تحریک نفاذِ شریعتِ محمدیؐ ۔ مقاصد اور جدوجہد کے پس منظر میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ جنگ، لندن
تاریخ اشاعت: 
۲۲ اگست ۱۹۹۵ء

مالاکنڈ ڈویژن میں ’’تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ‘‘ کے کارکن ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے ہیں اور ریاستی فورسز کے ساتھ ان کے مسلح تصادم کا تکلیف دہ عمل دوبارہ شروع ہوگیا ہے۔ اس سے قبل ایک سے زائد مرتبہ یہ خطہ اس قسم کے مراحل سے گزر چکا ہے اور گزشتہ سال ایسی ہی صورتحال میں سرحد اسمبلی کے ایک رکن سمیت درجنوں افراد اس تصادم کی نذر ہو چکے ہیں۔ راقم الحروف نے گزشتہ سال دسمبر میں اس خطہ کا دورہ کر کے تحریک کے پس منظر اور اس کے مختلف مراحل کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ مرتب کی تھی۔ نئے معروضی حالات کی روشنی میں اس رپورٹ کا خلاصہ کچھ مزید معروضات کے اضافہ کے ساتھ قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

مالاکنڈ ڈویژن پاکستان کے شمال میں جس خطہ پر مشتمل ہے اس میں تین سابق ریاستوں سوات، دیر، چترال کے علاوہ مالاکنڈ کا صوبائی حکومت کے زیرانتظام قبائلی علاقہ شامل ہے۔ سوات، دیر اور چترال ماضی میں اندرونی طور پر خودمختار ریاستیں تھیں جن کے سربراہ بالترتیب والی، نواب، اور مہتر کہلاتے تھے۔ ان ریاستوں کا عدالتی نظام بھی اپنا اپنا تھا۔ سوات میں قاضی عدالتیں قائم تھیں جن میں مقدمات کے فیصلے شریعت کے مطابق ہوتے تھے اور لوگوں کو جلد اور سستا انصاف مل جاتا تھا۔ بالخصوص قتل کے مقدمات میں فریقین کو لمبی مدت تک مقدمات کے مراحل سے نہیں گزرنا پڑتا تھا۔ صدر یحییٰ خان کے دور میں ان ریاستوں کی جداگانہ حیثیت ختم کر کے انہیں پاکستان میں ضم کر لیا گیا اور تینوں ریاستوں کو صوبہ سرحد میں الگ الگ ضلع کی حیثیت دے کر اور مالاکنڈ کا کچھ علاقہ ان کے ساتھ شامل کر کے مالاکنڈ ڈویژن قائم کر دی گئی۔

صوبہ سرحد میں ضم ہونے کے ساتھ ہی ان علاقوں کے جداگانہ انتظامی اور عدالتی نظام ختم ہوگئے۔ پاکستان میں مروجہ عدالتی نظام کے تحت ان اضلاع میں سیشن اور سول کورٹس قائم ہوگئیں اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ ان علاقوں تک وسیع ہوگیا۔ اس خطہ کے عوام کے لیے یہ نیا عدالتی نظام اجنبی تھا جو ان کے عقیدہ کے مطابق شرعی نظام نہیں تھا اور وہ ایک ایک مقدمہ کے لیے کئی کئی سال تک تاریخیں بھگتنے کے عادی بھی نہیں تھے اس لیے وہ جلد ہی اس سے اکتا گئے۔ 1975ء میں دیر میں جنگلات کی رائلٹی کے حوالہ سے ایک عوامی تحریک ابھری تو اس کے مطالبات میں عدالتی نظام کی تبدیلی کا پرجوش مطالبہ بھی شامل ہوگیا۔ لوگوں کا کہنا تھا کہ ہمیں پہلے والا عدالتی نظام واپس کیا جائے جس میں مقدمات کے فیصلے جلدی اور شریعت کے مطابق ہوتے تھے۔ اس وقت کے وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو مرحوم نے اس مطالبے کو اس حد تک تو منظور کر لیا کہ پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام مالاکنڈ ڈویژن میں معطل کر دیا مگر سابقہ عدالتی نظام بحال کرنے کی بجائے ایک نیا عدالتی نظام فاٹا ریگولیشن کے نام سے رائج کر دیا جس میں عدالتیں قائم کرنے اور مقدمات کی اپیلیں سننے کے اختیارات ڈپٹی کمشنر کو دے دیے گئے جس کے فیصلوں کے خلاف اوپر کی کسی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتا تھا۔

یہ نیا نظام نہ شرعی تھا کہ علماء اور دیندار عوام اس سے مطمئن ہو کر اس کا ساتھ دیتے اور نہ ہی آئین کے تقاضوں کو پورا کرتا تھا کہ وکلاء کے لیے قابل قبول ہوتا۔ چنانچہ وکلاء کے ایک گروپ نے اس عدالتی سسٹم کو دستور پاکستان میں دیے گئے بنیادی حقوق سے متصادم قرار دیتے ہوئے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا، جبکہ علمائے کرام بھی اسے غیر شرعی نظام قرار دیتے ہوئے اپنے اجتماعات میں اسے ختم کرنے کا مطالبہ کرتے رہے۔ لیکن دونوں طبقوں کے موقف اور اہداف میں بنیادی فرق تھا۔ ایک فریق فاٹا ریگولیشن کو ختم کر کے اس کی جگہ پاکستان کے مروجہ عدالتی نظام کی بحالی چاہتا تھا جبکہ دوسرا فریق اس کی جگہ سابقہ ریاستی عدالتی نظام یا بقول اس کے شرعی عدالتی نظام قائم کرنا چاہتا تھا۔ پشاور ہائی کورٹ نے فاٹا ریگولیشن کے خلاف وکلاء کی رٹ کی طویل سماعت کے بعد 1990ء میں دستور پاکستان سے متصادم قرار دے کر اسے ختم کرنے کا فیصلہ صادر کر دیا۔ مگر اس وقت کے صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ جناب آفتاب احمد شیرپاؤ نے اس فیصلہ کو قبول کرنے کی بجائے اسے سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا راستہ اختیار کیا جسے سپریم کورٹ نے گزشتہ سال اس وقت مسترد کر دیا جب جناب آفتاب احمد خان شیرپاؤ دوسری بار صوبہ سرحد کے وزیر اعلیٰ بن چکے تھے۔ سپریم کورٹ کی طرف سے صوبائی حکومت کی اپیل کو مسترد کرنے اور فاٹا ریگولیشن کے خلاف پشاو رہائی کورٹ کا فیصلہ بحال رکھنے کے بعد دستوری طور پر پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام مالاکنڈ ڈویژن میں بحال ہوگیا جو فاٹا ریگولیشن کے نفاذ سے پہلے موجود تھا اور جسے معطل کر کے فاٹا ریگولیشن نافذ کیا گیا تھا۔

یہ وہ مرحلہ ہے جب تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ دوبارہ منظم ہوئی اور ایک عوامی قوت بن کر ابھری۔ اب اس تحریک کی قیادت صوفی محمد کے ہاتھ میں تھی جو دیر کے دارالعلوم میدان کے استاد ہیں، کافی عرصہ تک جماعت اسلامی کے ساتھ منسلک رہے ہیں اور ڈسٹرکٹ کونسل دیر کے رکن بھی رہے ہیں۔ اب وہ کسی جماعت میں شامل نہیں ہیں بلکہ دینی جماعتوں کے الگ الگ وجود، ووٹ سسٹم، اور مروجہ سیاسی نظام میں شریک ہونے کو حرام سمجھتے ہیں۔ تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کا بنیادی مطالبہ یہ تھا کہ فاٹا ریگولیشن کے خاتمہ کے بعد اس کی جگہ پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام رائج کرنے کی بجائے قاضی عدالتیں قائم کی جائیں جو قرآن و سنت کے مطابق مقدمات کے فیصلے کریں۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ پاکستان کا مروجہ عدالتی نظام شرعی نہیں ہے اس لیے اس خطہ کے عوام کے لیے قابل قبول نہیں ہے اور پھر اس عدالتی نظام میں مقدمات کے فیصلے جلد نہیں ہوتے اور کئی کئی سال تک فریقین کو عدالتوں کے چکر لگانے پڑتے ہیں جس سے انصاف کا حصول مشکل ہو جاتا ہے اور نئے نئے تنازعات اور مسائل کھڑے ہوتے رہتے ہیں اس لیے وہ اس نظام کو قبول نہیں کریں گے۔

مالاکنڈ ڈویژن بالخصوص سوات کے عوام اس سے قبل قاضی عدالتوں کی صورت میں جھٹ مقدمہ پٹ فیصلہ کا منظر کم از کم ایک صدی سے دیکھتے چلے آرہے تھے اور غیور مسلمان ہونے کے ناتے سے شریعت کے ساتھ ان کی وابستگی بھی جذباتی ہے اس لیے دیکھتے ہی دیکھتے پورے علاقہ کے لوگ اس تحریک کے پلیٹ فارم پر مجتمع ہوگئے۔ گزشتہ سال موسم سرما کے آغاز میں تیس ہزار سے زائد افراد نے اپنے مطالبات کے لیے روڈ بلاک کر دیا اور یہ لوگ اس ٹھنڈے علاقے کے موسم سرما میں کم و بیش ایک ہفتے تک سڑک پر کھلے آسمان کے نیچے ڈیرہ ڈالے رہے کہ جب تک ان کا مطالبہ منظور نہ ہوگا وہ یہاں سے نہیں ہٹیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور حکومت کو ان کا مطالبہ منظور کرتے ہوئے شریعت آرڈینینس کے نفاذ کا وعدہ کرنا پڑا جس پر لوگ اپنے گھروں کو واپس ہوئے۔ اس دوران مختلف مقامات پر تصادم بھی ہوا جس میں ایک ایم پی اے سمیت درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے۔

مگر صوبائی حکومت نے تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے ساتھ کیے گئے وعدہ کے نتیجے میں جو شریعت آرڈینینس نافذ کیا وہ الفاظ کے گورکھ دھندے کے سوا کچھ نہیں تھا۔ اسی مروجہ عدالتی سسٹم کو جسے عرف عام میں انگریزی قوانین کا نظام کہا جاتا ہے برقرار رکھتے ہوئے اس میں سیشن جج کو ’’ضلع قاضی‘‘ جبکہ سول جج کو ’’علاقہ قاضی‘‘ کا نام دے دیا۔ البتہ ہر قاضی کو علاقہ کے سرکردہ حضرات پر مشتمل پینل بنانے کا اختیار دیا گیا جن کا کام آرڈینینس کے مطابق یہ ہے کہ اگر مقدمہ میں دونوں فریق تحریری طور پر شریعت کے مطابق فیصلہ کی درخواست کریں تو وہ مقدمہ اسی پینل یا اس میں کچھ افراد کے سپرد کیا جا سکے گا اور اس کا فیصلہ وہ کریں گے۔ مگر اس پینل میں شامل کیے جانے کے لیے آرڈینینس میں تعلیم اور اہلیت کا کوئی معیار مقرر نہیں کیا گیا، صرف یہ کہا گیا ہے کہ ایسے افراد پینل میں شامل کیے جائیں گے جو اچھی شہرت کے حامل ہوں۔ شریعت آرڈینینس کے نفاز کے بعد تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے رہنماؤں نے اس پر اطمینان کا اظہار تو نہیں کیا لیکن وقتی طور پر طرز عمل میں نرمی اختیار کرلی۔ شاید وہ یہ چاہتے تھے کہ لوگ خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں کہ یہ آرڈینینس شرعی قوانین کے عملی نفاذ کے تقاضوں کو پورا کرنے میں کہاں تک موثر ثابت ہوتا ہے۔

راقم الحروف نے دسمبر میں دورہ سوات کے بعد اپنی رپورٹ میں شریعت آرڈینینس کے بارے میں یہ وضاحت کر دی تھی کہ اس کی حیثیت کاغذ کے ایک پرزے کے سوا کچھ نہیں ہے جس کے ذریعے صوبائی حکومت نے مالاکنڈ ڈویژن کے سادہ لوح عوام کو بہلانے کی کوشش کی ہے۔ چنانچہ یہ طلسم زیادہ دیر تک قائم نہ رہ سکا اور اس کے عملی نتائج دیکھ کر لوگ ایک بار پھر سڑکوں پر آگئے اور روزمردہ تصادم کی خبریں سامنے آرہی ہیں جن پر قومی اسمبلی میں بھی بحث ہوئی ہے۔

جہاں تک مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کے اس مطالبہ کا تعلق ہے کہ انہیں شرعی قوانین دیے جائیں اور شرعی عدالتوں کے ذریعے ان کا نفاذ کیا جائے، اس کے جائز ہونے میں کسی شبہ کی گنجائش نہیں ہے۔ اس لیے بھی کہ شرعی عدالتی نظام لوگوں کے عقائد اور معاشرتی زندگی سے ہم آہنگ ہے، اور اس وجہ سے بھی کہ یہ سستا اور انصاف کے جلد از جلد حصول کا ضامن ہے۔ بلکہ اس لحاظ سے یہ صرف مالاکنڈ ڈویژن کے عوام کا نہیں بلکہ پورے پاکستان کے عوام کا مطالبہ اور ضرورت ہے کیونکہ پاکستان کے قیام کا مقصد ہی اسلامی نظام حیات کی عملداری قائم کرنا تھا اور دستور پاکستان میں ملک کے عوام کو شرعی قوانین کے مکمل نفاذ کی ضمانت دی گئی ہے۔ البتہ مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے حوالے سے کچھ باتیں ذہن میں کھٹکتی ہیں جن کا اظہار اس مضمون کے آخر میں ضروری سمجھتا ہوں۔

  • اس تحریک میں قانون دانوں کا تعاون حاصل کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی گئی حالانکہ علاقہ میں ایسے قانون دانوں کی کمی نہیں جو دل سے نفاذ شریعت کے حامی ہیں۔ اس کا ایک نقصان تو یہ ہے کہ تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے قائدین مروجہ سسٹم اور اس کے طریق کار سے آگاہ نہ ہونے کی وجہ سے مذاکرات اور معاملات کے تعین میں بیوروکریسی کے ہتھکنڈوں سے مار کھا جاتے ہیں۔ اور دوسرا نقصان یہ ہے کہ تحریک کے بارے میں طبقاتی کشمکش کا تاثر پھیلتا جا رہا ہے، اس لیے کہ تعلیم یافتہ حلقوں میں یہ بات عام ہو رہی ہے کہ وکلاء اپنے مفاد میں مروجہ عدالتی سسٹم کی حمایت کر رہے ہیں اور علماء اپنے مفاد میں قاضی عدالتوں کی بات کر رہے ہیں۔ یہ تاثر بہت نقصان دہ ہے اور نفاذ شریعت کی جدوجہد کے مفاد میں نہیں ہے۔
  • تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ میں مطالبات اور ترجیحات کا زیادہ حصہ مولانا صوفی محمد کی ذاتی سوچ اور افکار پر مشتمل ہے جن میں سے بہت سے امور کے ساتھ علماء کا اتفاق ضروری نہیں ہے، جبکہ بعض اکابر علماء ان سے اختلاف کا اظہار بھی کر چکے ہیں۔ لیکن مولانا صوفی محمد اپنی ترجیحات پر مصر ہیں اور بعض ایسی باتوں کو بھی شریعت کے بنیادی تقاضے قرار دیا جا رہا ہے جو مجموعی تناظر میں شاید دوسرے یا تیسرے نمبر پر شما رکی جائیں۔ مثلاً تحریک کے دوران اس بات پر اصرار کیا جاتا رہا کہ ٹریفک کو دائیں طرف چلانا بھی شریعت کا اہم تقاضا ہے۔ یا اہلیت اور کردار کے اوصاف سے قطع نظر انتظامی اور عدالتی افسروں کے تقرر کے لیے داڑھی والے افسران کی تلاش بھی ہوتی رہی۔ اس طرح اب زکوٰۃ اور عشر کے علاوہ باقی ٹیکسوں کی ادائیگیوں سے انکار کر دیا گیا ہے جو بہرحال غور طلب مسئلہ ہے۔ ایسی جزوی اور ثانوی باتوں کو شریعت کے بنیادی تقاضوں کے طور پر سامنے لانا اور ان پر حد درجہ اصرار کرنا شرعی نظام کے مجموعی تصور کو مسخ کرنے کا باعث بھی بن سکتا ہے۔
  • پاکستان میں نفاذ شریعت کی جدوجہد کے قومی دھارے کے ساتھ مالاکنڈ ڈویژن کی تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے روابط اس درجہ کے نہیں جو تحریک کے موثر طور پر آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہیں، اور اس طرح ایک دوسرے کو نظر انداز کرنے سے تحریک کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

ان حالات میں ہم تحریک نفاذ شریعت محمدیؐ کے بنیادی مطالبہ کی حمایت کرتے ہیں کہ اس خطہ میں بلکہ پورے پاکستان میں شرعی قوانین کا مکمل نفاذ عمل میں لایا جائے، کیونکہ اس کے بغیر نہ ہم قرآن و سنت کی پوری تابعداری کر سکتے ہیں اور نہ ہی قیام پاکستان کا مقصد پورا ہو سکتا ہے۔ لیکن نفاذ شریعت کی اس جدوجہد کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ

  • ریاستی فورسز کے ساتھ تصادم سے گریز کیا جائے،
  • نفاذ شریعت کے مطالبات اور ترجیحات کو ملک کی اجتماعی اور دینی قیادت کے مشورہ سے از سر نو مرتب کیا جائے،
  • شریعت کی بالادستی کے خواہاں قانون دانوں کا تعاون حاصل کیا جائے،
  • اور بغاوت کی صورتحال پیدا کرنے کی بجائے پرامن اور منظم جدوجہد کے ذریعے نفاذ شریعت کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے۔