شعر و شاعری کی اہمیت و ضرورت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ نصرۃ العلوم، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
نومبر ۲۰۱۴ء

(جامعہ نصرۃ العلوم میں دیوان حماسہ کے سبق کے آغاز پر چند تمہیدی باتیں۔)

موزوں کلام یعنی وزن پرکلام کہنا شعر کہلاتا ہے۔ شعر اظہار کے ذرائع میں ایک بہت مؤثر ذریعہ ہے جس سے انسان اپنی بات دوسروں تک پہنچاتا ہے، دوسروں کو متاثراورقائل کرتا ہے اور کبھی کبھی گھائل بھی کر دیتا ہے۔ بیان کے اسالیب میں ایک بڑا اسلوب شعر و شاعری ہے۔

شاعر ہونا انبیاء کرامؑ کے شایان شان نہیں

شعر و شاعری کی بنیاد تخیل پر ہوتی ہے کہ ایک آدمی بات کو بیان کرتے ہوئے جتنا مبالغہ کرے گا، جتنا زیادہ تخیل اونچا ہوگا، اتنا ہی شعر خوبصورت ہو گا۔ انبیاء کرامؑ کی بات تخیل پر نہیں بلکہ وحی اوریقین پر ہوتی ہے، اس لیے شعر و شاعری انبیاءؑ کے شایان شان اور مقام ومرتبہ کے مطابق نہیں ہے۔ جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگ شاعر کہتے تھے مگر قرآن کریم میں ہے وَمَاعَلَّمْنٰہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَہٗ اور نہیں سکھایا ہم نے آپؐ کو شعر اور نہ ہی وہ آپؐ کے شایان شان ہے۔ ایک اور جگہ قرآن کریم میں ہے وَالشُّعَرَآءُ یَتَّبِعُھُمُ الْغَاوُوْنَ اورشعراء کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے شعر وشاعری کو رسالت کے اوصاف میں ذکر نہیں کیا۔

شعر فی نفسہٖ حضورؐ نے استعمال بھی کیاہے اور اس کی تعریف بھی کی ہے، آپؐ نے شعر سنے بھی ہیں اور سنائے بھی ہیں۔ نفی کا مطلب مطلقاً نفی نہیں ہے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ شاعر ہونا حضورؐ کے شایان شان نہیں۔ مطلقاً شعر کا وجود ایک ذریعہ ہے جو اظہار کے طور پر پہلے بھی موجود رہا ہے ، آج بھی ہے اور قیامت تک رہے گا۔ آنحضرتؐ نے شعر وشاعری کو اسلام کی دعوت و دفاع کے لیے استعمال کیا ہے، حضورؐ خود شعر نہیں کہتے تھے لیکن شعر کو حُدی، رجز اور غزل کے طور پر آپؐ کے سامنے پڑھا گیا ہے جس پر آپؐ داد بھی دیتے تھے۔ سمرۃ بن جندبؓ کی شمائل ترمذی میں روایت ہے کہ حضورؐ کی مجلس میں اشعار پڑھے جاتے تھے اور آپؐ داد بھی دیتے تھے جبکہ ترانے (رجز) تو حضورؐ نے خود بھی پڑھے ہیں۔

حضورؐ کے ایک حدی خواں تھے جو کہ اسی کام کے لیے تھے اور سفر میں ساتھ ہوتے تھے۔ اونٹوں کے ساتھ چلتے تھے اور بہت مزے کی حدی پڑھتے تھے، ان کا نام انجشۃ تھا۔ بخاری شریف کی روایت ہے کہ ایک سفرمیں حضورؐ اونٹ پر سوار تھے، انجشۃؓ ساتھ تھے اور حُدی پڑھ رہے تھے۔ اونٹ ایک باذوق جانور ہے، اس کا مزاج یہ ہے کہ جتنا اچھا گانے والا ہو گا وہ اتنا تیز دوڑے گا۔ تو انجشۃؓ بڑے مزے کے ساتھ حُدی پڑھ رہے تھے جبکہ اونٹ پر ازواج مطہراتؓ سوار تھیں۔ حضورؐ نے آواز دی رُوَیْدَکَ یَا اَنْجَشَۃْ سَوْقَکَ بِالْقَوَارِیْر اے انجشۃ! آہستہ پڑھ، ذرا ٹھہر ٹھہر کے پڑھ، تم آبگینے لے کر سفر کر رہے ہو۔ یعنی اونٹ زیادہ تیز دوڑے گا تو یہ شیشے جیسی عورتیں جو اونٹ پر سوار ہیں ٹوٹ جائیں گی۔

اسلام کے دفاع کے لیے شاعری

جناب نبی اکرمؐ کی قریشیوں کے ساتھ تین جنگیں ہوئیں۔ جنگ بدر، جنگ احد اور جنگ احزاب۔ جب آنحضرتؐ احزاب کی جنگ سے فارغ ہوئے تو مسجد نبوی میں خطبہ ارشاد فرما یا کہ مسلمانو! اب قریشیوں کو حوصلہ نہیں ہو گا کہ وہ ہم پر حملہ کریں، ان کا آخری زور لگ چکا ہے۔ سارا عرب بھی اکٹھا کر کے لے آئیں تو کچھ نہیں کر پائیں گے۔ انہوں نے ایک مہینہ محاصرہ رکھا لیکن قرآن کہتا ہے لَمْ یَنَا لُوْا خَیْرًا کہ کچھ بھی نہیں حاصل کر سکے اور پورا مہینہ ذلیل ہوئے۔ حضورؓ نے فرمایا کہ اب یہ ہم پر حملہ نہیں کریں گے، اب جب بھی حملہ کریں گے تو ہم خود کریں گے، چنانچہ ایسا ہی ہوا۔

اور دوسری بات آپؐ نے یہ فرمائی کہ قریشیوں کو تمہارے خلاف اب تلوار کی جنگ کا حوصلہ نہیں ہو گا لیکن اب وہ زبان کی جنگ لڑیں گے، تمہارے خلاف پراپیگنڈا کریں گے، تمہاری مذمت اورکردار کشی کریں گے، شعر و شاعری کریں گے، تجارتی میلوں میں تمہارے خلاف نفرت پھیلائیں گے، اور تمہارے خلاف اعتراضات کا طوفان کھڑا کریں گے۔

آپؐ نے فرمایا کہ تلوار کی جنگ میں تم سب میرے ساتھ تھے، اس زبان جنگ میں کون کون میرے ساتھ ہو گا؟ اس پر تین آدمی کھڑے ہوئے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ، حضرت کعب بن مالکؓ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ۔ تینوں اپنے دور کے بڑے شاعر تھے اور تینوں انصاری تھے، تینوں نے ذمہ داری اٹھائی کہ شعر و شاعری کی جنگ ہم لڑیں گے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے فرمایا، یا رسول اللہؐ ! میں اس زبان کے ساتھ کافروں کو چیر پھاڑ کر رکھ دوں گا۔ حضرت حسان بن ثابتؓ حضورؐ کی مدح اور نعت بیان کرتے تھے اور کافر حضورؐ کی ہجومیں جو کلام کرتے تھے ان کا جواب دیتے تھے۔ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ رجزیہ اور رزمیہ شعر کہتے تھے کہ اڑا دیں گے، کاٹ دیں گے، چیر پھاڑ دیں گے، تباہ کر دیں گے وغیرہ۔ جبکہ حضرت کعب بن مالکؓ توحید، اللہ کی صفات، اسلام کی خوبیاں، اسلام کے احکام اور عبادات کی باتیں کرتے تھے اور کفر و شرک کی برائیاں بیان کرتے تھے۔

چنانچہ یہ جنگ بہت عمدگی سے لڑی گئی۔ اتنے مزے سے لڑی گئی کہ ایک سال حدیبیہ میں حضورؐ عمرہ نہیں ادا کر سکے تھے اور واپس آگئے تھے۔ آپؐ نے عمرہ قضا اگلے سال ان ہی صحابہؓ کے ساتھ کیا جو کہ پندرہ سو کے لگ بھگ تھے۔ احرام باندھے ہوئے تھے اور تلواریں میان میں تھیں، جب مکہ میں داخل ہوئے تو رسول اللہؐ کی اونٹنی کی مہار حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ کے ہاتھ میں تھی۔ باقی لوگ لَبَّیْکَ اَللّٰہُمَّ لَبَّیْکَ پڑھ رہے تھے جبکہ حضرت عبداللہ بن رواحہؓ رجز پڑھ رہے تھے کہ مار دیں گے، کاٹ دیں گے۔ کفار مکہ وہیں موجود تھے اور یہ سب ان کے درمیان سے جا رہے تھے۔ حضرت عمرؓ نے دیکھ لیا کہ باقی سب لوگ تلبیہ پڑھ رہے ہیں اور یہ رجزیہ اشعار پڑھ رہے ہیں تو انہوں نے قریب آکر زبان سے نہیں بلکہ اشارے سے بات کی کیونکہ ساتھ اونٹ پر آپؐ سوار تھے۔ حضرت عمرؓ نے حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ سے اشارتاً کہا کہ خدا کے بندے کعبہ سامنے ہے اور تم اپنی شاعری میں لگے ہوئے ہو۔ جناب نبی کریمؐ نے حضرت عمرؓ کو دیکھ لیا اور کہا دعہ یا عمر عمر اسے پڑھنے دو، اس کے اشعار کافروں کے سینوں میں تمہارے تیروں سے زیادہ نشانے پر لگ رہے ہیں۔

یہ واقعات بتانے کا مقصد یہ ہے کہ قرآن کریم نے یہ ضرور کہا ہے کہ شعر و شاعری انبیاءؑ کے شایان شان نہیں، لیکن شعر و شاعری کی مطلق نفی نہیں کی ہے۔ اس لیے کہ حضورؐ نے دعوت اور دفاعِ اسلام کے لیے اظہار کے ذرائع کے طور پر خطابت اور شعر دونوں کو استعمال کیا ہے۔

شعر و شاعری کی اقسام

شعر و شاعری کی مختلف اقسام ہیں جیسے:

رجز: رجز جنگی ترانے کوکہتے ہیں۔ مثال کے طور پر اَنَا النَّبِیُّ لَا کَذِبْ اَنَا ابْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبْ اسے رجز کہتے ہیں اور یہ حضورؐ نے خود پڑھے ہیں ۔

حدی: چرواہے جانوروں اور اونٹ کو چرانے اور تیز چلانے کے لیے حُدی پڑھتے ہیں۔ اونٹ اس حوالہ سے سب سے زیادہ با ذوق جانور ہے کہ اس پر جتنا چاہے وزن ڈال دیا جائے لیکن ساتھ کوئی اچھی حُدی پڑھنے والا ہو تواونٹ تیز دوڑتا ہے۔ فارسی کا شعر ہے

حدی را تیز تر می خواں چوں محمل را گراں بینی

کہ اگر اونٹ پر بوجھ زیادہ ڈال دیا ہے تو گھبرانے کی بات نہیں، حُدی تیز کردو۔ حُدی پنجابی زبان میں ماہیہ کے طور پر پڑھی جاتی ہے۔

قصیدہ: کسی کی بہت زیادہ تعریف کرنامبالغے کے ساتھ۔

ہجو: کسی کی برائیاں بیان کرنا، مذمت کرنا۔

مرثیہ: کسی مرنے والے کی خوبیاں بیان کرنا، کسی کے مرنے پر غم کا اظہار کرنا۔

تشبیب: کسی کے حسن کی تعریف کرنایعنی کسی عورت کے محاسن کا ذکر چھیڑ دینا۔

غزل: صنف نازک کی باتیں کرنااور حُسن و عشق کا تذکرہ کرنا غزل کہلاتا ہے ۔ وغیر ذلک۔

صحابہ کرامؓ میں بڑے بڑے شاعر تھے۔ ایک ہے شاعر ہونا اور ایک ہے سخن شناس ہونا کہ خود تو شاعر نہیں لیکن شعر کو سمجھتا ہے۔ سخن شناس ہونا بھی ایک مستقل ذوق ہے۔ شعر شناسی میں، شعر و شاعری کے ذوق میں اور اشعار کو سمجھنے میں ام المؤمنین حضرت عائشہؓ کو کمال حاصل تھا۔ شعر سمجھنا اور موقع محل کے مطابق اسے استعمال کرنا ایک مستقل فن ہے۔ میں نے اپنے دور میں دو ایسے آدمی دیکھے ہیں جن کو موقع محل کے مطابق شعر فٹ کرنے کا ذوق حاصل تھا۔ تقریر میں نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم، جو خود بھی شاعر تھے اور گفتگو میں شعر کوایسے لاتے تھے کہ جیسے شعر اسی بات کے لیے کہا گیا ہے۔ جبکہ تحریر میں امام اہل السنۃ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؓ، ان کی کتابیں دیکھ لیں کہ بات بنا کر ایسے لاتے ہیں اور اس طرح شعر فٹ کرتے ہیں کہ جیسے کہا ہی اسی کے لیے گیا ہے۔ موقع محل کے مطابق شعر ذکر کرنے سے بات کا وزن بہت بڑھ جاتا ہے۔

شعراء عرب کی اقسام

شعراء عرب کے تین طبقات ہیں۔ (۱) جاہلی (۲) مخضرم (۳) اسلامی۔ جن کی اصطلاحات مندرجہ ذیل ہیں۔

جاہلی: وہ شاعر جنہوں نے جاہلیت کا دور پایا اور جاہلیت کے دور میں ہی تھے مسلمان نہیں ہوئے اور اسی حالت میں فوت ہو گئے، وہ جاہلی شاعر کہلاتے ہیں۔

مخضرم: وہ شاعر جنہوں نے جاہلی اور اسلامی دونوں دور پائے، جاہلی دور میں بھی شاعری کرتے رہے اور اسلام قبول کرنے کے بعد بھی کرتے رہے، وہ مخضرم کہلاتے ہیں۔

اسلامی: وہ شاعر جو اسلام کے دور میں آئے، وہ مسلمان شاعر یعنی اسلامی شاعر کہلاتے ہیں۔

ادبِ جاہلی کی ضرورت

ادب (اَدَّبَ، یُؤَدِّبُ، تَاْدِیْبًا) لفظی معنٰی اصلاح کرنا ہے۔ اور یہ اس لیے ہی پڑھا جاتا ہے کیونکہ اس سے زبان، اخلاق اور آداب کی اصلاح ہوتی ہے۔ اس میں نصیحتیں بھی ہوتی ہیں، انسانی اخلاق و کمالات بھی بیان ہوتے ہیں، اور کمزوریوں کی نشاندہی بھی ہوتی ہے کہ کونسی بات خوبی کی ہے اور کونسی کمزوری و عیب کی ہے۔ انسان کو کس وقت کیا کرنا چاہیے یہ سب ادب پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے اور اگرا نسان اِسے غور سے پڑھے تو اس میں بہت سے قیمتی اسباق ملتے ہیں اور بڑی اچھی باتیں معلوم ہوتی ہیں اور انسان کو پتہ چلتا ہے کہ شرافت اور ذلت کی علامتیں کیا ہیں۔

جناب نبی کریمؐ اب سے چودہ سو سال پہلے جس زمانہ میں تشریف لائے، عرب دنیا میں خطابت اور شعر و شاعری میں فصاحت و بلاغت عروج پر تھی۔ اور آج بھی اسی کو معیار تسلیم کیا جاتا ہے، آج بھی جب ادب کی فصاحت و بلاغت کا معیار بیان کیا جاتا ہے تو سب سے اونچا معیار ادب جاہلی کا بیان ہوتا ہے۔ قرآن کریم اُس دور کے ادب کے دائرے میں آیا ہے، جناب نبی کریمؐ بھی اسی دور کے آدمی تھے، آپؐ کی زبان مبارک پر بھی اسی دور کے الفاظ، محاورے، مثالیں اور کہاوتیں تھیں۔

ہر زمانے اور ہر علاقے کی اپنی اپنی زبان ہوتی ہے۔ زبان کے الفاظ، محاورے اور مثالیں زمانے کے اعتبار سے بھی اور مقام کے اعتبار سے بھی بدل جاتی ہیں۔ ہم بھی اردو بولتے ہیں اور دہلی والے بھی اردو ہی بولتے ہیں۔ لیکن دہلی والوں کی اور ہماری اردو مختلف ہے، جبکہ لکھنؤ والوں کی تو بالکل ہی مختلف ہے۔ کراچی کے محاورے الگ ہیں، پشاور کے الگ ہیں، لاہور کی مثالیں اور ہیں، اسلام آباد کی مثالیں اور ہیں۔ اب کوئی لکھنؤ والا تقریر کر رہا ہو تو اسے صحیح طور پر سمجھنے کے لیے لکھنؤ کی اردو سمجھنا ضروری ہے۔ اور اگر کوئی مرزا غالب کے زمانے کی بات کر رہا ہے تو مرزا غالب کے زمانے کی اردو سمجھنا ضروری ہے۔

چونکہ قرآن کریم اس دور کی عربی میں آیا ہے اور جناب رسول اللہؐ کے ارشادات، فرمودات، احادیث اور آپؐ کی زبان مبارک اسی دور کی ہے، اس لیے قرآن کریم اور حدیث کا صحیح مفہوم سمجھنے کے لیے اور حضورؐ ارشادات کا صحیح مصداق سمجھنے کے لیے اس دور کی عربی سے واقف ہونا ہماری دینی ضرورت ہے، اور شعر و شاعری کے اس اسلوب سے واقف ہونا قرآن فہمی کے لیے بھی ضروری ہے۔

ادب جاہلی ہم کیوں پڑھاتے ہیں اور یہ درسِ نظامی کے نصاب میں کیوں شامل ہے؟ اس لیے کہ یہ قرآن فہمی اور حدیث و سنت کو سمجھنے کی ضروریات میں سے ہے۔ اس دور کے محاورے، ضرب الامثال، کہاوتیں اور اس دورکی زبان کا معیار سمجھیں گے تو قرآن کریم اور حدیث کو صحیح سمجھیں گے۔ لیکن اگر اس دور کے محاوروں کوصحیح نہیں سمجھیں گے تو قرآن کریم اور حدیث صحیح سمجھ میں نہیں آئے گی۔ ہمیں حماسہ، متنبی اور سبعہ معلقہ وغیرہ کے ذریعے اس دور کے عربی اسلوب سے واقف کرایا جاتا ہے تا کہ ہم اس زمانے کے عربی اسلوب اور ذوق کو سمجھیں اور ہمیں قرآن کریم اور حدیث سمجھنے میں دقت پیش نہ آئے۔

دیوان حماسہ کا مختصر تعارف

ایک شاعر کے اشعار کا مجموعہ جو کسی بھی ذوق سے مرتب ہو اسے دیوان کہتے ہیں۔ مثلاً دیوانِ حسان بن ثابتؓ، دیوانِ حضرت علیؓ، دیوان غالب وغیرہ۔ ایک دیوان وہ ہوتا ہے جو آدمی اپنے اشعار کا مجموعہ مرتب کرتا ہے۔ جبکہ بعض لوگوں کا ذوق ہوتا ہے کہ دوسروں کے منتخب اشعار کا مجموعہ مرتب کرتے ہیں۔ مختلف شعراء کے کلام میں سے جو شعر اچھے لگیں، جو نظم، غزل اچھی لگے، ان کا انتخاب کرتے ہیں۔ جیسے متنبی میں جتنا کلام ہے متنبی کا اپنا ہے، لیکن حماسہ میں جتنا کلام ہے وہ مرتب کا اپنا نہیں ہے بلکہ اس نے جاہلی، مخضرم اور مسلمان شعراء کے کلام میں سے جو جو باتیں اچھی لگیں ان کا مجموعہ بنایا ہے۔

حماسہ کا لفظی معنی بہادری ہے۔ یعنی بہادر لوگوں کا کلام یا بہادری کا کلام۔ صاحبِ حماسہ کا نام ابو تمام حبیب بن او س تھاجو بنو طیٔ قبیلے کا تھا اور اپنے دور کے بڑے شاعروں میں سے تھا۔ اس زمانے کا یہ اسلوب تھا کہ شعراء بادشاہوں کے دربار میں جاتے تھے اور قصیدے پڑھتے تھے، دوچار مہینے ایک دربار میں گزارتے تھے اور قصیدے پڑھ کے کچھ پیسے کما لیتے تھے۔ پھر کسی دوسرے بادشاہ کے دربار میں چلے جاتے تھے۔ یعنی ان کا ذریعہ آمدنی یہی تھااور اس زمانے کے بادشاہ بھی ادب پرور ہوتے تھے، شعراء اور خطیبوں کی قدر کرتے تھے۔

ایک دفعہ یوں ہواکہ خراسان کا بادشاہ عبد اللہ بن طاہر جو اس وقت جوان تھا، ابو تمام حبیب بن اوس نے اس کے دربار میں قصیدہ پڑھا تو اسے ایک ہزار دینار ملے۔ دینار اس زمانے میں بڑی چیز ہوتی تھی۔ جب واپس آرہا تھا تواس کا گزر ہمدان سے ہوا، وہاں ا س کاایک دوست ابو الوفاء بن ابی سلمہ رہتا تھا، اس نے سوچا دو چار دن کیلئے اس کے پاس ٹھہر جاتا ہوں۔ چنانچہ اس کے پاس ٹھہرا تو ایک دن گزرا ہی تھاکہ اتنی برف باری ہوئی کہ راستے بند ہو گئے، یہ پریشان ہوگیا کہ گھر جانا تھااور ہزار دینار بھی جیب میں ہیں۔ مگر میزبان خوش تھا کہ اب یہ میرے پاس ہی رہے گا اور اس کی خاطر تواضع کروں گا۔ میزبان نے کہا کہ راستے تو بند ہو گئے ہیں، اب تین مہینے کے بعد ہی کھلیں گے۔ اس زمانے میں ہوائی جہاز یاہیلی کاپٹر وغیرہ نہیں ہوتے تھے، اس لیے اس نے کہا کہ تسلی رکھو اوریہیں رہو، کتب خانہ موجود ہے، دو چار کتابیں لکھ دو۔

سردیوں میں برف باری میں پھنسے ہوئے ابو تمام نے مختلف اشعار کے دیوانوں میں سے ایک انتخاب کیااور اسے مرتب کیا یعنی دیوانِ ابی تمام (دیوانِ حماسہ)۔ یہ دیوان جاہلی اور اسلامی دور کے بڑے بڑے شعراء کا منتخب کلام ہے۔ کسی بھی شاعر کے اشعار اسے کسی بھی حوالے سے اچھے لگے، وہ اس نے مرتب کیے ہیں۔ بہت خوبصورت مجموعہ ہے اور عجیب انتخاب ہے۔ اسے تقریباً ۱۲۰۰ سال گزر گئے ہیں اور یہ ایسا مقبول ہوا ہے کہ ا بھی تک پڑھا جا رہا ہے، یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایا جاتا ہے اور ہم مدارس میں بھی پڑھاتے ہیں۔