اسلام اور مسلمانوں کے خلاف عالمی میڈیا کی یلغار

غزوۂ احزاب میں مشرکین کا محاصرہ ناکام ہوا اور عرب قبائل کا متحدہ لشکر مدینہ منورہ کو تاخت و تاراج کرنے کی حسرت دل میں لیے بے نیل مرام واپس پلٹنے پر مجبور ہو گیا۔ اس پر جناب سرور کائناتؐ نے صحابہ کرامؓ کو یہ بشارت دی کہ یہ مکہ والوں کی آخری یلغار تھی، اس کے بعد مشرکین عرب کو مدینہ منورہ کا رخ کرنے کی جرأت نہیں ہوگی، اب جب بھی موقع ملا ہم ادھر جائیں گے۔ البتہ ہتھیاروں کی جنگ میں ناکامی کے بعد اب مشرکین ہمارے خلاف زبان کی جنگ لڑیں گے، عرب قبائل ہمارے خلاف شعر و ادب کی زبان میں منافرت پھیلائیں گے اور خطابت و شعر کے ہتھیاروں کو استعمال میں لائیں گے۔ اتنی بات کر کے جناب نبی کریمؐ نے صحابہ کرام سے دریافت کیا کہ ہتھیار کی جنگ میں تو تم نے میرا بھر پور ساتھ دیا، اب زبان و ادب اور شعر و خطابت کی جنگ میں تم میرا کتنا ساتھ دو گے؟

یہ سن کر انصار مدینہ میں سے تین بزرگ اٹھے اور عرض کیا یا رسول اللہ یہ جنگ ہم لڑیں گے اور مشرکین کا مقابلہ کریں گے۔ یہ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت عبداللہ بن رواحہ تھے جن کا شمار ممتاز شعراء میں ہوتا تھا۔ انہوں نے زبان و ادب اور شعر و خطابت کے محاذ پر مورچہ سنبھالا اور مشرکین کو اس میدان میں بھی شکست سے دو چار کیا۔ ان کے چوتھے ساتھی حضرت ثابت بن قیس بن شماسؓ تھے، غضب کے مقرر اور بلا کے خطیب تھے، انہیں خطیب الانصار کے لقب سے یاد کیا جاتا تھا، خطیب رسول اللہ کہا جاتا تھا، اور ملت اسلامیہ کی تاریخ میں خطیب اسلام کے لقب سے بھی سب سے پہلے انہیں مخاطب کیا گیا۔

یہ اس دور کا میڈیا تھا کہ شعراء اور خطباء اپنے قبائل کی مدح اور دشمن قبائل کی مذمت میں شعر کہتے۔ یہ مقابلے مشترک اجتماعات میں ہوتے تھے اور بسا اوقات ان مقابلوں کے لیے خاص محفلوں کا اہتمام بھی کیا جاتا تھا۔ جو خطباء اور شعراء مقابلہ جیت جاتے ان کے قبائل کی برتری کا اعتراف کیا جاتا تھا۔

بنو تمیم کا وفد جناب نبی کریمؐ کی خدمت میں حاضر ہوا تو عرب کے قبائلی رواج کے مطابق وہ اپنا خطیب اور شاعر ساتھ لائے جنہوں نے استقبالیہ محفل میں اپنے قبیلے کے فضائل بتائے اور مفاخر بیان کیے۔ جناب نبی کریمؐ کے حکم پر جواب میں حضرت حسان بن ثابتؓ اور حضرت ثابت بن قیسؓ نے اسلام کے محاسن، جناب نبی کریمؐ کے فضائل اور کفر کی برائیاں بیان فرمائیں جنہیں سنتے ہی بنو تمیم کے وفد کا لیڈر بے ساختہ پکار اٹھا کہ بخدا ان کا خطیب ہمارے خطیب سے بڑا ہے اور ان کا شاعر بھی ہمارے شاعر سے برتر ہے۔ اور پھر یہی بات بنو تمیم کے قبول اسلام کا باعث بن گئی۔ مشرک شعراء کی طرف سے جناب نبی کریمؐ کی ھجو میں کوئی کلام سامنے آتا تو جناب نبی کریمؐ کے حکم سے حضرت حسان بن ثابتؓ مسجد نبویؐ میں منبر رسولؐ پر کھڑے ہو کر اس کا جواب دیتے۔ بخاری کی روایت ہے کہ ایک موقع پر حضرت حسان بن ثابتؓ منبر رسول ؐ پر کھڑے ہو کر اسی نوعیت کے اشعار پڑھ رہے تھے جبکہ نبی اکرمؐ سامنے سا معین کی صف میں تشریف فرما تھے اور حسان بن ثابتؓکو یہ کہہ کر داد دے رہے تھے کہ شعر کہتے رہو جبریل علیہ السلام تمہاری مدد کے لیے تمہاری پشت پر کھڑے ہیں۔

جب جناب نبی اکرمؐ ہزاروں صحابہ کرامؓ سمیت بیت اللہ کے عمرۃ القضاکے لیے مکہ مکرمہ میں داخل ہوئے تو آپؐ اونٹنی پر سوار تھے جس کی مہار حضرت عبداللہ بن رواحہؓ نے تھام رکھی تھی۔ وہ مہار پکڑے مکہ کی وادی میں اتر رہے تھے اور کافروں کی مذمت میں اشعار پڑھتے جا رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھا تو آگے بڑھ کر آہستہ آواز میں عبداللہ بن رواحہؓ کو روکنے کی کوشش کی،کہا کہ اب بیت اللہ شریف سامنے ہے شعر پڑھنا چھوڑ دو، نبی کریمؐ نے یہ آواز سن لی اور اوپر سے کہا کہ اے عمر چھوڑو اسے شعر پڑھنے دو۔ اس لیے کہ اس کے اشعار کافروں کے سینوں میں تیروں سے بھی زیادہ صحیح نشانے پر لگ رہے ہیں۔

یہ اس دور کی میڈیا کی جنگ تھی، زبان و ادب کی جنگ تھی، شعر و خطابت کی جنگ تھی، اور اس دور کے ذرائع ابلاغ اور صحافت کی جنگ تھی جسے جناب نبی اکرمؐ نے نظر انداز نہیں کیا بلکہ اس کی اہمیت کو محسوس کیا، اس چیلنج کو قبول کیا، اس چیلنج کے مقابلے کی صلاحیت رکھنے والے حضرات کو آگے کیا، ان کی حوصلہ افزائی کی، پشت پناہی فرمائی اور اس طرح زبان اور ادب کی اس جنگ میں مشرکین عرب کو چاروں شانے چت کر دکھایا۔

قرآن کریم نے سورۃ الشعراء میں شعراء کی عمومی حالت کے پیش نظر ان کا تذکرہ اچھے الفاظ میں نہیں کیا بلکہ فرمایا کہ وہ فکر و خیال کی ہر وادی میں تخیلات کے گھوڑے دوڑاتے رہتے ہیں اور ان کے پیرو کار گمراہ لوگ ہوتے ہیں۔ جبکہ سورۃ یٰس میں جناب نبی کریمؐ کے بارے میں ارشاد ہے کہ ہم نے نبی کریمؐ کو شعر و شاعری کی تعلیم نہیں دی کہ یہ جناب خاتم النبیینؐکے شایان شان نہیں ہے۔ ان آیات کے پیش نظر حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت عبداللہ رواحہؓ کو اشکال ہوا کہ کہیں ہمارا شمار بھی انہی لوگوں میں نہ ہو جائے۔ انہوں نے اپنا اشکال جناب نبی کریمؐ کی خدمت میں پیش کیا تو سورۃ الشعراء کی آخری آیت نازل ہوئی جس میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اور عمل صالح کا اہتمام کرتے ہیں اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے ہیں اور اپنی مظلومیت کے بعد جواباً شاعری (یعنی ابلاغ عامہ کے مروجہ اسلوب) کو اختیار کرتے ہیں وہ اس حکم میں شامل نہیں۔ گویا اللہ تعالیٰ نے بھی آیت قرآنی کے ذریعہ ان لوگوں کے طرز عمل کی تصدیق فرما دی جنہوں نے اسلام کی دعوت اور دفاع میں ابلاغ کے مروجہ ذرائع کو اختیار کیا اور کفر کے چیلنج کو قبول کرتے ہوئے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

آج پھر ذرائع ابلاغ اور میڈیا کا محاذ ہمارے سامنے ہے اور اس کا چیلنج ہمیں بار بار اپنی طرف متوجہ کر رہا ہے لیکن افسوس کی بات ہے کہ ہمارے ہاں ابھی تک اس کا صحیح طور پر ادراک نہیں کیا گیا۔ محدث جلیل حضرت مولانا محمد یوسف بنوریؒ ہمارے دور کے پہلے بزرگ تھے جنہوں نے اس ضرورت کا احساس کیا اور صحافت کی زبان اور اسلوب کو سیکھنے کی اہمیت پر مختلف مضامین میں روشنی ڈالتے ہوئے جامعہ اسلامیہ عربیہ بنوری ٹاؤن کراچی میں اس کے لیے تخصص کا کورس شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ تخصص کا یہ کورس شروع ہوا جس کے نتیجے میں دیگر جامعات میں بھی تخصص کے مختلف کورسز کا آغاز ہوا جو آج بھی جاری ہیں۔ لیکن ان میں سے کوئی کورس بھی علماء کرام اور طلبہ کو آج کی زبان اور آج کے اسلوب سے روشناس کرانے کی ضرورت محسوس نہیں کر رہا جس کی وجہ یہ ہے کہ نہ تو کورسز کے شرکاء کو آج کی زبان اور اسلوب سے شناسائی رکھنے والے اساتذہ مہیا کیے جاتے ہیں، نہ مطالعہ و تحقیق کے لیے ضروری مواد اور کتابیں میسر آتی ہیں، اور نہ ہی آج کی زبان اور اسلوب میں لکھنے پڑھنے کی عملی مشق کا کوئی اہتمام موجود ہے۔

روزنامہ اسلام اس اہم ترین ملی و دینی تقاضے کی طرف توجہ دلانے کی ایک اچھی کوشش ہے جس سے حالات اور صورت حال کا ادراک پیدا کرنے اور اس کا احساس اجاگر کرنے میں مدد ملے گی۔ یہی وجہ ہے کہ میں نے ’’اسلام‘‘ کی انتظامیہ کی فرمائش پر ہفتے میں کم از کم ایک مضمون حالات حاضرہ کے تناظر میں لکھنے کا وعدہ کر لیا۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ یہ وعدہ نبھانے کی توفیق عطا فرمائے، آمین۔ لیکن میرے نزدیک صرف اتنا کام کافی نہیں ہے بلکہ اس سے کہیں زیادہ آگے بڑھنے کی ضرورت ہے اور میڈیا کے وسیع میدان میں اپنا کیمپ الگ لگانے سے کہیں زیادہ یہ بات اہمیت رکھتی ہے کہ قومی اور بین الاقوامی صحافت کے اجتماعی دھارے میں جگہ بنانے کی کوشش کی جائے اور ’’عکاظ‘‘کے عموی اور متنوع ماحول میں عام لوگوں تک اپنی بات پہنچانے کی سنت نبویؐ کو زندہ کیا جائے۔

یہ بات زیادہ مشکل نہیں ہے بشرطیکہ اصحاب خیر اور دینی جامعات کے منتظمین اپنی ترجیحات اور طرز عمل پر نظر ثانی کریں اور اسلام کے دفاع کے لیے میڈیا کی اس عالمی جنگ میں اپنی حصہ ڈالنے کی غرض سے اس شعبہ کے ماہرین تلاش کر کے ان کی خدمات سے استفادہ کریں اور اس شعبہ میں کام کرنے کی صلاحیت، ذوق اور جذبہ رکھنے والے حضرات کو وسائل فراہم کر کے ان کی حوصلہ افزائی کریں، اس کے بغیر یہ جنگ صحیح طور پر نہیں لڑی جا سکے گی اور اس کے لیے ہم سب مجموعی طور پر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اور تاریخ کی عدالت میں مجرم قرار پائیں گے۔

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۹ جون ۲۰۰۲ء
درجہ بندی: