نبی اکرمؐ کی خارجہ پالیسی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ پاکستان، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۱۵ فروری ۲۰۱۲ء

11 فروری 2012ء کو جناح باغ لاہور میں واقع دارالسلام لائبریری میں ’’نبی اکرمؐ کی خارجہ پالیسی‘‘ کے عنوان سے ایک سیمینار منعقد ہوا جس کی صدارت پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ اسلامیات کے ڈین پروفیسر ڈاکٹر حافظ محمود اختر نے کی جبکہ جنرل (ر) ضیاء الدین بٹ مہمان خصوصی تھے۔ راقم الحروف کو بھی اس موقع پر کچھ گزارشات پیش کرنے کا موقع ملا جن کا خلاصہ نذر قارئین ہے۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ ’’خارجہ پالیسی‘‘ کا جملہ جب بولا جاتا ہے تو سب سے پہلا یہ تاثر سامنے آتا ہے کہ ایک ریاست اور حکومت ہے جسے دوسری ریاستوں، حکومتوں اور قوموں کے ساتھ اپنے معاملات چلانے اور دنیا میں ان کے ساتھ مل جل کر رہنے کے لیے کوئی طریق کار اور اصول و قوانین طے کرنے ہیں۔ اس مفہوم میں جب ہم جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خارجہ پالیسی کے لیے ان کے طے کردہ اصولوں اور ہدایات کے حوالے سے بات کرتے ہیں تو گفتگو کا دائرہ یہ بنتا ہے کہ مدینہ منورہ کی ریاست وجود میں آنے اور اس میں آنحضرتؐ کی حکومت و اقتدار قائم ہونے کے بعد خارجہ پالیسی کے بارے میں آپؐ نے کیا طرز عمل اختیار کیا تھا اور کیا ہدایات دی تھیں، اس کے لیے ہمیں بنیادی طور پر

  1. حضورؐ کے ان خطوط کا مطالعہ کرنا ہوگا جو آپؐ نے دنیا کے مختلف ممالک کے حکمرانوں کو ارسال فرمائے تھے،
  2. ان معاہدات کا جائزہ لینا ہوگا جو متعدد اقوام اور ریاستوں کے ساتھ آپؐ نے کیے تھے، اور
  3. ان وفود کے ساتھ رسالت مابؐ کی گفتگو اور رویے کو سامنے رکھنا ہوگا جو مختلف مواقع پر مختلف اقوام کی طرف سے مدینہ منورہ آئے اور انہوں نے حضورؐ کے ساتھ باہمی معاملات پر گفتگو کی۔

دوسری قوموں کے ساتھ معاملات کے بارے میں قرآن کریم نے بیسیوں آیات میں احکام دیے ہیں اور ظاہر بات ہے کہ آنحضرتؐ کی خارجہ پالیسی کی بنیاد انہی آیات قرآنیہ پر تھی۔ ان ساری باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے جو صورتحال سامنے آتی ہے اس کے پیش نظر میری طالب علمانہ رائے میں حضورؐ کی خارجہ پالیسی کے بعض حصوں کو درج ذیل نکات کی صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے۔

  • جناب نبی اکرمؐ رسولِ انسانیت ہیں اور آپؐ کی دعوت و نبوت پوری نسل انسانی کے لیے ہے۔ آپؐ نے مکہ مکرمہ میں نبوت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد جو سب سے پہلا خطاب کیا تھا وہ یا ایھا الناس کے عنوان سے تھا کہ قریشیوں یا عربوں سے خطاب کرنے کی بجائے نبی آخر الزمانؐ پوری نسل انسانیت سے مخاطب ہوئے تھے۔ آج گلوبلائزیشن کے حوالے سے مغربی دنیا کچھ بھی کہے، مگر تاریخی حقیقت یہ ہے کہ رنگ و نسل، قومیت، جغرافیہ، اور زبان وغیرہ کی حدود سے بالاتر ہو کر پوری نسل انسانیت کو اپنی دعوت و خطاب کا عنوان سب سے پہلے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے بنایا تھا اور گلوبلائزیشن کے اولین بانی پوری تاریخ انسانی میں حضورؐ ہی تھے۔ اس لیے آپؐ نے دوسری قوموں، حکومتوں، اور سرداروں کو جو خطوط لکھے ان میں سب سے زیادہ اہمیت اور اولیت اسلام کے تعارف اور دعوت کو حاصل تھی جو جناب رسول اللہؐ کی عالمگیر نبوت و رسالت کا لازمی تقاضا تھا۔
  • جناب نبی اکرمؐ چونکہ دین فطرت لے کر آئے تھے جس کی بنیاد وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات پر ہے اور آپؐ کا دین تمام آسمانی دینوں کا آخری اور فائنل ورژن ہے، چنانچہ پوری نسل انسانی کو فطری اور وحی کی طرف لانا بھی آنحضرتؐ کے مقاصد نبوت میں سے تھا جس کے لیے اسلام کا غلبہ اور برتری نسل انسانی کی ناگزیر ضرورت تھا۔ اس لیے آپؐ نے دنیا کے تمام انسانوں کو دعوت دی کہ وہ اسلام قبول کریں۔ اور اگر وہ اسلام قبول نہیں کرتے تو نسل انسانی تک اس دین کے پہنچنے اور انسانوں کے اس مذہب کو قبول کرنے میں مزاحمت نہ کریں اور رکاوٹ نہ بنیں، یعنی وہ اپنے مذہب پر قائم رہتے ہوئے بھی اسلام کے فروغ اور غلبے کی راہ میں حائل نہ ہوں۔
    یہ بات میرے خیال میں ایسی ہی ہے جیسے آج مغرب دنیا کے تمام ممالک و اقوام سے کہہ رہا ہے کہ چونکہ اس کے نزدیک مغربی تہذیب و ثقافت سب سے بہتر اور ایک آئیڈیل فلسفہ و تہذیب کی حیثیت رکھتی ہے اس لیے دنیا کے تمام اقوام و ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ویسٹرن سولائزیشن کی بالادستی کو قبول کریں اور اپنی اپنی علاقائی تہذیبوں اور ثقافتوں کو مغربی تہذیب و ثقافت کی حدود میں لے آئیں۔ مغرب اس کے لیے قوت، لابنگ، اور دھونس کے سارے حربے استعمال کر رہا ہےاور دنیا بھر میں اپنی ثقافت کی بالادستی قائم کرنے کی جنگ لڑ رہا ہے۔ تاریخ کے ایک طالب علم کے طور پر میرا خیال یہ ہے کہ اسلام کا موقف بھی کم و بیش یہی ہے کہ چونکہ وہ دین فطرت ہے اس لیے اس کی بالادستی کے سامنے دنیا کی تمام اقوام و ممالک کو سرتسلیم خم کر دینا چاہیے۔
    چنانچہ اصل جھگڑا یہ نہیں ہے کہ کسی تہذیب و ثقافت کی بالادستی تسلیم کرانے کے لیے طاقت کا استعمال درست ہے یا نہیں، بلکہ اصل تنازع یہ ہے کہ مغرب کے دعوے کے مطابق دنیا پر بالادستی کا حق ویسٹرن سولائزیشن کو ہے، جبکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ نسل انسانی کی قیادت کا حق دین فطرت کو حاصل ہے اور انسانیت کی بھلائی اسی دین و ثقافت کو قبول کرنے میں ہے۔
    بہرحال جناب نبی اکرمؐ کی خارجہ پالیسی کا دوسرا بڑا نکتہ اسلام کا غلبہ اور اس کی بالادستی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کو ختم کرنا تھا۔ اسی وجہ سے حضورؐ یہ ہدایت دیا کرتے تھے کہ پہلے دوسری قوموں کے سامنے اسلام پیش کرو، اگر اسے قبول نہ کریں تو اس بات کی دعوت دو کہ وہ اسلام کی بالادستی اور برتری تسلیم کریں اور اس کے فروغ و نفاذ کی راہ میں رکاوٹ نہ بنیں۔ اور اگر وہ اسلام بھی قبول نہ کریں اور اس کی اشاعت میں رکاوٹ بھی بنیں تو ان سے جہاد کرو۔ گویا جہاد اور جنگ اسلام قبول نہ کرنے پر نہیں ہے، بلکہ اس کی راہ میں مزاحم ہونے پر ہے۔
  • اسلام قبول نہ کرنے والی اقوام کے ساتھ معاملات میں قرآن کریم نے جو ہدایات دی ہیں ان کی روشنی میں ان اقوام و ممالک کی درجہ بندی تین دائروں میں کی جا سکتی ہے:
    1. سورۃ الممتحنہ کی آیت 8 کے مطابق جو قومیں مسلمانوں کے ساتھ دین کے حوالے سے جنگ نہیں کرتیں اور مسلمانوں کو ان کے ملک اور زمین سے محروم کرنے کے عمل میں شریک نہیں ہیں، ان کے ساتھ حسن سلوک اور برابری کی بنیاد پر تعلقات کی اجازت ہے۔ انہیں فقہائے کرام کی اصطلاح میں غیر محارب اقوام سے تعبیر کیا جاتا ہے۔
    2. اس سے اگلی آیت کریمہ میں کہا گیا ہے کہ جو لوگ دین کے حوالے سے مسلمانوں سے جھگڑا کرتے ہیں، مسلمانوں کو ان کی زمین اور وطن سے محروم کرنے کے لیے سرگرم عمل رہتے ہیں، اور ایسا کرنے والوں کے ساتھ اس معاملہ میں معاون ہوتے ہیں، ان قوموں کے ساتھ دوستانہ تعلقات کی اجازت نہیں ہے۔
    3. جبکہ سورہ آل عمران کی آیت 28 میں حکم الٰہی یہ ہے کہ مسلمان کافروں کو دوست نہ بنائیں اور جو مسلمان کافروں کو دوست بنائیں گے اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کسی بات پر نہیں ہیں۔ البتہ کافروں کے شر سے بچنے کے لیے ظاہری تعلقات رکھے جا سکتے ہیں۔ اسے ’’تحفظاتی دائرے‘‘ سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

    اس طرح یہ تین اصول ہیں جنہیں اسلام کی خارجہ پالیسی کی اساس قرار دیا جا سکتا ہے۔

  • جناب نبی اکرمؐ کی خارجہ پالیسی میں یہ بات ایک بڑی حکمت عملی سمجھی جاتی ہے کہ مدینہ منورہ میں جب آپؐ نے ’’میثاق مدینہ‘‘ کی صورت میں یہودیوں کے ساتھ ایک مشترکہ ریاست تشکیل دی تھی جس پر یہودی قائم نہ رہے اور معاہدہ شکنی کی پاداش میں یکے بعد دیگرے یہودیوں کے تینوں قبائل بنو قینقاع، بنو نضیر، اور بنو قریضہ مدینہ منورہ سے جلاوطن ہوگئے۔ اس کے بعد انہوں نے خیبر کو مرکز بنا کر مسلمانوں کے خلاف جنگ کی تیاریاں شروع کر دیں اور مسلمانوں کو یہودیوں کے ساتھ یہ فیصلہ کن جنگ نظر آنے لگی۔ اس پر جناب رسول اللہؐ نے خیبر کی جنگ سے پہلے قریش مکہ کے ساتھ ’’معاہدۂ حدیبیہ‘‘ کر کے اس محاذ کو خاموش کیا اور اس کے فورًا بعد خیبر پر حملہ کر کے یہودیوں سے نمٹ لینے کا اہتمام کیا جو کہ جنگی اور سفارتی فراست و تدبر کا شاہکار ہے۔
  • جناب نبی اکرمؐ نے بین الاقوامی سطح پر برابری اور رواداری کے باوجود اگر کہیں سے کوئی چیلنج سامنے آیا تو اسے قبول کرنے میں کمزوری نہیں دکھائی اور چیلنج کو قبول کر کے اس کا بروقت سامنا کیا۔ جیسا کہ حضورؐ کے ایک سفیر کو شام کے علاقے میں قتل کیا گیا تو آپؐ نے اس دور کے عالمی عرف کے مطابق اسے اعلان جنگ تصور کرتے ہوئے حضرت زید بن حارثہؓ کی قیادت میں لشکر شام کی طرف روانہ کیا جس نے موتہ کے مقام پر جنگ لڑی اور اس میں حضرت زید بن حارثہؓ، حضرت جعفر طیارؓ اور حضرت عبد اللہ بن رواحہؓ شہید ہوئے۔
  • غزوہ خندق کے بعد جناب رسول اللہؐ نے اعلان فرمایا کہ قریش مکہ ہمارے خلاف آخری زور لگا چکے ہیں، اب وہ ہمارے خلاف جنگ کے لیے میدان میں نہیں آئیں گے بلکہ اب ہم ان کی طرف جنگ کرنے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی آپؐ نے یہ اعلان فرمایا کہ اب قریش اور ان کے ہمنوا تلوار کی جنگ نہیں لڑیں گے بلکہ شعر و شاعری اور ادب و خطابت کے ذریعے اسلام کی توہین اور مسلمانوں کی کردارکشی کی جنگ لڑیں گے۔ اسے میں آج کے عرف کے مطابق ’’میڈیا وار‘‘ سے تعبیر کیا کرتا ہوں۔ جناب نبی اکرمؐ نے یہ جنگ لڑنے کے لیے صحابہ کرامؓ کو دعوت دی تو تین بڑے شاعر حسان بن ثابتؓ، عبد اللہ بن رواحہؓ، اور کعب بن مالکؓ سامنے آئے اور ان کے ساتھ ایک بڑے خطیب ثابت بن قیسؓ بھی میدان میں ڈٹ گئے اور ان چاروں نے شاعری او رخطابت کے میدان میں کفر کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔
  • اس کے ساتھ ہی عسکری قوت میں بھی قرآن کریم نے مسلمانوں کو اس حد تک آگے بڑھنے کا حکم دیا کہ مسلمانوں کو عسکری اعتبار سے اس قدر طاقتور ہونا چاہیے کہ دشمن اس سے خوفزدہ ہوں اور طاقت کا توازن مسلمانوں کے ہاتھ میں ہو۔ اس لیے کہ ایک مؤثر خارجہ پالیسی کے لیے جہاں داخلی استحکام اور قومی وحدت ضروری ہے وہاں عسکری قوت میں بالادستی اور رعب بھی اس کا ناگزیر تقاضا ہے، اور قرآن کریم نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے۔

سامعین کرام! یہ چند نکات جناب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خارجہ پالیسی کا مطالعہ کرتے ہوئے ذہن میں آئے جو عرض کر دیے ہیں۔ جبکہ اجتماعیت اور نظام کے حوالے سے جناب نبی اکرمؐ کی تعلیمات اور پالیسیوں کا وسیع پیمانے پر مطالعہ کرنے اور انہیں آج کی زبان و اسلوب میں سامنے لانے کی ضرورت ہے۔ خدا کرے کہ ہم مسلمان بالخصوص دینی حلقے اس اہم دینی و ملی ضرورت کی طرف توجہ دے سکیں، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: