دینی تحریکات کی ناکامی کا ایک سبب

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۴ مئی ۲۰۱۶ء

گزشتہ روز مولانا عبد الرؤف ملک، مولانا ڈاکٹر سرفراز احمد اعوان، مخدوم منظور احمد تونسوی اور دیگر احباب کے ہمراہ منصورہ حاضری ہوئی اور ہم نے جماعت اسلامی پاکستان کے نائب امیر جناب حافظ محمد ادریس، صوبہ سندھ کے امیر جناب اسد اللہ بھٹو اور دیگر قائدین سے مولانا مطیع الرحمن نظامی کی مظلومانہ شہادت پر تعزیت اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی۔ اللہ تعالیٰ انہیں جوار رحمت میں جگہ دیں اور عالم اسلام میں ابتلاء و آزمائش سے دوچار تمام حضرات کو صبر و استقامت کے ساتھ سرخرو فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

چونکہ ہم سب منصورہ میں جمع تھے اس لیے چند روز قبل منصورہ میں منعقد ہونے والے تمام مکاتب فکر کے قائدین کے اجتماع اور اس میں تحریک نظام مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی بحالی اور پنجاب اسمبلی سے حال میں منظور ہونے والے تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کی غیر شرعی شقوں کو تبدیل کرانے کے لیے مشترکہ جدوجہد کے عزم و اعلان کے حوالہ سے بہت سی باتیں باہمی گفتگو کا حصہ بنیں۔

تحفظ حقوق نسواں ایکٹ کے بارے میں ہمیں بتایا گیا کہ چونکہ اسلامی نظریاتی کونسل نے تحفظ حقوق نسواں بل کا شق وار جائزہ لے کر اسے مسترد کر دیا ہے اس لیے مشترکہ فورم پر بھی اسی موقف کو اپنانے کا فیصلہ کیا گیا ہے اور اس کے بارے میں ۱۶ مئی کو ہونے والے مشترکہ اجلاس میں پیش رفت ہوگی۔ میں نے اس حوالہ سے دوستوں کے ساتھ اہم نکات پر گفتگو میں عرض کیا کہ خاندانی نظام کی شرعی بنیادوں کے تحفظ کی جدوجہد میں ہم مرحلہ وار پسپائی اختیار کرتے جا رہے ہیں اور اس پسپائی کو روکنے کی مجھے اب بھی کوئی عملی صورت دکھائی نہیں دے رہی۔

  1. عائلی قوانین کا سلسلہ گزشتہ نصف صدی سے جاری ہے اور تمام مکاتب فکر کی طرف سے اس کی بعض شقوں کو خلاف اسلام قرار دیے جانے کے باوجود اس کی صفائی و تطہیر کا کام مکمل نہیں ہو سکا۔
  2. جنرل پرویز مشرف کے دور میں تحفظ حقوق نسواں کے عنوان سے حدود آرڈیننس کا تیاپانچہ کر دیا گیا اور ہم اس پر وقتی او ر زبانی احتجاج سے آگے نہیں بڑھ سکے۔ اس موقع پر ملک کے تمام مکاتب فکر کی دینی قیادتیں جامعہ اشرفیہ لاہور میں اکٹھی ہوئی تھیں اور تحفظ حدود شرعیہ کے عنوان سے مشترکہ تحریک کا فیصلہ کر لیا گیا تھا۔ مگر اس وقت کی اجتماعی دینی قیادت (متحدہ مجلس عمل) نے آگے بڑھ کر اس جدوجہد کو اپنے ہاتھ میں لینے کا عزم ظاہر کیا، مذکورہ بالا بل کے پارلیمنٹ میں منظور ہونے کی صورت میں اسمبلیوں کی رکنیت سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا، اور پارلیمنٹ کے اندر پوری قوت کے ساتھ مزاحمت کا عندیہ دیا۔ مگر جب یہ بل پاس ہوگیا تو نہ کسی نے استعفیٰ دیا اور نہ ہی کوئی احتجاج منظم کیا گیا اور سارا معاملہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت کر لیا گیا۔
    کسی عوامی تحریک کی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے کر اس کی ’’پن‘‘ نکال دینے کا یہ نسخہ اس قدر کارگر ثابت ہوا کہ اس کے بعد بھی مختلف مراحل میں اسے کامیابی کے ساتھ دہرایا جا چکا ہے۔ جبکہ ایک غریب و بے نوا کارکن کے طور پر مجھے اب بھی اسی کا خطرہ دکھائی دے رہا ہے۔
  3. خاندانی نظام کے حوالہ سے ہم اب تک جزئیات و فروعات پر لڑ رہے ہیں جبکہ میری طالب علمانہ رائے میں اس کی اصولی بنیادوں پر بے لچک موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ مغرب نے معاشرتی زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح خاندانی نظام کو بھی آسمانی تعلیمات اور وحی الٰہی کی ہدایات سے مستثنیٰ کر لیا ہے۔ اور خاندانی قوانین طے کرنے میں اس کی واحد بنیاد سوسائٹی کی خواہشات اور سوچ ہے جسے کلچر سے بھی تعبیر کیا جا سکتا ہے۔ جبکہ مسلمانوں کے خاندانی نظام کی بنیاد وحی الٰہی اور قرآن و سنت کے احکام و قوانین پر ہے جس سے دستبردار ہونے کے لیے مسلم سوسائٹی دنیا میں کسی جگہ بھی تیار نہیں ہے۔ عالمی اداروں کی طرف سے کیے جانے والے تازہ ترین عوامی سروے بھی یہ بتاتے ہیں کہ مسلمانوں کی غالب اکثریت (نوے فیصد کے لگ بھگ) نکاح، طلاق اور وراثت جیسے خاندانی معاملات میں قرآن و سنت کے احکام و قوانین کو ہی بنیاد تسلیم کرتی ہے۔ اور اس سے دستبردار ہونے کے لیے آمادہ نہیں ہے۔ مگر اس بنیادی حقیقت کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے مسلمانوں کے خاندانی نظام کو مغرب کے خاندانی نظام کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضد مسلسل جاری ہے۔
  4. مسلم معاشرہ کی صورت حال باقی دنیا سے قطعی مختلف ہے۔ دنیا بھر کے مسلمان اپنے عقیدہ و ایمان کے حوالہ سے بھی قرآن و سنت کی پابندی کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ اور اگر عوامی اکثریت کی رائے کو ان کا کلچر اور تمدن سمجھا جائے تو وہ کلچر و ثقافت کی رو سے بھی قرآن و سنت کے دائرے میں رہنا چاہتے ہیں۔ اس لیے مغرب کے ساتھ دوٹوک بات کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنا کلچر ہم پر مسلط کرنے کی کوشش نہ کرے اور ہمارے عقیدہ و ایمان اور خاندانی نظام میں مداخلت کا سلسلہ چھوڑ دے۔
  5. اسی طرح مسلم معاشرہ میں مغرب کی نمائندگی کرنے والے دانشوروں کو بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ قرآن و سنت اور شریعت اسلامیہ کی من مانی تعبیرات کر کے انہیں مغربی فکر و فلسفہ کے فریم میں فٹ کرنے کا عمل بھی مسلم سوسائٹی نے دنیا میں ہر جگہ مسترد کر دیا ہے۔ کیونکہ عام مسلمان اب بھی قرآن و سنت کی اسی تعبیر و تشریح کے ساتھ وابستہ ہے جو چودہ سو سال سے اجتماعی تعامل کی صورت میں چلی آرہی ہے۔ اس صورت حال کو تبدیل کرنا عالم اسباب میں بھی اس وقت تک ناممکن ہے جب تک قرآن و سنت اور شریعت اسلامیہ کی اوریجنل تعلیمات مسلم معاشرہ میں موجود ہیں اور پڑھی و پڑھائی جا رہی ہیں۔ اس لیے وہ قرآن و سنت کی تعلیمات کو اپنے ڈھب پر لانے کی اس ناکام کوشش میں خواہ مخواہ اپنا اور مسلمانوں کا مزید وقت ضائع نہ کریں اور اس سراب کے پیچھے بھاگنا بند کر دیں جو مغرب کے فکر و فلسفہ نے ان کے ذہنوں پر مسلط کر رکھا ہے۔