قاری عبد الحلیمؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۳۰ جنوری ۲۰۱۰ء

کراچی کے حالیہ سفر کے دوران جامعہ بنوریہ بھی جانا ہوا جو کراچی کے بڑے مدارس میں سے ہے اور اس کی دینی و تعلیمی سرگرمیوں کا دائرہ دنیا کے مختلف ممالک تک وسیع ہے۔ گزشتہ تین برس سے مجھے امریکا کی ریاست ٹیکساس کے شہر ہیوسٹن میں جانے کا موقع مل رہا ہے جہاں چشتیاں کے مولانا حافظ محمد اقبال صاحب ایک عرصہ سے تعلیمی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور ان کے تعلیمی و دعوتی پروگرام کا ایک حصہ مقامی ریڈیو پر دو گھنٹے کے ہفتہ وار پروگرام کی صورت میں بھی ہوتا ہے۔ مجھے اس پروگرام میں متعدد بار شریک ہونے اور ہیوسٹن میں مقیم مسلمانوں کے سامنے مختلف موضوعات پر گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا ہے۔ وہاں مجھے بتایا گیا کہ اس ہفتہ وار پروگرام کا ایک حصہ جامعہ بنوریہ کراچی کے تعاون سے چلتا ہے۔ جامعہ بنوریہ سے ریڈیو کا آن لائن رابطہ ہوتا ہے، لوگ سوالات کرتے ہیں جن کے جوابات یہاں سے دیے جاتے ہیں، اور جامعہ کے کوئی استاذ کسی موضوع پر بیان بھی کرتے ہیں۔ یہ سلسلہ مجھے بہت پسند آیا ہے ، اگر پاکستان کے بڑے تعلیمی ادارے اس طرز کے پروگرام منظم طور پر اور باہمی مشاورت و تقسیم کار کے ساتھ کریں تو اس کی افادیت بڑھ جائے گی اور غیر مسلم ممالک میں مقیم مسلمانوں کی دینی راہنمائی اور تعلیم کا خلاء بہت حد تک کم کیا جا سکے گا۔

جامعہ بنوریہ کے مہتمم مولانا مفتی محمد نعیم صاحب ہمارے پرانے دوست اور ساتھی ہیں اور ان کی تعلیمی سرگرمیاں دیکھ کر خوشی ہوتی ہے۔ گزشتہ دنوں ان کے والد محترم قاری عبد الحلیم صاحب کا انتقال ہوگیا تھا اور میں کراچی حاضری کے موقع پر ان کے پاس تعزیت کے لیے جانا چاہتا تھا۔ مولانا فداء الرحمان درخواستی سے ذکر کیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں بھی گزشتہ دنوں بنگلہ دیش کے سفر پر تھا اور ابھی تک جامعہ بنوریہ نہیں جا سکا اس لیے اکٹھے چلتے ہیں۔ چنانچہ مولانا فداء الرحمان درخواستی اور راقم الحروف اکٹھے جامعہ بنوریہ گئے۔ وہاں پہنچنے پر معلوم ہوا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے جامعہ بنوریہ کے استاذ مولانا عبد المجید صاحب کا اچانک انتقال ہوگیا ہے۔ وہ معمول کے مطابق اپنے کام کاج میں مصروف تھے، جامعہ سے تھوڑی دیر کے لیے گھر گئے، واپسی پر سیڑھیاں اترتے ہوئے کچھ تکلیف محسوس ہوئی مگر ڈاکٹر کے پاس پہنچنے سے قبل ہی اللہ تعالیٰ کے حضور جا پہنچے، انا للہ وانا الیہ راجعون۔ مولانا مفتی محمد نعیم صاحب اور جامعہ کے دیگر اساتذہ سے مفتی صاحب کے والد قاری عبد الحلیمؒ اور مولانا عبد المجیدؒ کے انتقال پر تعزیت کی اور کچھ دیر ان کے ساتھ ملاقات و گفتگو رہی۔

یہ بات اس سے پہلے میرے علم میں نہیں تھی کہ مولانا مفتی محمد نعیم کا تعلق ایک نومسلم خاندان سے ہے۔ اس کی کچھ تفصیلات معلوم ہوئیں تو مجھے حضرت مولانا عبید اللہ سندھیؒ اور حضرت مولانا احمد علی لاہوریؒ کا خاندان یاد آگیا کہ یہ بھی نومسلم خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔ انہوں نے اسلام قبول کیا تو اللہ تعالیٰ نے اسلام کی دعوت و تبلیغ اور دینی علوم کی نشر و اشاعت کے ذریعہ کے طور پر انہیں قبول فرما لیا اور آج دنیا میں ان کا فیض عام ہے۔ مفتی محمد نعیم کے والد مرحوم قاری عبد الحلیم بھی ایک نومسلم باپ کے بیٹے تھے، ان کے بارے میں جو تفصیلات مجھے بتائی گئی ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔

۱۹۳۴ء میں قاری عبد الحلیمؒ کے والد محترم جمشید صاحب سوڈان میں کسٹم آفیسر کی حیثیت سے ملازمت کیا کرتے تھے۔ انہیں سوڈان میں اسلام قبول کرنے کی پیشکش ہوئی تو انہوں نے اسلام لانے سے قبل اسلامی تعلیمات کو پڑھا، اسلام کو خوب سمجھا اور پھر قبول کیا۔ انہیں اسلامی تعلیمات کو دیکھنے کے بعد احساس ہوا کہ اصل اور حق پر مبنی مذہب صرف اور صرف اسلام ہے۔ ان کا نیا اسلامی نام عبد اللہ رکھا گیا۔ جناب عبد اللہ صاحب سوڈان سے انڈیا آگئے اور اپنی فیملی کو اپنے اسلام لانے کی اطلاع دی اور گھر والوں کو سمجھایا کہ تم بھی کلمہ حق پڑھ لو۔ اس پر ان کی والدہ، بہن، دو بیٹوں برجور (قاری عبد الحلیم) اور سہراب نے اسلام قبول کرلیا۔ لیکن ان کی خوشدامن کو اعتراض تھا اور خاندان کی بڑی ہونے کی حیثیت سے انہوں نے خاصی مشکلات میں ڈال دیا اور پھر وہی پریشانیاں رہیں جو عام طور پر نومسلموں کو پیش آتی ہیں۔

قاری عبد الحلیم صاحبؒ کا پارسی نام برجور تھا، بام خاندان سے تعلق تھا، اور اسلام لانے کے وقت ان کی عمر ۴ برس تھی۔ ان کی خوشدامن کٹر پارسی تھیں، انہوں نے نہ صرف یہ کہ اسلام قبول نہیں کیا بلکہ بائیکاٹ کیا اور کہا کہ یہ برجور جب سے پیدا ہوا ہے منحوس ہے اسی کی وجہ سے ہمارے گھر میں اسلام آیا۔ مشکلات، پریشانی اور حالات کے پیش نظر حیدر آباد دکن چلے گئے کیونکہ بہت سے لوگوں کا کہنا تھا کہ وہاں کے مسلمان بہت اچھے ہیں وہاں آپ کو کوئی پریشانی نہیں ہوگی۔ چنانچہ بحمد اللہ حیدر آباد دکن کے مسلمانوں کے رویے سے ان کی والدہ بہت خوش ہوئیں، والدین نے اسلامی تعلیمات کے لیے قاری صاحب کو ڈابھیل کے ایک مدرسہ میں حفظ قرآن کے لیے داخل کیا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب اس مدرسہ میں حضرت مولانا انور شاہ کشمیریؒ بھی پڑھایا کرتے تھے۔ کون جانتا تھا کہ یہ چار سال کا بچہ اسلام لانے کے بعد اسلامی تعلیمات کو پورے عالم میں پھیلانے کا باعث ہوگا۔ حفظ قرآن کریم کی سعادت حاصل کرنے کے بعد قاری عبد الحلیم صاحب مرحوم نے پہلی تراویح بمبئی بھنڈی بازار میں پڑھائی اور بمبئی میں ہی انہوں نے اسکول کی تعلیم حاصل کی۔

قاری صاحب مرحوم کے والد محترم جناب عبد اللہ کا ویسے تو چند سال مکہ مکرمہ اور مدینہ طیبہ آنا جانا لگا رہا لیکن آخری عمر میں نیت کر کے کہ میری موت وہیں واقع ہو اور مجھے مدینہ منورہ کے قبرستان میں دفنایا جائے، ۱۹۴۳ء سے مستقل مدینہ منورہ میں سکونت اختیار کر لی۔ اعزہ و اقربا و اولاد نے بار بار اصرار کیا کہ آپ پاکستان تشریف لائیں، کچھ عرصہ کے لیے آجائیں لیکن وہ بضد تھے اور کہتے تھے کہ میری موت کہیں اور واقع نہ ہو جائے۔

پاکستان بننے کے بعد یہ فیملی ۱۹۴۸ء میں ہجرت کر کے پاکستان آگئی۔ ہندوستان سے لٹ پٹ کر آنے والی فیملی نے یہاں تیرہ سو گز کا بنگلہ اس زمانہ میں انتالیس ہزار روپے میں خریدا۔ لوگوں نے کہا کہ آپ پیسے دے کر بنگلہ خرید رہے ہیں حالانکہ آپ کو ہندوستان سے بدحال کر کے بھیجا گیا ہے۔ قاری صاحبؒ نے کہا کہ ہمارے لیے یہ جائز نہیں کہ ہم بغیر پیسے دیے اس بنگلے میں سکونت اختیار کریں۔ پاکستان آنے کے بعد قاری عبد الحلیمؒ نے سب سے پہلی تراویح سولجر بازار کے علاقہ میں واقع مسجد قباء میں پڑھائی۔ ۱۹۵۳ء میں مکی مسجد میں تراویح پڑھانی شروع کی اور مسلسل تیرہ سال تک یہیں تراویح پڑھاتے رہے، اسی وجہ سے ان کا نام قاری عبد الحلیم مکی مسجد والے کے نام سے مشہور ہوگیا تھا۔ اس دوران مکی مسجد کی مسلسل ترایح میں قاری صاحب کی شخصیت اور مسحور کن آواز میں تلاوت قرآن سے متاثر ہو کر اس وقت کے تبلیغی جماعت کے بزرگ حاجی خدا بخش مرحوم نے اپنی بیٹی صدیقہ کا رشتہ طے کر دیا اور اس رشتہ کے بعد ایک میواتی فیملی کا رشتہ دہلی پنجابی سوداگران سے طے پایا۔ حاجی خدا بخش مرحوم کا تعلق گوجرانوالہ سے تھا اور وہ انتہائی نیک و صالح و متقی تھے، ساری زندگی تبلیغی خدمات انجام دیں۔

قاری صاحبؒ اپنے بھائی کے ہمراہ اس بنگلہ میں رہا کرتے تھے لیکن والدہ کی خواہش پر گارڈن کے علاقہ میں رہائش اختیار کی۔ تبلیغی جماعت کے ایک بزرگ بھائی ابراہیم عبد الجبار نے مزدوروں کے لیے چھوٹے چھوٹے مکان بنوائے تھے، ان میں سے ایک مکان قاری صاحبؒ کو کرایہ پر دے دیا گیا لیکن انہوں نے اس مکان میں بڑی تکلیفیں اٹھائیں، چھوٹا سا مکان تھا، بجلی نہیں تھی، سخت گرمی میں گزارہ کرتے تھے۔ رہائش ناموافق ہونے کی بنا پر پرانا گولیمار میں رہائش اختیار کی لیکن یہاں فقط چھ مہینے کا عرصہ گزرا۔ پھر قاری صاحبؒ کی والدہ کی ایک سہیلی نے اسٹار ملز کے مالک سے سفارش کر کے قاری صاحبؒ کو اسٹار ملز کالونی کے مدرسہ میں قرآنی خدمات پر مامور کیا۔ اسٹار ملز کی ورکرز کالونی میں ۲۱۰ مکانات تھے جن میں سے ایک مکان انہیں رہائش کے لیے دیا گیا جہاں وہ ایک لمبا عرصہ مقیم رہے۔

مجھے قاری عبد الحلیم مرحوم کی زیارت کا ایک بار موقع ملا ہے جب جامعہ بنوریہ کے قیام کے بعد میں پہلی بار وہاں گیا تو مولانا مفتی محمد نعیم صاحب نے ان سے میری ملاقات اور تعارف کرایا۔ مرحوم بلاشبہ اس دور میں ایک مثالی زندگی کے حامل بزرگ تھے اور خاص طور پر ایک نومسلم کے طور پر اسلام کی دعوت و تبلیغ کے شعبہ میں جو خدمات سر انجام دی ہیں وہ قابل رشک ہیں۔ مولانا مفتی محمد نعیم اور ان کے زیر نگرانی چلنے والا ایک بڑا دینی ادارہ جامعہ بنوریہ کی صورت میں قاری عبد الحلیم صاحبؒ کے لیے صدقہ جاریہ ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائیں اور پسماندگان کو صبر و حوصلہ کے ساتھ ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