دعوت دین ۔ دنیوی و اخروی نجات کا ذریعہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
دسمبر ۲۰۱۰ء

(اس سال تبلیغی جماعت کے سہ روزہ کے لیے گوجرانوالہ کے ۲۵ کے لگ بھگ علماء کرام کی جماعت کی تشکیل زکریا مسجد، رفیق کالونی، فیصل آباد میں ہوئی جہاں ہفتہ اور اتوار عشاء کے بعد مولانا زاہد الراشدی کا بیان۔)

بعد الحمد والصلوٰۃ ۔ اللہ رب العزت کا بے پناہ احسان اور فضل ہے کہ اس نے ہم سب کو عشاء کی نماز مسجد میں جماعت کے ساتھ ادا کرنے کی توفیق دی اور یہ بھی اللہ تعالیٰ کی مہربانی ہے کہ نماز کے بعد ہمیں تھوڑی دیر کے لیے دین کی باتیں کہنے اور سننے کی غرض سے بٹھا دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمارے اس مل بیٹھنے کو قبول فرمائیں اور کچھ مقصد کی باتیں کہنے اور سننے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

دعوت دین کا عمل

ہماری یہاں حاضری کا مقصد خیر کے ایک کام میں شرکت اور خیر کا کام کرنے والوں کے ساتھ کچھ وقت گزارنا ہے۔ دعوت کا یہ عمل ہماری دینی ذمہ داریوں میں سے بھی ہے اور ہماری ملی ضروریات میں سے بھی۔ اس لیے کہ پوری نسل انسانی جو اس وقت ساڑھے چھ ارب کے لگ بھگ انسانوں پر مشتمل ہے اس کے تمام افراد تک اسلام کی دعوت پہنچانا ہماری ذمہ داری ہے۔ پوری نسل انسانی جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی امت دعوت ہے جبکہ دنیا کے ڈیڑھ ارب کے لگ بھگ مسلمان جناب رسول اللہؐ کی امت اجابت ہیں۔ امت دعوت تک دین کی دعو ت پہنچانا امت اجابت کا فریضہ ہے اور امت دعوت کو امت اجابت کے دائرے میں لانے کی محنت کرنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ یہ کام آسمان سے فرشتوں نے آکر نہیں کرنا بلکہ ہم نے ہی کرنا ہے اور ہم اگر اس طرف توجہ نہیں دیں گے تو ہم سے اس ذمہ داری اور اس کی ادائیگی کے بارے میں سوال ہو گا۔

اور جیسے امت دعوت کو امت اجابت کے دائرے میں لانے کی کوشش کرنا ہماری ذمہ داری ہے ایسے ہی امت اجابت کو دین کی طرف واپس لانے کی محنت بھی ہمارے فرائض میں شامل ہے کیونکہ آج بحیثیت امت مسلمہ ہم دین سے دور ہو چکے ہیں اور دین کے اعمال ہماری عملی زندگی سے نکل چکے ہیں۔ امت کا دین کی طرف واپس آنا اور دین کے اعمال کا ہماری عملی زندگیوں میں واپس آنا جہاں خود ہماری نجات و فلاح کے لیے ضروری ہے وہاں نسل انسانی کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے بھی ضروری ہے۔ کیونکہ اسی سے وہ ماحول پیدا ہو گا جو نسل انسانی کو اسلام کی دعوت دینے کے لیے ناگزیرتقاضے کی حیثیت رکھتا ہے۔

اسلام کے دور اول میں صدیوں تک جو لوگ مسلمان ہوتے رہے ہیں ان میں زیادہ تر لوگ مسلمانوں کے اعمال و اخلاق اور دینی ماحول سے متاثر ہو کر مسلمان ہوئے ہیں۔ جنوبی ایشیا یعنی پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت اور اس پورے خطے میں اسلام کا تعارف اگر چہ مجاہدین اور جرنیلوں کے ذریعہ ہوا ہے لیکن اسلام کی دعوت اور کروڑوں لوگوں کے قبول اسلام کی بڑی وجہ حضرات صوفیاء کرام مثلاً حضرت سید علی ہجویریؒ اور حضرت خواجہ معین الدین اجمیریؒ جیسے عظیم بزرگوں کی اس خطہ میں آمد ہے جن کے طرز عمل، کردار، تقو یٰ، اور دیانت سے متاثر ہو کر اس پورے خطے کی آبادی کی ایک بڑی تعداد نے اسلام کا کلمہ پڑھا ہے۔ بلکہ اس سے آگے مشرقی ایشیا کی طرف چلے جائیں تو انڈ ونیشیا، ملائیشیا اور ان ممالک میں اسلام کے تعارف اور اس کی دعوت کا بڑا ذریعہ مسلمان تاجر بنے ہیں جو تجارت کے لیے ان علاقوں میں گئے اور ان کے عمل و کردار اور دیانت و امانت کو دیکھ کر مقامی آبادی مسلمان ہوتی چلی گئی۔

اس لیے میں یہ سمجھتا ہوں کہ پوری نسل انسانی کو اسلام کی دعوت دینا ہمارا فریضہ ہے اور اس کے لیے امت مسلمہ کو دین کی طرف واپس لا کر اس دعوتِ اسلام کا ماحول پیدا کرنا بھی ہمارری ذمہ داری ہے،کیونکہ جب ہمارے ہاں دین کا ماحول نہیں ہو گا اور دنیا کے لوگ ہمارے اعمال و کردار سے متاثر نہیں ہوں گے اس وقت تک انہیں اسلام کی مؤثر طور پر دعوت دینا مشکل ہو گا۔ چنانچہ دعوت و تبلیغ کے اس عمل کا بنیادی مقصد میرے نزدیک یہی ہے جو آج دنیا بھر میں پھیلتا جا رہا ہے کہ امت کو دین کی طرف واپس لا کر دعوت اسلام کا وہ ماحول پیدا کیا جائے جو پوری نسل انسانی کے لیے نمونہ اور کشش کا باعث بنے۔

اس تمہیدی گزارش کے بعد میں دو باتیں عرض کرنا چاہتا ہوں، ایک اس مجمع میں شریک عام حضرات کے لیے ہے جبکہ دوسری بات علماء کرام کے حوالہ سے عر ض کروں گا۔

انسان کے وجود کا مقصد کیا ہے؟

سب حضرات کے لیے اجتماعی بات تو میں یہ گزارش کرنا چاہتا ہوں کہ ہمیں بحیثیت انسان اپنا مقصد وجود جاننے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس لیے کہ دنیا میں کوئی چیز بھی بے مقصد نہیں ہوتی، ہر چیز کا کوئی بنانے والا ہوتا ہے اور اس کا کوئی نہ کوئی مقصد اور فنکشن ہوتا ہے۔ ہم جب بھی کوئی نئی چیز دیکھتے ہیں تو دو تین سوال بے ساختہ طور پر ہمارے ذہنوں میں ابھر آتے ہیں۔

پہلا یہ کہ یہ چیز کیا ہے؟

دوسرا یہ کہ یہ کس کام اور مقصد کے لیے ہے؟

اور تیسرا یہ کہ اسے کس نے بنایا ہے؟

مثال کے طور پر میرے سامنے یہ مائیک ہے جس کے ذریعہ میں آپ حضرات سے مخاطب ہوں۔ اسے دیکھ کر میرا ذہن یہ جاننے کی کوشش کرے گا کہ یہ کس چیز سے بنا ہوا ہے، اس کے پرزے کتنے ہیں اور وہ کس طرح کام کرتے ہیں۔ پھر میں یہ دیکھوں گا کہ اسے کس مقصد کے لیے بنایا گیا ہے۔ اور پھر یہ بھی جاننا چاہوں گا کہ یہ کس نے بنایا ہے۔ یہ سارے سوالات فطری ہیں ان کے لیے کسی منصوبہ بندی کی ضرورت نہیں پڑتی اور یہ خود بخود بے ساختہ طور پر ذہن کی سکرین پر ابھر آتے ہیں۔

