اسامہ بن لادن اور امریکی تحریک آزادی کے جنگجو

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۱ مارچ ۲۰۰۳ء
اصل عنوان: 
عراق پر امریکی حملہ اور دہشت گردی کا واویلا

ایک معاصر اخبار نے این این آئی کے حوالے سے یہ خبر شائع کی ہے کہ امریکی کانگریس کی ایک خاتون رکن مارکی کیپٹر (Marcy Kaptur) نے اسامہ بن لادن کو دہشت گرد قرار دینے کے موقف سے اختلاف کیا ہے اور کہا ہے کہ اسامہ بن لادن مذہبی طور پر آزادی کی جنگ لڑنے والے انقلابی رہنماؤں کی طرح ہیں جیسا کہ امریکہ میں ۱۷۷۰ء میں ورماؤنٹ ملیشیا نے برطانوی سامراج کے خلاف اسی طرح کی جدوجہد کی تھی۔ مارکی کیپٹر کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ وہ اوہایو ڈسٹرکٹ سے گیارہویں بار کانگریس کی رکن منتخب ہوئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ عرب اور اسلامی دنیا کی ظالم حکومتوں کے خلاف بھی اسی طرح کی انقلابی تحریکیں شروع ہو چکی ہیں جس طرح کی تحریکیں برطانوی سامراج کے خلاف شروع ہوئی تھیں اور اس انقلاب کو دہشت گردی کا نام دینا قابل قبول نہیں ہے۔

ہم تو ابتداء سے ہی یہ عرض کر رہے ہیں کہ ’’دہشت گردی‘‘ کا عنوان صرف ان کارروائیوں کو جواز فراہم کرنے کے لیے اختیار کیا گیا ہے جو عالم اسلام میں عالمی استعمار کے آہنی شکنجے کو توڑنے اور مسلم ممالک و اقوام کی خودمختاری کی بحالی کے لیے اٹھنے والی تحریکوں کو کچلنے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اور جن کارروائیوں کا واحد مقصد عالم اسلام میں حریت فکر اور خودمختاری کے جذبات کو دبا کر عالمی استعمار کے شکنجے کو دوبارہ مستحکم کرنا ہے تاکہ استعماری قوتیں کسی رکاوٹ اور احتجاج کا سامنا کیے بغیر مسلم دنیا کے وسائل کی لوٹ کھسوٹ جاری رکھ سکیں اور مسلم ممالک کی سیاست و معیشت پر ان کا کنٹرول بدستور قائم رہے۔

اسامہ بن لادن کی جدوجہد اور اس کے عزائم و مطالبات پر ایک نظر ڈال لیجیے کہ طریقہ کار سے اختلاف کی گنجائش کے باوجود یہ دیکھنے اور سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ یہ سب کچھ آخر کیوں کر رہا ہے اور اسے اس کی ضروت کیوں پیش آئی ہے؟ اسامہ بن لادن سعودی عرب کے کھاتے پیتے گھرانے کا فرد ہے جس کی ولادت و پرورش شہزادوں کی طرح ہوئی ہے۔ لیکن اس نے افغانستان پر روس کے مسلح حملہ کے خلاف افغان عوام کی جدوجہد کا ساتھ دیا اور جہاد کے دینی جذبہ کے ساتھ اس میں شرکت کی۔ اس نے نہ صرف خود جہاد میں عملاً حصہ لیا بلکہ ہزاروں مجاہدین کے اخراجات برداشت کیے اور مجاہدین کے مختلف گروپوں کی بے پناہ مالی امداد کی۔ اسے سوویت یونین کے خلاف اس جنگ میں امریکہ کی حمایت حاصل تھی، مغربی اور مسلم ممالک بھی اس جدوجہد میں تعاون کر رہے تھے، اور اس کا تذکرہ عالمی میڈیا میں ایک مجاہد اور حریت پسند کے طور پر ہوتا تھا۔ لیکن سوویت یونین کی افغانستان سے پسپائی کے بعد جب اسامہ بن لادن نے سعودی عرب واپس جا کر خلیج عرب میں امریکی فوجوں کی بلاجواز موجودگی کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی اور سعودی عرب کے داخلی نظام میں اصلاحات کے لیے آواز اٹھائی تو وہ اچانک ’’مجاہد آزادی‘‘ کے تمغہ سے محروم ہو کر ’’دہشت گرد‘‘ ہونے کے الزام کا ہدف قرار پا گیا۔

اسامہ بن لادن کے دو ہی مطالبے تھے اور ہیں۔

  1. ایک یہ کہ امریکہ اور اس کے اتحادی خلیج عرب سے اپنی فوجیں واپس بلالیں۔
  2. اور دوسرا یہ کہ سعودی عرب کے داخلی نظام میں شریعت اسلامیہ کے مطابق اصلاحات کی جائیں۔

دنیا کا کوئی باشعور اور انصاف پسند شخص ان دو مطالبوں کی معقولیت سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ یہ بات پوری دنیا پر واضح ہو چکی ہے کہ خلیج عرب میں امریکہ اور اس کے حواریوں کی افواج تیل کے چشموں پر قبضہ اور اسرائیل کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے براجمان ہیں۔ ان فوجوں کی خلیج عرب میں موجودگی اس خطہ کے بہت سے ملکوں کی خودمختاری کو مجروح کر رہی ہے اور عوام کی مرضی اور رائے کے خلاف شخصی آمریتوں کو تحفظ فراہم کرنے کا باعث بنی ہوئی ہے۔ خلیجی ممالک کے عوام کی اکثریت رائے کی آزادی، ووٹ کے حق، اور دیگر شہری و انسانی حقوق سے محروم ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ خلیج میں امریکی افواج کی موجودگی ہے۔

امریکہ نصف صدی قبل اقوام متحدہ کے قیام کے بعد سے دنیا بھر میں جن شہری آزادیوں اور انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے اور اقوام متحدہ کے بنیادی حقوق کے چارٹر کا علمبردار بنا بیٹھا ہے، ان میں سے بیشتر حقوق خلیج عرب کے خطہ میں ایک سوالیہ نشان بنے ہوئے ہیں۔ اور یہ صورتحال صرف اور صرف امریکی پالیسیوں، ترجیحات، اور اس کی افواج کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔ اس لیے اسامہ بن لادن اگر خلیج عرب سے امریکی فوجیوں کی واپسی کا مطالبہ کرتا ہے تو یہ عرب عوام کے جائز حقوق کی بحالی کا مطالبہ ہے۔ لیکن امریکہ اور اس کے حواری اسامہ بن لادن کے اس جائز، اصولی اور منطقی مطالبے پر کان دھرنے کی بجائے مطالبہ کرنے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر دنیا کی توجہ عرب عوام کے جائز حقوق سے ہٹانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

سعودی عرب کے داخلی نظام میں شریعت اسلامیہ کے مطابق اصلاحات کا مطالبہ بھی ناروا اور غیر معقول نہیں ہے اس لیے کہ خود سعودی حکومت اس بات کو کھلم کھلا تسلیم کرتی ہے کہ سعودی نظام کی بنیاد قرآن و سنت پر ہے۔ جبکہ سعودی حکومت کے سرکردہ علمائے کرام کو یہ شکایت ہے کہ تعلیم اور عدالت کے دائروں کے سوا ملک کے باقی قومی شعبوں میں گزشتہ ربع صدی کے دوران جو تبدیلیاں آئی ہیں وہ قرآن و سنت کے احکام کے منافی ہیں۔ ان میں بہت سی اصلاحات و ترمیمات کی ضرورت ہے جنہیں سعودی عرب کے سابق چیف جسٹس الشیخ محمد بن ابراہیمؒ سعودی حکمرانوں کے نام اپنے خطوط میں واضح کر چکے ہیں، یہ خطوط ان کے فتاویٰ میں مطبوعہ صورت میں موجود ہیں۔ اور اب سے دس سال قبل سعودی عرب کے دو سو سے زائد سرکردہ علمائے کرام اور دانشور ایک ’’عرضداشت‘‘ کی صورت میں اس حوالے سے اپنے مطالبات تفصیل کے ساتھ سعودی فرمانروا کو پیش کر چکے ہیں۔ چنانچہ اسامہ بن لادن اگر وہی مطالبات دہرا کر سعودی عرب کے داخلی نظام میں شرعی اصلاحات کی بات کرتا ہے تو وہ کوئی ناجائز بات نہیں کرتا اور اس وجہ سے اسے گردن زنی کا مستحق قرار دینے کا کوئی جواز نہیں ہے۔

البتہ اپنے مطالبات کے لیے اسامہ بن لادن کے طریق کار پر گفتگو کی گنجائش موجود ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا بھی ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ اگر اپنے ملک میں بلکہ پورے خطے میں سیاسی عمل اور رائے عامہ کے حوالے سے جدوجہد منظم کرنے کا کوئی راستہ موجود ہوتا اور اسامہ بن لادن اس محفوظ اور پر امن راستے کو ترک کر کے تشدد کا راستہ اختیار کرتا تو شاید ہم بھی اس کی جدوجہد کے طریق کار کو غلط قرار دینے والوں میں شامل ہوتے۔ کیونکہ ہم اس بات پر پختہ یقین رکھتے ہیں کہ دین یا سیاست میں کسی بھی حوالے سے اصلاح احوال کی جدوجہد کے لیے پر امن راستہ موجود ہو تو تشدد کا راستہ اختیار کرنا جائز نہیں ہے۔ ہمارے نزدیک تشدد ایک آخری حربہ ہے جو مظلوم قومیں اور طبقات اپنے وجود، تشخص، اور خودمختاری کے تحفظ کے لیے امن کے سارے راستے مسدود ہو جانے پر مجبورًا اختیار کیا کرتے ہیں۔ اور اسے تمام اقوام و ممالک کے ہاں یکساں طور پر ایک جائز حق کی صورت میں مسلمہ اصول کی حیثیت حاصل ہے۔ امریکی حریت پسندوں نے بھی اسی وجہ سے تشدد کا راستہ اختیار کیا تھا اور آزادی کے حصول کے لیے ہتھیار اٹھائے تھے۔ اور اس بات کے ثبوت کے لیے مارکی کیپٹر کے حوالے کی ضرورت نہیں ہے، خود امریکہ کی تحریک آزادی پر ایک نظر ڈال لیجیے۔ آپ کو ایسے سینکڑوں اسامہ بن لادن نظر آئیں گے جنہوں نے برطانوی سامراج کے تسلط کے خلاف ہتھیار اٹھائے، مسلح جنگ کی، شب خون مارے، ہزاروں متعلقہ اور غیر متعلقہ لوگوں کا خون بہایا، خود اپنی جانوں کی قربانی پیش کی، اور آگ و خون کا ایک طویل صحرا عبور کر کے امریکہ کو آزادی اور خودمختاری کی منزل سے ہمکنار کیا۔

ہمارے ہاں جنوبی ایشیا میں بھی برطانوی سامراج کے تسلط سے نجات حاصل کرنے کے لیے بیسیوں تحریکیں اٹھیں، شہدائے بالاکوٹ، مجاہدین ۱۸۵۷ء، علمائے صادق پور، سندھ کے حر مجاہدین، پنجاب کے سردار احمد خان کھرلؒ، صوبہ سرحد کے فقیر ایپیؒ، نواب صاحبؒ ترنگزئی، حاجی شریعت اللہؒ، تیتومیر شہیدؒ، اور امیر المجاہدین حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ جیسے سینکڑوں مجاہدین آزادی کے کارنامے ہماری ملی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں جن کا نام لے کر ہم سر فخر سے بلند کرنے کے قابل ٹھہرتے ہیں۔ یہ سب اپنے اپنے دور کے اسامہ بن لادن ہی تھے۔ ان کی جدوجہد کا طریقہ کار اور اہداف بھی وہی تھے جو آج اسامہ بن لادن کا ہدف اور طریقہ کار ہے۔ اس لیے جب اسامہ بن لادن کو دہشت گرد کہا جاتا ہے تو یوں لگتا ہے جیسے شہدائے بالاکوٹ سے لے کر فقیر ایپیؒ تک آزادی کے تمام مجاہدین کو دہشت گردوں کی لائن میں کھڑا کر دیا گیا ہے۔ بلکہ برطانوی استعمار کے تسلط کے خلاف امریکہ کی آزادی کے لیے مسلح جنگ لڑنے والے وہ تمام حریت پسند بھی اسی صف میں کھڑے دکھائی دیتے ہیں جن کا محترمہ مارکی کیپٹر نے اپنے بیان میں تذکرہ کیا ہے۔

این این پی کی رپورٹ کے مطابق محترمہ مارکی کیپٹر کے اس بیان پر امریکی حلقوں میں خاصی لے دے ہو رہی ہے اور رپورٹ کے الفاظ میں امریکی حکومت میں کھلبلی سی مچی ہوئی ہے، بہت سے ارکان اس پر غم و غصہ کا اظہار کر رہے ہیں۔ لیکن ایوان کے اکثریتی لیڈر نے ارکان کو مشورہ دیا ہے کہ اس بیان کی مذمت نہ کی جائے اور اس معاملے کو احتیاط کے ساتھ دیکھا جائے کیونکہ یہ حساس معاملہ ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے اپنے سامراجی عزائم کو آگے بڑھانے کے لیے عالمی سطح پر یک طرفہ پروپیگنڈہ اور مسلم مجاہدین کی کردار کشی کی مہم کا جو تانا بانا تیار کر رکھا تھا، وہ بکھر رہا ہے۔ اور نہ صرف یہ کہ دنیا بھر کے عوام نے معاملات کو ان کے اصل پس منظر میں دیکھنا شروع کر دیا ہے، جیسا کہ گزشتہ ماہ دنیا کے سینکڑوں شہروں میں ہونے والے زبردست احتجاجی مظاہروں سے واضح ہوگیا ہے، بلکہ انصاف پسند امریکی راہنماؤں نے بھی امریکی حکومت کے موقف اور ڈکٹیشن کو قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لیکن انسانی ضمیر اور عالمی رائے عامہ کی یہ صدائے احتجاج بھی عراق کے خلاف امریکہ کے جنگی جنون کے اظہار میں رکاوٹ نہیں بن سکی۔ اس نے عراق پر حملہ کر دیا ہے اور اس کی توپیں، میزائل، اور بمبار طیارے عراقی عوام پر آتش و آہن کی بارش کر رہے ہیں۔ اب دنیا یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ کیا خود امریکہ دہشت گردی کا مرتکب نہیں ہو رہا؟

درجہ بندی: