قادیانی وزیر اور سپریم کورٹ آف پاکستان

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ وفاق، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۴ دسمبر ۱۹۹۶ء

گزشتہ روز عالمی مجلس تحفظ ختم نبوت پاکستان کے رہنماؤں کا بیان نظر سے گزرا جس میں سندھ کی نگران حکومت میں ایک قادیانی کنور ادریس کو بطور وزیر شامل کرنے پر احتجاج کیا گیا ہے۔ جبکہ آج مولانا فضل الرحمان کے ایک بیان سے معلوم ہوا ہے کہ پی ٹی وی کے ایم ڈی بھی قادیانی ہیں جن کا نام بیان میں موجود نہیں ہے۔ تحریک ختم نبوت کے رہنماؤں نے اپنے احتجاج میں عقیدۂ ختم نبوت سے قادیانیوں کے انحراف اور اس سلسلہ میں عام مسلمانوں کے حساس جذبات کا ذکر کیا ہے۔ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس مسئلہ کے ایک او رپہلو کا بھی جائزہ لیا جائے جس کا تعلق دستور پاکستان سے ہے، اور ان دنوں دستور کی بالادستی او ر عملداری کے حوالہ سے اعلیٰ سطح پر جو جذبات دیکھنے میں آرہے ہیں ان کے پیش نظر مسئلہ کے اس پہلو کو سامنے لانا ضروری بھی ہے۔

قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا شرعی فیصلہ تو ایک سو سال قبل ہی ہوگیا تھا جب مرزا غلام احمد قادیانی کے دعوائے نبوت کے باعث سب سے پہلے علماء لدھیانہ نے ان کے کافر ہونے کا اعلان کیا۔ اور پھر برصغیر پاکستان، ہندوستان اور بنگلہ دیش کے تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور دینی ادارے اس اعلان پر متفق ہوگئے، حتیٰ کہ پورے عالم اسلام کے علمی و دینی حلقوں نے اس اعلان کی تصدیق کر دی۔ آج پوری دنیا میں ملت اسلامیہ کے مسلم مکاتب فکر اور فقہی مذاہب میں کوئی ایک ادارہ یا شخصیت بھی ایسی نہیں ہے جو قادیانیوں کو کافر قرار دینے کے اس فیصلہ کی مؤید نہ ہو۔ البتہ پاکستان میں دستوری طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے پر خاصا وقت لگا اور اس کے لیے دینی حلقوں کو صبر آزما جدوجہد سے گزرنا پڑا۔

عقیدۂ ختم نبوت سے انکار کرنے والوں کے لیے عام مسلمانوں اور علماء کرام کے جذبات تو ابتداء سے یہی تھے کہ ایک اسلامی حکومت کو ان سے وہی معاملہ کرنا چاہیے جو خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ نے مسیلمہ کذاب اور دیگر منکرین ختم نبوت کے ساتھ کیا تھا۔ لیکن مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال مرحوم نے ان جذبات کو دستوری رخ دے دیا او ریہ تجویز پیش کی کہ قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ایک غیر مسلم اقلیت کے طور پر دوسری اقلیتوں کی طرح تسلیم کر لیا جائے۔ اس مسئلہ پر پنڈٹ جواہر لال نہرو کے ساتھ علامہ اقبالؒ کی خط و کتابت تاریخ کا ایک اہم حصہ ہے جس میں مفکر پاکستان نے قادیانیوں کے غیر مسلم ہونے اور انہیں مسلمانوں سے الگ حیثیت دینے کی اہمیت کو واضح کیا ہے۔ حتیٰ کہ قادیانیوں کے دوسرے خلیفہ مرزا بشیر الدین محمود نے بھی ایک دور میں برطانوی حکومت سے درخواست کی تھی کہ پارسیوں اور عیسائیوں کی طرح قادیانیوں کو بھی ایک جداگانہ مذہب کے پیروکار کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ لیکن برطانوی حکومت نے ابھی اس گروہ سے ایسے کام لینے تھے جن کے لیے اسے مسلمان کے طور پر پیش کرنا ضروری تھا اس لیے یہ درخواست قبولیت حاصل نہ کر سکی۔

البتہ پاکستان بننے کے بعد ملک کی دینی جماعتوں نے مفکر پاکستان علامہ محمد اقبالؒ کی اس تجویز کو اپنا مطالبہ بنا لیا کہ قادیانیوں کو دستوری طور پر مسلمانوں سے الگ اور غیر مسلم اقلیت قرار دیا جائے۔ اس مطالبہ کے لیے ۱۹۵۳ء کی خون آشام تحریک چلی جس میں ہزاروں مسلمانوں نے جام شہادت نوش کیا، پھر ایوب خان مرحوم کے دور میں ایک بار پھر تحریک ابھری مگر کوئی عملی نتیجہ برآمد نہ ہوا، اور پھر ۱۹۷۴ء میں عوامی تحریک کے نتیجے میں ملک کی منتخب پارلیمنٹ نے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا۔ اس طرح مفکر پاکستان علامہ محمد اقبال مرحوم کی یہ تجویز اسلامی جمہوریہ پاکستان کے دستور کا حصہ بن گئی کہ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکار ملت اسلامیہ کا حصہ نہیں ہیں اور وہ پاکستان میں دیگر اقلیتوں کی طرح ایک غیر مسلم اقلیت کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لیکن قادیانیوں نے اس فیصلہ کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا، جبکہ وہ عالم اسلام کے دینی و علمی حلقوں کے متفقہ فیصلے کو قبول کرنے سے پہلے ہی انکار کر چکے تھے، اب پارلیمنٹ کے متفقہ فیصلے اور ملک کے دستور کے ایک حصے کو بھی انہوں نے تسلیم نہیں کیا۔ جبکہ اس کے بعد اس آئینی فیصلے پر عملدرآمد کے سلسلہ میں ۱۹۸۴ء میں ایک اور عوامی تحریک کے نتیجے میں امتناع قادیانیت کا صدارتی آرڈینینس نافذ کر کے قادیانیوں کو اسلام کا نام اور مسلمانوں کی مخصوص مذہبی اصطلاحات کے استعمال سے روک دیا گیا تو قادیانیوں نے اسے بھی قبول نہیں کیا۔

ان دونوں فیصلوں کے خلاف قادیانی گروہ عالمی سطح پر مسلسل مہم جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ

  1. قادیانی گروہ نے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کے دستوری فیصلے اور اسلام کا نام او راصطلاحات استعمال کرنے سے منع کرنے والے آرڈینینس کو تسلیم کرنے سے صاف انکار کر رکھا ہے۔
  2. ان فیصلوں کے حوالہ سے عالمی اداروں اور لابیوں کے ذریعہ پاکستان کے خلاف کردار کشی کی مہم شروع کر رکھی ہے او رپاکستان کو قادیانیوں کے انسانی حقوق پامال کرنے کا مجرم ٹھہرایا جا رہا ہے۔
  3. اقلیتی کردار کو قبول نہ کرنے کی بنیاد پر جداگانہ الیکشن اور ووٹروں کی فہرست میں بطور غیر مسلم نام درج کرانے کا قادیانیوں نے مسلسل بائیکاٹ کر رکھا ہے۔
  4. خود کو واحد مسلمان گروہ قرار دے کر دنیا بھر کے سوا ارب کے لگ بھگ مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دینے کا اعلان کیا ہوا ہے۔

اس صورتحال میں مذہبی نقطۂ نظر کو ایک طرف رکھتے ہوئے دستوری لحاظ سے بھی یہ بات قابل توجہ ہے کہ کیا کوئی قادیانی اپنے مذہب اور جماعتی فیصلوں پر قائم رہتے ہوئے دستور پاکستان کا وفادار ہو سکتا ہے؟ اور اگر کوئی قادیانی اس سب کچھ کے ہوتے ہوئے وزارت کے منصب یا کسی اور عہدہ کے لیے دستور کی وفاداری کا حلف اٹھاتا ہے تو اس حلف کی حیثیت کیا ہے؟ ظاہر بات ہے کہ کنور ادریس نے سندھ کابینہ میں وزیر کی حیثیت سے حلف اٹھایا ہے تو اس میں دستور کی پابندی اور وفاداری کی بات بھی کی ہے، چنانچہ سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ اگر وہ قادیانی ہیں تو دستور پاکستان اور قادیانی جماعت دونوں میں سے کس کے وفادار ہیں، اور دستور کی وفاداری کا حلف اٹھاتے ہوئے قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے والی دستوری شق کے بارے میں ان کے جذبات کیا ہیں؟