مغرب کے تین دعوؤں کی حقیقت

مغرب کا دعویٰ ہے کہ اس نے نسل انسانی کو ایک ایسی تہذیب سے روشناس کرایا ہے جو جدید ترین تہذیب ہے، انسانی سوسائٹی کی خواہشات و ضروریات کو پورا کرتی ہے، اور یہ تہذیب انسانی تمدن کے ارتقاء کے نتیجہ میں ظہور پذیر ہوئی ہے۔ یہ نسل انسانی کے اب تک کے تجربات کا نچوڑ ہے اور اس سے بہتر تہذیب اور کلچر کا اب کوئی امکان باقی نہیں ہے۔ اس لیے یہ انسانی تاریخ کی آخری تہذیب اور فائنل کلچر ہے، اس کے بعد اور کوئی تہذیب نہیں آئے گی اور دنیا کے خاتمے تک اسی تہذیب نے حکمرانی کرنی ہے۔ چنانچہ باقی تمام تہذیبوں کو اس میں مدغم ہو جانا چاہیے اور جو تہذیب ضم ہونے سے انکار کرتے ہوئے مزاحمت کا راستہ اختیار کرے اسے بزور قوت اس میں ضم کر دینا چاہیے۔ کیونکہ وہ مزاحمت کا راستہ اختیار کر کے عالمی برادری ،گلوبل ویلج، اور نئے عالمی نظام کی تشکیل میں رکاوٹ بن رہی ہے۔

مغرب اسی فلسفہ اور سوچ کے تحت دنیا بھر میں اپنی تہذیب کے فروغ اور مخالف تہذیبوں کے خاتمے کے لیے سرگرم عمل ہے۔ اور چونکہ اسلام ایک زندہ تہذیب اور فطری دین کے طور پر مغرب کے اس دعوے کو قبول کرنے سے قطعی طور پر انکاری ہے اور مغربی دانش وروں کو صاف نظر آرہا ہے کہ دنیا کے کسی بھی خطے کا مسلمان اپنی تمام تر عملی کمزوریوں کے باوجود مغربی تہذیب کے ساتھ ایڈجسٹ ہونے کی خاطر اسلام کے بنیادی عقائد اور قران و سنت کے واضح احکام سے دستبردار ہونے کے لیے تیار نہیں ہیں، اس لیے اسلام ہی مغرب کے فکری، تہذیبی اور اعتقادی بلکہ عسکری حملوں کا بھی سب سے بڑا ہدف ہے۔ اور مغربی استعمار مسلم ممالک میں اپنے نمائندہ حکمرانوں، طبقات اور اداروں کے ذریعے مسلمانوں کو اس بات پر آمادہ اور تیار کرنے کی ناکام کوششوں میں لگا ہوا ہے کہ دنیا بھر کے عیسائیوں کی طرح وہ بھی مذہب اور دین کو شخصی زندگی اور ذاتی عقائد و اخلاق کے دائرے تک محدود کرتے ہوئے سوسائٹی میں دین کے اجتماعی کردار سے دستبردار ہو جائیں تاکہ مسلم دنیا اس عالمی نظام اور جدید تہذیب میں پوری طرح ایڈ جسٹ ہوسکے جس کے فروغ کے لیے اس وقت مغرب اپنی پوری توجہات اور توانائیوں کے ساتھ مصروف عمل ہے۔

اس پس منظر میں ہم اس مختصر مضمون میں مغرب کے تین دعوؤں کا سرسری جائزہ لینا چاہتے ہیں:

  1. مغربی تہذیب جدید اور ترقی یافتہ تہذیب ہے۔
  2. یہ تہذیب انسانی سوسائٹی کی خواہشات اور ضروریات کے مطابق ہے۔
  3. یہ آخری تہذیب ہے جس کے بعد تاریخ کا دور ختم ہو جائے گا۔ اور اسی حوالے سے مغرب ’’اینڈ آف دی ہسٹری ‘‘ کی اصطلاح استعمال کر رہا ہے۔

جہاں تک مغربی تہذیب کے اس دعوے کا تعلق ہے کہ وہ جدید ترین تہذیب ہے اور اس نے نسل انسانی کو جدید روایات و اقدار سے روشناس کرایا ہے، یہ تاریخی طور پر خلاف امر بات ہے، اس لیے کہ اس کلچر کی بنیاد جن چیزوں پر ہے وہ انسانی معاشرہ میں قطعی طور پر نئی نہیں ہے۔ مثلاً اباحیت مطلقہ یا فری سوسائٹی کے عنوان سے جس آزاد روی کا ڈھنڈورا پیٹا جا رہا ہے وہ تمام جاہلی تہذیبوں کا خاصہ رہی ہے جو اس دنیا میں مٹ مٹ کر زندہ ہوتی رہی ہیں۔ اور زندہ ہو ہو کر مٹتی آرہی ہیں۔ شراب، ناچ گانا، زنا، ہم جنس پرستی، حرام خوری، جوا، سود، استحصال، اور خواہش پرستی۔ یہ سب اس جاہلی تہذیب کا بھی حصہ تھیں جسے اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے عرب معاشرہ سے ختم کر کے حجۃ الوداع کے تاریخی خطبہ میں اعلان فرمایا تھا کہ

’’آج جاہلیت کی تمام قدریں میرے قدموں کے نیچے ہیں۔‘‘

جاہلی تہذیب کی وہی قدریں جنہیں نبی کریمؐ نے اپنے پاؤں کے نیچے مسلنے کا اعلان کیا تھا، انہی اقدار اور رویوں کو مغرب نے دوبارہ جھاڑ پھونک کر دنیا کے تہذیبی ایوان میں سجا دیا ہے۔ اس لیے ان اقدار کے حوالے سے مغرب کا یہ کہنا غلط بات ہے کہ اس دنیا کو کسی نئی تہذیب سے روشناس کرایا ہے بلکہ اصل واقعہ یہ ہے کہ حضرت انبیاء کرام علیہم السلام اور اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ہاتھوں بار بار ختم ہونے والی جاہلی تہذیب کو نئے روپ اور نقش و نگار کے ساتھ انسانی سوسائٹی پر مسلط کر دیا گیا ہے۔ اور اب بھی اس کا اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ہاتھوں وہی حشر ہوگا جس حشر سے یہ جاہلی تہذیب کئی بار پہلے دوچار ہو چکی ہے۔

مغرب کا دوسرا دعویٰ یہ ہے کہ اس کی تہذیب انسانی خواہشات اور ضروریات کے مطابق ہے۔ یہ دعویٰ بھی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا کیونکہ اباحیت مطلقہ اور مادر پدر آزادی کا یہ تمدن اہل دانش کے نزدیک خواہشات سے مطابقت تو رکھتا ہے مگر ضروریات کے ساتھ اس کا کوئی جوڑ نہیں ہے۔ پھر انسانی خواہشات کی بھی صرف وہ سطح اس تہذیب کو قبول کر رہی ہے جو سطحی ہے اور جسے نفسانی اور حیوانی خواہشات سے تعبیر کیا جاتا ہے، جبکہ خواہشات کے جس حصے کا عقل و دانش اور فہم و تدبر کے ساتھ تعلق ہے وہ ان اقدار و روایات کو قبول کرنے کیلئے خود بھی تیار نہیں ہے۔ باقی رہی بات ضروریات کی تو گزشتہ دو صدیوں کے دوران اس تہذیب کے ہاتھوں انسانی سوسائٹی کو تباہی اور بربادی کے جن مراحل سے گزرنا پڑا ہے اس کی مثال پوری انسانی تاریخ میں اس سے قبل نہیں ملتی۔

