مذہبی شدت پسندی، حکومت اور دینی جماعتیں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
اگست ۲۰۰۷ء

جامعہ حفصہ اور لال مسجد اسلام آباد کے خلاف سرکاری فورسز کے مسلح آپریشن نے پورے ملک کو دہلا کر رکھ دیا ہے۔ ایک عرصہ سے مختلف حلقوں کی طرف سے یہ کوشش جاری تھی کہ کسی طرح یہ تصادم رک جائے اور خونریزی کا وہ الم ناک منظر قوم کو نہ دیکھنا پڑے جس نے ملک کے ہر فرد کو رنج و صدمہ کی تصویر بنا دیا ہے، لیکن جو ہونا تھا وہ ہوا، بہت برا ہوا اور بہت برے طریقے سے ہوا۔ اس سے کچھ لوگوں کو ضرور تسکین حاصل ہوئی ہوگی جو حکومت کی رٹ بحال کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت اور رعب ودبدبہ مسلط کرنا بھی ضروری سمجھ بیٹھے تھے اور ان کا خیال تھا کہ طاقت اور اسلحہ کا بے دریغ استعمال کیے بغیر اور آگ اور خون کا کھیل کھیلے بغیر شاید حکومت کی رٹ کا وقار قائم نہیں رہے گا۔ چند افراد ضرور ایسے ہوں گے، لیکن بحیثیت مجموعی پوری قوم غم زدہ ہے، افسردہ ہے، مضطرب اور بے چین ہے کہ بہت سے بے گناہوں کے لاشے تڑپے ہیں، بچوں اور عورتوں کا خون بہا ہے اور یہ سب کچھ اللہ کے گھرمیں ہوا ہے اور ایک دینی درس گاہ میں ہوا ہے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔

ایک سرکاری چلڈرن لائبریری پر جامعہ حفصہ کی طالبات کے قبضہ کے ساتھ جب اس تنازع کا آغاز ہوا تھا اور اس کے بعد ایک مبینہ قحبہ خانہ اور پھر مساج پارلر کے خلاف کارروائی نے اس معاملہ کو آگے بڑھایا تھا تو ہم نے اسی وقت یہ عرض کر دیا تھا کہ ایک مسلمان ملک کے اندر حکومت وقت کے خلاف اس قسم کے تصادم کے ماحول اور قانون کو ہاتھ میں لینے کی حمایت نہیں کی جا سکتی اور مقاصد کتنے ہی نیک اور اچھے کیوں نہ ہوں، ان کے لیے اس طرز کی جدوجہد کو سند جواز فراہم نہیں کی جا سکتی۔ اس پر ملک بھر کے جمہور علماے کرام کا کم وبیش اجماع منعقد ہو گیا تھا، مگر اس کی پروا کیے بغیر معاملات کو اسی رخ پر آگے بڑھانے کا سلسلہ جاری رہا۔ دوسری طرف ملک کی سنجیدہ دینی قیادت نے حکومت پر مسلسل زور دیا کہ وہ طاقت کے استعمال سے گریز کرے، جائز مطالبات منظور کرنے کی طرف توجہ دے، ان اسباب وعوامل کو دور کرنے کی کوشش کرے جن کے رد عمل میں شدت کی یہ صورت سامنے آئی ہے اور مذاکرات کے ذریعے سے مسئلے کو حل کرنے کا راستہ نکالے، لیکن حکومت نے بھی اس کے لیے سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کیا اور اس کی غیر سنجیدگی کا اندازہ اس بات سے کیا جا سکتا ہے کہ اس نے ان جائز مطالبات میں سے کسی ایک کو بھی قابل اعتنا نہیں سمجھا جن کی بنیاد پر لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ شدت کی اس انتہا تک جا پہنچی تھی۔

