پاکستان میں مسیحی ریاست کے قیام کا منصوبہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جون ۲۰۰۲ء

گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے ایک فیصلے نے چونکا دیا جس کے تحت ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے لیے زرعی اراضی لیز پر لینے کی اجازت دے دی گئی ہے اور فارمنگ کے لیے دیگر متعلقہ سہولتیں فراہم کرنے کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔ کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کا مطلب یہ ہے کہ کئی کئی ہزار ایکڑ زمین پر مشتمل بڑے بڑے زرعی فارم بنائے جائیں تاکہ زراعت کے جدید ترین وسائل کا استعمال آسانی کے ساتھ کیا جا سکے اور زرعی پیدا وار میں اضافہ ہو۔ موجودہ صورت حال میں زراعت کے جدید وسائل اور تکنیک کو بروئے کار لانا مشکل ہے، اس لیے کہ چند ایک بڑے زمینداروں کو چھوڑ کر زمین مالکان کے پاس اتنی زمین نہیں ہے کہ وہ بڑے زراعتی فارموں کی طرح جدید تکنیک اور وسائل کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ پیدا وار کے حصول میں کامیاب ہو سکیں۔ اس لیے اس کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ کئی کئی ایکڑ زمین کے بڑے بڑے زرعی فارم بنائے جائیں اور ملک کی زراعت کو ترقی دی جائے۔

اس مقصد کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیاں آگے آرہی ہیں اور انہیں موقع دیا جارہا ہے کہ وہ سرمایہ کاری کریں اور پاکستان میں بڑے بڑے زراعتی فارم قائم کر کے ملک کی زراعت کو ترقی دینے میں ہاتھ بٹائیں۔ ملٹی نیشنل کمپنیوں سے مراد ایسے بین الاقوامی ادارے ہیں جن کے کاروبار ایک سے زیادہ ملکوں میں موجود ہوں، یا وہ جن میں مختلف ممالک کے سرمایہ کار شریک ہوتے ہیں اور وہ ایک اجتماعی نظم کے تحت سرمایہ کاری کرتے ہیں۔ اس سے قبل بھی یہ بات چلی تھی اور ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں زرعی اراضی خریدنے کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا گیا تھا مگر ہماری معلومات کے مطابق ریو نیو بورڈ کی طرف سے بعض قانونی رکاوٹوں کا حوالہ دیا گیا تھا جس کی وجہ سے یہ سلسلہ وقتی طور پر رک گیا تھا۔ مگر گزشتہ روز وفاقی کابینہ کے اجلاس کے بعد وزیر اطلاعات جناب نثار میمن کی پریس کانفرنس کی روزنامہ خبریں لاہور ۲۰ جون ۲۰۰۲ء کی رپورٹ کے مطابق وفاقی کابینہ نے کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو موقع دینے کا فیصلہ کر لیا ہے اور ہمارے خیال میں ریو نیو بورڈ کے قانونی اشکالات کا حل یہ نکالا گیا ہے کہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی اراضی خریدنے کی بجائے لیز پر لینے کی اجازت دے دی گئی ہے۔
اس پس منظر میں یہ فیصلہ پاکستان کی زرعی ترقی کے لیے ایک مفید اور ضروری فیصلہ سمجھا جائے گا اور اس سلسلہ میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کی سرمایہ کاری اور محنت کو پاکستان کے ساتھ خیر خواہی اور پاکستان پر احسان تصور کرتے ہوئے اس کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ لیکن ماضی قریب کے ایک تلخ تجربہ کو سامنے رکھتے ہوئے جب ہم اس فیصلہ کے مضمرات اور نتائج کا جائزہ لیتے ہیں تو ذہن کی اسکرین پر خدشات اور خطرات کے مختلف مناظر کی جھلک دکھائی دینے لگتی ہے۔

