’’دنیا نیوز‘‘ کا انٹرویو

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ دنیا، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۷ جولائی ۲۰۱۶ء

(روزنامہ دنیا کے سنڈے میگزین میں 17 جولائی 2016ء کو شائع ہونے والا انٹرویو ضروری اصلاح و ترمیم کے ساتھ یہاں شائع کیا جا رہا ہے جس پر نظر ثانی مولانا راشدی نے کی ہے۔ انٹرویو نگار رانا محمد آصف تھے۔)

اب سے ربع صدی قبل کے زمانے کے ایک سرگرم سیاسی کارکن علامہ زاہد الراشدی نے عملی سیاسی سرگرمیوں سے رفتہ رفتہ کنارہ کشی اختیار کر لی ہے لیکن فکری اور تعلیمی سرگرمیوں کے لیے اب بھی کئی تنظیمات اور فورموں سے وابستہ ہیں۔ مولانا فداء الرحمن درخواستی کے ساتھ مل کر ’’پاکستان شریعت کونسل‘‘ کے نام سے ایک فکری فورم قائم کیا۔ اسی طرح لندن میں مولانا محمد عیسیٰ منصوری کے ساتھ مل کر عالمی سطح پر ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ قائم کیا جو کہ علمی و فکری میدان میں عصر حاضر کے تقاضوں کا احساس اجاگر کرنے میں مصروف ہے اور اس کی سرگرمیوں کا دائرہ برطانیہ، بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش اور دیگر ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ بیرون ملک ختم نبوت کانفرنسوں اور ورلڈ اسلامک فورم کی سرگرمیوں کے علاوہ دیگر تعلیمی، دعوتی اور مطالعاتی مقاصد کے لیے کئی ممالک کا سفر کر چکے ہیں۔ سادگی اور بے ساختگی ان کی شخصیت اور گفتگو کی خصوصیات ہیں۔ مولانا راشدی ملک کی قومی سیاست، دینی جدوجہد اور جہاد افغانستان کے حوالے سے تاریخ کے کئی اہم ادوار کے عینی شاہد بلکہ شریک کار رہے ہیں۔ گزشتہ دنوں کراچی میں ان سے ہونے والی گفتگو کی تفصیلات پیش خدمت ہیں۔

سوال: مدارس میں آپ کے دور طالب علمی اور آج کے ماحول میں کوئی فرق ہے؟

جواب: بہت فرق ہے۔ اس وقت تعلیم کے ساتھ ساتھ ذہن سازی اور فکری تربیت کا بھی اہتمام کیا جاتا تھا۔ وہ جمعیۃ علمائے اسلام کا دور تھا اور آج جیسے کئی مسائل اس وقت نہیں تھے۔ ہماری فکری تربیت خالصتاً تحریک ختم نبوت کے دور میں ہوئی، پھر 70ء کے الیکشن میں جمعیۃ کے لیے کام کیا، جمعیۃ طلباء اسلام کا حصہ بھی رہا۔ اس دور میں سیاسی، تحریکی اور اجتماعی سطح پر کام کرنے کی تربیت کا ماحول تھا۔ اس کی وجہ سے تمام مکاتب فکر کے ساتھ مل کر کام کرنے کا تجربہ بھی رہا۔

سوال: تحریک ختم نبوت اور بعد کی مختلف تحریکوں میں دینی اور سیاسی جماعتوں کے قائدین نے مل کر کام کیا۔ اب اس تعلق کو کس سطح پر دیکھتے ہیں؟

جواب: درمیانی اور نچلی سطح پر کارکنوں کا یہ رابطہ اب بالکل ختم ہوگیا ہے اور صرف اعلیٰ قیادت کی حد تک رہ گیا ہے۔ 1970، 1977، 1984 کے ادوار میں جس طرح مڈل کلاس کے سیاسی ورکرز اور دینی تحریکوں کے کارکنان شانہ بہ شانہ رہے اور ان کے آپس میں روابط تھے، وہ بات اب نظر نہیں آتی۔

سوال: اس صورتحال کے کیا اثرات ہوئے؟

جواب: گوجرانوالہ میں آج بھی ہم میل جول کا پرانا ماحول قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں، سیاسی و مذہبی حوالے سے دوسری جماعتوں کے ساتھ رابطے اور مشترکہ پروگرام کرتے رہتے ہیں۔ اس لیے ہمیں اپنے شہر کی سطح تک تو حالات بہتر معلوم ہوتے ہیں لیکن مجموعی سطح پر دوریاں بڑھ رہی ہیں اور سماجی تقسیم میں اضافہ ہو رہا ہے۔ نچلی سطح پر مشترکہ سرگرمیوں کے ماحول کو بحال کرنے کی ضرورت ہے ورنہ دینی کاز کو بہت نقصان پہنچے گا۔

سوال: مدارس کے معیار تعلیم کے بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب: ماضی کے مقابلے میں طلباء اور اداروں کی تعداد بڑھی ہے لیکن معیار وہ نہیں رہا۔ وسعت پیدا ہوئی ہے لیکن استعداد اور قابلیت میں کمزوری آئی ہے۔

سوال: اس صورتحال کے اسباب کیا ہیں؟

جواب: مدارس میں تعلیمی معیار کی کمی کے اسباب بھی وہی ہیں جو دیگر تعلیمی اداروں میں ہیں۔ جس طرح اسکول، کالج اور یونیورسٹیوں میں طلباء کی بڑی تعداد صرف ڈگری لینے کے لیے جاتی ہے، یہ رجحان مدارس میں بھی آگیا ہے اور اب بہت سے طلباء صرف حصول سند کے لیے پڑھتے ہیں۔ اگرچہ صورتحال بالکل خراب نہیں ہوئی لیکن پہلے کے مقابلے میں تبدیل ضرور ہوئی ہے۔

سوال: ماضی میں علمائے دین میں شعری ذوق بھی پایا جاتا تھا اور ادب سے تعلق بھی۔ اب صورتحال کیا ہے؟

جواب: اب یہ ذوق نہیں رہا۔ جبکہ پہلے بھی یہ مضامین باقاعدہ نصاب کا حصہ نہیں ہوتے تھے لیکن علمی و ادبی حلقوں سے میل جول کی وجہ سے لوگ اس طرف مائل ہو جاتے تھے۔ میں اپنی مثال اس لیے نہیں دیتا کہ میرے والد حضرت مولانا سرفراز خان صفدرؒ اہل قلم تھے اور ان کا ادبی ذوق ٹھیک ٹھاک تھا۔ یہ معاملہ میرے چچا محترم حضرت صوفی عبد الحمید سواتیؒ کا بھی تھا۔ میں نوجوانی ہی سے کسی نہ کسی ادبی فورم کا رکن رہا۔ مشاعروں میں شرکت، مقالہ نگاری اور تنقید نگاری وغیرہ، میں ان مراحل سے طالب علمی کے دور میں گزر چکا ہوں۔ والد اور چچا کی وجہ سے مجھے تو یہ موقع ملا لیکن عام طور پر ہمارے دینی حلقوں میں یہ ماحول نہیں ہے اور نہ ہی اس پر توجہ دی جا رہی ہے۔

سوال: ادب سے دوری طبیعت پر اثر ڈالتی ہے؟

جواب: بالکل ایسا ہوتا ہے۔ میں تو ایک بات اور کہتا ہوں، جب بھی ہمارے ہاں مدارس میں انگریزی پڑھانے کی بات ہوتی ہے تو میرا کہنا یہ ہوتا ہے کہ پہلے انہیں اردو تو پڑھائی جائے۔ ہمیں انگریزی پڑھانے پر کوئی اعتراض نہیں ہے لیکن عربی کی تعلیم پر خصوصی توجہ دینی چاہیے۔ فارسی تو مدارس سے ختم ہی ہوگئی ہے اور اس کا اثر ہماری اردو پر بھی پڑا ہے۔ اس کے علاوہ ہم ماضی کے لٹریچر سے کٹ گئے ہیں اور تراجم پر انحصار بڑھ گیا ہے۔ ان سب باتوں کے ساتھ المیہ یہ ہے کہ آج کا مدرس اور خطیب صحیح اردو تک بولنا اور لکھنا نہیں سیکھ پاتا۔

سوال: آپ کا تعلق جس دینی و سیاسی مکتب فکر سے ہے،اس کے اور ملک کی ایک اور دینی سیاسی قوت جماعت اسلامی کے مابین اختلافات پائے جاتے ہیں جنہیں ختم کرنے کی ایک کوشش کا آپ بھی حصہ رہے ہیں۔ اس بارے میں کیا بتانا چاہیں گے؟

جواب: قاضی حسین احمد مرحوم جس زمانے میں جماعت اسلامی کے قیم (جنرل سیکرٹری) تھے، اس سلسلہ میں گفتگو کا آغاز ہوا تھا۔ میں ان مذاکرات کا حصہ تھا لیکن ہم کسی فارمولے پر نہیں پہنچ سکے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ قاضی صاحب کی وفات کے بعد وہ سلسلہ ختم ہوگیا، لیکن رک ضرور گیا ہے۔ اس کی ایک اور وجہ بھی ہے۔ وہ یہ کہ قاضی صاحب جماعت کے فکری و نظریاتی پہلو پر قناعت کی بجائے اسے عملی سیاست کی جانب زیادہ لے گئے اور آج جماعت اسلامی ایک فکری تحریک کی بجائے سیاسی جماعت ہی تصور کی جاتی ہے۔ جماعت اسلامی کے نظریاتی عنصر کے مغلوب ہو جانے کی وجہ سے کئی اہم افراد اس سے الگ بھی ہوئے۔ قاضی صاحب کے دور میں چونکہ جماعت اسلامی خالصتاً ایک متحرک سیاسی جماعت بن گئی، اس لیے وہ پرانے جھگڑے اس وجہ سے بھی پس منظر میں چلے گئے۔ اور سراج الحق صاحب کا رخ بھی اسی جانب دکھائی دیتا ہے۔

سوال: جماعت اسلامی کے ساتھ یہ اختلافات ختم کرنے کے سلسلے میں کوئی پیش رفت کیوں نہیں ہو سکی؟

جواب: اصل میں اختلاف تو مولانا مودودیؒ کی بعض عبارات سے شروع ہوا تھا۔ قاضی صاحب مرحوم نے جمعیۃ علماء اسلام کے اکابر مولانا سید حامد میاںؒ اور مولانا محمد اجمل خانؒ کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ اگر جماعت اسلامی کی شوریٰ یہ قرارداد منظور کرلے کہ ہم متنازعہ فکری معاملات میں مولانا مودودیؒ کی بجائے جمہور علماء کے ساتھ ہیں تو سارا جھگڑا ختم ہو سکتا ہے۔ ہماری اسی پر بحث چل رہی تھی اور والد گرامی حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی رائے بھی یہی تھی کہ اس کے بعد معاملات ٹھیک ہو جائیں گے۔ لیکن پھر اس کے بعد چلتے چلتے بات یہاں پہنچی کہ اصل اختلاف تو جماعت اسلامی کے دستور کی اس شق پر ہے کہ

’’رسولِ خدا کے سوا کسی انسان کو معیار حق نہ بنائے، کسی کو تنقید سے بالا تر نہ سمجھے، کسی کی ذہنی غلامی میں مبتلا نہ ہو، ہر ایک کو خدا کے بنائے ہوئے اسی معیار کامل پر جانچے اور پرکھے اور جو اس معیار کے لحاظ سے جس درجہ میں ہو، اس کو اسی درجے میں رکھے‘‘۔

اس پر مولانا حسین احمد مدنیؒ کا اعتراض یہ تھا کہ یہ اہل سنت کے مسلمات کے خلاف ہے (کیونکہ اہل سنت کے ہاں صحابہ کرامؓ بھی معیار حق اور تنقید سے بالاتر ہیں)۔ چنانچہ جماعت اسلامی کے ساتھ تنازعہ بھی یہیں سے شروع ہوا تھا۔ تو اس سلسلہ میں بات یہاں آکر رکی کہ جماعت اسلامی کو دستور میں ترمیم کرنی ہوگی۔ اس کے بعد مذاکرات تو نہیں ہوئے لیکن ایک کمیٹی اب بھی کاغذوں میں ہے اور جماعت اسلامی کے مولانا عبد المالک اس کے سربراہ ہیں، میں نے جب اس سلسلہ میں ان سے پوچھا تو وہ طرح دے گئے۔

سوال: جس طرح آپ نے جماعت اسلامی کے بارے میں کہا، کیا اسی طرح جمعیۃ علمائے اسلام بھی محض ایک سیاسی جماعت بن کر نہیں رہ گئی؟

جواب: جمعیۃ علمائے اسلام ایک تحریکی قوت تھی لیکن اب نہیں رہی۔ اس بارے میں میرا ہمیشہ سے نقطۂ نظر رہا ہے کہ پارلیمانی سیاست ہماری تحریکی قوت کی نمائندگی کے لیے تھی۔ اب ہم صرف پارلیمانی ہی رہ گئے ہیں اور ساری تگ و دو اسی سمت میں کی جا رہی ہے جس کا نقصان ہو رہا ہے۔

سوال: کیا پاکستان کی انتخابی سیاسی تاریخ سے یہ بات واضح نہیں ہوگئی کہ عوام کوئی مذہبی ریاست نہیں چاہتے؟

جواب: عوام اگر ٹھیٹھ مذہبی ریاست نہیں چاہتے تو مذہب سے باغی ریاست کے حق میں بھی نہیں ہیں۔ ان کے دل و دماغ میں شاید کسی خالص مذہبی ریاست کا نقشہ نہ ہو لیکن گزشتہ برسوں میں جو سروے ہوئے ہیں ان کے نتائج اس بات کو واضح کرتے ہیں۔ چند ماہ پہلے ایک امریکی ادارے کے سروے میں 78 فیصد پاکستانی عوام نے سختی کے ساتھ اسلام کے نفاذ کی حمایت کی، 17 فیصد کچھ نرم روی کے ساتھ اسلام کا نفاذ چاہتے ہیں، جبکہ صرف 2 فیصد ہیں جنہوں نے نفی میں جواب دیا۔ اس پر میں یہ کہتا ہوں کہ ہم پر یہی 2 فیصد مسلط ہیں۔ شدت یا تشدد پسندی کو پاکستان کے عوام مجموعی طور پر مسترد کرتے ہیں لیکن اس ملک کی غالب اکثریت ملک میں اسلام کی عملداری چاہتی ہے جبکہ ہماری اسٹیبلشمنٹ اس طرف نہیں جا رہی یا بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ اس طرف جانے نہیں دے رہی۔

سوال: پھر لوگ مذہبی جماعتوں کو ووٹ کیوں نہیں دیتے؟

جواب: کوئی بھی جماعت بطور مذہبی جماعت انتخابات میں کامیاب نہیں ہو سکتی۔ عوامی سطح پر آکر اتحاد تشکیل دیے جائیں یا پاکستان کی تمام مذہبی جماعتیں ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو جائیں تو لوگ اب بھی ساتھ دینے کو تیار ہیں لیکن مسلکی بنیاد پر لوگ ووٹ نہیں دیں گے۔ ہماری تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی مختلف مکاتب فکر نے متحد ہو کر دینی کاز کے لیے جدوجہد کی ہے عوام نے اس کا ساتھ دیا ہے۔

سوال: بعض حلقوں کی جانب سے پاکستان میں شدت پسندی کو سید احمد شہیدؒ کی تحریک کا تسلسل کہا جاتا ہے اور ان میں سے اکثر گروپ دیوبندی مکتب فکر ہی سے تعلق رکھتے ہیں، اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب: یہ تاثر بظاہر تو درست دکھائی دیتا ہے کیونکہ جہادی تحریکیں فکری طور پر خود کو اسی کے ساتھ منسوب کرتی ہیں، اس کا بنیادی سبب میرے خیال میں جہاد افغانستان ہے۔ روس کی واپسی اور افغان جہاد کی کامیابی کے بعد عالمی طاقتوں نے اس پوری تحریک کو اس کے منطقی نتائج سے محروم کیا، اسی کا رد عمل ہمیں بعد میں شدت پسندی کی صورت میں دکھائی دیتا ہے۔ البتہ سید احمد شہیدؒ کے بعد شیخ الہندؒ کے زمانے میں یہ تبدیلی آئی تھی کہ دیوبند کی تحریک ایک نئی تشکیل کے تحت تعلیمی و تدریسی محنت اور پر امن سیاسی جدوجہد کے دور سے گزری۔ اس کے بعد ایک محدود دائرہ میں اس کی تشکیل نو جہاد افغانستان کے زمانے میں ہوئی کہ روس کی جارحیت کی وجہ سے وہی پرانے جذبات پھر آگئے، لیکن جہاد افغانستان سے ہٹ کر دوسرے معاملات میں مجموعی طور پر دیوبندی حلقوں نے اسے قبول نہیں کیا۔

سوال: جہاد افغانستان کو اگر عالمی قوتوں نے منطقی انجام تک نہیں پہنچنے دیا تو کیا مذہبی تحریکوں کا داخلی نظام اتنا کمزور تھا کہ اس کے نتیجے میں ایسے عناصر پیدا ہوگئے جنہوں نے مسلمانوں اور عام شہریوں کی قتل و غارت سے بھی گریز نہیں کیا؟

جواب: یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ جب جہاد افغانستان ختم ہوا تو اس وقت میرے اندازے کے مطابق پینتالیس پچاس ہزار پاکستانی مسلح افراد وہاں سے فارغ ہو کر واپس آئے۔ اس وقت میں نے بہت سی اہم شخصیات بالخصوص مولانا فضل الرحمان، جنرل حمید گل اور مولانا سمیع الحق سے یہ بات کہی تھی کہ یہ قوت اگر کھلی چھوڑ دی گئی تو مسائل پیدا ہوں گے، اس لیے اس قوت کا کوئی مصرف تلاش کریں۔ میں نے مثال بھی دی کہ سندھ میں قیام پاکستان کے وقت کوئی سات آٹھ ہزار مسلح حُر موجود تھے جنہیں اس نظام میں ایڈجسٹ کر لیا گیا تھا، ورنہ وہ بھی آج ایک مسئلہ ہوتا۔ جہاد افغانستان کے موقع پر بھی میرا کہنا یہی تھا کہ اگر اس بے پناہ قوت نے اپنا راستہ خود بنایا تو تباہی آئے گی۔ یہی بات کافی عرصہ بعد ہیلری کلنٹن نے بطور امریکی وزیر خارجہ تسلیم کی کہ ہم سے اس معاملے میں غلطی ہوئی کہ افغان جہاد کے بعد مجاہدین کے گروپوں کو آزاد اور تنہا چھوڑ دیا جس کی وجہ سے معاملہ بگڑ گیا۔

سوال: افغانستان کے طالبان کے بارے میں آپ کا کیا موقف ہے؟

جواب: افغانستان کے طالبان سادہ و مخلص لوگ ہیں اور ان کا تعلق نچلے طبقے کے افراد سے ہے۔ انہوں نے افغانستان کی آزادی اور اسلامی تشخص کے لیے مخلصانہ جنگ لڑی ہے لیکن انہیں مناسب سیاسی راہنمائی میسر نہیں آئی۔ جبکہ ان کے قیام کے فورًا بعد القاعدہ کے عنصر کی وجہ سے خرابی بہت تیزی سے بڑھی۔ میں نے اس وقت بہت سے دوستوں سے یہ کہا تھا کہ خدا کے لیے طالبان کو مستحکم ہونے دو اور انہیں کام کے لیے وقت دو، کوئی دوسری لڑائی مت چھیڑو مگر یہ بات نہیں سنی گئی۔ القاعدہ کی بے وقت تشکیل اور فوری متحرک ہوجانے کی وجہ سے طالبان حکومت مسائل کا شکار ہوئی۔ اُدھر القاعدہ کی سرگرمیوں اور اِدھر پاکستان میں تحریک طالبان کی تشکیل نے افغان طالبان کا مشن خراب کر دیا۔ یہ بات بھی پیش نظر رہے کہ افغانستان میں اگر کوئی پرو پاکستان طبقہ ہے تو وہ طالبان ہے۔ لیکن ہم نے ان کے اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے جس کی وجہ سے تعلقات میں دراڑیں پیدا ہوئیں۔ اور آج افغانستان میں ایسے لوگ برسراقتدار ہیں جو بھارت کو اپنے ملک میں کھلی چھٹی دے رہے ہیں۔

سوال: عوامی سطح پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ مذہبی طبقے کی جانب سے شدت پسندی کے رجحانات اور قتل و غارت کی واضح اور غیر مشروط مذمت نہیں کی جاتی۔ کیا ایسی تنظیموں اور فکر کے لیے نرم گوشہ پایا جاتا ہے؟

جواب: شدت پسندی کی مذمت کرنے میں مذہبی طبقے نے کبھی کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ لیکن میڈیا کا رویہ اس معاملے میں انتہائی جانبدارانہ رہا ہے۔ ہمارے ملک اور عالمی میڈیا دونوں کی پالیسی یہ ہے کہ شدت پسندی کو تو اجاگر کیا جائے لیکن سنجیدہ مذہبی قیادت کی جانب سے جب اس کی مخالفت ہو تو اسے دبا دیا جائے۔ میں خود اس رویے کا شاہد ہوں۔ جامعہ اشرفیہ لاہور میں دیوبندی مکتب فکر کی پوری قیادت نے ایک پلیٹ فارم پر جمع ہو کر شدت پسندی کی مخالفت کی اور اس کی مذمت میں باقاعدہ قرارداد منظور کی گئی۔ وہ قرارداد میں نے اور مولانا مفتی محمد تقی عثمانی نے لکھی تھی لیکن تمام کوششوں کے باوجود میڈیا نے اسے کسی عام مدرسے میں ہونے والے جلسے کی طرح نظر انداز کر دیا۔

سوال: بعض حلقوں کے نزدیک مذہبی فکر کی جانب سے قومی ریاست کو مسترد کرنے اور عالمی سطح پر خلافت کے قیام کو دینی تقاضا قرار دینے کی وجہ سے شدت پسندی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ خیال کہاں تک درست ہے؟

جواب: عمومی دینی حلقے تو قومی ریاست کو قبول کر چکے ہیں۔ کچھ نے اگر نہیں کیا تو اس کے لیے سب کو یکساں طور پر ذمہ دار قرار دینا درست نہیں ہے۔ دنیا میں جتنی بھی ریاستیں ہیں وہ اپنے دائرہ کار میں رہ کر کام کر رہی ہیں۔ حضرت شاہ ولی اللہؒ نے اس بات کو اس طرح بھی واضح کر دیا تھا کہ خلافت کسی علاقائی حکومت کا نام نہیں ہے بلکہ یہ آج کی اصطلاح میں ایک کنفیڈریشن کا نام ہے۔ یعنی امارات اپنی اپنی جگہ قائم ہوں اور خودمختار ہوں جبکہ ان کا ایک مرکز ہو جو کنفیڈریشن کی طرح کا ایک نظام ہو۔

اسی لیے میں اسے افغان طالبان کی عقل مندی کے فیصلوں میں شمار کرتا ہوں کہ انہوں نے افغانستان میں حکومت کے قیام کے بعد ’’خلافت‘‘ کا نہیں بلکہ ’’امارت‘‘ کا اعلان کیا۔ جبکہ داعش کی سب سے بڑی بے وقوفی یہی تھی کہ انہوں نے بات ہی خلافت سے شروع کی ہے۔ حالانکہ خلافت جب بھی بنے گی ایک کنفیڈریشن کی طرز پر بنے گی جس میں امارات کو پوری داخلی خود مختاری حاصل ہوگی۔ خلافت راشدہ کے دور کا اگر درست تجزیہ کیا جائے تو وہ نظام کنفیڈریشن ہی کا تھا جس میں صوبوں کو خودمختاری حاصل تھی اور مرکزی حکومت ہر معاملے میں مداخلت نہیں کرتی تھی۔

سوال: دینی مدارس کے طلباء اس معاملے میں یکسو نظر نہیں آتے، شدت پسندانہ کاروائیوں کو رد عمل قرار دے دیا جاتا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: اس معاملے میں ہونے والی کوششوں کو منظم نہیں کیا گیا اور اسے ایک تحریک کی شکل نہیں دی گئی۔ میں اس کے لیے دینی جماعتوں کو بھی ذمہ دار سمجھتا ہوں لیکن سب سے بڑھ کر بات یہ ہے کہ ہمارے ملک کے بالادست طبقے بھی یہی چاہتے ہیں کہ لوگ اس معاملے میں کنفیوژن کا شکار رہیں۔

سوال: دینی حلقے میڈیا کو کئی مسائل کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ کیا علماء کا طبقہ میڈیا کی آزادی اور اس کے بڑھتے ہوئے رسوخ کے حوالے سے اپنی تیاری مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ایسا کرتے ہیں؟

جواب: اس کے دو پہلو ہیں۔ ایک تو یہ کہ مذہبی طبقات کو میڈیا میں اپنی نمائندگی اور موقف پیش کرنے کے لیے منصوبہ بندی اور تربیت کی ضرورت ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ میں اسے آزاد میڈیا نہیں مانتا۔ اسے بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ کنٹرول کر رہی ہے اور یہ اسی کی پالیسی کے مطابق چلتا ہے۔ مثلاً یہ پالیسی کے تحت کیا گیا ہے کہ کسی خالص مذہبی اور قومی مسئلے پر ایک جانب سے تیاری کر کے لوگوں کو بلایا جاتا ہے جبکہ مذہبی طبقے کی نمائندگی کے لیے جان بوجھ کر ایسے لوگ بلائے جاتے ہیں جو اپنا موقف بیان نہیں کر پاتے۔ یہاں کراچی میں میرے سامنے ایک مرتبہ ایسا ہوا۔ ایک چینل میں اس موضوع پر بحث رکھی گئی کہ اسلامائزیشن کا کوئی ہوم ورک بھی ہے یا نہیں، یا صرف اسلامی نظام کے نفاذ کا شور ہی مچا رکھا ہے؟ اس گفتگو میں مجھے بھی بلایا گیا لیکن سوال وہاں بیٹھے ایک ایسے صاحب سے کیا گیا جنہیں اسلامائزیشن کی الف بے بھی معلوم نہیں تھی۔ میں نے میزبان سے کہا کہ اس کا جواب میں دوں گا لیکن وہ ٹالنے کی کوشش کرتے رہے۔ پروگرام لائیو تھا، میں نے انہیں یہ بھی کہا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور میں یہ نہیں ہونے دوں گا۔ عرض یہ ہے کہ ایسا باقاعدہ پالیسی کے تحت ہوتا ہے کہ مذہبی فکر کو یا تو بالکل دبا دیا جائے یا جان بوجھ کر ایسے انداز میں پیش کیا جائے کہ قابل قبول نہ رہے۔

سوال: اسلامی قوانین کے نفاذ اور مشاورت کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل اور وفاقی شرعی عدالت کی صورت میں جو آئینی ادارے موجود ہیں ان کے غیر مؤثر ہونے کی شکایت تو کی جاتی ہے لیکن انہیں مؤثر بنانے کے لیے کیوں کچھ نہیں کیا جاتا؟

جواب: ہمارے پاس تو یہی راستہ تھا کہ عوامی دباؤ کے ذریعے ان فیصلوں کو نافذ کروایا جائے۔ لیکن اس آپشن کو بھی ہتھیار اٹھانے والوں نے مسدود کر دیا ہے۔ ہم پر امن جدوجہد کرتے تھے، سڑکوں پر نکلتے تھے اور ہلکا پھلکا ہنگامہ بھی ہو جاتا تھا جس کے نتیجے میں کوئی نہ کوئی نتیجہ نکل آتا تھا۔ اب اس کی جگہ کلاشنکوف نے لے لی ہے۔ اس کی وجہ سے ہماری وہ عوامی مزاحمتی قوت کمزور ہوگئی ہے۔

سوال: گزشتہ دنوں خواتین کے تحفظ کے لیے قانون سازی ہوئی اور اس کے حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات بھی سامنے آئیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ معاشرے میں اس تاثر نے زور پکڑا ہے کہ مذہبی طبقہ خواتین کے بارے میں جاگیردارانہ رویہ رکھتا ہے۔ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب: ان معاملات میں مذہبی ردعمل کی بات تو کی جاتی ہے لیکن مثبت باتوں کو عوام تک نہیں آنے دیا جاتا۔ اسلامی معاشرے میں خواتین کا کردار کم از کم وہ نہیں ہو سکتا جو مغرب چاہتا ہے۔ کیونکہ اسلام عورت کو ایک فطری دائرے میں رکھتا ہے جسے نظر انداز کرنے کی وجہ سے مغرب کا اپنا خاندانی نظام تباہ ہو چکا ہے اور اب وہ خواتین کے حقوق کے نام پر ہمارے خاندانی نظام کو تباہ کرنے کے درپے ہے۔ مغرب کے دانشور خود خاندانی نظام کی طرف واپس جانا چاہتے ہیں مگر ہمیں اس نظام سے محروم کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں لیکن ہمارے ہاں ایسا نہیں ہوگا، ان شاء اللہ تعالیٰ۔

سوال: ہماری سوسائٹی جو مذہبی معاملات میں تو حساس ہے لیکن تشدد کے بڑھتے ہوئے واقعات پر اس کا ردعمل سامنے نہیں آتا۔ کیا اس حوالے سے مذہبی راہنما اپنا کردار ادا کر رہے ہیں؟

جواب: ہمارے معاشرے پر مذہبی ہونے کا ’’الزام‘‘ تو ہے لیکن قومی سطح پر مذہب کی تعلیم، روایتی میڈیا، اور اسلامی تعلیمات کے نفاذ کی قوت مذہبی لوگوں کے پاس نہیں ہے۔ البتہ صرف مولوی کو گالی دینے کے لیے سوسائٹی کو مذہبی کہا جاتا ہے اور تشدد کے واقعات کو جزوی اور مشروط مذہبی تعلیمات کی طرف منسوب کر کے غلط تاثر قائم کیا جاتا ہے۔

سوال: آپ کے خیال میں ایک اسلامی ریاست میں تمام مذہبی ادارے ریاست کے ماتحت ہونے چاہئیں؟

جواب: حضور صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے دور میں یہ ادارے ریاست ہی کے پاس تھے۔ اور اسلامی ریاست سے مراد ویسی ہی ریاست ہے جیسی اس دور میں قائم ہوئی تھی۔ فوج اور انتظامیہ بھی اسی مذہبی ریاست کے کنٹرول میں تھے۔ اور بیت المال کا پورا نظام جسے آج ویلفیئر اسٹیٹ کی مثال قرار دیا جاتا ہے، وہ بھی ایک ریاستی ادارہ ہی تھا۔

سوال: لیکن ہمارے ہاں مدارس کا متوازی نظام اور مساجد میں جمعہ پر تو سرکار کی عملداری نہیں۔ ان اداروں کو ریاست سے کیوں الگ رکھا جا رہا ہے؟

جواب: ریاست اگر ساری ذمہ داریاں قبول کرلے تو اس کے بعد مسجد بھی سنبھال لے۔ باقی سارے کام امریکہ کے ایجنڈے کے ماتحت ہوں اور پھر آپ مسجد کنٹرول کرنے آجائیں تو ہم ایسا نہیں ہونے دیں گے۔ ریاست پہلے قومی سطح پر دین کی تعلیم اور نفاذ اسلام کے دستوری تقاضے پورے کرے پھر مدارس سے سوال کرے کہ تمہاری کیا ضرورت ہے؟ خود اپنی ذمہ داریاں قبول کر کے انہیں پورا نہیں کرتے لیکن مدارس یہ کام کر رہے ہیں تو ان پر ملامت کی جاتی ہے۔

سوال: مکالمے کے فورم تبدیل ہو رہے ہیں لیکن مذہبی لوگ آج بھی روایتی مناظرانہ انداز میں اپنا موقف پیش کرتے ہیں۔ اس کے بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب: میں یہی کہتا ہوں کہ یہ مکالمے کا دور ہے، مناظرے اور فتوے کی زبان کا نہیں۔ ہمارے دینی حلقے آج بھی سو سال پہلے کی زبان بول رہے ہیں۔ اب فتوے اور مناظرے کی بجائے باہمی مکالمے کو فروغ دینے کے لیے کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سوال: فرقہ واریت کے خاتمے اور اتحاد امت کے عنوان سے کئی کوششیں کی گئیں لیکن یہ نتیجہ خیز کیوں ثابت نہیں ہوتیں؟

جواب: نتیجہ خیز ثابت ہونے سے مراد اگر یہ ہے کہ فرقوں کا وجود ہی ختم ہو جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے۔ فکر کا اختلاف کیسے ختم کیا جا سکتا ہے؟ جب ذہن مختلف ہیں تو اختلاف بھی رہے گا۔ البتہ ان اختلافات کو حدود میں لانے اور مشترکات پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

سوال: فرقہ واریت کی بنیاد پر اسلحہ اٹھانے والوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟

جواب: ایسے کسی گروہ کی ہم نے کبھی حمایت نہیں کی اور نہ آج کرتے ہیں۔ مسلم ریاست میں ہتھیار اٹھا کر بات کرنے والے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

سوال: کیا مسلمانوں کو تجدید فکر کی ضرورت نہیں؟

جواب: ہمیں فکر کی تجدید کی ضرورت ہے لیکن جدید فکر کی ضرورت نہیں۔ اپنے پیغام کو جدید انداز میں پیش کرنا ضروری ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ دین میں کسی نئی فکر کو داخل کرنے کی کوشش کی جائے۔

سوال: جاوید احمد غامدی صاحب کی فکر کے بارے میں آپ کیا رائے رکھتے ہیں؟

جواب: غامدی صاحب کے بارے میں میرا خیال یہ ہے کہ وہ خود بھی کنفیوژ ہیں اور کئی معاملات میں وہ اپنی کنفیوژن میں پوری قوم کو شریک کرنا چاہتے ہیں۔ اس میں بنیادی بات یہ ہے کہ وہ اسلام کی تعبیر نو کے لیے نئے اصول وضع کرنا چاہتے ہیں۔ امت کسی ایسی فکر کو قبول نہیں کرے گی۔ مسلمہ اصولوں کے دائرے میں رہتے ہوئے فکر کی تشکیل نو کی جا سکتی ہے لیکن غامدی صاحب اصول بھی نئے قائم کرنا چاہتے ہیں۔ قرآن و حدیث سے استنباط کے بنیادی اصول طے شدہ ہیں لیکن وہ پورا فکری ڈھانچہ ہی تبدیل کرنا چاہتے جو کہ ممکن اور قابل قبول نہیں ہے۔

سوال: آپ کے صاحبزادے عمار خان ناصر بھی کیا اسی فکر سے تعلق رکھتے ہیں؟

جواب: نہیں، اس معاملے میں اس کا اصولی موقف وہی ہے جو میرا ہے۔ یعنی دینی فکر کو اخذ کرنے کے اصول تبدیل نہیں ہو سکتے۔ عمار کی حال ہی میں شائع ہونے والی کتاب ’’فقہائے احناف اور فہم حدیث‘‘ آپ پڑھیں گے تو یہ بات واضح ہو جائے گی۔

سوال: کیا آپ کے نزدیک مذہبی جماعتوں کی جانب سے ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک، اور بعد ازاں اسلامی جمہوری اتحاد کے قیام کے فیصلے درست تھے؟

جواب: تمام اتحاد اور سبھی فیصلے غلط نہیں تھے۔ البتہ میں آئی جے آئی پنجاب کا نائب صدر رہا۔ آئی جے آئی کا تجربہ ٹھیک نہیں تھا اور کامیاب بھی نہیں ہوا تھا۔ یہ ایک ریموٹ کنٹرول تحریک تھی۔ مذہبی جماعتیں حالات کا صحیح جائزہ نہیں لے سکیں جس کی وجہ سے دوسروں نے تو فائدہ اٹھایا لیکن خود مذہبی جماعتوں کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔

سوال: ضیاء دور کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: جنرل ضیاء الحق مرحوم نے بعض اچھے اقدامات بھی کیے لیکن ان کی اپروچ ذاتی سطح تک ہی تھی۔ یہی وجہ تھی کہ ادارے ان کے اقدامات کو سپورٹ نہیں کر سکے۔ دوسری جانب ایک رجحان یہ ہے کہ ان کے کھاتے میں کئی ایسے کام بھی ڈال دیے جاتے ہین جو ان کی حکومت سے کئی برس پہلے شروع ہوئے تھے۔ مثلاً اسلامی نظریاتی کونسل 1973ء میں قائم ہوئی تھی۔ انہوں نے بعض اچھے کام کیے لیکن کئی کام دستور کی سطح پر پہلے طے ہو چکے تھے۔ ہماری افغان پالیسی کی تشکیل بھٹو دور میں ہوئی۔ عالمی میڈیا میں اس حوالے سے تفصیلات سامنے آئی ہیں بھٹو کی بلوچستان میں فوج کشی کا ردعمل افغانستان میں ظاہر ہوا۔ اب چونکہ افغانستان میں مزاحمت مذہبی لوگ کر رہے تھے تو ان کا ساتھ یہاں کے مذہبی لوگوں ہی نے دینا تھا، لیکن اس کا سارا الزام جنرل ضیاء الحق پر ڈال دیا جاتا ہے۔

سوال: مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال کو کیسے دیکھتے ہیں؟

جواب: ایران نے انقلاب کے بعد اسے اپنی ملکی حدود میں رکھنے کی بجائے اس کے اثرات کو دیگر ممالک تک پہنچانے اور پورے مشرق وسطیٰ کو کنٹرول کرنے کی کوششیں کیں، آج کے حالات اسی کا نتیجہ ہیں۔ ہمارے ہاں پاکستان میں بھی جب یہ کوششیں شروع ہوئیں تو ردعمل میں تنظیمیں بنیں۔ یہی ردعمل بحرین، کویت اور عراق میں سامنے آیا۔

سوال: یہی الزام سعودی عرب پر بھی تو لگایا جاتا ہے۔ اس بارے میں کیا کہیں گے؟

جواب: سعودی عرب نے سلفی فکر کو حنفیوں اور اخوانیوں کے مقابلے میں آگے بڑھایا، ایران کے مقابلے پر نہیں۔ اور وہ زیادہ سے زیادہ مالی امداد ہی دیتے ہیں جبکہ یہ تو سب کچھ ہی کرتے ہیں۔ اس لیے کہ سعودی عرب کے پاس صرف پیسے ہی ہیں۔ انہوں نے پورے عالم اسلام کو سنبھالنے کے لیے کئی ایسے اقدامات کیے جن کے مثبت اثرات مرتب نہیں ہوئے۔ لیکن اب وہ کچھ پالیسیوں پر نظر ثانی کر رہے ہیں مگر بہت تاخیر سے ایسا ہو رہا ہے۔

سوال: مشرق وسطیٰ کے حالات کے تناظر میں فرقہ وارانہ انتشار کو روکنے کے لیے کیا اقدامات کرنے کی ضرورت ہے؟

جواب: او آئی سی کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ اسے اب گہری نیند سے جاگنا ہوگا۔ اس مسئلے کے دو پہلو ہیں۔ ایک شیعہ سنی لڑائی جبکہ دوسرا عالمی استعمار کے مفادات۔ ان دونوں باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے او آئی سی کے پلیٹ فارم سے سعودیہ اور ایران کو اپنی اپنی حدود میں لانے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ اس سلسلے میں ہم تو صرف اپیل ہی کر سکتے ہیں اور کر رہے ہیں۔

سوال: کیا آپ کے نزدیک عبادات کی جانب راغب کرنے اور معاشرتی اصطلاحات کے لیے کام کرنے والی تبلیغی جماعت اور دعوت اسلامی جیسی تنظیموں کی کوششیں کامیاب ہو رہی ہیں؟

جواب: دین کے ساتھ فرد کا تعلق قائم کرنے کی حد تک تو یہ لوگ کامیاب ہیں۔ اس لیے کہ جو فرد بھی ان کے ماحول میں آجاتا ہے اس کا تعلق نماز، روزے اور مسجد سے جڑ جاتا ہے اور وہ کئی برائیوں سے بھی محفوظ ہو جاتا ہے۔ لیکن یہ اجتماعیت کی فکر دینے کی طرف متوجہ نہیں ہیں اور میرے خیال میں یہ ان کا کام بھی نہیں ہے۔ یہ دراصل علماء اور مراکز کا کام ہے۔ دعوت اسلامی ہو یا تبلیغی جماعت، یہ ایک شخص کو مسجد میں لے آتے ہیں اور اس کے لیے بڑی محنت کرتے ہیں، لیکن آگے سنبھالنا تو امام صاحب کا کام ہے کہ وہ اس شخص کی مزید تربیت کریں لیکن ایسا نہیں ہو پاتا، بہرحال وہ لوگ تو اپنا کام کر ہی رہے ہیں۔

سوال: آپ کو جن سیاسی قائدین کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان کے بارے میں آپ کے تاثرات کیا ہیں؟

جواب: سیاسی قیادت میں جن لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا موقع ملا ان میں تین بڑی شخصیات نوابزادہ نصر اللہ خان مرحوم، مولانا مفتی محمودؒ ، اور مولانا شاہ احمد نورانیؒ نمایاں ہیں۔ ان تینوں راہنماؤں کی قیادت کا خلاء پر نہیں ہوا۔ مولانا مفتی محمودؒ اور مولانا شاہ احمد نورانی میں اختلاف بھی ہوا لیکن وہ ہمیشہ اہم قومی معاملات میں مشاورت ضرورت کرتے تھے۔

سوال: مولانا نورانیؒ کو دیگر مسالک سے اتحاد کی وجہ سے اپنے ہم مسلک حلقوں میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ کیا مفتی محمودؒ کا معاملہ بھی ایسا ہی تھا؟

جواب: مولانا مفتی محمودؒ کی مخالفت کی سطح ویسی تو نہیں تھی جس کا سامنا مولانا نورانیؒ کو رہا۔ بلکہ مفتی صاحب سے جب اس معاملے میں بحث ہوتی تھی تو ان کا موقف یہی رہا کہ قومی مشترکہ امور اور سیاست کا مسلک سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ بعض اوقات تو بحث کرنے والوں کو چپ کرانے کے لیے وہ یوں بھی کہہ دیا کرتے تھے کہ ’’میں اس طرح کا دیوبندی نہیں ہوں‘‘۔