سوال یہ کہ اگر میں ماچس کی ایک تیلی کے بارے میں یہ سب کچھ جاننے کی کوشش کرتا ہوں اور اسے ضروری سمجھتا ہوں تو خود اپنے بارے میں ان سوالات کی ضرورت کیوں محسوس نہیں کرتا؟ ایک انسانی وجود اور ڈھانچہ اس کائنات کی سب سے پیچیدہ مشینری ہے جو صدیوں سے میڈیکل سائنس کا موضوع ہے اور اسے ہزاروں بار چیر پھاڑ کر کے اس کی ہر چیز کا با ر بار تجزیہ کیا گیا ہے، لیکن ابھی تک کوئی شخص یا طبقہ اس دعو یٰ کی پوزیشن میں نہیں ہے کہ اس مشینری کو پوری طرح سمجھ لیا گیا ہے اور اب اس کے متعلق مزید کسی تحقیق و تجزیہ کی ضرورت نہیں ہے۔

ظاہر بات ہے کہ اگر میرے جیب میں لگے ہوئے قلم کا کوئی نہ کوئی مقصد ہے تو خود میرے وجود کا بھی کوئی نہ کوئی مقصد ضرور ہے او ر مجھے اپنے آپ کو اور اپنی زندگی کو با مقصد بنانے کے لیے اپنے مقصد وجود سے آگاہی حاصل کرنا ہو گی، اس کے بغیر میں ایک با مقصد اور کامیاب انسان کے طور پر زندگی بسر نہیں کر سکوں گا۔ مگر صورت حال یہ ہے کہ ہمارے آج کے تمام علوم و فنون مجھے خود میرے بارے میں ان سوالات کا جواب نہیں دے رہے۔ مثلاً میڈیکل سائنس یہ بحث تو کرتی ہے کہ انسانی باڈی کیا ہے؟ اس کے اعضاء و اجزاء کیا ہیں؟ اس کا نیٹ ورک کیا ہے؟ اور اس کا میکنزم کیا ہے؟ ان سوالات پر میڈیکل سائنس نے بہت کام کیا ہے اور بہت سی مفید معلومات فراہم کی ہیں۔ لیکن یہ کہ کائنات کی یہ سب سے پیچیدہ مشینری کس نے بنائی ہے؟ اور کس مقصد کے لیے بنائی ہے؟ ان دونوں سوالوں کو میڈیکل سائنس سرے سے ٹچ ہی نہیں کرتی بلکہ آج ہماری یونیورسٹیوں اور کالجوں میں پڑھائے جانے والے علوم و فنون میں سے کوئی بھی ان سوالات کو اپنا موضوع اور سبجیکٹ قرار نہیں دیتا۔

جبکہ ان سوالات کا جواب صرف وحی الٰہی سے ملتا ہے، آسمانی تعلیمات سے ملتا ہے اور قرآن و حدیث سے ملتا ہے۔ اس طرح اپنا مقصد وجود معلوم کرنے کے لیے ہمارے پاس آسمانی تعلیمات اور احکام خداوندی کی طرف رجوع کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور دعوت کا یہ پہلو بھی بہت زیادہ اہمیت اور توجہ کا حامل ہے کہ نہ صرف مسلمانوں کو بلکہ دنیا بھر کے انسانوں کو یہ دعوت دی جائے کہ وہ اگر بحیثیت انسان ایک با مقصد اور کامیاب زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں تو اپنے پیدا کرنے والے کو پہچانیں، اپنے مقصد تخلیق کو جاننے کی کوشش کریں، اور یہ وحی الٰہی اور حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کی تعلیمات سے ہی معلوم ہو گا جس کا محفوظ ترین ذخیرہ آج کی دنیا کے پاس صرف قرآن کریم اور نبی اکرمؐ کی حدیث و سنت کی صورت میں موجود ہے۔

دعوت دین اور مبلغین کی ذمہ داری

میں علماء کرام سے بھی ایک گزارش کرنا چاہتا ہوں لیکن اس سے قبل ایک واقعہ عرض کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔ میرا ذوق اور معمول ہے کہ دنیا کے دوسرے مذاہب کے مذہبی راہ نماؤں سے ملاقات کی کوشش کرتا ہوں اور معروضی حالات و مسائل کے حوالہ سے ان سے گفت و شنید کرتا ہوں۔ غالباً ۱۹۸۸ء کی بات ہے کہ امریکہ کے شہر اٹلانٹا میں عیسائیوں کے بیٹپسٹ فرقہ کے ایک مذہبی پیشوا سے میری بات چیت ہوئی، میرے گکھڑ کے ایک دوست افتخار رانا نے جو وہاں مقیم ہیں اس ملاقات کا اہتمام کیا تھا اور وہی درمیان میں ترجمان بھی تھے۔

میں نے پادری صاحب سے سوال کیا کہ آپ کے ارد گرد سوسائٹی میں زنا، عریانی اور سود خوری جیسے جرائم کے حوالہ سے جو فضا موجود ہے اس کے بارے میں آپ کا نقطۂ نظر کیا ہے اور آپ اسے کس نظر سے دیکھتے ہیں؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ سب کچھ غلط ہو رہا ہے، بائبل کے احکام کی خلاف ورزی ہے اور حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات سے بغاوت ہے۔ میں نے عرض کیا کہ ایک مذہبی راہ نما کے طور پر آپ اس کے بارے میں کیا کر رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا کہ اتوار کو چرچ میں بائبل کا درس دیتا ہوں اور اس میں لوگوں کو یہ باتیں سمجھانے کی کوشش کرتا ہوں۔ میں نے گزارش کی کہ آپ کے شہر کی آبادی کتنی ہے؟ فرمایا کہ ایک ملین (دس لاکھ) کے لگ بھگ ہو گی۔ میں نے سوال کیا کہ اتوار کے درس میں کتنے لوگ شریک ہوتے ہیں؟ انہوں نے بتایا کہ ڈیڑھ دو سو کے لگ ہوتے ہیں۔ میں نے عرض کیا کہ دس لاکھ کی آبادی میں ہفتہ میں ایک بار ڈیڑھ دو سو افراد کو درس دے کر کیا آپ مطمئن ہیں کہ آپ اپنی ذمہ داری پورے طور پر ادا کر رہے ہیں اور کیا آپ قیامت کے دن حضرت مسیح علیہ السلام کے سامنے پیش ہونے پر انہیں اپنے اس عمل سے مطمئن کر سکیں گے؟ انہوں نے جواب دیا کہ نہیں۔

اس کے بعد اور بہت سی باتیں ہوئیں جن کا تذکرہ یہاں ضروری نہیں ہے لیکن اس سوال و جواب کے حوالہ سے جو بات میں علماء کرام کی خدمت میں عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ وہاں سے واپس ہونے کے بعد میرے ذہن میں سوال ابھرا اور آج بھی جب اس واقعہ کا تذکرہ کرتا ہوں تو یہ سوال ذہن میں خود بخود پیدا ہو جاتا ہے کہ پادری صاحب سے تو میں نے یہ ساری باتیں پوچھ لیں لیکن اگر یہی سوالات مجھ سے کیے جائیں تو میرا جواب کیا ہو گا؟ اور کیا میں اپنے اردگرد معاشرے کے عمومی ماحول کو دیکھ کر اپنی کارکردگی پر اپنے ضمیر کو مطمئن پاتا ہوں؟ اور قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیشی پر ان سوالات کا جواب دے پاؤں گا؟ مجھے اور سب علماء کرام کو اس بات کی فکر کرنی چاہیے، ہمارے اردگرد جو کچھ ہو رہا ہے اور ہم اپنے محدود دائروں میں جو کچھ کر رہے ہیں اس کا موازنہ کرنا ہم میں سے ہر شخص کی ذمہ داری ہے اور ہمیں اس سے غفلت نہیں برتنی چاہیے۔

اصل کامیابی اور نجات

اس کے ساتھ ایک بات یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ نجات اور کامیابی دنیا کے ہر مسلمان بلکہ ہر انسان کا مقصد ہے اور ہر شخص اپنے عقیدہ اور سوچ کے مطابق اس کے لیے کوشاں رہتا ہے۔ اس حوالہ سے دو پہلو ہماری خصوصی توجہ کے مستحق ہیں۔ ایک یہ کہ کامیابی کہتے کس کو ہیں ؟ اور دوسرا یہ کہ دنیا اور آخرت میں اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور عذاب و سزا سے بچنے کے لیے ہمیں کیا کرنا چاہیے؟

ہمارے ہاں عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ کامیابی اور نجات کا مطلب جنت میں جانا ہے اور جو شخص جنت میں چلا جائے گا وہ کامیاب ہے۔ اس کے ساتھ یہ بات بھی شامل کر لیں کہ اللہ تعالیٰ نے ہر اس مسلمان اور کلمہ گو کے ساتھ جنت کا وعدہ کیا ہے جو شرک سے بچ کر رہے گا۔ بلکہ جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی ہے کہ جس شخص نے زندگی میں ایک بار بھی کلمہ پڑھا ہے وہ بالآخر جنت میں ضرور جائے گا۔ اس سے عام ذہن یہ بنتا ہے کہ جنت میں تو بالآخر جانا ہی ہے اس لیے زیادہ مشقت اور محنت کی چنداں ضرورت نہیں ہے۔ چنانچہ اس مغالطے کو دور کرنا بہت ضروری ہے، اس لیے کہ قرآن کریم نے صرف جنت میں داخلہ کو کامیابی نہیں بتایا بلکہ اس سے پہلے دوزخ سے بچنا بھی لازمی قرار دیا ہے۔

فَمَنْ زُحْزِحَ عَنِ النَّارِ وَاُدْخِلَ الْجَنَّةَ فَقَدْ فَازَ۔ (سورہ آل عمران ۳ ۔ آیت ۱۸۵)

’’پھر جو کوئی دوزخ سے دور رکھا گیا اور بہشت میں داخل کیا گیا سو وہ پورا کامیاب ہوا‘‘۔

اس لیے اصل کامیابی یہ ہے کہ آدمی دوزخ میں جانے سے بچے اور دوزخ میں جائے بغیر سیدھا جنت میں جائے۔ (اللہ تعالیٰ ہم سب کو اسی طرح لے جائے، آمین)۔ اس لیے کہ دوزخ کی دردناک سزا بھگت کر جنت میں جانا کیسی کامیابی ہوگی؟ مسلم شریف کی ایک روایت کے مطابق دوزخ سے ہو کر جنت میں جانے والوں کا تعارف جنت میں بھی دوزخ کے حوالہ سے ہو گا اور انہیں ’’جہنمیین‘‘ کے نام سے پکارا جائے گا۔ اس لیے فوز و فلاح کا یہ قرآنی تصور عام کرنے کی ضرورت ہے کہ اصل کامیابی یہ ہے کہ آدمی دوزخ میں جانے سے محفوظ رہے اور سیدھا جنت میں جائے۔

دوسرا پہلو یہ ہے کہ جرائم اور اعمال شر پر گرفت اور سزا و عذاب کے بار ے میں اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے وہ جرائم کی سزا دنیا میں بھی دیتے ہیں اور آخرت میں بھی دیتے ہیں۔ مگر دنیا کی سزا اور آخرت کی سزا کے ضابطے مختلف ہیں۔ انسان کا ذاتی طور پر نیک ہونا اور جرائم سے بچنا آخرت کی سزا سے بچنے کے لیے تو کافی ہے لیکن دنیا کی سزا اور عذاب سے بچنے کے لیے ذاتی نیکی کافی نہیں ہے بلکہ اپنے ارد گرد نیکی کا ماحول قائم رکھنا اور سوسائٹی کے دوسرے لوگوں کو گناہ سے روکنے کی کوشش کرنا بھی ضروری ہے۔ ایک حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرتؐ نے فرمایا کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کرتے رہو کیونکہ جب معاشرے میں اللہ تعالیٰ کی نافر مانی عام ہو جائے گی اور کوئی روک ٹوک کرنے والا نہیں ہو گا تو خدا کا عذاب پھر سب پر یکساں نازل ہو گا۔ ام المومنین حضرت ام سلمہؓ نے سوال کیا کہ یا رسول اللہ کیا اس عمومی عذاب میں نیک اور صالح لوگ بھی ہلاک ہوں گے؟ آپؐ نے فرمایا کہ ہاں دنیا کے عذاب میں وہ بھی شریک ہوں گے، البتہ آخرت میں سب لوگ اپنے اپنے ایمان اور اعمال پر اٹھائے جائیں گے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ ذاتی نیکی اور اعمال آخرت میں تو انسان کی نجات کے لیے کافی ہیں لیکن دنیا وی عذاب سے بچنے کے لیے ان کے ساتھ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی کرتے رہنا بھی ضروری ہے۔ امر بالمعرو ف اور نہی عن المنکر کی مثال یوں سمجھ لیجیے جیسے انسان کے جسم میں قوت مدافعت ہے جو بیماریوں کو روکتی رہتی ہے، اگر یہ قوت مدافعت قائم ہے تو انسان بڑی سے بڑی بیماری کا مقابلہ کر لیتا ہے لیکن اگر قوت مدافعت کمزور پڑ جائے تو معمولی سی بیماری کے سامنے بھی بے بس ہو جاتا ہے۔ یا یوں سمجھ لیجیے کہ ہر ملک میں ماحولیات کا ایک محکمہ ہوتا ہے کہ جس کے افراد ہوا، پانی، زمین وغیرہ کا جائزہ لیتے رہتے ہیں اور بتاتے رہتے ہیں کہ کون کون سی بیماریوں کا خطرہ ہے اور ان خطرات کو دور کرنے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟ اگر خدانخواستہ کسی شہر میں ماحولیات کے ماہرین ہڑتال کر دیں یا اپنا کام چھوڑ دیں تو چار چھ ماہ کے بعد اس شہر کے لوگوں کا کیا حشر ہو گا؟ اور اگر ان کی غفلت سے کوئی وبا پھوٹ پڑی تو جہاں عام شہری اس کا شکار ہوں گے وہاں وہ ماحولیات والے بھی متاثر ہوئے بغیر نہیں رہیں گے اور ان کی بے پروائی سے پھیلنے والی بیماری ان کے گھروں کو بھی لپیٹ میں لے لے گی۔

بزرگان محترم! دعوت و تبلیغ کے اس عمل و محنت کے ماحول میں دو تین دن گزارنے کی نیت سے یہاں حاضری ہوئی ہے اور اسی کار خیر کی اہمیت کے بارے میں کچھ گزارشات آپ حضرات کی خدمت میں پیش کی ہیں، ان میں جو باتیں صحیح ہوئی ہیں اللہ تعالیٰ ان پر عمل کی ہم سب کو توفیق دیں اور اگر کوئی بات غلط ہو گئی ہے تو اصلاح کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: