بیجینگ کی خواتین عالمی کانفرنس

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ جنگ، لندن
تاریخ اشاعت: 
۸ ستمبر ۱۹۹۵ء

بیجینگ (چین) میں اقوام متحدہ کی چوتھی خواتین عالمی کانفرنس کا آغاز ہو چکا ہے جس میں خواتین کے حقوق اور مختلف معاشروں میں انہیں درپیش مسائل و مشکلات پر غور ہو رہا ہے اور ان کے حل کے لیے تجاویز تیار ہو رہی ہیں۔ گزشتہ سال قاہرہ (مصر) میں بھی اس نوعیت کی کانفرنس منعقد ہو چکی ہے جس کی منظور کردہ سفارشات اور تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے بے جنگ کی خواتین کانفرنس کے بنیادی اہداف و مقاصد کو سمجھنا مشکل نہیں ہے۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ ان کانفرنسوں کا اصل مقصد تیسری دنیا اور عالم اسلام کی خواتین کو معاشرتی لحاظ سے اس مقام اور حیثیت پر لانا ہے جو مغربی معاشرہ میں عورت کو حاصل ہے اور جسے خواتین کے حقوق کے حوالے سے آئیڈیل مقام قرار دیا جا رہا ہے۔

جہاں تک خواتین کے جائز حقوق اور ان کے صحیح اور شایان شان معاشرتی مقام و مرتبہ کا تعلق ہے تو یہ بات شک و شبہ سے بالاتر ہے کہ دنیا میں اس وقت کسی جگہ بھی مجموعی طور پر خواتین کو معاشرہ میں وہ مقام و حیثیت حاصل نہیں ہے جو حوا کی ان بیٹیوں کا جائز اور فطری حق ہے۔ ہمارے نزدیک اس معاملہ میں مغرب کے ترقی یافتہ ممالک، تیسری دنیا کے ممالک، اور عالم اسلام کے ترقی پذیر و پسماندہ ممالک سب ہی تھوڑے بہت فرق کے ساتھ یکساں طور پر قصوروار ہیں۔ اس لیے اگر خواتین کی ان عالمی کانفرنسوں کا مقصد صرف یہ ہو کہ خواتین کے ساتھ ہونے والی معاشرتی ناانصافیوں کے خلاف آواز بلند کی جائے اور کسی سوسائٹی کا امتیاز کیے بغیر عورت کے جائز اور فطری معاشرتی مقام و مرتبہ کی بحالی کے لیے جدوجہد کی جائے تو یہ انتہائی خوش آئند بات ہوگی۔ اور اس صورت میں ملت اسلامیہ کے اہل علم و دانش کی بھی ذمہ داری ہوگی کہ وہ اس جدوجہد میں شریک ہوں اور اس کے حق میں عالم اسلام کی رائے عامہ کو ہموار کرنے کی کوشش کریں۔ لیکن قاہرہ کانفرنس کی سفارشات کا مقصد عورتوں کے حقوق و مقام کے تعین اور اس کے لیے جدوجہد کا نہیں بلکہ خواتین کے حوالے سے ویسٹرن سولائزیشن کو آئیڈیل اور معیار قرار دینے اور دنیا بھر کے انسانی معاشروں کو اس کی پیروی پر مجبور کرنے کا بن گیا ہے۔ یہ وہ دوراہا ہے جہاں تیسری دنیا اور عالم اسلام کے دانشوروں کا راستہ مغربی دانشوروں اور میڈیا کاروں سے الگ ہو جاتا ہے، اور وہ ان کانفرنسوں کو خواتین کے حقوق کی بحالی کی بجائے ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی قائم کرنے کی جدوجہد کا ایک حصہ قرار دے کر ان سے اختلاف کر رہے ہیں۔

عالم اسلام کی بدقسمتی یہ ہے کہ ایک آدھ کی جزوی استثناء کے ساتھ اس کے تمام ممالک پر ابھی تک دورِ غلامی کے اثرات کا غلبہ ہے اور عالمی استعمار کی مداخلت اور سازش کی وجہ سے مسلم ممالک کا معاشرتی نظام اسلامی اصولوں پر استوار نہیں ہو سکا۔ چنانچہ دنیا میں کہیں بھی اسلامی معاشرہ کا وہ مثالی ڈھانچہ موجود نہیں ہے جسے بطور نمونہ پیش کیا جا سکے۔ اس لیے مغربی میڈیا کار اس بات میں آسانی محسوس کر رہے ہیں کہ مسلم ممالک کے موجودہ معاشرتی ڈھانچوں کو اسلام کا نمائندہ قرار دے کر ان تمام نا انصافیوں اور حق تلفیوں کو اسلام کے کھاتے میں ڈال دیں جو ان ممالک میں سیاسی، معاشرتی، اور معاشی طور پر روا رکھی جا رہی ہیں۔ ورنہ جہاں تک حقوق کا تعلق ہے، معاشرے کے کسی طبقہ کو سامنے رکھ لیں، اس کے حقوق اور ذمہ داریوں میں اسلام نے جو توازن قائم کیا ہے دنیا کا کوئی دوسرا نظام اس کی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اور آج مغرب اپنی آزادی کی بے اعتدالیوں کے فطری نتائج دیکھنے کے بعد اسی توازن کی تلاش میں سرگرداں دکھائی دے رہا ہے۔

عورت ہی کو لے لیجیے، اسلام نے اسے معاشرہ میں بیٹی، بہن، بیوی، اور ماں کے طور پر شفقت، محبت، اور احترام کا مقام دیا۔ مگر ان چار جائز رشتوں سے ہٹ کر ’’پانچواں رشتہ‘‘ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جو کہ آج ویسٹرن سولائزیشن کا طرۂ امتیاز ہے۔ اور جسے جائز تسلیم کرانے اور قانونی تحفظ دلانے کے لیے عالمی سطح پر خواتین کی کانفرنسوں کا اہتمام ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ لیکن مغرب خود اس بارے میں کنفیوژن کا شکار ہے۔ ایک طرف مسٹر گورباچوف کا کہنا ہے کہ ہم نے عورت کو گھر سے نکال کر دفتر اور فیکٹریاں تو آباد کر لیں لیکن اپنا فیملی سسٹم تباہ کر لیا اور اب عورت کو واپس گھر لے جانے کا کوئی راستہ نظر نہیں آرہا۔ امریکہ کی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن نے اپنے دورۂ اسلام آباد میں کھلم کھلا کہا کہ امریکی معاشرے کا سب سے بڑا مسئلہ لڑکی کا کنوارپن میں ماں بن جانا ہے۔ اور برطانوی وزیراعظم جان میجر ’’بنیادوں کی طرف واپسی‘‘ (Back to basis) کا نعرہ لگا کر ان خواتین کی حوصلہ افزائی کے لیے پالیسیاں وضع کر رہے ہیں جو بچوں کی دیکھ بھال کے لیے گھروں میں رہنے کو ترجیح دیتی ہیں۔ لیکن اس سب کچھ کے ساتھ دوسری طرف مغربی دانشور ان خواتین کانفرنسوں کے ذریعے تیسری دنیا اور عالم اسلام کو اسی دلدل میں آگے بڑھنے کی دعوت بھی دے رہے ہیں جس سے نکلنا خود ان کے لیے مشکل تر ہوگیا ہے۔

اسلام کا ’’قصور‘‘ یہ ہے کہ اس نے عورت کو ان زائد ذمہ داریوں کا سزاوار نہیں ٹھہرایا جو اس کے فطری فرائض سے متصادم ہیں، اور بچے کی پیدائش و پرورش اور خانہ داری کے فرائض کے بعد معاشی کفالت کا بوجھ اس پر نہیں ڈالا۔ مگر مغرب نے معاشی کفالت کے لیے ملازمت اور محنت مزدوری کو ڈیوٹی اور فرائض کی فہرست سے نکال کر حقوق کی فہرست میں شامل کر دیا اور یوں معاشی مساوات کے پر فریب نعرے کے ساتھ عورت کو دوہری ذمہ داریوں کے شکنجے میں کس دیا۔ جبکہ بے چاری عورت خوش ہے کہ اس نے مرد کے برابر معاشرتی حقوق حاصل کر لیے ہیں۔ اب بے جنگ کانفرنس میں ایسی ہی آزادی اور حقوق حاصل کرنے کی کوشش ہو رہی ہے جس نے رشتوں کا تقدس ختم کر کے آزادی اور مساوات کے نام پر ایسے طرز معاشرت کی داغ بیل ڈالی اور مرد و عورت کے آزادانہ اختلاط کو فروغ دیا۔ جس کے منطقی اور فطری نتائج یہ ہیں کہ کنواری ماؤں اور ناجائز بچوں کے تناسب میں دن بدن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، فیملی سسٹم تباہی کے دھانے پر کھڑا ہے، اور ماں باپ کی شفقت سے محروم بچوں میں نفسیاتی امراض روز مرہ سامنے آرہے ہیں۔ بلکہ اس لحاظ سے مغرب کی عورت انسانی معاشرہ کی مظلوم ترین عورت ہے کہ لڑکپن سے جوانی تک جب اسے تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے تو وہ جنسی ہوسناکیوں کا شکار گاہ بنتی رہتی ہے، اور جوانی ڈھل جانے کے بعد جب خدمت اور احترام اس کی ضرورت ہوتی ہے تو اسے اولڈ پیپلز ہوم میں دھکیل دیا جاتا ہے جہاں وہ سال کے ان مخصوص دنوں کے انتظار میں زندگی گزارتی ہے کہ کب اس کے جوان بیٹے اور بیٹیاں کاغذی پھولوں کا گلدستہ لیے اسے دیکھنے آئیں گے۔

گزشتہ سال قاہرہ میں ہونے والی خواتین کی عالمی کانفرنس میں جو سفارشات کی گئیں ان میں اسقاط حمل کو قانونی تحفظ دینے ، کنڈوم کی کھلم کھلا اور عام فراہمی کو یقینی بنانے، بن بیاہی ماں کو سماجی تحفظ فراہم کرنے، اور ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر تسلیم کرنے کی سفارشات شامل ہیں۔ حالانکہ یہ وہی اسباب ہیں جنہوں نے مغربی معاشرہ کو رشتوں کے تقدس اور خاندانی نظام سے محروم کیا ہے۔ حتیٰ کہ گورباچوف، ہیلری کلنٹن، اور جان میجر جیسے لیڈر بھی اس تباہ کاری پر چیخ اٹھے ہیں۔ مگر عالم اسلام اور تیسری دنیا کو مجبور کیا جا رہا ہے کہ وہ ان اسباب کو اختیار کریں اور جنسی انارکی کی دلدل میں پھنس کر رشتوں کے تقدس اور خاندانی زندگی کو مغرب کی خواہشات پر قربان کر دیں۔

چنانچہ بے جنگ کی ’’عالمی خواتین کانفرنس‘‘ میں اقوام متحدہ کے پالیسی سازوں اور خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والے اداروں و دانشوروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ خواتین کے حوالے سے اپنی مہم کے اہداف اور ترجیحات پر نظر ثانی کریں اور اسے ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی کی جنگ بنانے کی بجائے انسانی معاشرہ اور عالمی برادری میں خواتین کے جائز اور فطری مقام و حیثیت کے تعین اور اس کی بحالی کی جدوجہد کا درجہ دیں۔ لیکن اگر ’’بے جنگ کانفرنس‘‘ کی سفارشات و تجاویز کا تانا بانا بھی ’’قاہرہ کانفرنس‘‘ کی سفارشات سے ہی بنا گیا تو ہمارے نزدیک یہ ساری تگ و دو عالم اسلام اور تیسری دنیا کو ان کے کلچر سے محروم کرنے، بالخصوص مسلم دنیا کو خاندانی زندگی کے بارے میں ان کے بنیادی مذہبی احکام سے منحرف کرنے کی عالمی مہم کا حصہ متصور ہوگی۔ اور عالم اسلام کے دینی ادارے اس قسم کی سفارشات و تجاویز کو مسلم معاشرہ میں نفوذ کا راستہ دینے کے لیے کسی صورت بھی تیار نہیں ہوں گے۔

درجہ بندی: