پاک امریکہ تعلقات ۔ سابق صدرجنرل محمد ایوب خان کے خیالات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
نا معلوم

پاکستان کے بعض سیاستدانوں کے ساتھ امریکی ایلچی رچرڈ ہالبروک کی ملاقات اور گفتگو نے بہت سی پرانی باتوں کی یاد ذہن میں تازہ کر دی ہے۔ ہالبروک کو شکوہ ہے کہ اربوں ڈالر کی امداد کے باوجود پاکستانیوں میں امریکہ مخالف جذبات پائے جاتے ہیں۔ اس پر مجھے ایک بہت پرانا پڑھا ہوا ناول یاد آگیا ہے جو انقلاب فرانس سے پہلے کے جاگیردارانہ ماحول کے حوالے سے تھا۔ ناول اور اس کے کرداروں کے نام تو یاد نہیں رہے مگر اس کا ایک پلاٹ ذہن کے کسی کونے کے ساتھ چپکا رہ گیا تھا جو ہالبروک کے اس شکوے کے ساتھ ہی اسکرین پر ابھر آیا ہے۔ کہانی کے مطابق ایک فرانسیسی جاگیردار بگھی پر اپنے کسانوں اور مزارعوں کی بستی سے گزر رہا تھا، راستے میں ایک جگہ بچے کھیل رہے تھے کہ اچانک ایک بچہ بگھی کے سامنے آگیا۔ لیکن بگھی کے کوچوان نے رفتار کم کرنے کی بجائے اس بچے کے اوپر سے بگھی گزار دی جس سے بچہ کچلا گیا۔ اس کا باپ قریب ہی کھڑا تھا وہ غصے اور صدمے کی حالت میں بگھی کی طرف لپکا اور اس کو روکنے کی کوشش کی۔ جاگیردار جو یہ سارا منظر اپنی سیٹ پر بیٹھا دیکھ رہا تھا، اس نے کسان کو غصے میں دیکھ کر جیب سے ایک سکہ نکالا اور اس کی طرف پھینک دیا۔ کسان نے وہ سکہ غصے سے پکڑا اور اسے واپس بگھی کی طرف اچھال دیا جس پر جاگیردار نے انتہائی نفرت سے اس کسان کو گالی دیتے ہوئے اپنے کوچوانوں سے پوچھا کہ یہ اور کیا چاہتا ہے؟

سچی بات یہ ہے کہ مسٹر ہالبروک کا یہ شکوہ پڑھ کر مجھے کم از کم ربع صدی قبل پڑھے ہوئے ناول کا یہ حصہ بے ساختہ یاد آگیا ہے مگر حسرت یہ رہی کہ پلاٹ کے باقی سارے کردار پورے تھے مگر سکہ بگھی کی طرف واپس اچھال دینے کا خانہ خالی نظر آیا۔ خدا جانے یہ حسرت کب پوری ہوگی؟ دراصل یہ مسٹر ہالبروک کا قصور نہیں ہے، مغربی استعمار کی قیادت اور دانش ابھی تک اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ امریکہ کے خلاف غصہ صرف اس وجہ سے ہے کہ غصہ کرنے والے غریب لوگ ہیں جنہیں امریکہ اور دوسرے مغربی ملکوں کے پاس دولت کی کثرت دیکھ کر غصہ آتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ انہیں بھی اس دولت میں ے حصہ دیا جائے۔ اس لیے کم و بیش ہر مغربی حکمران اور دانشور اس بات پر زور دے رہا ہے کہ ان غریب لوگوں کو پیسے دیے جائیں اور کچھ ڈالر ان کی طرف پھینکے جائیں تاکہ یہ خاموش رہیں، بلکہ ڈالر پھینکے جانے پر اپنے ’’آقاؤں‘‘ کا شکریہ ادا کریں اور ان کی وفاداری کا دم بھرتے رہیں۔

اکانومی اور معیشت کے چکر میں الجھی ہوئی اس سرمایہ دارارنہ ذہنیت اور جاگیردارانہ مزاج کو اس بات کا علم ہی نہیں کہ غصہ صرف پیسوں کی کمی پر نہیں آیا کرتا، اس کے اسباب اور بھی ہوتے ہیں۔ خاص طور پر مشرقی اقوام اور ان میں سے بھی خصوصاً مسلم اقوام کے ہاں غصہ کے دیگر اسباب زیادہ موثر اور متحرک ہوتے ہیں۔ انہیں اپنے مذہب کی توہین پر غصہ آتا ہے، قرآن کریم کی بے حرمتی پر غصہ آتا ہے، جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخی پر غصہ آتا ہے، بیت اللہ اور بیت المقدس کی توہین پر غصہ آتا ہے، دنیا کے کسی حصے میں مسلمان بھائیوں کے مارے جانے پر غصہ آتا ہے، اور اپنے ملکوں اور اسباب و عوامل پر دوسرے لوگوں کے ناجائز تسلط اور جبر و استبداد پر بھی غصہ آتا ہے۔ اس غصے کا جب کوئی مداوا نہیں ہوتا اور اسے کم کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی جاتی، بلکہ اسے طنز و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے تو یہی غصہ بڑھتے بڑھتے نفرت میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ پھر یہ غصہ ڈالروں کی بارش سے نہیں دبتا اور نہ ہی زبانی لیپا پوتی سے اس میں کوئی کمی آتی ہے۔

مسٹر ہالبروک سے گزارش ہے کہ وہ مسلمانوں کے غصے اور امریکہ کے خلاف ان کے جذبات کو ڈالروں کے پیمانے سے نہ ماپیں بلکہ اس کے اصل اسباب کی طرف نظر کریں۔ کیونکہ جب تک مسلمانوں اور پاکستانیوں کے غصے اور نفرت کے اصل اسباب کو سنجیدگی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش نہیں کی جائے گی، ڈالروں کی جھنکار اور نوٹوں کی کھڑکھڑاہٹ سے اس غصے اور نفرت کو کم کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

اس گفتگو میں ایک پاکستانی سیاستدان نے مسٹر ہالبروک سے کہا کہ امریکہ ہمارا آقا نہ بنے بلکہ دوست بنے اور دوستوں کی طرح ہمارے ساتھ معاملات کرے۔ یہ بات بھی صدائے بازگشت ہے پاکستان کے سابق صدر جناب محمد ایوب خان مرحوم کے اس رد عمل کی جو انہوں نے پاکستان کی طرف سے امریکہ کے ساتھ دوستی کی پرخلوص کوششوں اور امریکہ کی طرف سے اس کے کم از کم الفاظ میں غیر مثبت جواب پر ظاہر کیا تھا۔ فیلڈ مارشل محمد ایوب خان نے اپنی یادداشتوں پر مشتمل جو کتاب شائع کی اس کا نام ہی ’’آقا نہیں دوست‘‘ ہے۔ Friends Not Master کے عنوان سے لکھی جانے والی اس کتاب میں انہوں نے امریکہ کو یہی پیغام دیا تھا جو مسٹر ہالبروک کو ایک پاکستانی سیاستدان نے کم و بیش نصف صدی کے بعد دیا ہے۔ مسٹر ہالبروک کے ساتھ پاکستانی سیاستدانوں کی اس ملاقات کی رپورٹ اخبارات میں پڑھنے کے بعد میں نے ایوب خان مرحوم کی یہ کتاب تلاش کی۔ یہ کتاب جو کبھی فٹ پاتھوں پر آسانی سے مل جایا کرتی تھی اب مجھے دوران سفر ٹیکسلا میں ایک دوست حافظ محمد رفیق کی لائبریری سے دستیاب ہوئی۔ سابق صدر محمد ایوب خان مرحوم نے اپنی خارجہ پالیسی کا تذکرہ کرتے ہوئے امریکہ اور بھارت کے ساتھ اپنے معاملات کے مختلف مراحل بیان کیے ہیں جن کی چند جھلکیاں قارئین کی خدمت میں پیش کرنے کو جی چاہتا ہے۔

محمد ایوب خان مرحوم لکھتے ہیں کہ

’’دنیا آج مساوات کے لیے لڑ رہی ہے، افراد کے درمیان مساوات اور اقوام کے درمیان مساوات خواہ وہ بڑی ہوں یا چھوٹی۔ اس لیے ضروری ہے کہ تمام دنیا صاف صاف اس بات کو تسلیم کرے کہ ہر قوم مساویانہ حقوق اور مواقع کی مستحق ہے۔ دنیا کے ملکوں کی آزادی اور خودمختاری کی ان کے رقبے، وسائل کی بنیاد پر درجہ بندی نہیں کی جا سکتی۔ یہ بڑی صاف بات ہے اور کوئی بھی اس سے انکار کی جرأت نہیں کرے گا۔ یہ دنیا بڑوں ہی بڑوں کی دنیا ہے، خواہ وہ دو بڑے ہوں یا تین بڑے یا چار بڑے یا اور بھی زیادہ۔ یہی دنیا کی تقدیر کا فیصلہ کرتے ہیں اور اس کی راہیں متعین کرتے ہیں۔ چھوٹے چھوٹے ملک، خصوصاً وہ جو ابھی صنعتی ترقی کی ابتدائی منزلیں طے کر رہے ہیں، انہوں نے غلامی کا طوق تو اتار پھینکا ہے لیکن ابھی ان میں سے اکثر اپنی فضا کو سامراجی اثرات سے پاک صاف کر کے اپنے انفرادی وجود اور تصورات کو ابھار نہیں سکے۔ ہمیں بھی اپنی انفرادیت کو تسلیم کرانا اور ایک مساوی اور باوقار حیثیت حاصل کرنے کے لیے لڑنا ہے۔ بھارت نے شروع ہی سے ہماری راہ میں مشکلات پیدا کرنے کی ٹھان رکھی ہے، اس نے ہمارے لیے پناہ گیروں کی بحالی کا زبردست مسئلہ اس لیے پیدا کیا تھا کہ ہماری معیشت مفلوج ہو کر رہ جائے۔ اس کے ساتھ ہی اس نے ہمیں وہ ساز و سامان دینے سے بھی انکار کر دیا جس میں ملک کی تقسیم سے پہلے ہمارا حصہ تھا۔ اس نے ہمیں ان دریاؤں کے بہاؤ کا رخ بدل دینے اور ان کا پانی روک لینے کی دھمکی دی جو ہمارے ملک میں بہتے ہیں۔ پھر اس نے تمام معاہدوں اور اصولوں کے خلاف جموں و کشمیر کی ریاست کے ایک بڑے حصے پر بزور قبضہ کر لیا اور اپنی فوجیں وہاں جمع کر کے ہمارے ملک کی سلامتی کے لیے ایک مستقل خطرہ پیدا کر دیا۔ ان سب باتوں کی تہہ میں بھارت کی یہ ہوس کار فرما تھی کہ وہ یا تو پاکستان کو اپنے میں جذب کر لے یا اسے اپنا حاشیہ نشین بنا لے۔ بھارتی لیڈروں نے اپنے ارادوں کو ڈھکا چھپا نہیں رکھا تھا۔ اچاریہ کرپلانی نے جو 1947ء میں انڈین نیشننل کانگرس کے صدر تھے، علی الاعلان کہا ’’نہ تو کانگریس اور نہ قوم اکھنڈ بھارت سے دستبردار ہوئی۔ ‘‘

’’اس زمانے میں سردار ولبھ بھائی پٹیل نے، جو پہلے انڈین ہوم منسٹر تھے اور کانگرس پارٹی کے مرد آہن کہلاتے تھے، یہ کہا تھا ’’بہت دیر نہ گزرے گی کہ ہم دوبارہ ایک ہو کر اپنے ملک کی اطاعت گزاری میں باہم شریک ہوجائیں گے۔ ‘‘

’’میں یہ بیان کر چکا ہوں کہ 1960ء سے 1964ء کا جو زمانہ گزرا، اس میں ہمیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ اپنے تعلقات کے بارے میں کیسی تشویش پیدا ہوگئی تھی۔ مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے امریکہ نے اپنی حکمت عملی کو حالات کے تابع کر دیا ہے۔ نیز یہ کہ جو تبدیلیاں وہ کر رہا ہے ان سے امریکی پالیسیوں اور پروگراموں کے اخلاقی پہلوؤں کی بابت لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچ رہی ہے۔ پاکستان کے لوگوں کو سخت مایوسی ہو رہی تھی۔ 1950ء اور 1960ء کے درمیانی عرصے میں امریکہ اور پاکستان میں بڑی محنتوں سے جو رشتہ قائم ہوا تھا اب لوگوں کے دلوں سے اس کا احترام اٹھتا جا رہا تھا۔ ہم ہندوستان کی بڑھتی ہوئی فوجی طاقت سے چشم پوشی نہیں کر سکتے تھے، نہ ہندوستان کے حملے کی صورت میں امریکہ کی امداد پر بھروسہ کر سکتے تھے۔ امریکہ جس پالیسی پر عمل کر رہا تھا، ہم جانتے تھے کہ اس سے آگے چل کر ایشیا میں اس کی پوزیشن کمزور ہو جائے گی۔ لیکن ہمارے پاس امریکہ کو اس پالیس سے باز رکھنے کے ذرائع نہیں تھے۔ امریکی حکومت کے دل و دماغ میں چین کا خطرہ چھایا ہوا تھا اور وہ ہندوستان سے بے اختیارانہ آس لگا رہی تھی کہ ہندوستان چینی خطرے کا توڑ ثابت ہوگا۔ ‘‘

’’ادھر پچھلے دس برس میں امریکہ کی پالیسیوں میں بھی تبدیلیاں پیدا ہوئیں، جو ہندوستان کے بالمقابل امریکہ کے اتحادی پاکستان کے لیے متواتر نقصان کا باعث ہوتی رہیں۔ جب ہم نے پہلے پہل امریکہ کے ساتھ اتحاد کیا تھا تو اس غیر جانبداری کو، جسے ہندوستان ’’ناطرف داری‘‘ کے نام سے موسوم کرنا زیادہ پسند کرتا تھا، امریکہ میں شک و شبہ کی نظر سے دیکھا جاتا تھا۔ بلکہ درحقیقت ’’غیر اخلاقی‘‘ سمجھا جاتا تھا کیونکہ اس کا مطلب تھا کہ دونوں فریقوں کو بے وقوف بنا کر اپنا الو سیدھا کرو۔‘‘

محمد ایوب خان مرحوم کی یادداشتوں پر مشتمل کتاب میں یہ اقتباسات ہم نے اس لیے پیش کیے ہیں تاکہ مسٹر ہالبروک پر یہ بات واضح ہو کہ انہیں آقا کے بجائے دوست بننے کا جو مشورہ دیا گیا ہے وہ آج کا نہیں ہے بلکہ نصف صدی پہلے ان کے ملک سے یہ گزارش کی گئی تھی اور اس کے اسباب بھی واضح کر دیے گئے تھے۔ پاکستان کے حالات، امریکی پالیسیاں، اور پاکستانیوں کے جذبات آج بھی اسی طرح ہیں جیسے نصف صدی پہلے تھے۔ ان کی شدت میں تو کئی گنا اضافہ ہوا ہے لیکن ان میں کوئی فرق اور تغیر نہیں آیا۔ امریکہ کے لیے ہمارے جذبات وہی ہیں، اور پیغام بھی وہی ہے جو ہمارے سابق صدر جناب محمد ایوب خان مرحوم نے 12 جولائی 1961ء کو امریکی کانگرس سے خطاب کرتے ہوئے دو ٹوک انداز میں دیا تھا۔ ایوب خان مرحوم لکھتے ہیں کہ

’’میں نے کانگرس کو اس کی ذمہ داریاں اور اس کے عالمی فرائض یاد دلائے۔ جب میں نے کہا کہ ’’جو لوگ آپ کا ساتھ دیں گے وہ پاکستان ہی کے لوگ ہوں گے‘‘ تو اس پر بڑی تالیاں بجائی گئیں، لیکن ابھی ان تالیوں کا شور تھمنے نہ پایا تھا کہ میں نے اتنا اور بڑھا دیا کہ ’’بشرطیکہ ۔ ۔ ۔ بشرطیکہ آپ بھی پاکستان کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہوں۔ چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ آپ کی مصلحت کے تقاضے کچھ بھی ہوں، آپ کوئی ایسا قدم نہیں اٹھائیں گے جو ہمارے مسائل کو مشکل بنا دے یا ہماری سلامتی کو کسی قسم کے خطرے میں ڈال دے۔ جب تک آپ اس بات کو یاد رکھیں گے ہماری دوستی مضبوط سے مضبوط تر ہوتی چلی جائے گی‘‘۔

جناب ہالبروک سے گزارش ہے کہ وہ امریکی کانگرس کے سامنے پاکستان کے صدر کے 12 جولائی 1961ء کے اس خطاب کو ایک بار پھر پڑھ دیں اور عزت مآب باراک حسین اوباما کو بھی پڑھا دیں۔ کیونکہ پاکستان کے حکمران کچھ بھی کرتے رہیں مگر پاکستانی قوم کے ذہن نصف صدی بعد بھی ’’بشرطیکہ ۔ ۔ ۔ بشرطیکہ‘‘ کے اسی نکتے پر اٹکے ہوئے ہیں۔ اور ’’بشرطیکہ‘‘ تقاضوں کی طرف توجہ دیے بغیر امریکی حکمرانوں کو پاکستانی قوم سے اس کے غصے اور نفرت کے جذبات میں کمی کی کوئی توقع نہیں رکھنی چاہیے۔