائی مٹانے کی کوشش میں چار قتل کر کے خود ایک بڑا ملزم بن چکا ہے۔ اس کے علاوہ ہیومن رائٹس کمیشن کے ڈسٹرکٹ کو آرڈی نیٹر سعید اعوان نے اسے انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مذکورہ اخبار کی رپورٹ کے مطابق تاجر برادری کے کچھ حضرات نے اس کی مذمت کی ہے اور بعض نے اسے مجاہدانہ اقدام قرار دیا ہے۔

جہاں تک گوجرانوالہ میں کال گرلز کی ’’بدکاری مہم ‘‘ کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ ایک عرصہ سے موجود ہے اور یہ بھی امر واقعہ ہے کہ ضلعی انتظامیہ اور پولیس نے بار بار توجہ دلائے جانے کے باوجود اسے روکنے کے لئے اب تک کوئی سنجیدہ کارروائی نہیں کی۔غالباً تین چار سال قبل کی بات ہے کہ مدرسہ انوار العلوم گوجرانوالہ کے بعض طلبہ نے مجھے اس طرف توجہ دلائی کہ جی ٹی روڈ پر ایک مخصوص مقام پر شام کے وقت عورتیں کھڑی ہوتی ہیں اور چند رکشے والے پراسرار انداز میں ان کے سامنے رک کر ان سے بات کرتے ہیں اور وہ باری باری ان کے ساتھ بیٹھ کر چلی جاتی ہیں۔ میں نے ان طلبہ سے اس صورت حال پر کچھ دن اور نظر رکھنے کے لیے کہا اور اس وقت کے ڈی آئی جی پولیس کو خود تحریری طور پر اس سے آگاہ کرتے ہوئے ان سے استدعا کی کہ وہ اس کا سدباب کریں۔ اس کے بعد مدرسہ میں چھٹیاں ہوئیں اور وہ طلبہ چلے گئے۔

البتہ اس دوران شہر کے چند دیگر ذمہ دار حضرات سے گزارش کی تو انہوں نے بتایا کہ وہ اس سلسلہ میں ضلعی انتظامیہ کے ذمہ دار حضرات سے بات کر چکے ہیں لیکن انہیں یہ جواب ملا ہے کہ متعلقہ حکام اس حوالہ سے بے بسی کا اظہار کر رہے ہیں ۔ میں نے ایک دوست سے اس ’’بے بسی‘‘ کی وجہ پوچھنا چاہی تو وہ ہنستے ہوئے یہ کہہ کر ٹال گئے کہ’’تہانوں نئیں پتہ؟‘‘ یعنی کیا آپ کو اس کی وجہ معلوم نہیں ؟

گوجرانوالہ میں کال گرلز کی اس ’’بدکاری مہم‘‘ کے خلاف چند روز کی اس رسمی سی تگ و دو کے بعد میں بھی دوسری مصروفیات میں مگن ہو گیا۔آج بازارِ الماریاں کے اس نوجوان دکاندار کی گرفتاری اور اعترافات کے بعد وہ بات پھر سے ذہن میں تازہ ہو گئی ہے اور سچی بات ہے کہ مجھے شرمندگی اور ندامت محسوس ہو رہی ہے کہ حالات کے اس مقام تک پہنچنے میں خود ہماری سستی اور بے توجہی کا بھی خاصا دخل ہے۔مجھ سے بعض اخباری نمائندوں نے اس بارے میں دریافت کیا تو میں نے گزارش کی کہ قانون کو ہاتھ میں لینے کی تو میں حمایت نہیں کرتا اور نہ ہی اسلام اس کی اجازت دیتا ہے لیکن یہ بات ضرور کہنا چاہتا ہوں کہ یہ برائی کو روکنے میں مروجہ سسٹم کی ناکامی کا رد عمل ہے اور سسٹم کو چلانے والوں کی کوتاہیوں اور نااہلی کی صدائے باز گشت ہے ۔ جسم کے کسی حصے میں گندا مواد جمع ہوجائے اور اسے جسم سے نکالنے کی بجائے تھپتھپاتے رہنے کا طرز عمل اختیار کر لیا جائے تو اس نے کہیں نہ کہیں سے نکلنا تو ہوتا ہے۔وہ نکلنے کا راستہ خود تلاش کر لیتا ہے اور جگہ بھی خود متعین کرتا ہے اس لیے اصل اسباب کی نشاندہی کرنا اور ان کے سد باب کی کوشش کرنا ہی مسئلہ کا صحیح حل ہے۔

زنا، شراب، جوا، حرام خوری، فحاشی اور دیگر معاشرتی جرائم کی روک تھام اسلامی نقطہ نظر سے حکومت وقت کی ذمہ داری ہے اور اس کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر وہ اس کا اہتمام نہیں کرے گی تو وہ اپنے منصبی فرائض کی بجا آوری میں کوتاہی مرتکب ہوگی۔ جبکہ ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ملک کا ایک با ضابطہ سفارتی نمائندہ اپنی سفارتی ڈیوٹی کے دوران ’’گرلز فرینڈ‘‘ کے ساتھ سر گرمیوں میں ملوث پایا گیا ہے لیکن اس کو سفارتی نمائندہ بنانے والوں کی پیشانی پر عرق ندامت کا کوئی قطرہ نمودار نہیں ہوا بلکہ حکومتی سطح پر اس کی اس حرکت کا دفاع کیا جارہا ہے۔ ایسی حالت میں اور ایسی حکومت سے یہ توقع کیسے کی جا سکتی ہے کہ وہ ملک کے اندر زنا اور فحاشی کی روک تھا م کے لئے کوئی سنجیدہ کارروائی کرے گی۔اس کے بعد علماء کرام اور سیاسی دینی جماعتوں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اصلاح احوال کے لیے اپنے دائرہ عمل و اختیار میں محنت کریں اور عوامی سطح پر ایسا ماحول قائم کرنے کی کوشش کریں جس میں ان برائیوں کی حوصلہ شکنی ہوتی ہو۔علماء کرام اپنے خطبات اور دروس میں انفرادی طور پر ضرور آواز اٹھا رہے ہوں گے مگر سیاسی دینی جماعتوں نے تو متفقہ طور پر یہ طے کر رکھا ہے کہ جب تک ملک کا اقتدار مکمل طور پر ان کے ہاتھ میں نہیں آجاتا اور ملکی نظام پر ان کی بھر پور گرفت قائم نہیں ہوتی اس سے پہلے اور اس سے نیچے اصلاح احوال کی کوئی کوشش کسی شعبہ میں قطعی طور پر ان کے لئے روا نہیں ہے۔

ان حالات میں حاجی محمد سرور کا نمودار ہونا ایک فطری اور منطقی رد عمل ہے جس کی مذمت کرنے اور اسے کوسنے کی بجائے ہمیں اس کا شکریہ ادا کرنا چاہئے کہ اس نے خود اپنی جان اور عزت دونوں کو خطرے میں ڈال کر ہماری غفلت اور کوتاہیوں کو بے نقاب کیا ہے اور مروجہ سسٹم کی ناکامی پر مہر تصدیق ثبت کر دی ہے۔ حاجی محمد سرور اپنے اعتراف کے مطابق چار قتلوں کا مجرم ہے اور اسے قانون ہاتھ میں لینے کی سزا ضرور ملنی چاہئے لیکن اس کے ساتھ وہ مروجہ نظام کی فرسودگی اور ناکامی کا عنوان بن کر سامنے آیا ہے اور حوالات کی سلاخوں کے پیچھے سے اس سسٹم کے ذمہ داروں اور شریک طبقات کا منہ چڑا رہا ہے۔ کیا اس کے اس چیلنج کا سامنا کرنے کا ہم میں سے کسی طبقہ یا شخص میں حوصلہ ہے؟