اسلام کا تصور علم اور دینی مدارس کا کردار

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۲۰۰۸ء

(۱۴ نومبر ۲۰۰۶ء کو الشریعہ اکادمی کے زیر اہتمام تربیتی ورکشاپ سے خطاب)

علم انسان کا وہ امتیاز ہے جس نے انہیں فرشتوں پر فضیلت عطا کی اور معلّم وہ منصب ہے جسے سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرماکر اپنے تعارف کے طورپر پیش کیا کہ ’انما بعثت معلما‘ (میں معلم اور استاذ بنا کر بھیجا گیا ہوں)، جب کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی قراء ت، قلم اور تعلیم کے تذکرہ پر مشتمل ہے۔ اسی لیے اسلا م میں تعلیم کے مشغلہ اور معلم کے منصب کو ہمیشہ عزت اور وقار کا مقام حاصل رہاہے اور دنیا کی ہر مہذب اور متمدن قوم میں معلم کو احترام کی نظر سے دیکھا جاتا ہے۔ البتہ اسلام نے معلم خیر اور معلم شر کا فرق ضرور کیا ہے اورعلم کو نافع اور ضار کے شعبوں میں تقسیم کرکے خیرو نفع کے معلم کو فضیلت ووقا ر کے مقام سے نوازا ہے جبکہ شر اور ضرر کا باعث بننے والے علوم کی مذمت کرتے ہوئے ان کی تعلیم کی حوصلہ شکنی کی ہے۔ شیطان بھی اصل میں ایک معلم ہی تھا لیکن چونکہ اس نے شر اور ضرر کا راستہ اختیار کرلیا تھا، اس لیے راندۂ درگاہ قرار پایا اور قیامت تک کے لیے لعنت کا طوق اس کی گردن میں پڑ گیا۔

اسلام علم برائے علم کا قائل نہیں ہے بلکہ صرف ان علوم کو اپنے تعلیمی نظام کے دائرہ میں جگہ دیتا ہے جو انسان اور انسانی سوسائٹی کے لیے نفع اور خیر کا باعث ہوں۔ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جادو اور اس نوعیت کے دیگر علوم کی فنی اور واقعاتی حیثیت کو تسلیم کرتے ہوئے ان کی تعلیم وتعلّم سے منع فرمایا ہے، بلکہ قرآن کریم نے تو جائز علوم کی بھی درجہ بندی کرکے یہ اصول پیش کیا ہے کہ ہرعلم ہر شخص کے لیے موزوں نہیں ہے، بلکہ ذہنی سطح، منصبی فرائض اور مقام وحیثیت کو ملحوظ رکھ کر تعلیم وتعلّم کے لیے مضامین کے انتخاب کی سمت قرآن کریم نے راہنمائی فرمائی ہے۔ جیسا کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا ہے کہ: ’وما علمناہ الشعر وما ینبغی لہ‘ (ہم نے آپ کو شعروشاعری نہیں سکھائی اور وہ آپ کے لیے مناسب بھی نہیں ہے)۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی علم کا حصول صرف اس لیے ضروری یا مناسب نہیں ہوجاتا کہ وہ علم ہے بلکہ ضرورت ومناسبت کے لیے یہ بھی دیکھنا پڑتاہے کہ علم حاصل کرنے والے کو اس کی عملی زندگی میں اس علم کی کس حد تک ضرورت ہے اور وہ اس کے لیے کس درجہ میں مناسب حال ہے۔

اسلام نے علم کو نافع اور ضار کے درجوں میں تقسیم کیاہے۔ یہ نفع وضرر دنیا اور آخرت دونوں حوالوں سے ہے اور آج کے عالمی تعلیمی نظام اور اسلا م کے فلسفہ تعلیم میں یہی جوہری فرق ہے کہ آج کی دنیا کے نزدیک نفع وضرر صرف اس دنیا کے حوالے سے ہے۔ جو بات اس دنیا کی زندگی کو بہتر بنانے اور شخصی، طبقاتی یا اجتماعی زندگی کی کامیابی کے لیے مفید ہے، وہ تعلیمی نظام کا حصہ ہے لیکن اسلام اس دنیا کے ساتھ ساتھ بلکہ اس سے کہیں زیادہ آخرت کی فوزو فلاح اور اس ابدی زندگی میں نجات کو اپنے تعلیمی وتربیتی نظام کا اساسی ہدف قرار دیتا ہے۔ اسلام اس دنیا کی زندگی اور اس کی بہتری اور کامیابی کی نفی نہیں کرتا، بلکہ اس کے لیے ہر جائز صورت کو اختیار کرنے کی اجازت بلکہ بعض صورتوں میں حکم دیتاہے مگر اس شرط اور ترجیح کے ساتھ کہ دنیا کی زندگی کی آسائش، سہولتیں اور اس کی بظاہر بہتری کی کوئی صورت انسان کی اخروی زندگی میں اس کے لیے خرابی کا باعث نہ بن جائے اور دنیاوی زندگی کی سہولتیں اخروی نجات کی قیمت نہ ہوں۔

میری طالب علمانہ رائے میں اسلام نے علوم کو دنیاوی اور دینی حوالے سے تقسیم نہیں کیا بلکہ نفع وضرر کو علوم کی تقسیم کا باعث سمجھا ہے اور یہ نفع وضرر دنیا اور آخرت دونوں حوالوں سے ہے۔ اس لیے جو علوم انسان کے لیے فرد اور معاشرہ کے دونوں دائروں میں اس کی آخرت کی نجات اور فوزو فلاح اور دنیا کی زندگی کوزیادہ سے زیادہ بہتر، پر امن اور باسہولت بنانے کے لیے مفید ہے، وہ اسلام کی نظر میں مطلوب علم ہے، اور جو علم ان دونوں یا ان میں سے کسی ایک کے لیے نقصان کا باعث بنتاہے، وہ علوم ضارہ میں شمار ہوتاہے اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ دعا اسی سمت ہماری راہ نمائی کرتی ہے کہ ’’اے اللہ !مجھے وہ علم عطا فرماجو نفع بخش ہواوراس علم سے محفوظ رکھ جو ضرر کا باعث ہویا نفع بخش نہ ہو۔‘‘ میں سمجھتاہوں کہ ہمارے دینی مدارس میں تعلیم کا انتظام کرنے والے ارباب بست وکشاد اور تعلیم وتدریس کا فریضہ انجام دینے والے اساتذہ کو آج کے عالمی ماحول میں اس کے تعلیمی فلسفہ ونظام کی اس بنیاد اور امتیاز کو ہر وقت سامنے رکھنا چاہیے تاکہ وہ اپنے زیر تعلیم اور زیر تربیت افراد کو ایک بہتر انسان اور مسلمان کے طور پر اچھی زندگی گزارنے کے قابل بنانے کے ساتھ ساتھ پوری انسانی سوسائٹی کے سامنے اسلا م کے صحیح نمائندہ کا مقام دے سکیں۔

اب سے کم وبیش ڈیڑھ سو سال قبل جب ہمارے معاشرہ میں دینی مدارس کا یہ نظام وجود میں آیاتھا، اس وقت ہمارے بزرگوں کا بنیادی ہدف یہ تھا کہ جنوبی ایشیا کے مسلم معاشرہ میں مسجد و مدرسہ کا ادارہ موجود رہے اور اسے امام، حافظ، قاری، مدرس، مفتی اور خطیب کے طور پر رجال کار ملتے رہیں تاکہ مسلما نوں کی عبادات اور دینی تعلیم کے ماحول اور تسلسل کو باقی رکھا جاسکے اور اس میں کوئی تعطل یا رکاوٹ نہ ہو۔ بحمد اللہ ہمارے دینی مدارس اپنے اس مقصد او رہدف میں کامیاب ہیں اور آج بھی اس پورے خطے میں مسجد ومدرسہ کے ادارے کے لیے ضروری رجال کار یہ دینی مدارس فراہم کررہے ہیں لیکن وقت کے ساتھ ساتھ ضروریات کا دائرہ پھیلتا جا رہا ہے اور زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی دینی راہ نمائی کا تقاضا بڑھ رہا ہے جو نہ صرف یہ کہ وقت کی ضرورت ہے بلکہ ہماری ذمہ داری بھی ہے۔ اسی طرح آج کی گلوبل دنیا اور مستقبل کا بین الاقوامی ماحول ہمیں اس طرف توجہ دلا رہا ہے کہ ہم اپنے محدود اور مقامی وعلاقائی ماحول کا اسیر رہنے کی بجائے عا لمیت، گلوبلائزیشن اور بین الاقوامیت کے تقاضوں اور ضروریات کو بھی سمجھیں اور اس کے لیے اپنے تعلیمی نصاب اور تربیتی نظام میں جس ردوبدل اور تنوع کی ضرورت ہو، اس سے گریز نہ کریں تاکہ دینی مدارس اپنے مستقبل کے کردار کو امت مسلمہ کے لیے زیادہ سے زیادہ مفید بنا سکیں۔ ہمارے اکابر نے ہر دو ر میں یہ عمل سرانجام دیاہے اور آج بھی یہ عمل ہم سے پیش رفت کا متقاضی ہے۔ ان تمام امور کے حوالہ سے سب سے پہلی ضرورت دینی مدارس کے اساتذہ کو اس طرف توجہ دلانے، انہیں وقت کے تقاضوں اور مستقبل کی ضروریات سے آگاہ کرنے اور فکری، علمی اور فنی طورپر اس کے لیے تیار کرنے کی ہے اور اسی مقصد کے لیے اس ورکشاپ کا اہتمام کیا گیا ہے تاکہ ہم باہمی مشاورت اور تبادلہ خیالات کے ذریعہ اس سلسلے میں کوئی قابل عمل پروگرام وضع کرسکیں۔