اب سے کوئی ۸۰ برس قبل تک فلسطین خلافت عثمانیہ کی عملداری میں اس کا ایک صوبہ تھا اور پورے فلسطین میں کسی ایک جگہ بھی کوئی یہودی بستی موجود نہیں تھی۔عثمانی خلفاء نے پابندی لگا رکھی تھی کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں رہنے والے یہودی اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لیے وزٹ ویزے پر فلسطین آسکتے ہیں اور چند روز قیام کرسکتے ہیں لیکن انہیں فلسطین میں زمین خریدنے اور آباد ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ عثمانی خلفاء کے علم میں یہ بات تھی کہ یہودی فلسطین میں بتدریج آباد ہونے اور اس پر قبضہ جمانے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں تاکہ وہ اسرائیل کے نام سے اپنی ریاست قائم کر سکیں۔ اس لیے اس سلسلہ میں عثمانی خلافت کا رویہ بے لچک تھا اور وہ کسی قیمت پر یہودیوں کو فلسطین میں آباد ہونے کا موقع فراہم کرنے کے لیے تیار نہیں تھی۔چنانچہ سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے اپنی یاد داشتوں میں لکھا ہے کہ یہودی کی عالمی تنظیم کے سربراہ ہر تزل نے متعدد بار ان سے خود ملاقات کر کے خواہش ظاہر کی کہ وہ فلسطین میں زمین خرید کر محدود تعداد میں یہودیوں کو آباد کرنا چاہتے ہیں مگر سلطان مرحوم نے اس کی اجازت دینے سے انکار کر دیا۔ حتیٰ کہ ایک بار ہرتزل نے سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کے سامنے چیک بک رکھ کر منہ مانگی رقم دینے کی پیشکش کی جس کے جواب میں سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم نے انتہائی تلخ لہجے میں ہرتزل کو ڈانٹ دیا اور اس سے کہا کہ میری زندگی میں ایسا نہیں ہو سکتا اور اس کے بعد وہ ہرتزل سے ملاقات کے لیے بھی تیار نہیں ہوئے ۔

سلطان عبدالحمید ثانی مرحوم کے خلاف اس کے بعد تحریک چلی اور انہیں خلافت سے معزول کر کے نظر بند کر دیا گیا۔ انہوں نے اپنی یادداشتوں میں لکھا ہے کہ ان کے خلاف ترکی میں چلنے والی تحریک اور ان کی معزولی میں یہودیوں کا ہاتھ تھا اور انہیں خلافت سے معزولی کا پروانہ پہنچانے والوں میں ترکی کی پارلیمنٹ کا یہودی ممبر بھی شامل تھا۔ ۱۹۲۰ء میں خلافت عثمانیہ کے خاتمہ کے بعد فلسطین اس کی عملداری سے نکلا تو اسے برطانیہ نے اپنے کنٹرول میں لے لیا اور برطانوی گورنر کی زیر نگرانی یہودیوں کو فلسطین میں آباد کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ دنیا کے مختلف حصوں سے یہودی آتے اور فلسطین میں زمین خرید کر آباد ہو جاتے۔ اس موقع پر سرکردہ علماء کرام نے صورتحال کی سنگینی کو محسوس کرتے ہوئے کردار ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور یہ فتویٰ دیا کہ چونکہ یہودی فلسطین میں آباد ہو کر بیت المقدس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں اور اپنی ریاست قائم کرنے کے خواہشمند ہیں اس لیے یہودیوں پر فلسطین کی زمین فروخت کرنا شرعاً جائز نہیں ہے اور فلسطینیوں کو چاہیے کہ وہ اپنی اراضی یہودیوں کو فروخت نہ کریں۔

اس فتویٰ کے سلسلہ میں اگر قارئین مزید معلومات حاصل کرنا چاہتے ہوں تو حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی کتاب’’بوادر النوادر‘‘میں اسی موضوع پر خود ان کا تفصیلی فتویٰ موجود ہے اسے ملاحظہ کیا جا سکتا ہے۔ مگر علماء کرام کی یہ مہم کارگر نہ ہوئی اور چونکہ یہودی دگنی تگنی قیمتوں پر زمین خرید رہے تھے اس لیے فلسطینیوں نے رقم کی لالچ میں علماء کرام کے فتویٰ کو نظر انداز کر دیا جس کا نتیجہ آج پون صدی کے بعد سب کے سامنے ہے کہ فلسطین کے بیشتر علاقوں پر یہودی قابض ہیں۔ اسرائیلی ریاست نہ صرف قائم ہوچکی ہے بلکہ پوری عرب دنیا کے لیے ناسور کی حیثیت اختیار کیے ہوئے ہے، بیت المقدس پر یہودی اقتدار قائم ہو گیا ہے، فلسطینی خود اپنے ملک میں بے وطن تصور کیے جارہے ہیں جبکہ یہودیوں اور ان کے عالمی استعماری سر پرستوں نے پوری دنیامیں ان کا جینا حرام کر رکھا ہے۔

کچھ عرصہ سے بعض رپورٹوں میں پاکستان کے اندر خانیوال سے سیالکوٹ تک ’’مسیحی ریاست ‘‘ کے قیام کے منصوبے کا تذکرہ سامنے آرہاہے جس کے تحت ۲۰۲۵ء تک اس ریاست کو وجود میں آنا ہے۔ ابتداء میں ہم اسے دیوانے کا خواب سمجھتے رہے لیکن اس علاقہ میں مختلف مقامات پر بیسوں خالص مسیحی کالونیوں کا قیام عمل میں آچکا ہے جو اسی رفتار میں قائم ہوتی رہیں تو ۲۰۲۵ء تک ان کی تعداد سینکڑوں تک پہنچ سکتی ہے۔ اور اب اس کے بعد یہودیوں اور عیسائیوں پر مشتمل ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی اراضی لیز پر لینے کی اجازت نے اس منصوبے کے قابل عمل ہونے میں کوئی شبہ باقی نہیں رہنے دیا۔ اگرچہ وفاقی کابینہ کے فیصلے میں ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان کی زرعی اراضی خریدنے کی بجائے لیز پر لینے کی اجازت دی گئی ہے لیکن زمین کی کوئی حد مقرر نہیں کی گئی اور نہ ہی لیز کی کوئی میعاد فیصلے میں مذکور ہے اس لیے ملٹی نیشنل کمپنیوں کو زمین فروخت کرنے یا لیز پر دینے سے عملاً کوئی فرق نہیں پڑے گا اور لیز پر دینے سے بھی ان خطرات اور خدشات میں کوئی کمی نہیں ہوتی جن کا ہم نے سطور بالا میں تذکرہ کیا ہے۔

ہمارے پاس اس کی ایک عملی مثال موجود ہے کہ قیام پاکستان کے بعد پنجاب کے انگریز گورنر سر موڈی نے چنیوٹ کے ساتھ دریائے چناب کے کنارے پر قادیانیوں کو زمین لیز پر دی تھی جہاں انہوں نے ربوہ کے نام سے شہر آباد کیا اور اب تحریک ختم نبوت کے مسلسل مطالبہ پر اس کا نام تبدیل کر کے ’’چناب نگر‘‘رکھ دیا گیا ہے۔ یہ زمین اب بھی سرکاری کاغذات میں ’’صدر انجمن احمدیہ‘‘کے نام لیز پر ہے لیکن عملاً اس سے کوئی فرق رونما نہیں ہوا وہاں لیز والی زمین پر اب بھی خالصتاً قادیانی کالونی ہے جہاں کسی مسلمان کو رہنے کی اجازت نہیں ہے۔ اور اس کی حیثیت ریاست در ریاست کی ہے جسے ختم کرنے کے لیے مسلمانوں کے مطالبہ کو ابھی تک پذیرائی حاصل نہیں ہورہی۔

ملٹی نیشنل کمپنیوں کو پاکستان میں کارپوریٹ ایگریکلچر فارمنگ کے نام پر زرعی اراضی لیز پر دینے کے حکومتی فیصلے پر ہم نے اپنے خدشات اور خطرات وضاحت کے ساتھ پیش کر دیے ہیں اور ہم امید رکھتے ہیں کہ قوم کے ہر طبقہ کے سنجیدہ اور محب وطن عناصر ان خطرات کو سنجیدگی کے ساتھ محسوس کرتے ہوئے ان کی روک تھام کے لیے اپنے بساط کی حد تک کردار ادا کرنے گریز نہیں کریں گے۔