حضرت عمرؓ کا نظامِ حکومت اور اسفند یار ولی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۲ دسمبر ۲۰۰۲ء

’’آن لائن‘‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار خان ولی نے عید الفطر کے موقع پر چار سدہ کی تاریخی مسجد غازی گل بابا میں ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ متحدہ مجلس عمل کی حکومت نے اگر صوبہ سرحد میں سنجیدگی کے ساتھ شریعت نافذ کرنے کی طرف توجہ دی تو صوبائی اسمبلی میں اے این پی کے 10 ارکان کی حمایت بھی اسے حاصل ہوگی۔ لیکن شریعت کے نفاذ سے ان کی مراد حضرت عمرؓ کی حکومت کا نظام ہے۔ انہوں نے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ اکرم درانی کی طرف سے شراب پر پابندی، بسوں میں ریکارڈنگ پر پابندی، اور نماز کے لیے بس روکنے کے اعلانات پر تنقید کی۔ اور کہا ہے کہ شراب پر پابندی صوبہ سرحد میں ڈاکٹر خان مرحوم کے دور میں لگائی گئی تھی اس لیے متحدہ مجلس عمل اس کا کریڈٹ لینے کی کوشش نہ کرے۔ جبکہ دیگر اقدامات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ نمائشی ہیں۔

جہاں تک شراب پر پابندی کا تعلق ہے ہمیں اس سے انکار نہیں کہ ڈاکٹر خان مرحوم نے بھی اپنے دور وزارت میں اس پر پابندی لگائی ہوگی۔ ڈاکٹر خان مرحوم اسفند یار خان ولی کے دادا خان عبد الغفار خان مرحوم کے بھائی تھے اور کانگریس کی طرف سے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ تھے، اسی لیے اسفند یار ولی ان کا حوالہ دے رہے ہیں۔ انہوں نے یقیناً پابندی لگائی ہو گی لیکن شراب نے اس کے بعد بھی صوبر سرحد کا پیچھا نہیں چھوڑا تھا اور 1972ء میں جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ نے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے اقتدار سنبھالا تو انہیں دوبارہ اس پر پابندی لگانا پڑی تھی۔ ہم ایک سابقہ مضمون میں اس بات کا تفصیل کے ساتھ تذکرہ کر چکے ہیں کہ مفتی صاحبؒ کو صوبہ سرحد میں شراب پر پابندی کے اس حکم پر عملدرآمد کے لیے حکومتی حلقوں کی طرف سے کس قدر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لیے اگر اکرم درانی نے ایک بار پھر صوبہ سرحد میں شراب پر پابندی کا اعلان کیا ہے تو یہ کوئی تعجب کی بات نہیں ہے۔ ہو سکتا ہے کہ شراب نے ایک بار پھر اس درجہ میں پنجے گاڑ لیے ہوں کہ انہیں ڈھیلا کر نے کی صورت میں اکرم درانی کو اس پابندی کے از سر نو اعلان کی ضرورت محسوس ہوئی ہو۔

اسی طرح کی صورت حال بسوں میں ریکارڈنگ پر پابندی اور نماز کے لیے بسوں کو روکنے کی ہدایت کے بارے میں بھی ہو سکتی ہے کہ اس کے لیے پہلے سے قوانین کے موجود ہوتے ہوئے بھی عمل در آمد کا معاملہ اس قدر مخدوش ہو کہ اسے مؤثر بنانے کے لیے از سر نو پابندی کا اعلان ناگزیر ہو گیا ہو۔

البتہ اسفند یار خان ولی کے اس ارشاد سے ہم سو فیصد متفق ہیں کہ اس قسم کے جزوی اقدامات سے نفاذ شریعت کا تاثر قائم کرنا درست نہیں ہے، اور نفاذ شریعت کا عمل اسی وقت سنجیدہ سمجھا جائے گا جب اس کے لیے حضرت عمرؓ کے دور کو آئیڈیل قرار دے کر اس کی طرز پر نظام حکومت کو استوار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ اس موقع پر اس بات کا حوالہ دینا بھی شاید نا مناسب نہ ہو کہ 1972ء میں جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے تھے تو ان کی مخلوط حکومت نیشنل عوامی پارٹی کے تعاون سے قائم ہوئی تھی۔ بلکہ اس کولیشن میں اکثر یتی پارٹی ANP ہی تھی جس کے سربراہ اسفند یار ولی کے والد محترم خان عبدالولی خان تھے۔ ہمیں یاد ہے کہ اس کولیشن کے ذریعہ جب مفتی محمود صاحبؒ صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بنے تو خان عبد الولی خان سے اخبار نویسوں نے ایک مجلس میں سوال کیا کہ ان کی جماعت تو سیکولر نظریات کی حامل ہے انہوں نے اسلامی نظام کی داعی ایک دینی جماعت کے سربراہ کی قیادت اور پالیسی کیسے قبول کر لی؟ اس پر خان عبد الولی خان نے کہا تھا کہ اگر اسلامی نظام سے مراد خلفاء راشدینؓ کا طرز حکومت ہے تو ا س کے لیے ہم تیار ہیں، اور ہم نے یہی سمجھ کر مولانا مفتی محمودؒ کو اپنا امام تسلیم کیا ہے۔

اسفند یار ولی نے مسجد غازی گل بابا میں عید الفطر کے موقع پر جو کچھ کہا ہے اس سے ان کے والد محترم کے پرانے ریمارکس کی یاد تازہ ہو گئی ہے اور اس بات پر ہمیں خوشی ہوئی کہ خان عبد الولی خان کی طرح ان کی بیٹے اسفند یار خان کا ’’سیکولرازم‘‘ بھی اسلامی نظام کے نفی کے حوالہ سے نہیں بلکہ اس کی عملی تعبیر و تشکیل کے بارے میں تحفظات کے حوالہ سے ہے۔ اور یہ باپ بیٹا تو پھر بھی نیشنلسٹ ہیں، ہم تو بعض ایسے کمیونسٹوں اور سوشلسٹوں کو بھی جانتے ہیں جن کا کہنا ہے کہ آپ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے دور کا اسلام لے آئیں ہمیں اس سے کوئی اختلاف نہیں ہوگا بلکہ ہم اس سے بھر پور تعاون کریں گے۔

خلفاء راشدینؓ کا دور حکومت اور خاص طور پر حضرت ابو بکرؓ اور حضرت عمرؓ کا نظام ہی اسلام کا مثالی ڈھانچہ ہے اور وہی ایک آئیڈیل نمونہ ہے جس کو قبول کرنے سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کر سکتا۔ اس لیے اس بارے میں اسفند یار ولی صاحب کے ارشاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے ہم ان سے گزارش کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت عمرؓ کا نظام حکومت نافذ کرنے میں اس وقت دو بڑی رکاوٹیں ہیں اور یہ دونوں رکاوٹیں اس قدر بڑی ہیں کہ انہیں متحدہ مجلس عمل صوبائی اسمبلی میں واضح اکثریت رکھنے کے باوجود شاید اکیلی عبور نہ کر سکے۔ اور اس سلسلہ میں قومی اتفاق رائے کے حصول کے لیے ایم ایم اے کو شاید نہیں بلکہ یقیناً اے این پی کے 10 ووٹوں کی حمایت کی ضرورت بھی ایک مرحلہ پر لازماً پیش آسکتی ہے۔

حضرت عمرؓ کے نظام حکومت کو اپنانے میں پہلی بڑی رکاوٹ آج کا مر وجہ عالمی نظام اور ورلڈ اسٹیبلشمنٹ ہے جس کے لیے سود اور استحصال سے پاک اور خالص مذہبی تعلیمات پر مبنی نظام حکومت کو قبول کرنا ممکن ہی نہیں ہے۔ اس لیے جب بھی اور جہاں بھی حضرت عمرؓ والا نظام حکومت نافذ ہونا شروع ہوگا اور اسفند یار ولی کے بقول اس میں سنجیدگی بھی ہوگی تو اس کے خلاف ورلڈ سسٹم فوراً حرکت میں آئے گا۔ اس صورت میں حضرت عمرؓ والے نظام کی حمایت کرنے کا مطلب آج کے ورلڈ سسٹم اور اس کے لیڈر امریکا بہادر کی دشمنی مول لینا ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ کیا اسفند یار خان ولی اور ان کے 10 ارکان اسمبلی اس بات کا حوصلہ اپنے اندر پیدا کر لیں گے؟

حضرت عمرؓ والے نظام حکومت کے نفاذ میں دوسری بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ ایسا کرنے سے ظاہری نقشہ تو وہی بنے گا جو افغانستان کی طالبان حکومت کا تھا کہ امیرالمومنین کے ہاتھ میں کوڑا ہوگا جو نماز پڑھنے والوں پر بھی برسے گا، اور پردہ نہ کرنے والی خواتین بھی اس سے محفوظ نہیں ہوں گی۔ ایسا ہوا تو پھر بہت سے دوستوں کو اور خود اسفند یار خان ولی کو شکایت ہوگی کہ ڈنڈے کے زور پر اسلام نافذ کیا جا رہا ہے۔ کیونکہ حضرت عمرؓ کا تعارف ان کے کوڑے کے بغیر اسی طرح نامکمل رہتا ہے جس طرح حضرت موسیٰ کا تعارف ان کے عصا کے بغیر ہے۔ ظاہر بات ہے کہ حضرت عمرؓ ہوں گے تو کوڑا بھی ہوگا، اور کوڑا ہوگا تو برسے گا بھی، اور اس کا برسنا بھی نمائشی نہیں بلکہ سنجیدگی کے ساتھ ہوگا۔ اس لیے اسفند یار ولی اور اس کے 10 ارکان اسمبلی حضرت عمرؓ والے اسلام کا مطالبہ کرنے سے قبل ان دو الجھنوں کا کوئی حل سوچ لیں کیونکہ یہ دونوں الجھنیں سب سے زیادہ انہی کو پیش آئیں گی۔

متحدہ مجلس عمل نے تو نہ اس سے قبل ایسی الجھنوں کو اپنے ذہن میں زیادہ جگہ دی ہے اور نہ ہی اب اس قسم کی الجھنیں اور رکاوٹیں اس کے راستے میں رکاوٹ بن سکیں گی۔ متحدہ مجلس عمل کی مرکزی قیادت اور صوبہ سرحد میں اکرم درانی اور ان کی ٹیم کے بارے میں ہماری توقعات تو یہی ہیں، باقی اندر کی بات خدا جانتا ہے۔ خدا کرے کہ اکرم درانی اور ان کے رفقاء اپنی پالیسیوں اور ترجیحات کا کوئی ایسا ’’سیٹ اپ‘‘ قائم کرنے میں کامیاب ہو جائیں کہ 1972ء کی طرح 2003ء میں بھی خان عبد الغفار خان مرحوم کے سیاسی پیرو کار جمعیت علماء اسلام کی قیادت قبول کرنے میں خوشی محسوس کرتے ہوئے تاریخ کو ایک بار پھر دھرا دیں، آمین یا رب العالمین۔