وہی قاتل، وہی مخبر، وہی منصف ٹھہرے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۵ دسمبر ۲۰۰۱ء

صدر جنرل پرویز مشرف نے گزشتہ دنوں ایک گفتگو میں یہ کہہ کر حیران کر دیا کہ افغانستان کے حوالہ سے ان کی پالیسیوں کے مخالفین دانش اور دلیل کی بجائے جذبات کی بات کر رہے ہیں۔ حیرت کی وجہ یہ ہے کہ افغانستان کی جنگ کے حالیہ راؤنڈ کے آغاز سے پہلے ہی دلیل اور دانش کو لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا گیا تھا اور اس کی جگہ طاقت اور دھونس نے لے لی تھی۔ اب جبکہ جنگ خاصی بڑھ چکی ہے اور ایک نئے دور میں داخل ہونے والی ہے تو جنرل پرویز مشرف کو دلیل اور دانش اچانک کیسے یاد آگئی ہے؟
۱۱
دستمبر کے نیویارک اور پینٹاگون کے سانحات کے بعد جب امریکہ نے اس کا مجرم اسامہ بن لادن کو ٹھہرایا تو دلیل اور دانش نے امریکہ سے تقاضا کیا تھا کہ کسی کو مجرم قرار دینے سے پہلے ثبوت فراہم کرنا ضروری ہوتا ہے اور ان ثبوتوں کے موثر ہونے کا فیصلہ بھی مدعی کی بجائے کوئی غیر جانبدار فورم کیا کرتا ہے۔ لیکن دلیل اور دانش کو یہ کہہ کر چپ کرا دیا گیا کہ ہم یہ بات بہتر سمجھتے ہیں اس لیے تم خاموش رہو۔

امریکہ نے طالبان حکومت سے اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے کا مطالبہ کیا تو طالبان نے دلیل اور دانش کی بات ہی کی تھی کہ ثبوت فراہم کیے جائیں اور فریقین کے لیے قابل قبول ٹربیونل تشکیل دیا جائے تو وہ اسامہ بن لادن کو حوالے کرنے کے لیے تیار ہیں۔ مگر طالبان کی بات یہ کہہ کر مسترد کر دی گئی کہ چونکہ ہم طاقت رکھتے ہیں اور بالادست ہیں اس لیے ہم خود ہی مدعی ، خود ہی گواہ، اور خود ہی جج ہیں۔ تم ایک غریب اور بے بس قوم ہو اس لیے تمہارے سامنے کوئی ثبوت پیش کرنا اور تمہارے کسی مطالبہ پر توجہ دینا ہمارے اسٹیٹس کے منافی بات ہے۔

امریکہ نے جب اقوام متحدہ کے سامنے اپنا کیس رکھا اور اس سے دہشت گردی کے خلاف کارروائی کے لیے این او سی مانگا تو دلیل اور دانش نے ڈرتے ڈرتے وہاں بھی عرض کیا تھا کہ ’’دہشت گردی‘‘ کی تعریف طے کر لی جائے اور اس کی حدود متعین کرلی جائیں تاکہ دہشت گردی کے خلاف کارروائی کی زد میں وہ مظلوم اور مجبور اقوام نہ آجائیں جو اپنی آزادی اور تشخص کے لیے قابض اور مسلط قوتوں کے خلاف صف آراء ہیں۔ مگر دلیل اور دانش کی آنکھوں پر یہ کہہ کر پٹی باندھ دی گئی کہ ابھی اس کا وقت نہیں آیا، ابھی امریکہ کو اپنے ایجنڈے کی تکمیل کرنی ہے، جب وہ ایجنڈا کسی فیصلہ کن اسٹیج تک پہنچ جائے گا تو دہشت گردی کی تعریف متعین کرنے کی درخواست پر بھی غور کر لیا جائے گا۔

امریکہ نے افغانستان کے خلاف اعلان جنگ کر کے پوری دنیا کو وارننگ دی کہ جو اس جنگ میں عملی طور پر ہمارا ساتھ نہیں دے گا اور دہشت گردی کے خلاف ہمارے اتحاد کا سرگرم رکن نہیں بنے گا اسے دشمن تصور کیا جائے گا۔ دلیل اور دانش نے اس وقت بھی اپنا فرض ادا کیا تھا کہ جنگ میں کسی ایک طرف فریق بننے کی بجائے ایک راستہ غیر جانبدار رہنے کا بھی ہوتا ہے جو ہر شخص اور قوم کا حق سمجھا جاتا ہے، اس حق سے ملکوں اور قوموں کو محروم کر دینا دانش مندی کی بات نہیں ہے۔ مگر دلیل اور دانش کے لبوں پر یہ کہہ کر ٹیپ لگا دی گئی کہ ہر معاملہ میں تمہارا بولنا ضروری نہیں ہے کبھی چپ بھی ہو جایا کرو۔

امریکہ نے پاکستان کو جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ قرار دے کر اس سے فوری طور پر جواب مانگا کہ دو ٹوک طور پر یہ فورًا بتاؤ کہ تم کس کے ساتھ ہو؟ دلیل اور دانش نے اس وقت بھی جھرجھری لی تھی اور زیر لب منمنائی تھی کہ یہ قومی خودمختاری کے تصور کے خلاف بات ہے۔ اور پاکستان سے کسی معاملہ میں آزادانہ فضا میں فیصلہ کرنے کا حق ہی سرے سے چھین لینا اقوام متحدہ کے ان اصولوں کے بھی منافی ہے جس کا ہیڈ کوارٹر خود امریکہ کے شہر نیویارک میں ہے۔ مگر یہ کہنے پر دلیل اور دانش کے منہ پر الٹے ہاتھ کی ایسی زوردار چپت پڑی تھی کہ اسے دوبارہ یہ بات کہنے کا حوصلہ نہیں ہوا۔

امریکہ نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے سانحات میں اسامہ بن لادن کے ملوث ہونے کے شواہد پیش کیے اور برطانوی حکومت نے بڑے اہتمام سے انہیں پریس کے لیے جاری کیا تو دلیل اور دانش نے برطانوی پریس اور ممتاز برطانوی ماہرین قانون کا سہارا لے کر ان کی زبان سے کہا تھا کہ ان پیش کردہ شواہد کی بنیاد پر تو کسی کیس کو قابل سماعت قرار دینا اور مجرم پر فرد جرم عائد کرنا ہی سرے سے مشکل ہے۔ اسے مجرم قرار دینا اور اس کے لیے سزا کا اعلان کرنا ان شواہد کے حوالہ سے کیسے ہو سکتا ہے؟ مگر دلیل اور دانش کی اس بات کا جواب یہ دیا گیا کہ ثبوت فراہم کرنا، انہیں عدالت میں پیش کرنے کے قابل بنانا، اور ان پر مخالفانہ دلائل کا سامنا کرنا، یہ سب ترقی یافتہ اور امیر ملکوں کے چونچلے ہیں۔ غریب اور بے بس ملکوں میں ان کا کیا کام؟ ان کے لیے تو صرف ہمارا فرمان کافی ہے، اس لیے اگر ہم نے انہیں دہشت گرد کہہ دیا ہے تو وہ دہشت گرد ہیں۔ دلیل اور دانش کو ان معاملات میں دخل اندازی نہیں کرنی چاہیے۔

امریکی طیاروں نے افغانستان کے بھوکے، نہتے اور بے قصور عام شہریوں کو بمباری کا نشانہ بنانا شروع کیا تو دلیل اور دانش نے گزارش کی تھی کہ شہریوں پر بمباری کرنا اور انہیں بلاوجہ موت کے گھاٹ اتارنا عقلمندی کی بات نہیں ہے۔ اگر امریکی سراغ رساں ادارے اپنے اہداف کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہو رہے تو ان کی ناکامی کی سزا عام شہریوں کو دینا کسی طرح مناسب نہیں۔ مگر دلیل اور دانش کو اس کے جواب میں یہ سننا پڑا کہ یہ غصے اور انتقام کا محل ہے، اس لیے جب تک افغانستان کی اینٹ سے اینٹ نہیں بج جاتی ہمارا غصہ ٹھنڈا نہیں ہوگا اور نہ ہی ہم دلیل اور دانش کی کوئی بات سننے اور سمجھنے کے قابل ہوں گے۔

صدر جنرل پرویز مشرف سے گزارش ہے کہ وہ ۱۱ ستمبر کو پہنائی جانے والی عینک اتار کر کھلی آنکھوں کے ساتھ عالمی منظر کو دیکھیں جہاں دلیل اور دانش سراسیمگی کے عالم میں ایک طرف طاقت اور دھونس کے خوفناک جلاد کے کوڑے کے سائے میں سہمی کھڑی ہے۔ اور ذرا قریب جا کر کانوں کو اس کے منہ کے قریب کریں تو وہ بے چاری اب بھی ’’جان کی امان پاؤں تو ۔۔۔‘‘ کا ورد کرنے میں مصروف ہے۔ اور پھر صدر محترم! ذرا دل پر ہاتھ رکھ کر فرمائیں کہ جب وہ خود یہ کہتے ہیں کہ طالبان نے ہماری بات نہیں مانی اس لیے انہیں بربادی کا سامنا کرنا پڑا، اور اگر ہم امریکہ کی بات نہ مانتے تو ہمیں بھی اسی قسم کی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا، تو کیا اس واضح ’’اعتراف‘‘ کے بعد بھی دلیل اور دانش کا نام لینے کی کوئی ضرورت باقی رہ جاتی ہے؟