بیگم نسیم ولی خان کی یاد دہانی کے لیے

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۶ جنوری ۲۰۱۲ء

پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات ایک بار پھر ملک کے قومی حلقوں اور بین الاقوامی فورموں میں زیر بحث ہیں۔ یہ بات کسی بھی سطح پر سیکولر لابیوں کو ہضم نہیں ہو رہی کہ پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت دستوری طور پر ابھی تک کیوں قائم ہے اور دستور پاکستان میں موجود اسلامی دفعات کو دستور سے خارج کرنے کی کوششیں فیصلے کے مرحلے میں آ کر دم کیوں توڑ جاتی ہیں؟ چند روز قبل محترمہ بیگم نسیم ولی خان نے ایک خصوصی انٹرویو میں یہ بات فرمائی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر بنا تھا اور خفیہ اداروں نے مذہبی جنونیت کو تقویت دی ہے۔محترمہ بیگم نسیم ولی خان ملکی سیاست میں اہم مقام اور کردار رکھتی ہیں اور میرے لیے اس وجہ سے بھی قابل احترام ہیں کہ میں نے ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیٰ میں ان کی قیادت میں ایک کارکن کے طور پر کام کیا ہے۔ چونکہ محترمہ اور ان کا خاندان تحریک پاکستان کا حصہ نہیں تھے اس لیے اس حوالے سے ان سے کچھ گزارش کرنا شاید مناسب نہ ہو مگر دو حوالے انہیں ضرور یاد دلانا چاہتا ہوں۔

پہلی بات یہ کہ ۱۹۷۲ء میں جب نیشنل عوامی پارٹی اور جمعیۃ علمائے اسلام کی کولیشن تھی اور صوبہ سرحد (خیبر پختون خوا) اور بلوچستان میں دونوں کی مشترکہ حکومتیں قائم تھیں تو کولیشن کے معاہدے میں نیشنل عوامی پارٹی نے اس پابندی کو قبول کیا تھا کہ دستور سازی میں اسلامی دفعات و قوانین کے بارے میں وہ جمعیۃ علمائے اسلام کے ساتھ تعاون کرے گی اور پھر نیشنل عوامی پارٹی نے یہ تعاون کیا بھی تھا۔ نیز صوبہ سرحد میں مولانا مفتی محمودؒ نے وزیر اعلیٰ کی حیثیت سے جو چند اسلامی اصلاحات کی تھیں، خان عبد الولی خان مرحوم اور ان کی پارٹی نے اس میں بھی مفتی صاحب مرحوم کا ساتھ دیا تھا۔ میرا سوال یہ ہے کہ اگر اسلام کا پاکستان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تو دستور پاکستان میں اسلامی دفعات کی شمولیت اور صوبہ سرحد میں نیشنل عوامی پارٹی نے مولانا مفتی محمودؒ کی اسلامی اصلاحات کی حمایت کس بنیاد پر کی تھی؟

دوسری بات محترمہ نسیم ولی خان صاحبہ کو یہ یاد دلانا چاہوں گا کہ وہ پاکستان قومی اتحاد کی ہائی کمان میں شامل رہی ہیں جس کے منشور کی بنیاد ہی یہ تھی کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اس میں نظام مصطفیٰ کا نفاذ ضروری ہے۔ پاکستان قومی اتحاد کا سارے کا سارا منشور نظام مصطفیٰ کے نفاذ کی بنیاد پر ترتیب دیا گیا تھا اور اس منشور کی حمایت میں ملک بھر کی انتخابی مہم میں محترمہ بیگم نسیم ولی خان صاحبہ نے بہت سے جلسوں سے خطاب کیا تھا۔ پھر انتخابی دھاندلیوں کے خلاف پاکستان قومی اتحاد نے احتجاجی تحریک چلائی تو وہ تحریک قومی اتحاد کے منشور اس کے انتخابی نعرے ’’نظام مصطفیٰ‘‘ کی وجہ سے تحریک نظام مصطفیٰ کا عنوان بھی اختیار کر گئی۔

نیشنل عوامی پارٹی اس وقت کالعدم ہو چکی تھی اس کی جگہ عوامی نیشنل پارٹی نے لے لی تھی۔ سردار شیرباز خان مزاری اس کے سربراہ تھے اور محترمہ بیگم نسیم ولی خان پارٹی کی سیکنڈ ان کمانڈ تھیں اور ان دونوں نے پاکستان قومی اتحاد کے منشو رکی مکمل حمایت کی تھی۔ نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے منشور کی بنیاد پر پاکستان قومی اتحاد کے انتخابی جلسوں اور پھر تحریک میں محترمہ نسیم ولی خان صاحبہ کی تقاریر کو جمع کیا جائے تو ایک پوری کتاب مرتب ہو جاتی ہے۔ میں محترمہ سے دریافت کرنا چاہوں گا کہ اگر پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بنا تو وہ پاکستان قومی اتحاد کے فورم پر نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے لیے قیادت کی صف اول میں کیوں متحرک رہی ہیں؟ اور اگر اس وقت نظام مصطفیٰ ہی پاکستان کا مقدر تھا تو اب تین عشرے گزر جانے کے بعد انہیں اسلام کو پاکستان سے الگ کرنے کی ضرورت کیوں محسوس ہو رہی ہے؟ محترمہ نے فرمایا ہے کہ خفیہ ایجنسیوں نے مذہبی جنونیت کو فروغ دیا ہے۔ کیا محترمہ نسیم ولی خان صاحبہ سمیت پاکستان قومی اتحاد کی پوری قیادت کو ملک میں نظام مصطفیٰ کے نفاذ کے لیے منشور پیش کرنے اور تحریک چلانے کے لیے بھی ان کے پس پردہ خفیہ ایجنسیاں ہی متحرک تھیں؟

جہاں تک مذہبی جنونیت کا یہ پہلو ہے کہ کچھ لوگ نفاذ شریعت کے لیے ہتھیار اٹھائے ہوئے ہیں تو محترمہ نسیم ولی خان سے زیادہ کون اس حقیقت کو جانتا ہے کہ یہ دستوری اور قانونی ذرائع سے نفاذ اسلام کو روکنے اور دستور کی اسلامی دفعات کے ساتھ منافقت برتنے کا رد عمل ہے جو ہمارے مقتدر طبقات دستور کے نفاذ کے بعد سے مسلسل روا رکھے ہوئے ہیں۔ ہم اس شدت پسندانہ ردعمل کے حامی نہیں ہیں اور ہم نے ہر مناسب موقع پر اس کی سخت مخالفت کی ہے۔ لیکن ہم یہ بھی اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اگر دستور کی اسلامی دفعات پر خلوص کے ساتھ عمل کیا جاتا اور دستوری، قانونی اور سیاسی راستے سے اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ کو پیش رفت کا موقع دیا جاتا تو اس شدت پسندانہ ردعمل کی نوبت نہ آتی۔ چنانچہ شدت پسندانہ ردعمل اور ہتھیار اٹھانے کی غلط پالیسی کی ذمہ داری صرف شدت پسندوں پر عائد نہیں ہوتی بلکہ وہ مقتدر طبقات اور پارٹیاں بھی اس کی ذمہ داری میں برابر کی شریک ہیں جنہوں نے پاکستان کی اسلامی نظریاتی حیثیت اور دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کے ساتھ ہمیشہ منافقانہ رویہ اختیار کیے رکھا اور پاکستان میں اسلامی قوانین کے نفاذ کی جدوجہد کو جمہوری اور سیاسی محاذ پر راستہ دینے سے انکار کر دیا۔

یہ تو اس وقت ملک کا داخلی ماحول ہے کہ محترمہ نسیم ولی خان صاحبہ نے ایک بار پھر یہ بات چھیڑ دی ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر نہیں بلکہ جمہوریت کے نام پر بنا تھا۔ جبکہ بین الاقوامی سطح پر بھی اس محاذ کو ازسرنو منظم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ دستور پاکستان کی اسلامی دفعات کو بین الاقوامی قانون اور انسانی حقوق کے نام پر ختم کر دیا جائے۔ چنانچہ روزنامہ جنگ میں یکم جنوری ۲۰۱۲ء کو شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق امریکی تنظیم ’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ پاکستان کے آئین کی اسلامی شقوں اور توہین رسالت کے ایکٹ کے خلاف متحرک ہو چکی ہے۔ اس تنظیم کے پاکستانی چیپٹر کے ڈائریکٹر ڈاکٹر علی داریان حسن نے بتایا ہے کہ ان کی تنظیم دستور پاکستان کی بعض اسلامی دفعات اور شقوں کے خلاف ہے کیونکہ یہ بنیادی انسانی حقوق کے منافی ہیں اور انہیں جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں دستور کا حصہ بنایا گیا تھا۔ انہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان کے ان ریمارکس کو بھی ہدف تنقید بنایا ہے جس میں چیف جسٹس نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ آف پاکستان اسلام کے منافی کسی بھی قانون کو منسوخ قرار دے سکتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم نے توہین رسالتؐ کی سزا کے قانون کی جامع اسٹڈی کرائی ہے اور اس میں تبدیلی لانے کے لیے نیا مسودہ تیار کیا ہے، جبکہ وہ دستور پاکستان کی دیگر اسلامی دفعات کو ختم کرانے کے لیے بھی سرگرم عمل ہیں۔

یہ بات بجائے خود محل نظر ہے کہ دستور پاکستان میں چند اسلامی دفعات جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں شامل کی گئی تھیں کیونکہ

  • قرارداد مقاصد پاکستان کے پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان مرحوم کے دور میں دستور میں شامل ہوئی تھی اور دستور ساز اسمبلی میں قرارداد مقاصد پیش بھی خود انہوں نے کی تھی،
  • اسلام کو دستوری طور پر ملک کا ریاستی مذہب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کے دور میں پارلیمنٹ کے ذریعے قرار دیا گیا تھا،
  • پارلیمنٹ کو قرآن و سنت کے منافی قانون سازی سے روکنے اور قرآن و سنت کے قوانین کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کو ذمہ دار قرار دینے کا دستوری فیصلہ بھی بھٹو مرحوم کے دور میں ہوا تھا،
  • قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا فیصلہ بھی منتخب پارلیمنٹ نے اسی دور میں کیا تھا،
  • اور توہین رسالت پر موت کی سزا کا قانون بھی منتخب اسمبلی کے فیصلے کے بعد ملک میں نافذ ہوا تھا۔

یہ سارے اقدامات کسی ڈکٹیٹر کے کہنے پر نہیں ہوئے بلکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی جمہوری اسمبلیوں نے کیے تھے۔ لیکن ان سب باتوں سے قطع نظر ہمارا اصولی سوال یہ ہے کہ پاکستان کے دستور اور قانون میں تبدیلی اور ترامیم کے لیے ایک امریکی ادارہ آخر اس قدر مضطرب کیوں ہے اور پاکستان کے عوام اور ان کی منتخب جمہوری اسمبلیوں کے فیصلوں پر بیرونی لابیاں کیوں پیچ و تاب کھا رہی ہیں؟ کیا ’’ہیومن رائٹس واچ‘‘ نامی امریکی تنظیم پاکستان کے کسی فورم یا ادارے کا یہ حق تسلیم کرنے کے لیے تیار ہے کہ وہ امریکی آئین میں ترامیم تجویز کرے اور امریکی کانگریس کے منظور کردہ کسی قانون میں ترامیم کا مسودہ تیار کرے؟

ہم ہیومن رائٹس واچ نامی امریکی تنظیم کے ذمہ دار حضرات سے یہ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ کرنا صرف پاکستان کے عوام اور ان کے منتخب نمائندوں کا حق ہے کہ ملک میں دستور کون سا نافذ کیا جائے اور ملک کے قانون کی بنیاد کیا ہو؟ اور یہ تاریخی حقیقت بھی کسی کو نظر انداز نہیں کرنی چاہیے کہ پاکستان جنوبی ایشیا کے مسلمانوں کے جداگانہ مذہبی اور تہذیبی تشخص کی بنیاد پر وجود میں آیا تھا۔ یہ مذہبی اور تہذیبی امتیاز ہی ملک کے دستور و قانون کی بنیاد ہے۔ دین اسلام اور اسلامی تہذیب و ثقافت سے ہٹ کر نہ پاکستان کی کوئی پہچان ہے اور نہ ہی پاکستانی قوم کی کوئی شناخت باقی رہ جاتی ہے۔ اگر امریکی قوم اپنی تہذیب اور جداگانہ شناخت کے حوالے سے کوئی سمجھوتہ کرنے کے لیے تیار نہیں ہے تو پاکستان کا یہ حق بھی تسلیم کیا جانا چاہیے کہ اس ملک کے باشندے اپنی تہذیب اور اپنے دین کی بنیاد پر اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے عملدرآمد کو یقینی بنائیں۔