حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۱ جون ۲۰۰۴ء

گزشتہ روز فیصل آباد اور چنیوٹ کا سفر کیا، مقصد حضرت مولانا نذیر احمدؒ اور حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کے اعزہ سے ان کی وفات پر تعزیت کرنا تھا۔ پاکستان شریعت کونسل کے صوبائی سیکرٹری جنرل مولانا محمد نواز بلوچ اور حضرت والد محترم مدظلہ کے خادم خاص حاجی لقمان اللہ میر ہمراہ تھے۔ جامعہ اسلامیہ امدادیہ فیصل آباد پہنچے تو متعدد علمائے کرام مولانا محمد طیب عارفی اور مولانا مفتی محمد زاہد کے پاس تعزیت کے لیے موجود تھے۔ مدینہ منورہ سے مولانا ڈاکٹر محمد الیاس فیصل بھی آئے ہوئے تھے۔ شیخ الحدیث حضرت مولانا نذیر احمدؒ کے آخری ایام اور سفر آخرت کا کافی دیر تک تذکرہ ہوتا رہا اور ان کے فرزندان گراں قدر نے بتایا کہ معمولات آخر روز تک جاری رہے۔ بہت عرصہ سے بیمار اور صاحب فراش تھے مگر تعلیم و تدریس کا سلسلہ چلتا رہا۔ اس سال بخاری شریف کی کتاب العلم انہوں نے اپنے حصے میں رکھی تھی اور مغرب کے بعد پڑھایا کرتے تھے۔ یہ دیکھ کر حوصلہ ہوا کہ جامعہ کا نظام بدستور چل رہا ہے اور حضرت مرحوم کا یہ عظیم صدقہ جاریہ ان کے مقرر کردہ نقوش پر مسلسل سعی و جدوجہد میں مصروف ہے۔

فیصل آباد سے ہم چنیوٹ پہنچے، مولانا چنیوٹیؒ کی قبر پر حاضری دی، اور ادارہ مرکزیہ دعوت الارشاد میں حضرت چنیوٹیؒ کے فرزندوں مولانا ثناء اللہ چنیوٹی اور مولانا بد عالم چنیوٹی سے ملاقات ہوئی۔ مولانا مرحوم کے دونوں بڑے فرزند مولانا محمد الیاس اور مولانا محمد ادریس فیصل آباد گئے ہوئے تھے، ان سے فون پر بات چیت ہوئی۔ مولانا ثناء اللہ چنیوٹی آخری ایام اور اوقات میں اپنے والد محترم کے ساتھ تھے، ان سے مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کے آخری ایام اور آخری لمحات کے حالات معلوم ہوئے۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم آخری وقت تک مجھے یاد کرتے رہے اور کئی بار میرے بارے میں دریافت کیا مگر یہ ملاقات میری قسمت میں نہ تھی۔ انہیں آخر دم تک اپنے مشن اور جدوجہد کے حوالہ سے فکر تھی۔ جامعہ اشرفیہ سے حضرت مولانا عبد الرحمن صاحب تشریف لائے تو ان سے وہی بات کی جو وہ مجھ سے دو ماہ قبل کی ملاقات میں کر چکے تھے کہ قادیانی اوقاف کو سرکاری تحویل میں لینے اور شناختی کارڈ میں مذہب کے خانے کے اضافہ کے دو مسئلے تحریک ختم نبوت کے حوالے سے بہت اہم ہیں، اس لیے اس کی خاطر سخت محنت کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حضرت مولانا عبد الرحمن سے کہا کہ وہ اس سلسلہ میں خصوصی توجہ دیں جس کا مولانا موصوف نے وعدہ کیا۔

مولانا ثناء اللہ چنیوٹی نے بتایا کہ جنازہ اور اس کے بعد چنیوٹ کے تعزیتی جلسہ میں میری غیر حاضری کو دوستوں نے بہت زیادہ محسوس کیا اور لوگ بار بار میرے بارے میں پوچھتے رہے۔ آج گوجرانوالہ کی ایک محفل میں بھی دوستوں نے اس بات کا بطور خاص تذکرہ کیا، جن حضرات کو مولانا چنیوٹیؒ کے ساتھ میرے ربط و تعلق کا علم تھا، ان کے لیے یہ بات مزید غم کا باعث بنی کہ ان کی وفات اور جنازہ کے موقع پر میں ہزاروں میل دور امریکہ میں تھا اور بے بسی کے عالم میں ان کی یادیں ذہن میں تازہ کر رہا تھا۔

مجھے یہ شرف حاصل ہے کہ مولانا چنیوٹیؒ ہر اہم معاملہ میں مجھ سے مشورہ ضروری سمجھتے تھے اور میرے مشوروں پر عمل بھی کرتے تھے۔ جماعتی معاملات میں ان سے میں جو کچھ عرض کر دیتا تھا وہ آنکھیں بند کر کے مان جاتے تھے۔ حتیٰ کہ یہ بات بہت سے دوستوں کے لیے تعجب کا باعث ہوگی کہ جس زمانہ میں میاں نواز شریف پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے اور مولانا چنیوٹیؒ پنجاب اسمبلی کے رکن تھے، ایک موقع پر انہیں پنجاب کابینہ میں شرکت کی پیشکش ہوئی۔ مولانا مرحوم کی اپنی رائے یہ تھی کہ انہیں صوبائی وزارت قبول کر لینی چاہیے کیونکہ وہ اس طرح اپنے مشن کے لیے زیادہ مؤثر طور پر کام کر سکیں گے اور تحریک ختم نبوت کے بہت سے رکے ہوئے کاموں کو آگے بڑھا سکیں گے۔ مگر اس دوران جب وہ مشورہ کے لیے گوجرانوالہ آئے تو ہم نے مخالفت کر دی۔ رات کو میرے ہاں علامہ محمد احمد لدھیانوی اور ڈاکٹر غلام محمد صاحب کے ہمراہ مولانا چنیوٹی سے ہماری تفصیلی گفتگو ہوئی۔ ہم تینوں نے ان سے گزارش کی کہ وزارت سے ان کے شخصی قد کاٹھ میں اضافہ نہیں ہوگا اور وقتی و عارضی مفاد کے باوجود ان کی مؤثر شخصیت کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے ہماری اس بات کو مان لیا اور صبح لاہور جاتے ہی وزارت قبول کرنے سے معذرت کر دی۔ ایک موقع پر انہیں مسلم لیگ میں شمولیت کی شرط کے ساتھ متعدد علاقائی او رمشنری مسائل کے حل کی پیشکش ہوئی مگر متعدد دوست جن میں راقم الحروف بھی شامل تھا اس میں رکاوٹ بن گئے اور انہوں نے ہماری بات کو قبول کر لیا۔

ہم نے جب پاکستان شریعت کونسل تشکیل دی تو مولانا چنیوٹیؒ نے اس سے اختلاف کیا۔ ان کا خیال تھا کہ ہم جو کام بھی کریں جمعیۃ علمائے اسلام (درخواستی گروپ) کے نام سے کریں۔ میرے لیے یہ بات قابل قبول نہیں تھی کہ میں جمعیۃ کے موجود دھڑوں میں ایک اور کا اضافہ نہیں کرنا چاہتا تھا، اور انتخابی سیاست کی بجائے صرف نظریاتی اور فکری بنیاد پر کام جاری رکھنے کے حق میں تھا۔ ہماری یہ بحث کم و بیش ایک سال تک چلتی رہی بالآخر انہوں نے یہ کہہ کر ہتھیار ڈال دیے کہ میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی لیکن تم جو کرو گے میں اس کا ساتھ دوں گا۔ چنانچہ وہ ہمارے ساتھ پاکستان شریعت کونسل میں شریک ہوئے، اس کے اجلاسوں میں شمولیت کرتے رہے، اور وفات کے وقت وہ پاکستان شریعت کونسل صوبہ پنجاب کے امیر تھے۔ دو ماہ قبل ہم نے صوبائی شوریٰ کا گوجرانوالہ میں مولانا محمد نواز بلوچ کے پاس اجلاس کیا تو علالت کے باوجود مولانا چنیوٹیؒ تشریف لائے اور اجلاس کی صدارت کی۔ مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی اپنے مشن کے ساتھ جنون کی حد تک محبت کرنے والے اور اپنے دوستوں پر اعتماد کرنے والے بزرگ تھے۔ ان کی یہ باتیں خدا جانے کب تک یاد آتی رہیں گی اور دل پر چرکے لگاتی رہیں گی۔

تعزیت کی مذکورہ ملاقات میں مولانا ثناء اللہ چنیوٹی نے ہمیں ایک خط کی فوٹو کاپی دی اور بتایا کہ یہ حضرت مولانا منظور احمدؒ چنیوٹی کی آخری تحریر ہے جو انہوں نے شیخ الحدیث حضرت مولانا زر ولی خان مدظلہ کے نام خط کے طور پر وفات سے کچھ وقت قبل لکھی ہے۔ یہ آخری خط بھی مشن کے حوالے سے ہے اور اس میں انہوں نے مولانا زرولی خان سے اپنے مشن میں تعاون کی درخواست کی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ خط صرف مولانا زرولی خان صاحب کے نام نہیں بلکہ ہم سب کے نام ہے اور اس کے مندرجات کو سامنے رکھتے ہوئے تحفظ ختم نبوت کے لیے مولانا چنیوٹیؒ کے مشن کو آگے بڑھانا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اسی جذبہ کے ساتھ ان کا آخری مکتوب قارئین کی خدمت میں پیش کیا جا رہا ہے۔

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔

حال شریف میڈیکل سٹی لاہور

محترم المقام حضرت مفتی صاحب زرولی شیخ الحدیث والتفسیر احسن المدارس

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

بندہ دو تین ہفتہ سے یہاں شریف میڈیکل سٹی میں میاں نواز شریف کی خصوصی ہدایت پر داخل علاج ہے۔ بعض امراض کا کچھ افاقہ ہے۔ دعاؤں کی اشد ضرورت ہے۔ خصوصی دعاؤں سے تعاون فرمائیں۔ ظاہری بیماری کے حالات ایسے ہیں کہ جانبر ہونا مشکل ہے۔ اب تو محض آپ جیسے مخلص احباب کی دعاؤں کا سہارا ہے، اللہ تعالیٰ تو ہر چیز پر قادر ہیں۔

چناب نگر کا مع جدید اضافہ جات کمپوز شدہ نسخہ ارسال ہے، اس میں کچھ تازہ تبصرے اگر ان کا خلاصہ شائع ہو جائے تو مفید رہے گا۔ اگر میری حیات میں یہ دوسرا ایڈیشن شائع ہو جائے تو مجھے خوشی ہوگی۔ اور اگر اس کی رونمائی اور زریں اصول جدید آپ کی سرپرستی میں کراچی یا لاہور سے ہو جائے تو مفید ہوگا اور اہمیت واضح ہو جائے گی۔

فقط والسلام احقر منظور احمد