ہمیں اس بات سے اتفاق ہے کہ اگر حکومت اسلامی نظام کے نفاذ، اسلام آباد میں گرائی جانے والی مساجد کو دوبارہ تعمیر کرنے، حدود شرعیہ میں کی گئی ترامیم پر نظر ثانی اور فحاشی کے مبینہ مراکز کو بند کرنے میں سے کسی ایک مسئلے کی طرف بھی سنجیدگی سے متوجہ ہو جاتی تو اس سلسلے میں لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی انتظامیہ کے رویے میں پائی جانے والی شدت کو کم کیا جا سکتا تھا اور ہم لال مسجد کے خطیب مولانا عبد العزیز کی اس بات سے بھی متفق ہیں جس میں انھوں نے کہا تھا کہ ہمارے طریق کار سے اختلاف کرنے والے ان جائز مطالبات کے لیے صحیح طریق کار سے جدوجہد کیوں نہیں کرتے؟ مولانا عبد العزیز اور غازی عبد الرشید شہید کے طریق کار سے ہم نے بھی اختلاف کیا تھا اور اب بھی ہم اسے غلط ہی سمجھتے ہیں کہ ایک مسلمان ملک میں حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانا، قانون کو ہاتھ میں لینا اور مسلح تصادم کا ماحول پیدا کرنا ہمارے نزدیک شرعاً اور اخلاقاً کسی بھی لحاظ سے درست نہیں ہے، لیکن مولانا عبد العزیز کے اس سوال کا آخر کیا جواب ہے کہ ان کے طریق کار سے اختلاف کرنے والوں نے ملک میں اسلامی نظام کے نفاذ اور فحاشی ومنکرات کے سدباب کے لیے صحیح طریق کار پر مبنی کون سی جدوجہد کا اہتمام کیا ہے؟ اس لیے ہم سمجھتے ہیں کہ معاملات کو اس رخ تک پہنچانے میں جہاں اسلامی نظام کے معاملے میں حکومت کی سرد مہری کار فرما ہے، وہاں اسلامی نظام کے لیے جدوجہد کی داعی دینی سیاسی جماعتیں بھی اس کی ذمہ دار ہیں کہ ان کی بے عملی اور تغافل نے وہ خوف ناک خلا پیدا کر دیا ہے جس کو پر کرنے کے لیے تشدد اور بغاوت کی تحریکات آگے بڑھ رہی ہیں اور یہ قانون فطرت ہے کہ خلا جس قدر گہرا ہو، اس کی جگہ لینے والی قوتیں اسی قدر شدت اور تیزی کے ساتھ لپکتی ہیں اور بسا اوقات آندھی او رطوفان کی شکل بھی اختیار کر لیتی ہیں۔

جہاد افغانستان کے بعد یہ بات حکومت اور دینی سیاسی جماعتوں، دونوں سے توجہ کی طالب تھی کہ جن ہزاروں افراد نے پاکستان سے جا کر افغانستان میں روسی استعمار کے خلاف عملی جنگ لڑی ہے، وہ صرف اسلحہ چلانے کا ہی عملی تجربہ نہیں رکھتے بلکہ اسلام کی بالادستی اور نفاذ اسلام کے مخلصانہ جذبے سے بھی سرشار ہیں۔ ان کی تعداد سینکڑوں میں نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے اور وہ ملک کے ہر حصے میں موجود ہیں۔ انھیں ملک وقوم کا قیمتی اثاثہ سمجھتے ہوئے نہ حکومت نے ان کے جذبات و رجحانات کو اسلام اور پاکستان کے لیے مثبت رخ پر قائم رکھنے کی کوئی پالیسی اپنائی اور نہ ہی دینی سیاسی جماعتوں نے انھیں اپنانے اور اپنی جدوجہد میں شریک کرنے کی طرف توجہ دی بلکہ انھیں اپنا حریف اور اپنے لیے خطرہ تصور کیا گیا اور انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی ان کے لیے جو نیا ماحول کھڑا کیا گیا، وہ ان کی کردار کشی، توہین، طنز واستہزا، اور تحقیر وحوصلہ شکنی سے عبارت تھا۔ پھر اس فضا میں ان کے سامنے افغانستان میں امریکی فوجیں اتریں، طالبان کی حکومت کو قوت کے ساتھ تہس نہس کر دیا گیا اور پاکستان میں دینی شعائر اور اسلامی روایات واقدار کو پامال کرنے کی پالیسیاں آگے بڑھنے لگیں تو ان کا غصہ اور نفرت اپنی انتہا کو پہنچ گئے اور وہی غصہ ونفرت مجتمع ہو کر لال مسجد اور جامعہ حفصہ میں حکمرانوں کے خلاف صف آرا ہو گئے۔ ہم نے حکومت وقت کے ساتھ مولانا عبد العزیز اور غازی عبد الرشید کے تصادم اور محاذ آرائی کے طرز عمل کو غلط قرار دیا ہے اور فی الواقع اسے غلط سمجھتے ہیں اور ہمیں اس بات کا بھی شدید دکھ ہے کہ ان بھائیوں نے حکومت کے ساتھ ساتھ خود اپنی دینی وعلمی قیادت سے بھی بغاوت کی اور ان کی مشاورت وہدایات کو قبول نہ کیا، لیکن اس کا یہ پس منظر بھی ہمارے سامنے ہے کہ اسلامی نظام اور دینی شعائر واقدار کے بارے میں حکومتی حلقوں اور اداروں کی منافقانہ پالیسی کا آخری جذباتی رد عمل یہی ہو سکتا تھا اور غازی برادران کے دل میں یہ بات یقین کے درجے میں بیٹھ چکی تھی کہ دینی سیاسی جماعتوں نے اپنے لیے معروضی سیاست اور اقتدار کی اکھاڑ پچھاڑ کو ہی آخری منزل سمجھ لیا ہے اور ان سے نفاذ اسلام کے لیے کسی موثر جدوجہد کی توقع نہیں کی جا سکتی۔

ہمارے نزدیک یہ دو عوامل ہیں جنھوں نے لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو حکومت کے خلاف ایک مسلح مورچہ بنا دیا اور بات لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے خلاف سرکاری آپریشن پر ختم نہیں ہوئی بلکہ اس کے بعد ملک بھر میں ہونے والے ہنگاموں اور خود کش حملوں نے لال مسجد کی اس بغاوت کا دائرہ دور دور تک وسیع کر دیا ہے۔ صورت حال کی سنگینی کا اندازہ صرف ایک واقعہ سے کر لیجیے کہ ۱۴؍ جولائی کے اخبارات میں یہ خبر شائع ہوئی ہے کہ سرگودھا میں ایک نوجوان نے بینک ڈکیتی کے دوران میں زخمی حالت میں گرفتار ہونے کے بعد یہ بتایا ہے کہ اس نے بینک پر ڈاکہ اس لیے ڈالا ہے تاکہ رقم حاصل کر کے لال مسجد کا بدلہ لینے اور ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد منظم کرنے کے لیے کام کر سکے، یعنی اس نے ملک میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے لیے بینک ڈکیتی کا راستہ اختیار کیا ہے۔ یہ ایک المیہ ہے، بہت بڑا المیہ ہے اور اس قسم کے المیے مایوسیوں سے جنم لیا کرتے ہیں۔ جب لوگوں کو ان کے جائز مطالبات اور جذبات کا صحیح جگہ سے جواب نہیں ملتا تو وہ اس کی تسکین کے لیے متبادل ذرائع اختیار کرتے ہیں اور یہ متبادل ذرائع ضروری نہیں کہ صحیح بھی ہوں۔

پاکستان ایک اسلامی ریاست ہے جس کا وجود اسلام کی بنیاد پر قائم ہوا تھا اور اس کے دستور میں اسلامی نظام کی عمل داری اور اسلامی معاشرے کے قیام کی ضمانت دی گئی تھی۔ جب ایک مسلم نوجوان اس سلسلے میں حکومت کی سرد مہری اور حکومتی اداروں کا منفی طرز عمل دیکھتا ہے تو اس کی نگاہیں بے ساختہ دینی جماعتوں کی طرف اٹھتی ہیں کہ وہ کیا کر رہی ہیں اور حکومتی طرز عمل کا رخ تبدیل کرانے کے لیے کس سنجیدگی کے ساتھ مصروف عمل ہیں۔ اگر اسے دینی سیاسی جماعتوں کی جدوجہد اور تحریک میں اپنے جذبات کی تسکین کا سامان مل جائے تو وہ وہاں رک جائے گا اور خود کو ان کے حوالے کر دے گا، لیکن اگر اسے وہاں بھی امید کا کوئی پہلو دکھائی نہ دے اور ہر طرف وقتی مفادات اور مصلحتوں کا ہی ماحول ملے تو پھر اس کے لیے دو ہی راستے رہ جاتے ہیں۔ ایک یہ کہ خاموش ہو کر بیٹھ جائے اور اسلام کی بالادستی اور فحاشی وبے حیائی سے معاشرہ کو پاک کرنے کا خیال اپنے ذہن سے نکال دے اور یا پھر اس کے لیے اپنا راستہ خود نکالے اور جو کچھ وہ اس کے لیے کر سکتا ہے، ا س کی منصوبہ بندی کرے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ جہاد افغانستان میں حصہ لینے والے ہزاروں نوجوان جو نفاذ اسلام کے مخلصانہ جذبہ سے بہرہ ور ہیں اور اسلحہ کی ٹریننگ بھی رکھتے ہیں، گزشتہ ایک عشرے کے دوران میں اسی تجربے سے گزرے ہیں اور اب وہ اس تجربے کے آخری مرحلے میں ہیں جس کی ایک جھلک لال مسجدمیں پوری قوم نے دیکھ لی ہے اور اگر حکومت اور دینی جماعتوں نے اب بھی اس مسئلے کو سنجیدگی کے ساتھ نہ لیا اور ان مخلص او رپرجوش نوجوانوں کے جذبات کو مثبت رخ دینے کی کوئی معقول کوشش نہ کی تو لال مسجد اس قضیہ کی انتہا نہیں ہوگی بلکہ خدا نخواستہ ابتدا ثابت ہو سکتی ہے۔

لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے تنازع میں اپنی جانوں کا نذرانہ دینے والے شہدا کے لیے ہم دعاگو ہیں کہ اللہ رب العزت انھیں جوار رحمت میں جگہ دیں۔ ہمیں سرکاری فورسز کے ان نو جوانوں سے بھی گہری ہمدردی ہے جنھوں نے اپنی جانیں پیش کیں۔ وہ ڈیوٹی پر تھے اور فرائض سرانجام دے رہے تھے۔ ہماری دعا ہے کہ اللہ رب العزت تمام شہدا کو جوار رحمت میں جگہ دیں، زخمیوں کو صحت عطا فرمائیں، پس ماندگان کو صبر جمیل سے نوازیں اور ہم سب کو بحیثیت قوم اس سانحہ سے سبق حاصل کرتے ہوئے اپنی غلطیوں کی اصلاح کے ساتھ ملک وقوم کے مستقبل کی بہتر صورت گری کی توفیق دیں، آمین۔