سود کی حیثیت رسول اللہؐ کی نظر میں

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۱ جون ۲۰۰۲ء

سود کے بارے میں سپریم کورٹ آف پاکستان میں بحث جاری ہے اس مناسبت سے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے چند ارشادات پیش کیے جا رہے ہیں۔

  1. بخاری شریف میں حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے کبیرہ گناہوں میں سات بڑے گناہوں کا ذکر فرمایا اور ان میں سود کا بھی ذکر کیا کہ سات بڑے گناہوں میں سود کا لین دین بھی شامل ہے۔
  2. بخاری شریف میں حضرت عبد اللہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا کہ سود کھانے والوں، دینے والوں، سودی کاروبار کے گواہوں، اور سود کا معاملہ لکھنے والوں پر اللہ تعالیٰ نے لعنت فرمائی ہے۔
  3. مستدرک حاکم کی روایت کے مطابق حضرت ابو ہریرہؓ نے فرمایا کہ چار آدمیوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرمایا ہے کہ انہیں جنت میں نہیں داخل کیا جائے گا۔ (١) شراب کا عادی (٢) سود خور (٣) یتیم کا مال کھانے والا (٤) ماں باپ کا نافرمان۔
  4. ابن ماجہؒ میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ سود کی برائی کے ستر درجے ہیں جس میں سب سے کم درجہ ایسا ہے جیسے کوئی شخص (معاذ اللہ) اپنی ماں سے بدکاری کا ارتکاب کرے۔
  5. مستدرک حاکم میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے ارشاد فرمایا کہ جب کسی بستی میں زنا اور سود عام ہو جائے تو گویا اس بستی کے لوگوں نے اپنی جانوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق بنا لیا ہے۔
  6. مسند احمد میں حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے اپنے سفر معراج کی تفصیلات بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سفر میں اللہ تعالیٰ نے مختلف لوگوں کو ان کے جرائم پر ملنے والی سزاؤں کی کیفیات آپؐ کو دکھائیں۔ ان میں سے ایک گروہ کی کیفیت یہ بیان کی گئی ہے کہ ان لوگوں کے پیٹ اتنے بڑے بڑے تھے جیسے کمرے ہوں، ان میں سانپ دوڑتے پھرتے تھے جو باہر سے صاف دکھائی دے رہے تھے۔ حضورؐ نے ساتھ والے فرشتے سے پوچھا کہ یہ لوگ کون ہیں؟ اس نے جواب دیا کہ یہ سود کھانے والے لوگ ہیں جو اس عذاب کا شکار ہیں۔
  7. بخاری شریف میں حضرت سمرۃ بن حذبؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے اپنا ایک خواب بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ انہیں خواب میں یہ منظر دکھایا گیا کہ خون کی نہر ہے جس کے درمیان میں ایک شخص ہے جو تیرتے ہوئے کنارے کی طرف آتا ہے اور باہر نکلنا چاہتا ہے مگر کنارے پر کھڑا ایک شخص پتھر مار کر اسے واپس نہر کے وسط میں دھکیل دیتا ہے۔ وہ پھر نکلنے کی کوشش کرتا ہے تو کنارے والا شخص دوبارہ بھاری پتھر مار کر اسے واپس دھکیل دیتا ہے اور یہ سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ آپؐ نے فرشتوں سے دریافت کیا کہ یہ کون شخص ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ یہ سود خور ہے جسے اس صورت میں عذاب دیا جا رہا ہے۔
  8. طبرانی میں حضرت عبد اللہ بن مسعودؓ سے روایت ہےکہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ قیامت سے قبل لوگوں میں سود، زنا، اور شراب نوشی کی کثرت ہو جائے گی۔
  9. مسند احمد میں حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے فرمایا کہ جب لوگ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے بخل کرنے لگیں گے اور لوگ عینہ (سود کی ایک قسم) کا کاروبار کرنے لگیں گے اور جہاد فی سبیل اللہ ترک کر دیں گے تو اللہ تعالیٰ ان پر عذاب نازل کریں گے۔ پھر وہ عذاب اس وقت تک ان سے نہیں ہٹے گا جب تک وہ دین کی طرف واپس نہیں لوٹ جائیں گے۔
  10. مسلم شریف میں روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے حجۃ الوداع کے موقع پر منیٰ میں جو خطبہ ارشاد فرمایا اس میں سود کی ممانعت کا اعلان کیا۔ اور ارشاد فرمایا کہ جاہلیت کے دور کا سود ختم کر دیا گیا ہے، اس سے قبل جن لوگوں نے سود پر رقوم کا لین دین کر رکھا ہے وہ اصل رقم واپس کریں گے اور سود کی رقم ادا نہیں کریں گے۔ آپؐ نے فرمایا کہ سب سے پہلے سود کی جس رقم کے ختم کرنے کا میں اعلان کرتا ہوں وہ میرے چچا حضرت عباسؓ کی رقوم ہیں جو سودی کاروبار کے سلسلہ میں لوگوں کے ذمہ تھیں، وہ سب ساقط کر دی گئی ہیں۔
  11. مسند احمد میں حضرت ابوامامہؓ سے روایت ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے ارشاد فرمایا کہ میری امت میں ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ کچھ لوگ بندروں اور خنزیروں کی شکل میں مسخ کر دیے جائیں گے جس کی وجہ یہ ہوگی کہ وہ شراب پیتے ہوں گے، ریشم پہنتے ہوں گے، ناچنے گانے والیاں ان کی محفلوں میں ہوں گی، اور وہ سود کھاتے ہوں گے۔
  12. مصنف ابن ابی شیبہ میں روایت ہے کہ نجران کے عیسائیوں نے جناب رسول اللہؐ کے ساتھ جب اسلامی ریاست میں غیر مسلم اقلیت کے طور پر رہنے کا معاہدہ کیا تو اس معاہدہ میں حضورؐ نے ایک شق یہ بھی لکھوائی کہ تم میں سے جس نے سود کا کاروبار کیا وہ اس ذمہ داری (معاہدہ) میں شامل نہیں ہوگا۔
  13. مصنف عبد الرزاق میں حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے جس میں انہوں نے فرمایا کہ اے مسلمانو! تم یہودیوں، عیسائیوں، اور مجوسیوں کے ساتھ کاروبار میں شرکت نہ کرو۔ وجہ پوچھی گئی تو حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے فرمایا کہ وہ سودی کاروبار کرتے ہیں جو حلال نہیں ہے۔
  14. دارقطنی میں حضرت عبد اللہ بن حنظلہؓ سے روایت ہے کہ جناب رسول اللہؐ نے فرمایا کہ سود کا ایک درہم اللہ تعالیٰ کے نزدیک چھتیس مرتبہ زنا کرنے سے بھی زیادہ سخت اور برا ہے۔
  15. اغاثہ اللھفان میں حافظ ابن القیمؒ نے جناب نبی اکرمؐ کا ارشاد گرامی نقل کیا ہے کہ میری امت پر ایک دور ایسا آئے گا جب لوگ تجارت کے نام پر سود کو حلال قرار دینے لگیں گے۔