مسئلہ کشمیر اور برطانوی وزیرخارجہ کا عذرِ لنگ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۶ جولائی ۲۰۰۲ء
اصل عنوان: 
برطانوی وزیرخارجہ کا عذر لنگ

’’آن لائن‘‘ کی رپورٹ کے مطابق برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا نے گزشتہ دنوں انٹرنیٹ پر مختلف لوگوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ

’’وہ جنوبی ایشیا میں پاکستان قیام کے وقت مسئلہ کشمیر کا تنازعہ کھڑا کرنے میں برطانوی کردار پر معذرت نہیں کریں گے جس کی ایک وجہ انہوں نے یہ بیان کی کہ وہ اس وقت بہت چھوٹے تھے اور دوسری وجہ ان کے خیال میں یہ ہے کہ کشمیر کا تنازعہ پیدا کرنے میں برطانیہ نے کوئی کردار ادا نہیں کیا۔‘‘

جہاں تک برصغیر کی آزادی کے وقت جیک اسٹرا کے چھوٹا بچہ ہونے کا تعلق ہے تو ان کی یہ بات قابل توجہ ہے لیکن ان کا یہ خیال کہ کشمیر کا جھگڑا کھڑا کرنے میں برطانیہ کا کوئی کردار نہیں ہے،تاریخی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتا۔ اس لیے کہ برطانوی استعمار اور ان کے گماشتوں نے برصغیر میں حکومت کا کاروبار سنبھالنے کے بعد کشمیر کے معاملات میں ہر دور میں مداخلت کی جو کہ ہر بار کشمیر میں صدیوں سے آباد مسلم اکثریت کی بجائے ان پر غاصبانہ تسلط جمانے والے غیر مسلم حکمرانوں کے مفاد میں رہی ۔ راجہ گلاب سنگھ جموں میں پنجاب کے سکھ حکمران مہا راجہ رنجیت سنگھ کا گورنر تھا۔ مگر پنجاب میں سکھوں کی حکومت کا خاتمہ اور انگریزی عملداری قائم ہونے کے مرحلے میں فرنگی حکمرانوں نے گلاب سنگھ سے ساز باز کر کے اسے وادیٔ کشمیر پر حکمرانی کا حق پچھتر لاکھ روپے کے عوض بیچ دیا۔ اور جب وادیٔ کشمیر کے مسلم حکمران شیخ امام دین نے کشمیر پر گلاب سنگھ کے قبضے میں مزاحمت کر کے اس کی فوجوں کو شکست دی تو وادیٔ کشمیر پر مسلم حکمران کا اقتدار ختم کرنے اور متعصب ہندو ڈوگر و راجہ گلاب سنگھ کا اقتدار قائم کرنے کیلئے برطانوی سامراج کی فوجیں آگے بڑھیں اور انہوں نے امام دین کو شکست دے کر وادیٔ کشمیر کا قبضہ گلاب سنگھ کو دلایا۔

یہ گلاب سنگھ وہی ہے جو راجہ رنجیت سنگھ کی طرف سے جموں کا حکمران ہونے کے ساتھ ساتھ اس کی فوجوں کا کمانڈر بھی تھا۔ اس نے شہدائے بالاکوٹ کے خلاف پشاور اور اس کے گردونواح میں لڑنے والی رنجیت سنگھ کی فوجوں کی کمان کی تھی اور نہ صرف امیر المومنین سید احمد شہیدؒ اور امام المجاہدین شاہ اسماعیل شہید ؒ کے خلاف جنگ لڑی بلکہ بالاکوٹ میں امام المجاہدین کی شہادت کے بعد جموں کے ساتھ ملحقہ علاقہ پونچھ میں ان مسلمانوں کے خلاف شرمناک انتقامی کارروائیوں کا بازار گرم کردیا، سینکڑوں مسلمان شہید کر دیے، ہزاروں کو بے گھر کر دیا تھا، اور دو مجاہدوں سردار ملی اور سبز علی خان کو منگ کے قریب درخت سے لٹکا کر زندہ حالت میں ان کی کھالیں اس جرم میں کھنچوا دی تھیں کہ انہوں نے ہزارہ کی شورش میں حصہ لیا تھا۔

گلاب سنگھ کے اقتدار کا دائرہ جموں سے وادیٔ کشمیر تک وسیع کرنے کا کردار برطانوی حکمرانوں نے ادا کیا تھا جس کے بعد سے اس مظلوم وادی کے مسلمان اب تک یعنی کم و بیش پونے دو صدیوں سے ہندو استعمار کے مظالم کا شکار چلے آرہے ہیں۔ اس پر ہو سکتا ہے جیک اسٹرا یہ کہہ دیں کہ یہ جس دور کی بات کی جا رہی ہے اس وقت میں پیدا ہی نہیں ہواتھا لیکن بات ان کی ذات یا خاندان کی نہیں ہو رہی بلکہ ان کے ملک اور قوم کے کردار کا حوالہ دیا جارہا ہے جس کے وہ وزیر خارجہ ہیں۔ اس لیے وہ اس ذمہ داری سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتے اور نہ ہی ان کے اس عذر کو دنیا کا کوئی معقول شخص سننے کیلئے تیار ہوگا۔

اس کے بعد کے بہت سے مراحل سے صرف نظر کرتے ہوئے ہم اس مرحلے کا ذکر کرنا چاہتے ہیں جب برصغیر تقسیم ہو رہا تھا اور پاکستان کا قیام عمل میں لایا جا رہا تھا، اس وقت اگر برطانیہ کو کشمیر کے مظلوم مسلمانوں سے ہمدردی ہوتی تو وہ ان کے ڈیڑھ سو سالہ زخموں پر مرہم رکھتا اور انہیں ڈوگرہ شاہی اقلیت کے تسلط سے نجات دلانے کیلئے کردار ادا کرتا۔ لیکن برطانیہ نے صرف اپنے مفادات کی خاطر آزاد ہونے والے دو ملکوں پاکستان اور بھارت کے درمیان تنازعے اور کشیدگی کی فضا کو مستقل طور پر قائم رکھنے کیلئے جھگڑا قائم کرنا ضروری سمجھا اور اس کے لیے کشمیر کی مظلوم وادی کو سب سے بہتر پوائنٹ قرار دیتے ہوئے اسے پاکستان اور بھارت کے درمیان متنازعہ خطہ بنا دینے کیلئے سازشوں کا جال بچھا دیا۔

ریاست جموں و کشمیر کی فطری کیفیت یہ تھی کہ اس کا الحاق پاکستان ہی کے ساتھ ممکن تھا۔ غالب مسلم اکثریت کی آبادی کے ساتھ ساتھ ریاست میں داخل ہونے کے تمام مصروف راستے پاکستان سے ملحق تھے اور صرف ایک راستہ گورداس پور بھارت کے ساتھ تھا۔ برطانوی حکمرانوں نے پنجاب کی تقسیم میں پہلی ڈنڈی یہ ماری کہ مسلم اکثریت کے اضلاع پاکستان میں شامل کرنے کی بجائے ان اضلاع کی اندرونی کانٹ چھانٹ بھی ضروری قرار دی جس کے نتیجے میں تقسیم در تقسیم کے عمل نے نہ صرف پنجاب کا حلیہ بگاڑ دیا بلکہ شرمناک خونزیری اور مسلم کش فسادات کے ساتھ ساتھ لاکھوں خاندان کے بے گھر ہونے کے اسباب بھی فراہم کیے۔

پنجاب کی تقسیم اور بین الاقوامی سرحد کے تعین کیلئے برطانوی لارڈ ریڈ کلف کی سربراہی میں جو سرحدی کمیشن قائم ہوا اس کی کارستانیوں کی ایک پوری داستان ہے جن کے تذکرہ کا یہاں موقع نہیں۔ البتہ گورداس پور کو پاکستان کی بجائے انڈیا کے حوالے کرنے کیلئے جو ڈرامہ کھیلا گیا وہ دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ گورداس پور کی تحصیل کی صورتحال یہ تھی کہ اس میں مسلمان،سکھ اور ہندوؤں کے علاوہ قادیانی بھی آباد تھے اور ان کا مرکز ’’قادیان‘‘ اسی میں تھا۔ قادیانی گروہ برطانوی حکمرانوں کا پیدا کردہ ہے جس نے ہمیشہ برطانوی مفادات کیلئے کام کیا اور اس کا اعتراف خود مرزا غلام احمد قادیانی نے اپنی تحریروں میں کسی حجاب کے بغیر کھلے لفظوں میں کیا ہے۔ گورداس پور کی صورتحال یہ تھی کہ اگر قادیانی گروہ خود کو مسلمانوں میں شمار کرتا تو یہ علاقہ مسلم اکثریت کا علاقہ قرار پا کر پاکستان کا حصہ بنتا۔ اور اگر گورداس پور پاکستان میں شامل ہو جاتا تو ہندوستان کے پاس کشمیر میں داخل ہونے کا اس وقت اور کوئی راستہ نہیں تھا۔ اور کشمیر کی حیثیت اس طرح ہو جاتی جیسے حیدرآباد دکن کی تھی کہ وہاں ہندو اکثریت پر حکمرانی کرنے والے مسلم نواب کیلئے یہ ممکن نہ رہا کہ وہ ریاست کے چاروں طرف ہندوستان کا گھیرا ہونے کی وجہ سے بھارت کے ساتھ حیدرآباد دکن کے الحاق کو روک سکے۔ اسی طرح جموں و کشمیر کے ڈوگرہ راجہ کے لیے ممکن نہیں تھا کہ وہ مسلم اکثریت کی اس ریاست کے پاکستان کے ساتھ الحاق میں رکاوٹ ڈال سکے۔

لیکن ہوا یوں کہ انگریزوں کے ایمان پر قادیانی جماعت کے سربراہ مرزا بشیرالدین محمود نے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے الگ جدا گانہ حیثیت سے پیش کیا جس کی وجہ سے گورداس پور کو غیر مسلم اکثریت کا علاقہ قرار دے کر بھارت میں شامل کرنے کی راہ ہموار ہوئی اور اسی سے بھارت کو کشمیر میں داخل ہونے کا راستہ ملا جس کے نتیجے میں کشمیر کا تنازعہ پیدا ہوا۔ یوں پاکستان اور بھارت گزشتہ نصف صدی سے مسلسل حالت جنگ میں ہیں۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ قادیانی گروہ جو خود کو مسلمانوں سے الگ قرار دینے والے کسی بھی فیصلے کو قبول کرنے سے انکاری ہے، حتیٰ کہ پاکستان کی پارلیمنٹ کے اس جمہوری فیصلے کو بھی تسلیم نہیں کر رہا جس میں قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک نئی امت قرار دیا گیا ہے، لیکن جب تقسیم پنجاب کے وقت برطانوی حکمرانوں کا مفاد اس میں تھا تو قادیانیوں نے ریڈ کلف کمیشن کے سامنے اپنا کیس مسلمانوں سے الگ پیش کرنے میں کوئی عار محسوس نہیں کی تھی اور اسی کے نتیجے میں کشمیر کے خوفناک تنازع نے جنم لیا تھا جو آج نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے خطرہ بنا ہوا ہے۔

اس لیے برطانوی وزیر خارجہ جیک اسٹرا کشمیر کا تنازع کھڑا کرنے میں برطانوی کردار کو تسلیم کریں یا نہ کریں اور اس پر معذرت کی ضرورت محسوس کریں یا نہ کریں، لیکن جیک اسٹرا خود کو بچہ قرار دے کر تاریخی حقائق کو لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہیں کر سکتے۔