دو عالمی جنگوں کی تباہ کاریوں کے بعد تیسری خوفناک عالمگیر جنگ کے اسباب اور اس کا ایندھن مغرب ہی نے تیار کر رکھا ہے اور وہ دنیا کے کسی خطے میں بھی ہو سکتی ہے۔ اس کے پیچھے ذہن اور اسباب مغرب ہی کے استعمال ہوں گے، اسی طرح سودی اور استحصالی معاشی نظام کے ذریعے دنیا بھر کے وسائل اور دولت پر قبضے کی دھن نے مغرب کو اندھا کر دیا ہے کہ اسے انسانی معاشرے میں امیر اور غریب کے درمیان تیزی سے بڑھتے ہوئے تفادت کی تباہ کاریوں کی طرف دیکھنے کی سرے سے فرصت ہی نہیں ہے۔ دولت سمٹ سمٹا کر چند ترقی یافتہ ممالک کی تجوریوں میں محصور ہو رہی ہے، غریب اقوام و ممالک کی غربت میں اضافہ ہو رہا ہے اور بھوک ،افلاس اور بے بسی کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد دن بدن بڑھتی جارہی ہے۔ پھر انسانی معاشرے میں خاندانی نظام کی تباہی، خاندانی اقدار کی پامالی، اور خونی رشتوں کے تقدس کی بربادی کا سہرا بھی مغرب کے سر ہے۔ اور یہ وہ انسانی المیہ ہے جس پر خود مغرب کی آزاد دانش بھی حسرت و یاس کے ساتھ نوحہ کناں ہو چکی ہے۔

اس کے بعد مغرب کے اس دعوے کو بھی دیکھ لیجیے کہ مغرب کی حکمرانی اور مغربی تہذیب کی بالادستی انسانی تاریخ کا آخری راؤنڈ ہے جسے ’’اینڈ آف دی ہسٹری‘‘ کے عنوان سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔ مگر مغرب کا یہ کہنا بھی تاریخی حقائق کا منہ چڑانے کے مترادف ہے، اس لیے کہ ’’اینڈ آف دی ہسٹری‘‘ کا اعلان آج سے چودہ سو برس قبل اللہ تعالیٰ کے آخری پیغمبر حضرت محمدؐ ان الفاظ کے ساتھ کر چکے ہیں کہ ’’میں اور قیامت ہاتھ کی دو انگلیوں کی طرح ایک دوسرے سے متصل ہیں۔‘‘ جناب نبی اکرمؐ نے اس ارشاد کے ذریعے واضح فرما دیا تھا کہ میرے بعد قیامت تک اور کوئی نبی نہیں آئے گا، کوئی نیا دین نہیں آئے گا، کوئی نئی تہذیب نہیں آئے گی، اور میرے بعد اب قیامت ہی آئے گی۔ اور یوں نبی اکرمؐ نے اعلان فرمایا کہ تاریخ کا آخری راؤنڈ میں ہوں اور میری امت ہے۔

ہم اہل اسلام کا یہ عقیدہ ہے اور جناب نبی اکرمؐ کے ارشادات میں بھی صراحتاً موجود ہے کہ انسانی معاشرے پر اسلامی تعلیمات کے غلبے کے دو ادوار ہوں گے۔ ایک دور نبی کریمؐ اور ان کے خلفاء راشدینؓ کا ہے جبکہ دوسرے دور میں حضرت عیسیٰؑ کے نزول اور امام مہدی کے ظہور کے بعد قیامت قائم ہو جائے گی۔ اس لیے ’اینڈ آف دی ہسٹری‘‘ مغربی تہذیب نہیں بلکہ اسلام ہوگا جس کا دوسرا راؤنڈ شروع ہونے والا ہے، اس میں اگرچہ مشکلات بہت زیادہ ہیں، خونریزی اور قربانیوں کا ایک طویل مرحلہ ہے لیکن یہ دور آئے گا اور دنیا پر اسلام کی حکمرانی ایک بار پھر قائم ہو کر رہے گی جو ’’اینڈ آف دی ہسٹری‘‘ہوگا اور اس کے بعد دنیا قیامت کے گھاٹ اتر جائے گی۔

مغرب اپنی طاقت، دجل و فریب کی صلاحیت، اور دھونس دھاندلی کے ذریعے اسلام کے اس دوسرے راؤنڈ کو روکنا چاہتا ہے مگر سوال یہ ہے کہ کوئی جاہلی تہذیب اس سے قبل کبھی آسمانی تعلیمات کا راستہ روکنے میں کامیاب ہوئی ہے جو اب اسے اس میں کامیابی ہوگی؟

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
تاریخ اشاعت: 
۱۰ جولائی ۲۰۰۲ء
درجہ بندی: