سانحہ نائن الیون

سانحہ نائن الیون کے ایک سال بعد

ایک سال قبل گیارہ ستمبر کے روز نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور واشنگٹن کے پینٹاگون پر ہونے والے خودکش حملوں کی یاد منائی جا چکی ہے۔ ان حملوں میں ہزاروں افراد جاں بحق ہوئے اور اس کارروائی نے پوری دنیا کی سیاست کا رخ تبدیل کر دیا۔ سیاسی وابستگیوں کے پیمانے بدل گئے، اخلاق و اقدار کے معیار تبدیل ہوگئے، حقوق و مفادات کی کشمکش نے ایک نیا انداز اختیار کر لیا، دنیا کی واحد طاقت ہونے کے نشہ سے سرشار امریکہ کے لیے یہ وار ہوش و حواس سے محرومی کا باعث بن گیا، بے بس مظلوموں پر خوفناک قیامت ٹوٹ پڑی ۔ ۔ ۔

۱۴ ستمبر ۲۰۰۲ء

مغربی استعمار کی پرتشدد تاریخ

امریکہ کا یہ طرز عمل خلاف توقع اور قابل تعجب نہیں ہے کہ اس نے افغانستان کےخلاف باقاعدہ اعلان جنگ کرنے اور ہر مرحلہ پر اسے جنگ قرار دینے کے باوجود اپنے شکست خوردہ مخالفین میں سے گرفتار شدگان کو ’’جنگی قیدی‘‘ تسلیم نہیں کیا۔ اور امریکہ پوری دنیا کی مخالفت کے باوجود کیوبا کے تفتیشی مرکز میں لے جائے جانے والے قیدیوں کو وہ حقوق اور سہولتیں دینے کے لیے تیار نہیں ہے جو ’’جنیوا کنونشن‘‘ کے واضح فیصلوں کے مطابق انہیں ہر حال میں حاصل ہونی چاہئیں۔ یہ طاقت کی حکومت اور جنگل کے قانون کا مظاہرہ ہے جو پہلی بار نہیں ہے ۔ ۔ ۔

۲۶ فروری ۲۰۰۲ء

میدان جنگ سے فرار ۔ بزدلی اور حکمت عملی کا فرق

حضرت خالد بن ولیدؓ غزوۂ موتہ سے مسلمانوں کا لشکر لے کر مدینہ منورہ واپس پہنچے تو مدینہ منورہ میں غم و حزن کی فضا تھی۔ علامہ شبلیؒ نعمانی نے اپنی تصنیف سیرت النبیؐ میں لکھا ہے کہ جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غم اور پریشانی کے عالم میں مسجد نبویؐ کے ایک کونے میں جا بیٹھے جبکہ مدینہ کے عام لوگوں نے آنے والے لشکر کا استقبال اس طرح کیا کہ ان کے چہروں پر خاک پھینک رہے تھے اور کہہ رہے تھے کہ میدان جنگ سے بھاگنے والو واپس آگئے ہو؟ ۔ ۔ ۔

۲۰ دسمبر ۲۰۰۱ء

امارت اسلامی افغانستان کا خاتمہ اور نئی افغان حکومت کے رجحانات

جہاں تک شرعی قوانین کے نفاذ کو جہاد افغانستان کا منطقی تقاضا قرار دینے کا تعلق ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ روسی استعمار کے خلاف جہاد کا اعلان ہی اس بنیاد پر ہوا تھا کہ کمیونزم کا کافرانہ نظام نافذ ہوگیا ہے اور اسے ختم کر کے شرعی نظام کا نفاذ مسلمانوں کی دینی ذمہ داری ہے۔ اس لیے اگر اب بھی افغانستان میں صدر داؤد کے دور کے قوانین نے ہی واپس آنا ہے تو سرے سے اس جنگ کی شرعی بنیاد ہی ختم ہو جاتی ہے جو جنگ کمیونسٹ نظام کے خاتمہ کے لیے ’’جہاد افغانستان‘‘ کے نام سے لڑی گئی تھی اور جس میں موجودہ شمالی اتحاد میں شامل اہم راہنما بھی پیش پیش تھے ۔ ۔ ۔

۱۱ دسمبر ۲۰۰۱ء

افغان طالبان اور سلطان ٹیپو شہیدؒ ۔ تاریخی مماثلت

اگر خدانخواستہ طالبان کا وجود ختم بھی ہوگیا اور وہ افغانستان کا کنٹرول دوبارہ حاصل نہ کر سکے تو بھی تاریخ میں ان کا یہ کردار کم نہیں ہے کہ انہوں نے ساری دنیا کی مخالفت اور دشمنی کے باوجود افغانستان میں اسلامی احکام و قوانین کے نفاذ اور اس کی برکات کا عملی نمونہ آج کے دور میں دنیا کو دکھا دیا۔ اور شرعی قوانین کے ذریعہ ایک تباہ شدہ معاشرہ میں مکمل امن قائم کر کے ثابت کر دیا ہے کہ آج بھی انسانی سوسائٹی کو امن قرآن و سنت کے فطری قوانین کے ذریعہ ہی مل سکتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۰ دسمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ پاکستان کیوں مجبور تھا؟

افغانستان کے مسئلہ میں حکومت پاکستان کی موجودہ پالیسی کو عالمی جبر کا نتیجہ قرار دیا جاتا ہے اور کہا جاتا ہے کہ ہمارے لیے اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں تھا۔ مگر اس بے بسی اور مجبوری کے اسباب کا تجزیہ کیا جائے تو ان میں یہ بات سرفہرست دکھائی دیتی ہے کہ امیر ممالک اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے لیے ہوئے قرضے ہمارے لیے وبال جان بن گئے ہیں اور قرضوں کے اس خوفناک جال نے ہماری معیشت کے ساتھ ساتھ قومی پالیسیوں اور ملی مفادات کو بھی جکڑ لیا ہے۔ اس کا نتیجہ آج ہمارے سامنے ہے کہ ہم شمال مغربی سرحد پر ایک دوست حکومت سے محروم ہو چکے ہیں ۔ ۔ ۔

۲۷ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ ایک ٹی وی پینل انٹرویو

اے آر وائی ڈیجیٹل کے پی جے میر صاحب نے پروگرام کنڈکٹ کیا، ان کا پہلا سوال مجھ سے تھا کہ کیا آپ طالبان کی حمایت کرتے ہیں؟ میں نے اثبات میں جواب دیا تو دوسرا سوال ہوا کہ طالبان کی حمایت کس وجہ سے کرتے ہیں؟ میں نے عرض کیا اس لیے کہ طالبان ایک جائز موقف کے لیے لڑ رہے ہیں، وہ جہاد افغانستان کے منطقی اور نظریاتی نتائج کا تحفظ کر رہے ہیں۔ ان پر یہ جنگ ٹھونسی گئی ہے اور وہ مظلوم ہیں اس لیے میں ان کی حمایت کرتا ہوں۔ اس پر لارڈ نذیر احمد صاحب نے کہا کہ وہ اسامہ بن لادن کے حوالہ سے طالبان کے موقف سے اختلاف رکھتے ہیں ۔ ۔ ۔

۱۶ نومبر ۲۰۰۱ء

یہ جنگ فراڈ ہے ۔ برطانوی صحافی جان پلجر کا تجزیہ

امریکہ گیارہ ستمبر کے واقعات کا ذمہ دار اسامہ بن لادن کو ٹھہرانے کے ثبوت پیش کرنے کی پوزیشن میں ہے یا نہیں مگر یہ بات دن بدن واضح ہوتی جا رہی ہے کہ خود مغرب کی رائے عامہ امریکہ کے اس دعویٰ کو کسی واضح دلیل کے بغیر قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے اور عام آدمی حتیٰ کہ بچوں پر بھی یہ حقیقت کھلتی جا رہی ہے کہ اصل قصہ کچھ اور ہے اور امریکہ اپنے اصل اہداف پر پردہ ڈالنے کے لیے اسامہ بن لادن اور طالبان کا نام استعمال کر رہا ہے ۔ ۔ ۔

۷ نومبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر جاری امریکی حملہ ۔ برطانیہ کی رائے عامہ کا ردعمل

جلسہ میں دیوبندی، بریلوی، اہل حدیث مکاتب فکر اور جماعت اسلامی کے سرکردہ علماء کرام نے شرکت کی۔ بعض حاضرین کا کہنا تھا کہ 11 ستمبر کے سانحہ کے بعد پہلا موقع ہے کہ تمام مکاتب فکر کے علماء کرام مشترکہ فورم سے اس مسئلہ پر اظہار خیال کر رہے ہیں۔ گلاسگو کی مقامی آبادی افغانستان پر امریکی حملوں کے خلاف دو بار مظاہرہ کر چکی ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے مظاہروں میں راقم الحروف نے بھی جمعیۃ علماء برطانیہ کے رہنما مولانا امداد الحسن نعمانی، مجلس احرار اسلام کے رہنما عبد اللطیف خالد چیمہ، اور شیخ عبد الواحد کے ہمراہ شرکت کی ۔ ۔ ۔

۲ نومبر ۲۰۰۱ء

الجزیرۃ ٹی وی ۔ عالمی ابلاغیات میں تازہ ہوا کا جھونکا

الجزیرہ ٹی وی خلیج عرب کی ریاست قطر کا ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل ہے جس کی نشریات عربی میں ہوتی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ اس نے خبروں تک رسائی اور انہیں بروقت دنیا کے سامنے لانے کی تکنیک میں اس حد تک محنت اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے کہ مغرب کے اکثر ٹی وی چینل افغانستان کے بارے میں اس کے حوالہ سے خبریں دینے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ اس میں بنیادی طور پر اس بات کا بھی دخل ہے کہ طالبان حکومت نے صرف الجزیرہ ٹی وی کو ہی افغانستان میں رپورٹنگ کی اجازت دے رکھی ہے ۔ ۔ ۔

۲۵ اکتوبر ۲۰۰۱ء

کیا امریکہ عالمی قیادت کا اہل ہے؟

دہشت گردی کا کوئی بھی حامی نہیں ہے اور دنیا کے سب باشعور انسان اس کے خاتمہ کے لیے کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ لیکن دہشت گردی کے ساتھ اس کے اسباب و محرکات اور عوامل کی بیخ کنی بھی ضروری ہے۔ اس عالمی مہم کی قیادت کے لیے کسی ایسے ملک کو آگے آنا چاہیے جس کا اپنا دامن صاف ہو۔ ہیروشیما، ناگاساکی، ویت نام، فلسطین، افغانستان اور سوڈان کے نہتے شہریوں پر بم برسانے اور مشرق وسطیٰ کے عوام کی سیاسی آزادیوں اور شہری حقوق کا خون کرنے والے ملک کے ہاتھ میں دہشت گردی کے خلاف عالمی مہم کی قیادت کا پرچم آخر کیسے دیا جا سکتا ہے ۔ ۔ ۔

۱۹ اکتوبر ۲۰۰۱ء

’’اسامہ بن لادن‘‘ لندن میں

مولانا عبد الحلیم کا تعلق لکھنؤ سے ہے اور وہ ایسٹ لندن میں ویسٹ ہیم کے مقام پر بننے والے تبلیغی جماعت کے نئے مرکز کے امام ہیں۔سفید رنگ کا لمبا عربی کرتہ پہنتے ہیں اور اس پر سفید عمامہ باندھتے ہیں، رنگ پختہ ہے اور داڑھی سیاہ ہے اس لیے دور سے ان پر اسامہ بن لادن یا ان کے بھائی ہونے کا اشتباہ ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ملاقات ہوئی تو انہوں نے 11 ستمبر کے نیویارک اور واشنگٹن کے سانحات کے بعد ان کے ساتھ پیش آنے والے چند واقعات بیان کیے جن کا تذکرہ قارئین کے لیے دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔

۱۸ اکتوبر ۲۰۰۱ء

نائن الیون کے حملے ۔ لندن میں علماء کا مشترکہ اعلامیہ

لندن پہنچتے ہی مجھے احساس ہوگیا کہ ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے سانحات کے بعد عالمی میڈیا کی ہمہ جہتی یلغار اور شدید امریکی ردعمل کے اظہار نے مسلمان حلقوں کو اس حد تک ششدر کر دیا ہے کہ انہیں کسی اجتماعی اور متوازن موقف اور طرز عمل پر لانے کے لیے خاصی محنت کی ضرورت ہوگی۔ کیونکہ اس وقت مسلمانوں کی نمائندگی میں نمایاں طور پر دو قسم کی آوازیں میڈیا میں سامنے آرہی ہیں۔ ایک طرف وہ آواز ہے جسے انتہا پسندانہ اور جذباتی قرار دیا جا رہا ہے اور اس کے نتائج سے یہاں کے مسلمان خطرات محسوس کر رہے ہیں ۔ ۔ ۔

۸ اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر متوقع امریکی حملہ اور عالمی منظر نامہ

افغانستان پر امریکہ کے فوری حملہ کا خطرہ ٹل جانے کے بعد عالمی میڈیا کا رخ ان اسباب و عوامل کی نشاندہی اور ان پر بحث و تمحیص کی طرف بتدریج مڑ رہا ہے جو ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور پینٹاگون کے 11 ستمبر کے المناک واقعات کے باعث بنے۔ اور اس وقت بھارت اور اسرائیل دونوں کی وہ کوششیں ناکام ہوتی نظر آرہی ہیں جو انہوں نے 11 ستمبر کے حادثات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے امارت اسلامی افغانستان اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امریکی حملوں اور مداخلت کی زد میں لانے کے لیے شروع کی تھیں ۔ ۔ ۔

۵ اکتوبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر پرویز مشرف کی خود فریبی

پاکستان کے ساتھ اس وقت امریکہ کا مفاد صرف اس قدر ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کی نظریاتی وحدت کو توڑنا چاہتا ہے، ان کی باہمی دوستی کو دشمنی میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، پاکستان اور افغانستان کے وسطی ایشیا کے ساتھ روابط کو ختم کرنا چاہتا ہے، اور چین کے خلاف اپنے مجوزہ حصار کی راہ ہموار کرنا چاہتا ہے۔ یہ سب کچھ حاصل ہوجانے کے بعد امریکہ کی ترجیحات بدستور وہی رہیں گی جو پہلے چلی آرہی ہیں اور جن ترجیحات میں پاکستان کو بھارت پر ترجیح دینا یا کم از کم اس کے برابر رکھنا بھی امریکی مفادات سے قطعاً کوئی مطابقت نہیں رکھتا ۔ ۔ ۔

۲۸ ستمبر ۲۰۰۱ء

افغانستان پر امریکی حملے کی معاونت ۔ صدر مشرف کا سیرۃ نبویؐ سے استدلال

صدر صاحب نے افغانستان پر حملہ میں امریکہ کی معاونت کے جواز میں حضورؐ کے اسوۂ حسنہ سے استدلال کیا ہے اور کہا ہے کہ رسالت مآبؐ نے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ میں یہودی قبائل کے ساتھ معاہدہ کر کے بدر، احد اور خندق کے معرکوں میں کفار مکہ کو شکست دی اور اس کے بعد حدیبیہ میں کفار مکہ سے معاہدہ کر کے غزوۂ خیبر میں یہودیوں کی شکست کی راہ ہموار کی، اس لیے حکمت اور دانش کے تحت کسی کافر قوم سے وقتی مصالحت کا جواز موجود ہے۔ صدر مشرف کا یہ استدلال درست نہیں ہے، اس لیے کہ جناب نبی اکرمؐ کے دونوں طرف کافر اقوام تھیں اور دونوں دشمن تھیں ۔ ۔ ۔

۲۷ ستمبر ۲۰۰۱ء

نائن الیون کے حملے اور امریکی قیادت کی آزمائش

گیارہ ستمبر کو امریکہ کے دو بڑے شہروں نیویارک اور واشنگٹن میں جو قیامت صغریٰ بپا ہوئی ہے اس نے ظاہری طور پر دکھائی دینے والے معروضی حقائق کا نقشہ ایک بار پھر پلٹ کر رکھ دیا ہے۔ اور ایسا پہلی بار نہیں ہوا بلکہ اس سے قبل بھی تاریخ نے کئی بار یہ منظر دیکھا ہے کہ حالات و واقعات کا ظاہری منظر کچھ اور نظر آرہا ہے مگر سمندر کی پرسکون سطح کی تہہ میں کسی طوفان نے جب انگڑائی لی ہے تو سطح سمندر اور اس پر نظر آنے والا پورا منظر ہی تلپٹ ہو کر رہ گیا ہے ۔ ۔ ۔

۱۸ ستمبر ۲۰۰۱ء