جمعیۃ علماء اسلام کی جدوجہد کا نظریاتی اور تاریخی پس منظر

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ہفت روزہ ترجمان اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ مارچ ۱۹۸۸ء

جمعیۃ علماء اسلام پاکستان علماء کرام، دینی کارکنوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ان مسلمانوں کی ملک گیر تنظیم ہے جو وطن عزیز میں قرآن و سنت اور خلافت راشدہ کی روشنی و راہنمائی میں مکمل اسلامی نظام نافذ کرنے کی جدوجہد میں مصروف عمل ہیں۔

جمعیۃ کا تعلق علماء حق کے اس عظیم گروہ سے ہے جس نے برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش پر برٹش استعمار کے تسلط کے بعد آزادی کی دو سو سالہ جنگ کی قیادت کی اور قربانی و ایثار کی تاریخ میں نئے ابواب کا اضافہ کرتے ہوئے بالآخر برطانوی سامراج کو اس خطہ سے بوریا بستر سمیٹنے پر مجبور کر دیا۔ آزادی کی اس مقدس جنگ کا آغاز امام الہند شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے فرزند و جانشین شاہ عبد العزیز دہلویؒ کے فتویٰ جہاد سے ہوا جو آج بھی ’’فتاویٰ عزیزی‘‘ میں موجود ہے اور جس میں انگریزی اقتدار کے تسلط اور عدالتی، انتظامی اور معاشی شعبوں میں فرنگی قوانین کے نفاذ و بالادستی کو بنیاد بناتے ہوئے اس خطۂ زمین کو دارالحرب قرار دیا گیا ہے اور انگریزی اقتدار اور فرنگی نظام و قوانین کے خلاف جہاد کو شرعاً فرض قرار دیا گیا ہے۔ اسی فتویٰ کی بنیاد پر سید احمد شہیدؒ، شاہ اسماعیل شہیدؒ اور ان کے رفقاء نے 1831ء میں بالاکوٹ کی وادی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ اور 1857ء کے معرکۂ حریت میں ہزاروں علماء اور لاکھوں مسلمانوں نے فرنگی حکمرانوں کا میدان جنگ میں سامنا کیا اور پھر برٹش استعمار کے وحشیانہ انتقام کی بھینٹ چڑھ گئے۔

دہلی میں جنرل بخت خانؒ، یوپی میں حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ، مولانا محمد قاسم نانوتویؒ اور ان کے رفقاء، پنجاب میں علماء لدھیانہ اور سردار احمد خان کھرل شہیدؒ، بنگال میں حاجی شریعت اللہؒ اور تیتو میر شہیدؒ، سندھ میں پیر صبغۃ اللہ شہیدؒ، سرحد میں حاجی صاحب ترنگ زئیؒ اور فقیر ایپیؒ اور ملک کے دیگر حصوں میں مجاہدینِ آزادی نے فرنگی حکمران کو میدان جنگ میں للکارا اور جہاد آزادی کی شمع کو اپنے خون کے ساتھ روشن رکھا۔ اور پھر شیخ الہند مولانا محمود حسن دیوبندیؒ اور مولانا عبید اللہ سندھیؒ نے اپنے جاں نثار رفقاء کے ہمراہ ریشمی رومال کے حوالہ سے معروف عالمی تحریک کے ذریعہ عالمی طاقتوں اور بین الاقوامی رائے عامہ کو برصغیر کی آزادی کی اہمیت و ضرورت کا احساس دلا کر آزادی کی سیاسی جدوجہد کی اساس فراہم کی۔

عسکری محاذوں پر ناکامی کے بعد آزادی کی سیاسی جنگ کا آغاز بھی سب سے پہلے اسی قافلۂ حریت نے ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ کا پلیٹ فارم تیار کر کے کیا۔ برصغیر کی تاریخ میں کسی سیاسی پلیٹ فارم سے آزادیٔ کامل کا مطالبہ سب سے پہلے ’’جمعیۃ علماء ہند‘‘ نے 1926ء میں کیا جبکہ اس وقت قومی سیاست میں عمل دخل رکھنے والی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں آل انڈیا کانگریس اور آل انڈیا مسلم لیگ مکمل آزادی کی بجائے داخلی خود مختاری کے مطالبہ کو اپنی جدوجہد کی معراج سمجھ رہی تھیں۔ اور یہ دونوں جماعتیں اس کے بہت عرصہ بعد آزادیٔ کامل کے مطالبہ کو اپنانے پر تیار ہو سکی تھیں۔

جمعیۃ علماء ہند کے بعد ’’مجلس احرار اسلام‘‘ بھی انہی مقاصد کے لیے میدان عمل میں آئی اور ان دو جماعتوں نے آزادیٔ کامل کی جدوجہد میں مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ، مولانا سید حسین احمد مدنیؒ، مولانا حبیب الرحمن لدھیانویؒ، اور سید عطاء اللہ شاہ بخاریؒ کی زیر قیادت پرجوش سیاسی جدوجہد کے ذریعہ تحریکِ آزادی کو منزل کے قریب پہنچا دیا۔

تحریک آزادی کے آخری مراحل میں جب ہندوستان کو دو حصوں میں تقسیم کرنے اور مسلمانوں کے لیے پاکستان کے نام سے الگ ملک قائم کرنے کا مطالبہ مسلم لیگ کی طرف سے سامنے آیا تو جمعیۃ علماء ہند کی رائے اس کے خلاف تھی اور جمعیۃ علماء ہند نے تقسیم کے منصوبہ کی مخالفت کرتے ہوئے متحدہ ہندوستان میں مسلم ریاستوں کے لیے مکمل داخلی خودمختاری کا فارمولا پیش کیا۔ لیکن جمعیۃ علماء ہند ہی کا ایک حصہ اس موقف سے اختلاف کرتے ہوئے جمعیۃ سے الگ ہوگیا اور پاکستان کے مطالبہ کی حمایت کرتے ہوئے 1945ء میں کلکتہ میں علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کی زیر قیادت ’’آل انڈیا جمعیۃ علماء اسلام‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا۔ جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم پر حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانویؒ کی سرپرستی اور علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کی قیادت میں مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ ، مولانا مفتی محمد شفیعؒ، مولانا مفتی محمد حسنؒ، مولانا احتشام الحق تھانویؒ اور دیگر سرکردہ علماء کرام نے تحریکِ پاکستان میں جو بھرپور کردار ادا کیا ہے وہ قیام پاکستان کی جدوجہد کا ایک روشن باب ہے۔ بالخصوص صوبہ سرحد کے ریفرنڈم میں علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اور سلہٹ کے ریفرنڈم میں مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ کی جدوجہد کے بارے میں مسلم لیگ کی قیادت اور قومی پریس نے کھلے بندوں اعتراف کیا ہے کہ اس ریفرنڈم میں مسلم لیگ کی کامیابی انہی علماء کی محنت کا ثمرہ ہے۔ اور پھر انہی علماء کی جدوجہد کے اعتراف کے طور پر قیام پاکستان کے موقع پر کراچی میں علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ اور ڈھاکہ میں مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ کے ہاتھوں پاکستان کا قومی پرچم لہرایا گیا۔ اور اس طرح مسلم لیگ کے بعد جمعیۃ علماء اسلام دوسری تنظیم ہے جو تحریک پاکستان میں باقاعدہ جماعت کی حیثیت سے شریک ہوئی اور اس جدوجہد میں جمعیۃ نے فیصلہ کن کردار ادا کیا۔

قیام پاکستان کے بعد مسلم لیگ اور جمعیۃ علماء اسلام دونوں جماعتوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ قیام پاکستان کے مقاصد کی تکمیل کرتے ہوئے ملک میں فرنگی نظام و قوانین کے خاتمہ اور مکمل اسلامی نظام کے نفاذ کی منزل کی طرف پیش رفت کرتیں کیونکہ تحریک پاکستان کے دوران دونوں جماعتوں کے قائدین نے عوام کے ساتھ اس کا وعدہ کیا تھا۔ چنانچہ اسی وعدہ کو پورا کرنے کے لیے پاکستان کے پہلے وزیر اعظم اور مسلم لیگ کے سربراہ خان لیاقت علی خانؒ نے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے امیر علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کے تعاون اور تحریک کے ساتھ دستور ساز اسمبلی میں ’’قراردادِ مقاصد‘‘ منظور کرا کے دستور پاکستان کی اسلامی بنیادوں کو ہمیشہ کے لیے متعین کر دیا۔ اور پھر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی مساعی سے تمام مکاتب فکر کے 31 سرکردہ علماء کرام نے علامہ سید سلیمان ندویؒ کی زیر صدارت اسلامی دستور کے 22 نکات متعین کر کے اسلامی ریاست کا واضح دستوری خاکہ قوم کو دے دیا۔

قرارداد مقاصد کی منظوری اور علماء کرام کے 22 دستوری نکات سامنے آنے کے بعد قوم کو یہ توقع ہوگئی تھی کہ اب نفاذِ اسلام کی طرف عملی پیش رفت ہوگی۔ لیکن خان لیاقت علی خانؒ کی شہادت اور علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ کی وفات کی وجہ سے بات وہیں رک گئی۔ جبکہ مسلم لیگ اس کے بعد اقتدار کی کشمکش اور کرسیوں کی اکھاڑ پچھاڑ میں مصروف ہوگئی اور جمعیۃ علماء اسلام نئی قیادت کی تلاش میں سرگرداں رہی۔ 1957ء میں حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ، حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی، حضرت مولانا مفتی محمودؒ، اور حضرت مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے آگے بڑھ کر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کی زمامِ کار کو اپنے ہاتھ میں لیا اور ملک گیر سطح پر اسے ازسرِنو منظم کر کے شریعت اسلامیہ کے نفاذ اور عملداری کی منزل کی طرف نئے سفر کا آغاز کر دیا۔ اور پھر علماء حق کے اس عظیم قافلہ نے:

  1. 1956ء کے دستور کی غیر اسلامی دفعات کی نشاندہی کر کے ان کے خلاف جدوجہد کا اعلان کیا۔
  2. 1958ء کے مارشل لاء کے دوران ’’نظام العلماء پاکستان‘‘ کے نام سے جدوجہد کو جاری رکھا اور رسوائے زمانہ عائلی قوانین کے خلاف کلمۂ حق بلند کیا۔
  3. نئے دستور کے سلسلہ میں صدر محمد ایوب مرحوم کی طرف سے پیش کیے جانے والے دستوری خاکہ کے موقع پر اسلامی دفعات کو دستور کی بنیاد بنانے کا ملک گیر مطالبہ جمعیۃ علماء اسلام کے پلیٹ فارم سے حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی مدظلہ کی زیر قیادت کیا گیا۔
  4. ایوبی دور کی قومی اسمبلی میں مولانا مفتی محمودؒ اور مغربی پاکستان اسمبلی میں مولانا غلام غوث ہزارویؒ نے اسلامی قوانین و روایات کے لیے پارلیمانی جنگ لڑی۔
  5. 1970ء کے انتخابات میں ’’اسلامی منشور‘‘ کے تحت حصہ لیا۔ بلوچستان و سرحد کے انتخابات میں ’’توازن‘‘ کی قوت حاصل کر کے ’’نیشنل عوامی پارٹی‘‘ کے ساتھ مخلوط حکومتیں قائم کیں۔ اور صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے مولانا مفتی محمودؒ نے متعدد اسلامی اصلاحات کیں۔
  6. دستور ساز اسمبلی کے ممبران کی حیثیت سے 1973ء کے دستور کی تیاری میں مولانا مفتی محمودؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، اور مولانا عبد الحق آف اکوڑہ خٹک نے نمایاں کردار ادا کیا اور متعدد اسلامی دفعات کو دستور میں شامل کرانے میں کامیابی حاصل کی۔
  7. 1977ء کی تحریک نظام مصطفٰیؐ کی جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے سیکرٹری جنرل اور ’’پاکستان قومی اتحاد‘‘ کے سربراہ مولانا مفتی محمودؒ نے قیادت کی اور پوری قوم نے ایک بار پھر قربانیوں کی نئی روایات کے ساتھ شریعت اسلامیہ کے حق میں واضح فیصلہ دے دیا۔
  8. اپنی سیاسی ساکھ کو داؤ پر لگاتے ہوئے اسلامی نظام کے نفاذ کی دعوے دار فوجی حکومت میں پاکستان قومی اتحاد کے ساتھ شامل ہو کر جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے حدود آرڈینینس اور دیگر متعدد اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے مخلصانہ تعاون کیا۔
  9. مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد اسلامی نظام کی بنیاد طے کیے بغیر قائم ہونے والے سیاسی اتحاد ’’ایم آر ڈی‘‘ میں شامل ہونے سے انکار کر کے حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی مدظلہ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ کی زیر قیادت جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے اسلامی روایات کا پرچم بلند رکھا۔ اور اسلام کا نام اقتدار کی خاطر استعمال کرنے والے حکمرانوں اور اسلام کی نفی کرنے والے سیاستدانوں کا یکساں طور پر مقابلہ کر کے علماء حق کے منفرد اور امتیازی مقام کا تحفظ کیا۔
  10. اسلامی قوانین کے عملی نفاذ کے لیے سینٹ آف پاکستان میں ’’شریعت بل‘‘ پیش کر کے جمعیۃ کے رہنماؤں مولانا سمیع الحق اور مولانا قاضی عبد اللطیف نے قرارداد مقاصد، 22 نکات، اور 1973ء کے دستور کی اسلامی دفعات کی جدوجہد کے تسلسل کو قائم رکھا۔ اور اس مقصد کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کو ’’متحدہ شریعت محاذ‘‘ کے پلیٹ فارم پر جمع کر کے جمعیۃ علماء اسلام پاکستان نے نفاذ اسلام کے بارے میں حکمرانوں کی منافقانہ روش کو اعلانیہ چیلنج کیا۔
  11. 1953ء، 1974ء، اور 1984ء کی تحریک ختم نبوت میں جمعیۃ علماء اسلام پاکستان کے راہنماؤں اور کارکنوں نے نمایاں حصہ لیا اور قادیانی فتنہ کی سرکوبی کے لیے ملت اسلامیہ کی جدوجہد میں سرگرم کردار ادا کیا۔
  12. اہل سنت کے خلاف بڑھتی ہوئی فرقہ وارانہ جارحیت کے سدباب اور اہل سنت کے آ ئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ’’متحدہ سنی محاذ‘‘ کے پلیٹ فارم پر جمعیۃ علماء اسلام مسلسل سرگرم عمل ہے۔