امامِ اہلِ سنتؒ کی تحریکی و جماعتی زندگی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ جون ۲۰۰۹ء

جامعہ مدینۃ العلم کا شمار فیصل آباد کے بڑے تعلیمی اداروں میں ہوتا ہے، اس کے بانی مولانا قاری محمد الیاس صاحب ہمارے پرانے جماعتی دوستوں میں سے ہیں۔ ایک دور میں وہ اور مولانا محمد عابد نعیم فیصل آباد میں جمعیۃ علمائے اسلام کی سرگرم شخصیات میں شمار ہوتے تھے۔ وہ حضرت والد محترم مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کے خصوصی عقیدت مندوں میں سے ہیں اور حضرت والد محترم بھی جامعہ مدینۃ العلم کی بطور خاص سرپرستی فرمایا کرتے تھے۔ اس سال جامعہ مدینۃ العلم نے ختم بخاری شریف کی سالانہ تقریب کو حضرت والد محترم کی یاد میں ’’امام اہل سنت کانفرنس‘‘ کے عنوان سے موسوم کر دیا۔ حسب معمول ہمارے مخدوم و محترم شیخ الحدیث مولانا محمد زرولی خان نے دورۂ حدیث کے طلبہ کو بخاری شریف کی آخری حدیث کا سبق پڑھایا۔ متعدد علماء کرام نے مختلف موضوعات پر خطاب کیا جبکہ راقم الحروف نے ’’امام اہل سنت کی تحریکی و جماعتی زندگی‘‘ کے موضوع پر گزارشات پیش کیں جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تحریکی زندگی کا آغاز طالب علمی کے دور میں ہی ہوگیا تھا کہ وہ دور طالب علمی میں سالہا سال تک مجلس احرار اسلام کے رضاکار رہے اور تحریک آزادی میں اس پلیٹ فارم سے حصہ لیتے رہے۔ ان کی اس دور کی دو یادگاریں ہمارے گھر میں ایک عرصہ تک موجود رہی ہیں، ایک لوہے کا سرخ ٹوپ جو وہ پریڈ کے وقت پہنا کرتے تھے اور دوسری کلہاڑی۔ لوہے کا سرخ ٹوپ تو اب موجود نہیں ہے لیکن ان کی کلہاڑی اب بھی موجود ہے اور ان کے احراری ہونے کی یاد دلاتی رہتی ہے۔ اسی دوران وہ جمعیۃ علماء ہند کے کارکن بھی رہے اور جمعیۃ کے متعدد اجلاسوں میں انہوں نے شرکت اور نمائندگی کی۔ ان کے دور طالب علمی کا ایک اہم تحریکی واقعہ یہ ہے کہ ۱۹۴۱ء میں جب وہ دارالعلوم دیوبند میں دورۂ حدیث کے طالب علم تھے، دارالعلوم کے شیخ الحدیث مولانا سید حسین احمدؒ مدنی انگریزی اقتدار کے خلاف آزادی کی تحریک میں گرفتار ہوگئے جس پر دارالعلوم کے طلبہ نے شدید احتجاج کیا، مظاہرے ہوئے، کلاسوں کا بائیکاٹ کیا گیا، اور ہنگاموں کی صورتحال پیدا ہوگئی۔ اس موقع پر مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے نمائندوں پر مشتمل ایکشن کمیٹی قائم کی گئی جس میں سرحد اور افغانستان کے طلبہ نے اپنا نمائندہ مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کو چنا اور پھر تمام نمائندوں نے مل کر ایکشن کمیٹی کا سربراہ بھی انہی کو منتخب کر لیا۔ اس طرح مولانا سید حسین احمدؒ مدنی کی گرفتاری کے خلاف دارالعلوم دیوبند کے طلبہ کی پرجوش احتجاجی تحریک کی قیادت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ نے کی۔

اس تحریک میں مظاہروں نے اس قدر شدت اختیار کی کہ دارالعلوم دیوبند کے معاملات میں حکومتی مداخلت کے امکانات نظر آنے لگے۔ اس پر جمعیۃ علمائے ہند کے قائدین مولانا مفتی کفایت اللہ دہلویؒ کی راہنمائی میں دیوبند تشریف لائے اور طلبہ کے نمائندوں کے ساتھ مذاکرات کیے تاکہ دارالعلوم کے معاملات اور تعلیمی ماحول کو نقصان سے بچایا جا سکے۔ ان مذاکرات میں بھی طلبہ کے نمائندوں نے مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی قیادت میں اپنے بزرگوں سے بات چیت کی جس کے نتیجے میں دارالعلوم کے طلبہ پرجوش احتجاجی تحریک ختم کر کے کلاسوں میں واپس آگئے اور دارالعلوم دیوبند کا تعلیمی ماحول بحال ہوا۔ مگر اس کے اثرات اس قدر وسیع تھے کہ اس سال دارالعلوم دیوبند کے سالانہ امتحانات نہ ہو سکے او ردورۂ حدیث کے شرکاء نے اگلے سال ۱۹۴۲ء میں دوبارہ وہاں جا کر امتحان دیا جن میں مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی بھی شامل تھے۔

قیام پاکستان کے بعد ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں وہ گرفتار ہوئے اور کم و بیش نو ماہ تک ملتان جیل میں رہے۔ جیل میں ان کا تصنیفی سلسلہ جاری رہا اور اسی دوران انہوں نے حجیت حدیث پر ایک کتاب ’’صرف ایک اسلام‘‘ کے نام سے لکھی جو ڈاکٹر غلام جیلانی برق مرحوم کی کتاب ’’دو اسلام‘‘ کے جواب میں ہے۔ اسی قید کے دوران انہیں خواب میں سیدنا حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زیارت ہوئی جس کی تعبیر میں ان کے استاذ مولانا عبد القدیر نے فرمایا کہ ہو سکتا ہے کہ حضرت عیسٰیؑ آپ کی زندگی میں آجائیں۔ مجھے حضرت والد محترم کی گرفتاری اور ان کی رہائی کے مناظر یاد ہیں اور یہ بھی یاد ہے کہ ہم چھوٹے چھوٹے بچے گلیوں میں ٹولیوں کی صورت میں مرزا قادیانی کے خلاف نعرے لگایا کرتے تھے۔

تحریکی زندگی میں حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا تیسرا دور جمعیۃ علمائے اسلام میں ان کی شمولیت کا ہے۔ ۱۹۵۶ء میں مولانا احمد علی لاہوریؒ، مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ، مولانا غلام غوث ہزارویؒ، اور مولانا مفتی محمودؒ کی قیادت میں جمعیۃ علمائے اسلام کی تشکیل نو ہوئی تو مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ بھی اس میں شامل ہوگئے اور کم و بیش پچیس برس تک جمعیۃ کے ضلعی امیر کی حیثیت سے خدمات سر انجام دیں۔ اس دوران عائلی قوانین کے خلاف، ملک میں اسلامی دستور کے نفاذ، اور دیگر امور پر جمعیۃ کی جدوجہد میں انہوں نے سرگرم کردار ادا کیا۔ اور ۱۹۷۷ء کے تحریک نظام مصطفیٰ میں احتجاجی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے گرفتار ہوئے اور کم و بیش ایک ماہ تک ڈسٹرکٹ جیل گوجرانوالہ میں رہے۔ اسی دوران وہ تاریخی واقعہ پیش آیا کہ فیڈرل سکیورٹی فورس کے کمانڈر نے گکھڑ میں جلوس پر پابندی لگا دی اور ایک لکیر سڑک پر کھینچ کر وارننگ دی کہ جس نے یہ لکیر عبور کی اسے گولی مار دی جائے گی۔ اس کے ساتھ ہی ایف ایس ایف کے جوانوں نے فائرنگ کے لیے پوزیشنیں سنبھال لیں۔ مگر مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اپنے رفقاء سمیت یہ کہتے ہوئے لکیر عبور کر گئے کہ ۶۳ سال کی مسنون عمر پوری کر چکا ہوں اور اب شہادت کی آرزو رکھتا ہوں۔ ان کا یہ عزم دیکھتے ہوئے فیڈرل سکیورٹی فورس کے جوانوں کی تنی ہوئی رائفلیں زمین کی طرف جھک گئیں اور احتجاجی جلوس پوری آب و تاب کے ساتھ آگے روانہ ہوگیا۔ اسی دوران انہوں نے اپنے استاذ محترم مولانا عبد الواحدؒ کے ساتھ مل کر مسجد نور گھنٹہ گھر گوجرانوالہ کی واگزاری کی تحریک کی سرپرستی کی اور ضلع بھر کا دورہ کر کے دینی کارکنوں کو اس تحریک میں حصہ لینے کے لیے تیار کیا۔

۱۹۷۶ء میں پنجاب کی پیپلز پارٹی کی حکومت نے مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ اور اس کے ساتھ ملحقہ جامع مسجد نور کو محکمہ اوقاف کی تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا تھا جس کے خلاف احتجاج کے لیے گوجرانوالہ کے معروف وکیل جناب نوید انور نوید ایڈووکیٹ مرحوم کی قیادت میں احتجاجی تحریک چلی جس میں سینکڑوں علماء اور کارکنوں نے گرفتاری دی اور ہم تین بھائی راقم الحروف، مولانا عبد القدوس خان قارن اور مولانا عبد الحق خان بشیر بھی کئی ماہ تک جیل میں رہے۔ اس تحریک کے اصل سرپرست مولانا مفتی عبد الواحدؒ، مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ، اور مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی تھے۔

میں اس موقع پر دو باتوں کی وضاحت ضروری سمجھتا ہوں۔ ایک یہ کہ مسلکی اختلافات زندگی بھر حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کا موضوع گفتگو رہے ہیں کہ انہوں نے مسلک کے ہر پہلو پر لکھا ہے اور بیان بھی کیا ہے۔ دیوبندی بریلوی اختلافات ہوں، سنی شیعہ کشمکش ہو، حنفی اہل حدیث تنازعات ہوں، حجیت رسول کا مسئلہ ہو، یا حیات و ممات اور سماع اموات کا عنوان ہو، ان میں سے شاید ہی کوئی موضوع ایسا باقی رہا ہو جس پر انہوں نے لکھا اور بیان نہ کیا ہو۔ انہوں نے مسلکی موضوعات پر لکھا اور خوب لکھا بلکہ حق ادا کر دیا۔ لیکن پبلک اجتماعات میں وہ ان موضوعات پر خطاب نہیں کرتے تھے۔ کسی بیان میں ضمناً کوئی بات آگئی تو مسئلہ کی وضاحت کی حد تک ان کا بیان دوٹوک ہوتا تھا لیکن کسی اشد مجبوری کے بغیر کسی اختلافی مسئلہ کے موضوع پر عام اجتماعات میں وہ بیان نہیں کیا کرتے تھے۔ اختلافی مسائل پر وہ کتابوں کی صورت میں اظہار خیال کرتے تھے، سبق میں تفصیل سے بحث کرتے تھے اور درس میں بھی مسائل کی وضاحت دلائل کے ساتھ کیا کرتے تھے لیکن عام اجتماعات میں، پبلک جلسوں میں، حتیٰ کہ جمعۃ المبارک کے خطبات میں بھی ان کی گفتگو کے عنوانات اصلاحی ہوتے تھے۔ عقائد کی اصلاح، سنت کی اہمیت، دین کی اہمیت، حلال و حرام کا فرق، اور عادات و اخلاق کی اصلاح ان کی عوامی تقریروں کے موضوعات ہوتے تھے اور اس دوران ضمناً کوئی اختلافی مسئلہ آجاتا تو اس کی وضاحت بھی کر دیا کرتے تھے۔

دوسری بات یہ کہ انہوں نے دین کے کم و بیش ہر شعبہ میں کام کیا ہے اور خدمات سر انجام دی ہیں لیکن جن دو مسئلوں کے لیے جیل کاٹی ہے وہ تحریک تحفظ ختم نبوت اور ملک میں نفاذ شریعت کا نفاذ ہے۔ تحریک ختم نبوت کے لیے انہوں نے ۱۹۵۳ء میں کم و بیش دس ماہ جیل کاٹی، جبکہ نفاذ شریعت کے لیے وہ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیٰ کے دوران نہ صرف جیل میں گئے اور مظاہروں کی قیادت کی بلکہ اپنا سینہ گولی کے لیے پیش کیا۔ اور یہ دونوں قربانیاں انہوں نے مشترکہ پلیٹ فارموں پر دی ہیں۔ ۱۹۵۳ء کی تحریک ختم نبوت میں کل جماعتی ایکشن کمیٹی کے سربراہ بریلوی مکتب فکر کے بزرگ عالم دین مولانا سید ابوالحسنات قادری تھے اور اس میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث، اور شیعہ علماء بھی شریک تھے۔ جبکہ ۱۹۷۷ء کی تحریک نظام مصطفیٰ کی قیادت مولانا مفتی محمودؒ نے کی اور اس میں بھی تمام مکاتب فکر کے علماء کرام اور کارکن شریک تھے۔

مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ کی تحریکی اور مسلکی خدمات کا ذکر کرتے ہوئے میں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ وہ اس بات کی بطور خاص تلقین کیا کرتے تھے کہ اپنے مسلک اور موقف پر مضبوطی سے قائم رہیں اور اکابر کا دامن کسی حالت میں بھی ہاتھ سے نہ چھوڑیں لیکن زبان اور لہجہ ہمیشہ نرم رکھیں، دلیل سے بات کریں اور سختی و تشدد سے گریز کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں حضرت امام اہل سنتؒ کی دینی جدوجہد کے مختلف دائروں کا تذکرہ کرتے ہوئے ان کی ترجیحات اور اسلوب کی بھی پاسداری کرنی چاہیے۔