غلامی کا تصور اور سیرت نبویؐ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ
تاریخ اشاعت: 
ستمبر ۲۰۰۷ء

(دارالہدٰی، سپرنگ فیلڈ، ورجینیا، امریکہ میں سیرتِ نبویؐ پر گفتگو جسے تحریری شکل دی گئی۔)

غلامی کیا ہوتی ہے، آج کے دور میں غلام موجود ہیں یا نہیں اور غلامی کے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟ یہ آج کی دنیا کے نازک موضوعات میں سے ہے۔ اسلام پر جو اعتراضات ہوتے ہیں ان میں سے ایک اعتراض غلامی کے حوالے سے بھی ہے۔ جب اقوام متحدہ نے غلامی کو انسانی حقوق کے عالمی منشور میں کلیتاً ممنوع قرار دیا تو اس سے کچھ عرصہ پہلے تک یہاں امریکہ میں بھی غلامی کا سلسلہ قائم تھا۔ لیکن جب غلامی کو ممنوع قرار دینے کی بات ہوئی تو یہ کہا گیا کہ اسلام بھی ان مذاہب میں سے ہے جنہوں نے غلامی کو جائز قرار دیا اور اپنے نظام میں غلامی کا رواج برقرار رکھا۔ اس بات کی بظاہر تائید بھی ہوتی ہے اس لیے کہ قرآن کریم میں غلامی کے بارے میں آیات موجود ہیں، احادیث میں ان کا ذکر ہے اور غلامی کے متعلق فقہ کے ابواب ہیں۔ اگرچہ آج کے دور میں عملاً غلامی موجود نہیں ہے لیکن اسلام کے اندر غلامی کا ایک مستقل تصور ہے جو پڑھا اور پڑھایاجاتا ہے۔ چنانچہ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ غلامی کیا تھی اور اسلام نے اس کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔

غلامی کیا ہے؟

غلامی یہ ہے کہ ایک آدمی دوسرے آدمی کو ہر طرح سے اپنا تابع بنا لے۔ غلام بننے والا آدمی مکمل طور پر اپنے مالک کے حکم کے تابع ہو جاتا ہے کہ جو وہ کہے گا یہ وہی کرے گا، غلام اپنی مرضی سے کوئی کام نہیں کر سکتا۔ اس کی خرید و فروخت بھی جائز ہوتی تھی کہ غلام ایک مالک کے ہاں سے بکتا تھا اور دوسرے کے ہاں جاتا تھا، منڈی میں اس کی قیمت پڑتی تھی اور بولی لگتی تھی۔ ایک آزاد آدمی اسے بیچتا تھا اور دوسرا آزاد آدمی اسے خریدتا تھا ایسے ہی جیسے جانور خریدے و بیچے جاتے ہیں اور جس طرح جانوروں سے جو چاہے کام لیں اسی طرح غلام انسانوں سے بھی ان کی مرضی اور منشاء کے بغیر کام لیا جاتا تھا۔ غلام آدمی کی ضروریاتِ زندگی اس کے مالک کے ذمے ہوتی تھیں۔ ایک غلام کا معیار زندگی کیسا ہوتا تھا? اس کا انحصار اس بات پر ہوتا تھا کہ اس کا مالک کتنا سخی اور رحمدل ہے۔

ایک آدمی دوسرے آدمی کا غلام کیسے بنتا تھا اس کے دو طریقے رائج تھے۔ایک یہ کہ آزاد آدمی کو جبرًا غلام بنا لیا جاتا اور دوسرا یہ کہ جنگی قیدیوں کو غلام بنایا جاتا۔

آزاد آدمی کا غلام بننا

ایک طریقہ یہ تھا کہ کوئی طاقتور آدمی یا گروہ کسی کمزور آدمی کو پکڑ کر بیچ دیتا تھا، اسے ’’بیع الحر‘‘ کہتے ہیں جس کی مختلف صورتیں ہوتی تھیں۔ مثلاً ایک آزاد آدمی نے کوئی ایسا جرم کیا کہ جس کی سزا میں قبیلے کی پنچایت یا سردار نے اسے غلام بنا دیا کہ اب تم غلامی کی زندگی بسر کرو گے۔ یا پھر ویسے ہی کسی طاقتور گروہ نے راہ چلتے مسافر کو پکڑ کر کسی کے ہاتھ بیچ دیا، بے شمار لوگ اس طرح بِک جاتے تھے۔ حضرت سلمان فارسیؓ ایک آزاد گھرانے کے فرد تھے، مجوسیت چھوڑ کر عیسائی ہوگئے تھے اور عیسائیت میں ایک عرصہ گزارا۔ وہ گھر سے مذہبی تعلیم کے حصول کے لیے نکلے ہوئے تھے کہ راستے میں لوگوں نے پکڑا اور غلام بنا کر بیچ دیا۔ حضرت سلمان فارسیؓ غلام بن کر مدینہ منورہ کے ایک یہودی خاندان کے پاس آگئے۔ اسی طرح کی ایک اور مثال حضرت یوسف علیہ السلام کی ہے وہ بھی آزاد باپ کے بیٹے تھے اور آزاد گھرانے کے فرد تھے۔ بھائیوں نے اپنے حسد کی وجہ سے انہیں کنویں میں پھینک دیا جہاں سے کسی قافلے والوں نے نکالا اور آگے کسی کے ہاتھ بیچ دیا۔ اسے بیع الحر کہتے ہیں کہ کوئی طاقتور کسی آزاد آدمی کو پکڑے اور اس کے دام کھرے کرے۔ اس طرح سے بکنے والا آدمی ساری زندگی غلامی کی بسر کرتا تھا۔ بیع الحر کی ایک اور مثال حضرت زید بن حارثہؓ تھے جو کہ غلام بن کر حضرت خدیجہؓ کے پاس آئے تھے اور حضرت خدیجہؓ نے انہیں حضورؐ کی خدمت میں دے دیا تھا۔ حضورؐ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا اس کا ذکر آگے آئے گا۔ آزاد آدمی کو غلام بنانے کا ایک طریقہ وہ ہوتا تھا جو چند دہائیاں قبل تک یہاں (امریکہ) میں رائج رہا کہ افریقہ سے جہاز بھر کر لائے جاتے تھے اور بطور غلام بیچ دیے جاتے تھے۔ وہاں سے روزگار کے لالچ میں لائے جاتے تھے اور یہاں پر غلام بنا لیے جاتے تھے، امریکہ میں غلامی کا یہ سلسلہ صدیوں تک رہا ہے۔ غلامی کے حوالے سے اگر تاریخ سامنے رکھی جائے تو سب سے سنگین اور سب سے صبر آزما تاریخ یہیں کی ہے۔

جنگی قیدی کا غلام بننا

دوسرا طریقہ غلام بنانے کا یہ ہوتا تھا کہ دو قوموں کے درمیان جنگ کے نتیجے میں جو قیدی ہاتھ میں آتے تھے انہیں غلام بنا لیاجاتا تھا۔ اب قیدیوں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جاتا اس بارے میں بھی مختلف طریقے رائج تھے، مثلاً:

  • قیدیوں کا تبادلہ کر لیا جاتا۔
  • احسان کے طور پر یا فدیہ لے کر قیدی چھوڑ دیے جاتے۔
  • قیدیوں کو قتل کر دیا جاتا۔
  • قید کر لیا جاتا۔

جب جنگوں کے نتیجے میں گرفتار ہونے والے افراد کو قیدی بنانے کا فیصلہ کیا جاتا تو پھر یہ مسئلہ درپیش ہوتا تھا کہ انہیں قید کہاں کیا جائے۔ چونکہ اس زمانے میں اجتماعی قید خانے نہیں ہوا کرتے تھے اس لیے یہ قیدی مختلف خاندانوں میں تقسیم کر دیے جاتے تھے،اِن قیدیوں کی حیثیت غلاموں کی ہوتی تھی۔ یعنی جنگوں میں جو لوگ پکڑے جاتے اگر ان کو فدیہ لے کر یا ویسے چھوڑنا مناسب نہ ہوتا، تبادلہ کی بھی کوئی صورت نہ بنتی، قتل کرنا بھی مصلحت کے خلاف ہوتا تو پھر آخری صورت یہ ہوتی تھی کہ انہیں قیدی بنا لیا جائے۔ پھر قیدی بنانے کی شکل یہ ہوتی تھی کہ قید خانے میں ڈالنے کے بجائے انہیں غلام اور لونڈی بنا کر مختلف خاندانوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ ان جنگی قیدیوں کو غلام سمجھا جاتا تھا اور ان کے ساتھ غلامی کے اصولوں پر ہی معاملہ ہوتا تھا، ان سے کام بھی لیا جاتا تھا اور ان کی خرید و فروخت بھی ہوتی تھی۔ جب کوئی عورت قید ہو کر لونڈی بنتی تو اس کا پچھلا ازدواجی رشتہ ختم ہو جاتا تھا اور جس کی مِلک میں وہ آجاتی تھی اسی کے ساتھ وہ رہتی تھی۔ جس شخص کی مِلک میں یہ لونڈی ہوتی تھی اس کے لیے لونڈی کے ساتھ جنسی تعلقات بھی جائز ہوتے تھے۔ مالک خود اس لونڈی سے جنسی تعلق رکھ سکتا تھا یا اسے کسی اور شخص کے نکاح میں دے سکتا تھا، حتیٰ کہ جاہلیت کے دور میں لونڈیوں کو فحاشی اور زنا کے کاروبار کے لیے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

اسلام میں غلامی کا تصور

پہلی بات یہ ہے کہ غلامی مسلمانوں نے رائج نہیں کی اس لیے کہ مسلمانوں سے پہلے یہ طریقہ دنیا میں چلا رائج آرہا تھا۔ غلامی کے ساتھ جیسے باقی قوموں کو واسطہ پڑا اسی طرح مسلمانوں کو بھی اس کے ساتھ واسطہ پڑا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ غلامی کے اس رواج کے ساتھ سب سے اچھا برتاؤ کس نے کیا۔

جناب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غلامی کے پہلے طریقے ’’بیع الحر‘‘ کو مکمل طور پر ممنوع قرار دے دیا، احادیث میں اور فقہ کی کتابوں میں اس کے متعلق مستقل ابواب ہیں۔ جبکہ غلامی کے دوسرے طریقے یعنی جنگوں میں قیدی بنانے کو برقرار رکھا۔ وہ ایسے کہ جب قیدیوں کے ساتھ کوئی اور معاملہ کرنے کی صورت نہ ہوتی کہ احساناً چھوڑ دینا، فدیہ لے کر چھوڑ دینا، یا قتل کرنا وغیرہ جنگ کی حکمتوں کے خلاف ہوتا تو پھر انہیں قید کر لیا جاتا۔

غزوۂ بدر جو کہ اسلام اور کفر کی پہلی فیصلہ کن جنگ تھی اس میں ستر کافر مارے گئے اور اتنے ہی گرفتار ہوئے تھے۔ قید میں آنے والوں کے بارے میں جناب رسول اللہؐ نے صحابہؓ سے مشورہ کیا کہ ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ مختلف مشورے سامنے آئے کہ انہیں قتل بھی کر سکتے ہیں، احساناً بھی چھوڑ سکتے ہیں، فدیہ لے کر بھی چھوڑ سکتے ہیں اور غلام بھی بنا سکتے ہیں۔ چنانچہ فدیہ لے کر قیدی چھوڑنے کا فیصلہ ہوا۔ اسی طرح غزوۂ حنین میں سارے قیدی ویسے ہی احساناً چھوڑ دیے گئے۔ لیکن بہت سی جنگوں میں گرفتار ہونے والوں کو قید کرنے کا فیصلہ ہوا۔ چنانچہ جب قیدی بنانے کی نوبت آتی تو چونکہ اس زمانے میں اجتماعی قید خانے نہیں ہوا کرتے تھے اس لیے ان قیدیوں کو غلاموں کی صورت میں مختلف خاندانوں میں تقسیم کر دیا جاتا۔ غلامی کی یہ شکل اسلام نے برقرار تو رکھی لیکن اس میں اصلاحات کیں۔

قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے غلاموں کے متعلق ایسے احکامات دیے جن سے لوگ غلاموں کے ساتھ سلوک میں محتاط ہوگئے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی غلطیوں کے بدلے میں غلام آزاد کرنے کا حکم دیا۔ مثلاً قسم کھا کر توڑ دی تو اس کے بدلے میں غلام آزاد کرو، قتلِ خطا ہوگیا تو غلام آزاد کرو، بیوی کو غلطی سے محرمات میں سے کسی کے ساتھ تشبیہ دے دی جسے ظہار کہتے ہیں تو غلام آزاد کرو۔ اسی طرح یہ حکم دیا گیا کہ اگر لونڈی سے بچہ پیدا ہو گیا ہے تو اس ماں کو ’ام الولد‘ کہا جاتا ہے اور اس کو فروخت کرنا حرام ہے اور مالک کے مرنے کے بعد وہ آزادی کی مستحق ہوگی۔ اسلام نے اِن اصلاحات کے ساتھ غلامی کی اس شکل کو جائز رکھا اس صورت میں کہ جب جنگی قیدیوں کے ساتھ اور کوئی سلوک کرنے کی گنجائش نہ ہو۔

بخاری شریف اور مسلم شریف کی روایات میں جناب رسول اللہؐ کا ارشاد ہے اطعموھم مما تطعمون والبسوھم مما تلبسون کہ جو خود کھاتے ہو انہیں بھی کھلاؤ، جو خود پہنتے ہو انہیں بھی پہناؤ، ان سے ان کی طاقت سے زیادہ کام مت لو، اگر کام ان کی ہمت سے زیادہ ہے تو خود ساتھ مل کر ان کی مدد کرو۔ یعنی اسلام نے غلاموں کے معاشرتی مقام میں ایک عملی تبدیلی کرتے ہوئے یہ تعلیم دی کہ ان کا مقام یہ نہیں ہے کہ وہ جانوروں کی طرح زندگی بسر کریں۔ نبی کریمؐ نے فرمایا کہ کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے اور کام کاج کے معیار میں وہ تمہارے برابر ہوں یعنی عملی طور پر ان کا مقام خادم کا ہو نہ کہ غلام کا۔

حضرت زید بن حارثہؓ بھی ایک آزاد خاندان کے فرد تھے راستے میں سفر کرتے ہوئے کسی نے پکڑا اور بیچ دیا، یہ حضرت خدیجہؓ کی ملکیت میں آئے انہوں نے حضورؐ کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضورؐ نے انہیں آزاد کر دیا لیکن وہ آزادی کے بعد بھی آپؐ کی خدمت میں رہے۔ حضورؐ نے انہیں متبنّٰی یعنی منہ بولا بیٹا بنا لیا تھا اور وہ اس وقت تک حضورؐ کے منہ بولے بیٹے رہے جب تک اس کی ممانعت کے احکامات نازل نہیں ہوئے۔ یہ واحد صحابی ہیں جن کا نام قرآن کریم میں ہے۔ حضرت زید بن حارثہؓ کے خاندان کو معلوم ہوا تو وہ لوگ انہیں ڈھونڈتے ہوئے وہاں پہنچ گئے۔ یہ وہ وقت تھا جب حضورؐ زید بن حارثہؓ کو آزاد کر چکے تھے۔ خاندان کے لوگ آئے کہ ہمارا ایک بچہ تھا جسے کچھ لوگوں نے غلام بنا کر بیچ دیا ہے ہم اس کی تلاش میں ہیں، اس طرح وہ زید بن حارثہؓ تک پہنچ گئے۔ خاندان والوں نے حضورؐ سے کہا کہ ہم اسے واپس لے جانا چاہتے ہیں، آپؐ نے فرمایا کہ میری طرف سے کوئی رکاوٹ نہیں ہے ۔ خاندان کے لوگ چچا اور بھائی وغیرہ آئے اور کہا کہ ہمارے ساتھ چلو۔ حضرت زید بن حارثہؓ نے کہا یہ ٹھیک ہے کہ آپؐ میرے خاندان کے لوگ ہیں چچا ہیں تایا ہیں بھائی ہیں لیکن جو کچھ میں نے یہاں دیکھا ہے مجھے کائنات میں اور کہیں نہیں ملے گا، میں یہ گھر چھوڑ کر کہیں نہیں جاؤں گا۔ ایک غلام کے ساتھ جناب نبی کریمؐ کے حسنِ سلوک کی یہ ایک بہترین مثال ہے کہ آزاد ہونے کے بعد بھی کہہ رہے ہیں کہ میں تو غلام ہی بہتر ہوں۔ پہلے غلام بنانے سے بنا تھا اب اپنی مرضی سے بن رہا ہوں۔ اس غلامی سے مراد حضورؐ کی خدمت تھی کہ انہوں نے اپنے آپ کو حضورؐ کا خادم بنانے میں سعادت سمجھی۔ یہ حضورؐ کا حسنِ سلوک تھا کہ ایک اجنبی غلام جسے اس کا خاندان مل جاتا ہے لیکن وہ اپنے خاندان کے ساتھ جانے کے بجائے جناب نبی کریمؐ کی خدمت میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے۔

غلاموں کے ساتھ آپؐ نے کیا سلوک کیا اور اپنے اصحابؓ کو کس سلوک کی تلقین کی اس کے متعلق بیسیوں روایات ہیں۔ ایک انصاری صحابیؓ حضرت ابو مسعودؓ نے اپنے غلام کو کسی بات پر تھپڑ ما ردیا۔ حضورؐ نے ان سے پوچھا کہ کیا تم نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا ہے؟ صحابی نے کہا کہ یا رسول اللہ ہاں میں نے اس سے ایک کام کہا تھا جو اس نے نہیں کیا تو میں نے اس پر اسے تھپڑ مارا۔ فرمایا کیا تمہیں معلوم ہے کہ اس کے اوپر بھی کوئی طاقت ہے جو تمہارے تھپڑ پر تمہیں سزا دے سکتی ہے۔ صحابیؓ نے کہا یا رسول اللہ غلطی ہوگئی۔ آپؐ نے پوچھا اس غلطی کی تلافی؟ صحابیؓ نے کہا یا رسول اللہ میں اس غلام کو آزاد کرتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا کہ اگر تم اسے آزاد نہ کرتے تو اللہ کے عذاب کا شکار ہوتے۔

اسلام نے غلامی کا وہ تصور پیش کیا کہ جس میں مالک اپنے غلام کو اپنے جیسے کپڑے پہنائے اپنے جیسا کھانا کھلائے اور اپنے جیسی زندگی کی سہولتیں مہیا کرے۔ ایسی غلامی کہ جس میں مالک کے اپنے غلام کو تھپڑ تک مارنے پر وعید ہے۔ جنگی قیدیوں کے لیے ایسی غلامی تو کسی آسان سے آسان قید سے بھی کئی گنا بہتر ہے۔ جناب نبی کریمؐ نے اپنی تعلیمات سے غلاموں کا معاملہ اتنا حساس بنا دیا کہ لوگوں نے معمولی زیادتی ہوجانے پر غلاموں کو آزاد کرنا شروع کر دیا۔ ایک غزوہ میں جناب نبی کریمؐ کو فتح حاصل ہوئی اور مخالف قبیلے کے لوگ قیدی ہو کر آگئے جن میں غلام بھی تھے اور لونڈیاں بھی۔ حضورؐ کے حصے میں قبیلے کے سردار کی بیٹی آگئی، کسی نے کہا کہ یا رسول اللہ اس شہزادی کو اگر آپؐ اپنی بیوی ہونے کا اعزاز دیں تو پورا قبیلہ مسلمان ہو سکتا ہے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ٹھیک ہے میں شہزادی کو آزاد کرتا ہوں۔ آزاد کرنے کے بعد حضورؐ نے شادی کی پیشکش کی تو شہزادی نے اسے اپنے لیے ایک بہت بڑا اِعزاز سمجھا اور ہاں کر دی۔ یہ ام المؤمنین حضرت جویریہؓ تھیں۔ جب یہ شادی ہوئی تو صحابہؓ نے سوچا کہ حضورؐ کے سسرال والے ہماری غلامی میں رہیں یہ کیسے ہو سکتا ہے۔ چنانچہ تمام صحابہؓ نے بالاتفاق یہ فیصلہ کیا کہ حضورؐ کے سسرال کی کوئی بندی یا کوئی بندہ ہماری غلامی میں نہیں رہے گا۔ حضرت جویریہؓ سے لوگ کہا کرتے تھے کہ تم اپنے خاندان کے لیے کتنی خوش قسمت ثابت ہوئی ہو کہ خود ام المؤمنین بن گئی ہو اور تمہارا قبیلہ نہ صرف تمہاری وجہ سے آزاد ہوا بلکہ مسلمان بھی ہوگیا۔

آج کے دور میں غلامی

لوگ پوچھتے ہیں کہ آج کے دور میں غلامی کے بارے میں اسلام کیا کہتا ہے? غلاموں اور لونڈیوں کا قرآن کریم میں بھی ذکر ہے اور حدیث میں بھی اور یہ کہ اسلام کے ابتدائی دور میں غلامی مسلمانوں میں رائج بھی رہی ہے۔

اس کا جواب یہ ہے کہ آج کے دور میں غلامی کے اسباب موجود نہیں ہیں اور آج کے دور میں جو جنگی قیدی ہوتے ہیں ان کے متعلق بین الاقوامی معاہدات موجود ہیں۔ اسلام بین الاقوامی معاہدات کا احترام کرتا ہے۔ بین الاقوامی معاہدات کے بارے میں ایک اصولی بات عرض کروں گا کہ جو بات ہمارے کسی شرعی حکم سے نہ ٹکراتی ہو، اسلام ہمیں ایسے بین الاقوامی معاہدات کے احترام کا درس دیتا ہے۔ ہاں اگر کوئی معاہدہ یا کوئی بات نصِ صریح سے ٹکرائے اور ہمارے شرعی اصولوں میں اس کا کوئی جواز نہ نکلتا ہو تو اس کی بات الگ ہے۔ ایک مثال سے دیکھ لیں کہ اسلام بین الاقوامی عُرف اور معاہدات کا کس حد تک احترام کرتا ہے۔ جناب نبی کریمؐ کے پاس مسیلمہ کذاب کے دو نمائندے آئے، مسیلمہ نبوت کا دعوے دار تھا اور یمامہ کا سردار تھا، اس کے پاس بڑی فوج تھی۔ خط کا عنوان کچھ اس طرح تھا من مسیلمہ رسول اللّٰہ الیٰ محمد رسول اللّٰہ۔ اس نے کہا کہ میں بھی اللہ کا رسول ہوں اور آپ بھی اللہ کے رسول ہیں اس لیے میرے ساتھ معاملات طے کریں۔ نبوت کا دائرہ عمل تقسیم کر لیں کہ لنا و بر ولک مدر شہروں کے پیغمبر آپ بن جائیں اور دیہات کا پیغمبر میں بن جاتا ہوں۔ یعنی اس نے پیش کش کی کہ ہم دونوں مل کر نبوت کرتے ہیں، اگر آپ ایسا نہیں کرنا چاہتے تو پھر مجھے اپنا جانشین مقرر کر دیں کہ آپ کے بعد میں نبی ہوں گا۔ آپؐ نے مسیلمہ کے دونوں نمائندوں سے پوچھا کہ کیا تم مجھے اللہ کا رسول مانتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ نشھد انک رسول اللّٰہ ہاں آپ کے بارے میں ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپؐ اللہ کے رسول ہیں۔ آپؐ نے پوچھا کیا تم مسیلمہ کو بھی اللہ کا رسول مانتے ہو؟ انہوں نے جواب دیا نشھد ان مسیلمۃ رسول اللّٰہ ہم گواہی دیتے ہیں کہ مسیلمہ اللہ کا رسول ہے۔ مسیلمہ کی اذان بھی یہی تھی اشھد ان محمد رسول اللّٰہ اس کے بعد اشھد ان مسیلمۃ رسول اللّٰہ۔ اس پر رسول اللہؐ نے ایک جملہ فرمایا جو میں عرض کرنا چاہتا ہوں لولا ان الرسل لا تقتل لضربت أعناقکما اگر (دنیا میں) یہ ضابطہ نہ ہو تا کہ سفیر قتل نہیں کیے جاتے تو میں تم دونوں کی گردنیں اڑا دیتا۔

یہاں سے فقہاء یہ اصول بیان فرماتے ہیں کہ ہم ان بین الاقوامی قوانین کا، عرف کا اور تعامل کا احترام کریں گے جو نصِ قطعی سے ٹکراتے نہ ہوں۔ اس اصول کی رو سے اسلام نے جو غلامی کا ایک طریقہ برقرار رکھا تھا وہ بھی آج کے دور میں عملاً باقی نہیں رہا اس لیے کہ بین الاقوامی معاہدات کی رو سے آج دنیا میں جنگی قیدیوں سے متعلق واضح اصول اور ضابطے موجود ہیں، ان ضابطوں کی کوئی بھی خلاف ورزی نہیں کر سکتا۔ چنانچہ آج دنیا میں کہیں بھی غلامی کا کوئی امکان موجود نہیں ہے حتیٰ کہ گزشتہ ایک صدی کے دوران دنیا میں کہیں بھی جہاد کے عنوان سے کوئی جنگ لڑی گئی ہے تو اس میں کسی کو غلام یا لونڈی نہیں بنایا گیا اور نہ ہی آج دنیا میں جہاد کے نام سے لڑی جانے والی جنگوں میں کسی کو غلام یا لونڈی بنایا جا رہا ہے۔ یہ اس بات کی کھلی شہادت ہے کہ جنگی قیدیوں کے بارے میں آج کے بین الاقوامی معاہدات کو امت مسلمہ نے قبول کر لیا ہے۔ چنانچہ غلامی کے امکان کے نہ ہونے کو ہماری شریعت تسلیم کرتی ہے۔ لیکن اگر کسی وقت دنیا کے حالات تبدیل ہو کر ایسے ہو جائیں کہ پرانی طرز کا کوئی دور واپس آجائے تو اسلام نے اس کی گنجائش رکھی ہے اور اس کے متعلق اسلام کی تعلیمات موجود ہیں۔

میں نے مختصراً یہ بات عرض کی کہ اسلام نے غلام بنانے کا حکم نہیں دیا بلکہ آخری درجے میں اس کی گنجائش رکھتے ہوئے اجازت دی ہے اور وہ بھی حکم کے طور پر نہیں بلکہ ایک آپشن کے درجہ میں ہے۔ پھر اس کے ساتھ خاص ہدایات اور تعلیمات ہیں کہ جن پر عمل پیرا رہنے سے وہ غلامی کا آخری درجہ بھی کچھ عرصہ بعد عملاً ختم ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور یہ کہ آج کے دور میں غلامی کا کوئی تصور اور اسباب موجود نہیں ہیں اور غلامی سے ممانعت کے بین الاقوامی معاہدات موجود ہیں جن کا اسلامی شریعت احترام کرتی ہے۔

درجہ بندی: