مولانا میاں عبد الرحمٰنؒ، مولانا سید عبد المالک شاہؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ اکتوبر ۲۰۱۱ء

آج کا کالم دو محترم دوستوں اور بزرگ علمائے کرام کے حوالے سے ہے جن کا گزشتہ دنوں انتقال ہوگیا ہے اور ہمارے دینی و علمی حلقوں میں ان کی جدائی کا صدمہ مسلسل محسوس کیا جا رہا ہے۔ مولانا میاں عبد الرحمٰن کا تعلق بالاکوٹ کے علاقے سے تھا۔ ان کے والد محترم حضرت مولانا محمد ابراہیم نے لاہور کے معروف بازار انارکلی میں ڈیرہ لگایا اور عمر بھر وہاں حق کی آواز بلند کرتے رہے۔ شیخ التفسیر حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ اور حافظ الحدیث حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ سے خصوصی تعلق رکھتے تھے اور جمعیۃ علمائے اسلام کے سرکردہ راہنماؤں میں سے تھے۔ ان کے مزاج میں حق گوئی و دبدبہ ہر شخص محسوس کرتا تھا اور ان کے ہاتھ میں لاٹھی ہوتی تھی جس کی وجہ سے ان کا لقب مولانا محمد ابراہیم ڈنڈے والے پڑ گیا تھا۔ انارکلی بازار کی مسجد کے دروازے پر ایک چھوٹی سی دکان ہے جسے دکان کہنا بھی شاید مبالغہ ہو وہاں شہد کا ہلکا پھلکا کاروبار کرتے تھے اور عزت و آبرو کے ساتھ حق گوئی کا پرچم بلند رکھتے تھے۔ مولانا میاں عبد الرحمٰن ان کے فرزند اور جانشین تھے اور انہی کے اوصاف و روایات کے امین تھے۔

مولانا میاں عبد الرحمٰن نے جامعہ مدینہ کریم پارک سے تعلیم حاصل کی، حضرت مولانا سید حامد میاںؒ اور حضرت مولانا عبید اللہ انورؒ سے ارادت کا گہرا تعلق تھا اور جمعیۃ علمائے اسلام کی دینی و سیاسی جدوجہد ان کی ہمیشہ جولان گاہ رہی۔ مجھے باپ بیٹا دونوں کی شفقت و محبت ہمیشہ حاصل رہی اور وہ خصوصی دعاؤں کے ساتھ جماعتی کاموں میں سرپرستی اور معاونت سے بھی بہرہ ور فرماتے تھے۔ لاہور کے دینی اجتماعات میں اکثر و بیشتر ان سے ملاقات ہوتی تھی اور وہ اپنے مسلک کے تمام حلقوں کو یکساں طور پر نوازتے تھے۔ انہیں لاہور کے دینی حلقوں میں دینی تحریکات کے سرپرست کے طور پر پہچانا جاتا تھا اور وہ ہر دینی تحریک اور مسلکی جدوجہد میں پیش پیش نظر آتے تھے۔

گزشتہ جمعرات کو جب میں اسباق سے فارغ ہو کر ایک طے شدہ دینی پروگرام میں شرکت کے لیے فیصل آباد جا رہا تھا کہ اطلاع ملی مولانا میاں عبد الرحمٰن مانسہرہ میں ایک دینی اجتماع میں شرکت کے بعد واپس جاتے ہوئے ٹریفک حادثہ کا شکار ہو کر شہید ہوگئے ہیں۔ ایک مشفق دوست اور مخلص جماعتی و مسلکی راہنما کی اچانک اور حادثاتی وفات پر بے حد صدمہ ہوا۔ اللہ تعالیٰ انہیں کروٹ کروٹ جنت نصیب کریں اور پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔

مولانا سید عبد المالک شاہ میرے بہت پرانے دوست اور ساتھی تھے۔ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں استاذ الحدیث تھے اور جمعیۃ علمائے اسلام کے سرگرم راہنماؤں میں ان کا شمار ہوتا تھا۔ ان کا تعلق مفکر اسلام حضرت مولانا مفتی محمودؒ کے گاؤں سے تھا اور وہ مفتی صاحبؒ کے معتمد کارکنوں میں سے تھے۔ انہوں نے دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک سے تعلیم حاصل کی اور اسی دور میں جمعیۃ طلبائے اسلام او رجمعیۃ علمائے اسلام کی تحریکی سرگرمیوں کا حصہ بن گئے۔ ہمارے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اور عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کے ساتھ گہری محبت و عقیدت رکھتے تھے۔ طالب علمی کے دور میں حضرت والد محترم کی تصانیف کی تقسیم و فروخت کا کام کرتے رہے۔

مولانا عبد المالک شاہؒ سے میرا پہلا تعارف غالباً ۱۹۷۴ء کی تحریک ختم نبوت کے دوران ہوا اور پھر یہ تحریکی رفاقت زندگی بھر جاری رہی۔ جمعیۃ علمائے اسلام میں ہم نے ایک عرصے تک اکٹھے کام کیا، حتیٰ کہ جب حضرت مولانا مفتی محمودؒ کی وفات کے بعد جمعیۃ علمائے اسلام دو حصوں میں بٹی تو ہم دونوں ایک دوسرے کے مخالف کیمپوں میں تھے مگر باہمی روابط اور دوستی و تعاون میں اس دور میں بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ وہ ان دنوں مرکزی جامع مسجد شیرانوالہ باغ گوجرانوالہ کے ساتھ مدرسہ انوار العلوم میں مدرس تھے جبکہ میں مرکزی جامع مسجد کا خطیب ہوں۔ وہ اپنے کیمپ کے لیے متحرک تھے اور میں اپنے کیمپ کے لیے متحرک تھا۔ وہ ایم آر ڈی میں تھے اور میں اس کا شدید مخالف تھا لیکن اس باہمی محاذ آرائی کے دور میں بھی متعدد بار ایسا ہوا کہ پولیس ان کی تلاش میں ہوتی اور وہ میرے دفتر کے عقبی کمرے میں پناہ گزین ہوتے تھے۔

سید عبد المالک شاہؒ مسجد نور کی واگزاری کی تحریک کے سرگرم اور متحرک راہنماؤں میں سے تھے۔ مسجد نور جامعہ نصرۃ العلوم کی مسجد ہے جہاں اکتوبر ۱۹۷۵ء میں جمعیۃ علمائے اسلام کے ملک گیر تاریخی کنونشن کے انعقاد کے بعد مسجد و مدرسہ اس وقت کی پیپلز پارٹی کی حکومت کے عتاب کا نشانہ بن گئے۔ محکمہ اوقاف نے مسجد و مدرسہ کو اپنی تحویل میں لینے کا اعلان کر کے حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کی جگہ نئے خطیب کے تقرر کا نوٹیفیکیشن جاری کر دیا۔ حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی سرپرستی میں ہم لوگوں نے محکمہ اوقاف کے اس اقدام کی مزاحمت کا اعلان کر دیا اور محکمے سے کہہ دیا کہ ہم اسے مسجد و مدرسہ کا قبضہ نہیں دیں گے۔ تین چار ماہ تک شہر کی گلیوں، بازاروں میں ہلا گلا رہا، سینکڑوں علماء اور کارکن گرفتار ہوئے، میں خود بھی تقریباً ساڑھے تین ماہ تک گوجرانوالہ کی ڈسٹرکٹ جیل میں رہا۔ اس تحریک کو منظم کرنے اور مربوط طور پر چلانے میں مولانا سید عبد المالک شاہؒ، ڈاکٹر غلام محمدؒ، نوید انور نوید ایڈووکیٹ مرحوم، صوفی رستم علی قادری، اور علامہ محمد احمد لدھیانوی مرحوم سب سے زیادہ متحرک رہے۔ انہیں کی شبانہ روز محنت کے نتیجے میں یہ تحریک کامیاب ہوئی اور حکومت کو مسجد نور اور مدرسہ نصرۃ العلوم کو تحویل میں لینے کا نوٹیفیکیشن واپس لینا پڑا۔ گزشتہ روز جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں حضرت شاہ صاحبؒ کے لیے تعزیتی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے راقم الحروف نے اساتذہ و طلبہ سے کہا کہ شاہ صاحبؒ صرف ہمارے ساتھی ہی نہیں بلکہ ہمارے محسن بھی تھے کہ ان کی شبانہ روز محنت اس مسجد و مدرسے کی آزادی کو برقرار رکھنے کا ذریعہ بنی۔

وہ گزشتہ کم و بیش پندرہ سال سے جامعہ نصرۃ العلوم کے استاذ تھے اور دورٔ حدیث میں عام طور پر مسلم شریف ان کے زیر درس رہتی تھی۔ جبکہ علوم و فنون کی دیگر کتابیں بھی انہوں نے مسلسل پڑھائیں اور ایک محنتی اور کامیاب مدرس کے طور پر شہرت حاصل کی۔ جمعیۃ علمائے اسلام اور مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ ان کا تعلق اور وفاداری قابل ذکر بلکہ قابل رشک تھی۔ مشکل ترین حالات میں بھی انہوں نے یہ ساتھ نبھایا اور خوب نبھایا۔ وہ ایک عرصے سے بیمار تھے، شوگر کی وجہ سے ان کے ایک پاؤں کا انگوٹھا چند سال قبل کاٹنا پڑا تھا مگر اس موذی مرض نے ان کا پیچھا نہ چھوڑا۔ حوصلہ مند آدمی تھے، بیماری اور معذوری کے باوجود جماعتی اور مسلکی کاموں میں ہمیشہ متحرک رہے۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹروں نے ان کی ایک ٹانگ کاٹ دی اور ابھی علاج چل رہا تھا کہ معدہ نے کام چھوڑ دیا۔

بیماری کے ایام میں انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ ان کی نماز جنازہ مولانا فضل الرحمٰن پڑھائیں اور کوشش کی جائے کہ انہیں قبر کے لیے گوجرانوالہ کے بڑے قبرستان میں حضرت مولانا صوفی عبد الحمیدؒ سواتی کے قریب جگہ مل جائے۔ مولانا فضل الرحمٰن تو انتہائی کوشش کے باوجود جنازے پر نہ پہنچ سکے اور نماز جنازہ حضرت حافظ ناصر الدین خاکوانی مدظلہ نے جامعہ نصرۃ العلوم میں رات دس بجے پڑھائی۔ البتہ قبر کی جگہ انہیں حسب خواہش حضرت صوفی صاحب کے قدموں میں اور اپنے پرانے ساتھی مولانا اللہ یار خانؒ کے پہلو میں مل گئی۔ جنازے میں جمعیۃ علمائے اسلام کے سیکرٹری جنرل مولانا عبد الغفور حیدری شریک ہوئے جبکہ مولانا فضل الرحمٰن اگلے روز صبح تعزیت کے لیے تشریف لائے۔ اللہ تعالیٰ حضرت شاہ صاحبؒ کو کروٹ کروٹ جنت نصیب فرمائیں اور ان کے پسماندگان کو صبر جمیل کی توفیق عطا فرمائیں، آمین یا رب العالمین۔