عام انتخابات ۲۰۰۸ء کے نتائج اور متحدہ مجلس عمل کا مستقبل

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مارچ ۲۰۰۸ء

۱۸ فروری کو ہونے والے عام انتخابات کے نتائج ملک بھر میں زیر بحث ہیں اور ان کے حوالے سے ملک کے مستقبل کے بارے میں قیاس آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ یہ نتائج خلاف توقع نہیں ہیں۔ ملک کے سیاسی حالات جس رخ پر آگے بڑھ رہے تھے، ان سے ایسا ہی محسوس ہو رہا تھا کہ الیکشن میں ووٹروں کا ٹرن آؤٹ کم رہے گا، پیپلز پارٹی سیٹوں کے حصول میں سب سے آگے رہے گی اور مسلم لیگ ق کے ساتھ ساتھ متحدہ مجلس عمل کو بھی ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بہرحال اب قومی سیاست کی نئی صف بندی ہو چکی ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (ن)، پاکستان مسلم لیگ (ق)، متحدہ قومی موومنٹ اور نیشنل عوامی پارٹی اس پوزیشن میں آ گئی ہیں کہ وہ مرکز اور صوبوں میں حکومت سازی کے لیے کسی نہ کسی درجے میں کوئی کردار ادا کر سکیں اور اس کے لیے مختلف سطحوں پر جوڑ توڑ کا سلسلہ جاری ہے۔

الیکشن کے نتائج سے ظاہر ہے کہ جتنے لوگوں نے بھی ووٹ ڈالے ہیں، ان کی غالب اکثریت نے سابقہ حکومت کی پالیسیوں کومسترد کر دیا ہے اور ملک کی رائے عامہ کی یہ خواہش نمایاں نظر آ رہی ہے کہ الیکشن کے بعد صرف حکومت ہی تبدیل نہ ہو، بلکہ قومی پالیسیوں میں بھی واضح تبدیلی نظر آئے، لیکن صدر پرویز مشرف مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ حکومت بے شک الیکشن کے نتائج کی روشنی میں نئی بن جائے، لیکن ان کی پالیسیوں کا تسلسل اسی طرح جاری رہے اور عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والی نئی حکومت عوامی رجحانات کو اپنی پالیسیوں کی بنیاد بنانے کی بجائے صدر پرویز مشرف کی پالیسیوں کو بدستور قائم رکھے، جبکہ اس مقصد کے لیے انھیں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی سفارتی سرگرمیوں کی حمایت حاصل ہے۔ دوسری طرف سابقہ حکمران پارٹی کے ذمہ دار راہ نماؤں کا کہنا ہے کہ ان کی شکست کے اسباب میں:

  1. امریکہ نواز پالیسی،
  2. قبائلی علاقوں میں فوج کشی،
  3. لال مسجد کے خلاف وحشیانہ آپریشن
  4. مہنگائی میں ہوش ربا اضافے اور
  5. عدلیہ کی بالادستی کے خلاف کیے جانے والے اقدامات

کو کلیدی حیثیت حاصل ہے جس کا مطلب ظاہر ہے کہ عوام نے ان پالیسیوں کو مسترد کر دیا ہے اور وہ ان میں جوہری تبدیلیوں کے خواہاں ہیں، اس لیے اس مرحلے میں سابقہ حکومت کی پالیسیوں کا تسلسل جاری رکھنے کی کوششیں الیکشن کے نتائج اور ملک کی رائے عامہ کے اجتماعی فیصلے کو مسترد کرنے کے مترادف ہوں گی۔ ایسی کوششوں کو آگے بڑھانے میں سب سے زیادہ افسوس ناک کردار امریکہ سمیت ان مغربی ممالک اور حکومتوں کا دکھائی دے رہا ہے جو مشر ف حکومت کی پالیسیوں کو بچانے کے لیے منتخب سیاسی پارٹیوں کی لیڈر شپ پر دباؤ ڈال رہی ہیں اور اگر خدانخواستہ یہ کوششیں کامیاب ہو گئیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ پاکستان میں ۱۸؍ فروری کے انتخابات کا ڈول صرف چہروں کی تبدیلی کے لیے ڈالا گیا تھا اور قومی پالیسیوں کے حوالے سے پاکستان کے عوام کی رائے کو کوئی حیثیت نہیں دی جا رہی جو انتہائی افسوس ناک اور مایوس کن بات ہوگی۔ اس لیے ان انتخابات میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والی سیاسی جماعتوں کی قیادتوں پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور یہ ان کی سیاسی فراست، حب الوطنی اور حوصلہ وتدبر کا امتحان ہے کہ وہ اس الیکشن کے نتیجے میں صرف چہروں کی تبدیلی اور حکومتی مناصب پر اکتفا کرتی ہیں یا عوامی رائے اور رجحانات کا احترام کرتے ہوئے سابقہ حکومت کی ان پالیسیوں کو تبدیل کرنے میں بھی سنجیدگی کا مظاہرہ کرتی ہیں جن پر نہ صرف یہ کہ عوام کی ایک بڑی اکثریت نے انتخابات میں عدم اعتماد کر دیا ہے بلکہ لوگوں کی ایک اچھی خاصی تعداد نے ان پالیسیوں کے ساتھ شدید نفرت کی وجہ سے پولنگ اسٹیشنوں تک آنا بھی گوارا نہیں کیا۔

ہمارے ہاں سیاسی عمل اور ووٹ کے ذریعے تبدیلی کے طریق کار پر لوگوں کا اعتماد پہلے ہی کم ہوتا جا رہا ہے جو ۱۸ فروری کے انتخابات میں ڈالے جانے والے ووٹوں کے تناسب سے واضح طور پر محسوس کیا جا رہا ہے اور اگر ووٹ ڈالنے والوں کا اعتماد بھی اس عمل پر باقی نہ رہا تو سیاسی عمل کی افادیت سے عام لوگوں کی یہ مایوسی شدید رد عمل کا باعث بھی بن سکتی ہے جس کا ان نازک حالات میں ہمارا ملک متحمل نہیں ہو سکے گا۔ ہمیں امید ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی، پاکستان مسلم لیگ (نواز گروپ) اور دوسری بڑی سیاسی جماعتیں اس مرحلے پر ذمہ داری اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عوامی رجحانات کی پاس داری کے لیے موثر کردار ادا کریں گی اور جمہوری عمل کو مایوسی اور تذبذب کی دلدل کی طرف دھکیلنے کی بجائے امید اور حوصلہ افزائی کی شاہراہ پر گامزن کرنے میں کامیاب ہوجائیں گی کہ قوم کے بہتر اور روشن مستقبل کی طرف یہی راستہ جاتا ہے۔

اس موقع پر ہم متحدہ مجلس عمل کے بارے میں بھی کچھ عرض کرنا ضروری سمجھتے ہیں کہ پانچ سال قبل ہونے والے عام انتخابات میں دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ نے جو پیش رفت کی تھی، اس سے ملک میں نفاذ اسلام اور دینی اقدار کے تحفظ وفروغ کے حوالے سے امید کی ایک کرن ذہنوں میں نمودار ہونے لگی تھی اور عوام یہ محسوس کرنے لگے تھے کہ پاکستان جس مقصد کے لیے وجود میں آیا تھا، اس کی تکمیل کا کوئی راستہ اب نکل آئے گا، لیکن حالیہ الیکشن سے قبل متحدہ مجلس عمل کے باہمی خلفشار اور الیکشن میں اس کی پسپائی نے امید کی اس شمع کو گل کر دیا ہے اور قومی سیاست میں دینی حلقوں کا کردار پھر ایک بار سوالیہ نشان بنتا جا رہا ہے۔

۲۰۰۲ء کے انتخابات میں متحدہ مجلس عمل کی نمایاں کامیابی کے اسباب ہمارے خیال میں یہ تھے:

  • یہ مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی دینی سیاسی جماعتوں کا متحدہ محاذ تھا اور پاکستان کی تاریخ بتاتی ہے کہ دینی جماعتوں نے جب بھی مسلکی دائروں سے بالاتر ہو کر دینی وقومی مقاصد کے لیے جدوجہد کی ہے، ملک کے عوام نے ان کا ساتھ دینے میں بخل سے کام نہیں لیا۔
  • افغانستان پر امریکی اتحاد کی فوج کشی اور طالبان حکومت کے جبری خاتمہ نے پاکستانی عوام کے دینی جذبات میں ہلچل پیدا کر دی تھی جس کا براہ راست فائدہ دینی جماعتوں کے اس متحدہ محاذ کو ہوا۔
  • مغرب کی فکری یلغار اور اسلامی اقدار کے خلاف مغربی لابیوں کی طوفانی پیش قدمی میں پاکستانی عوام یہ امید کر رہے تھے کہ اس کی روک تھام کے لیے متحدہ مجلس عمل کوئی بھرپور کردار ادا کر سکے گی۔

اس پس منظر میں عوام کی ایک بڑی تعداد نے متحدہ مجلس عمل کا ساتھ دیا اور قومی اسمبلی اور سینٹ میں معقول نمائندگی کے ساتھ ساتھ صوبہ سرحد کی حکومت اور بلوچستان کی حکومت میں اشتراک ایم ایم اے کے حصے میں آیا جس سے عوام کو حوصلہ ہوا کہ ان کے امریکہ مخالف جذبات اور نفاذ اسلام کی خواہش کو اچھی ترجمانی میسر آ گئی ہے، لیکن متحدہ مجلس عمل اپنے پانچ سالہ دور میں عوام کی توقعات اور امیدوں کا ساتھ نہیں دے سکی۔ اس سلسلے میں معترضین کی شکایات کی فہرست طویل ہے، لیکن چند امور ان میں ایسے ہیں جن پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے:

  • باجوڑ کے دینی مدرسہ پر امریکی بمباری کے موقع پر ملک بھر کے دینی حلقے بجا طور پر یہ توقع کر رہے تھے کہ صوبہ سرحد میں ایم ایم اے کی حکومت اور متحدہ مجلس عمل کی قیادت عوام کی احتجاجی لہر کی قیادت کرے گی، مگر ایم ایم اے نے عوامی احتجاج کی قیادت پر اپنی حکومت کے تحفظ کو ترجیح دی جس سے دینی حلقوں کے جذبات کو دھچکا لگا۔
  • حدود آرڈیننس کے بارے میں وفاقی حکومت کے عزائم سب پر واضح تھے اور ا س نے حدود شرعیہ کا تیا پانچہ کر دیا، مگر متحدہ مجلس عمل کا کردار اس میں یہ رہا کہ نہ تو وہ خود اس سلسلے میں اپنے بلند بانگ دعووں کو عملی جامہ پہنا سکی اور نہ ہی اس نے اس کے لیے کوئی دوسرا احتجاجی فورم وجود میں آنے دیا، حتیٰ کہ ’’مجلس تحفظ حدود شرعیہ پاکستان‘‘ کے عنوان سے ایک احتجاجی فورم تشکیل پاتے پاتے رہ گیا اور اس کے تشکیل نہ پا سکنے کی بنیادی وجہ ایم ایم اے کی قیادت کا طرز عمل تھا۔
  • لال مسجد کے سانحہ میں بھی متحدہ مجلس عمل سے جس کردار کی توقع ملک کے عوام اور خاص طور پر دینی حلقے بجا طور پر رکھتے تھے، ایم ایم اے کی قیادت نے خود کو اس کردار سے دور رکھا۔ اس سلسلے میں عوامی جذبات اور احتجاج کی قیادت کرنا اور اسے صحیح رخ پر رکھتے ہوئے موثر بنانا بنیادی طور پر متحدہ مجلس عمل کی ذمہ داری تھی، لیکن ایم ایم اے کی قیادت کی ترجیحات میں یہ ذمہ داری اپنی جگہ نہ بنا سکی جس کا خمیازہ اپنے دائرے میں تھوڑا بہت کردار ادا کرنے والے وفاق المدارس العربیہ کو بھگتنا پڑا اور لوگوں کے جذبات کی شدت کا رخ اس کی طرف مڑ گیا حالانکہ کوئی احتجاجی تحریک سرے سے وفاق المدارس کے دائرۂ کار میں ہی شامل نہیں تھی اور نہ ہی یہ اس کی ذمہ داری بنتی تھی۔
  • متحدہ مجلس عمل کی قیادت سے لوگوں کو یہ توقع تھی کہ وہ اپنے دائرے میں ملک کے ان دیگر دینی حلقوں کو بھی شامل کرنے کا راستہ اختیار کرے گی جو دینی وملی مقاصد میں اس کا ساتھ دے سکتے ہیں اور اس طرح یہ متحدہ محاذ زیادہ موثر حیثیت حاصل کرے گا، لیکن ایم ایم اے سے باہر کے دینی حلقوں کو اعتماد میں لینے کی بجائے خود اس کے داخلی حلقوں کا باہمی اعتماد بھی مسلسل سکڑنے لگا جو پہلے دو جماعتوں (جمعیۃ علماے اسلام اور جماعت اسلامی) کے دائرے تک محدود ہوا اور پھر ان دونوں میں ایک دوسرے پر بالادستی حاصل کرنے کی کشمکش نے الیکشن سے قبل متحدہ مجلس عمل کا شیرازہ مکمل طور پربکھیر کر رکھ دیا۔ ہماری سوچی سمجھی رائے ہے کہ اگر جمعیۃ علماے اسلام اور جماعت اسلامی ہی ایک دوسرے کو زیر کرنے کی کوشش کی بجائے باہمی اعتماد کے ساتھ حالیہ الیکشن میں کوئی مشترکہ موقف اختیار کر لیتیں تو صورت حال اس قدر خراب نہ ہوتی۔
  • اس سب کچھ کے باوجود بلوچستان کی حد تک ہمیں یہ توقع تھی کہ جمعیۃ علماے اسلام ان انتخابات میں پہلے سے زیادہ اچھی پوزیشن حاصل کر لے گی اور متحدہ مجلس عمل کا صف اول کا سیاسی کردار باقی رہ جائے گا مگر وہاں بھی جمعیۃ علماے اسلام میں پیدا ہو جانے والے باہمی خلفشار پر حکمت عملی کے ساتھ قابو پانے کی بجائے دستوری موشگافیوں کو ترجیح دی گئی جس سے سیاسی عمل میں جمعیۃ کی مزید پیش رفت کا خواب بکھر کر رہ گیا۔

ان حالات میں متحدہ مجلس عمل کے گزشتہ پانچ سالہ سیاسی کردار پر ایک حد تک مایوسی کا اظہار کرنے کے باوجود بھی ہماری شدید خواہش ہے کہ ایم ایم اے کا فورم قائم رہے اور وہ مذکورہ بالا شکایات کا ازالہ کرتے ہوئے مستقبل کے سیاسی سفر میں باہمی اشتراک وتعاون کو جاری رکھنے کا اہتمام کرے۔

ہمیں متحدہ مجلس عمل سے یہ شکایت نہیں ہے کہ وہ اپنے حکومتی دائرے میں نفاذ اسلام کا اہتمام کیوں نہیں کرسکی، کیونکہ ہم بخوبی یہ بات سمجھتے ہیں کہ موجودہ حکومتی نیٹ ورک میں ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے جس کی تصدیق حسبہ بل کے ساتھ وفاقی دار الحکومت کی طرف سے روا رکھے جانے والے طرز عمل نے کر دی ہے۔ البتہ ہم اس شکایت کو بے جا نہیں سمجھتے کہ عوام کے دینی جذبات کی ترجمانی، دینی حلقوں کے درمیان مفاہمت وتعاون کو وسعت دینے اور ان کی احتجاجی قوت کو منظم واستعمال کرنے کے لیے متحدہ مجلس عمل جو کچھ کر سکتی تھی اور جو کچھ اسے کرنا چاہیے تھا، وہ نہیں ہوا اور متحدہ مجلس عمل کی پالیسی ترجیحات میں آہستہ آہستہ معروضی اور روایتی سیاست کا غلبہ ہوتا چلا گیا۔

ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اگر متحدہ مجلس عمل اور دینی جماعتوں نے بھی معروضی سیاست ہی کو اوڑھنا بچھونا بنانا ہے تو اس کے لیے دوسری روایتی سیاسی جماعتیں ہی کافی ہیں اور وہ ان سے زیادہ اچھے انداز میں معروضی سیاست کے تقاضے پورے کر رہی ہیں۔ دینی جماعتوں کا اصل اور امتیازی کردار ہمارے نزدیک یہ ہے کہ وہ معروضی سیاست میں صرف اس حد تک ملوث ہوں جتنا نظریاتی اور دینی مقاصد کے لیے ناگزیر حد تک ضروری ہو۔ وہ اسے اساس بنا کر موجودہ عالمی اور قومی تناظر میں دینی اقدار کے تحفظ وفروغ اور نفاذ اسلام کے لیے پیش رفت کا راستہ نکالیں اور اس سلسلے میں عوامی احتجاج کی قیادت کریں۔ ہمارا خیال ہے کہ اگر اب بھی متحدہ مجلس عمل کے قائدین ایک بار پھر مل بیٹھیں اور گزشتہ کوتاہیوں کا احساس وادراک کرتے ہوئے باہمی مفاہمت واعتماد کے ساتھ آگے بڑھنے کا راستہ اختیار کر لیں تو بہت سی باتوں کی تلافی ہو سکتی ہے اور قومی سیاست میں دینی جماعتوں کے کردار کو موثر بنانے کے راستے نکل سکتے ہیں۔ خدا کرے کہ ہماری یہ گزارشات متحدہ مجلس عمل کے قائدین کے اذہان وقلوب تک رسائی حاصل کر پائیں اور دینی جدوجہد کے ازسرنو منظم ہونے کی کوئی صورت پیدا ہو جائے، آمین یا رب العالمین۔