’’صائمہ کیس‘‘ ۔ ہائیکورٹ کے جج صاحبان کی خدمت میں گزارشات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
جنوری ۱۹۹۷ء

بگرامی خدمت جناب عزت ماب جسٹس احسان الحق چودھری صاحب

و عزت ماب جسٹس ملک محمد قیوم صاحب

لاہور ہائی کورٹ لاہور

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ۔ مزاج گرامی؟

گزارش ہے کہ آپ کی عدالت میں زیر سماعت ’’صائمہ کیس‘‘ کے بارے میں شرعی نقطۂ نظر سے کچھ ضروری معروضات پیش کر رہا ہوں، قانوناً گنجائش ہو تو انہیں باضابطہ ریکارڈ میں شامل کر لیا جائے اور ضرورت پڑنے پر وضاحت کے لیے عدالت میں حاضری کے لیے بھی تیار ہوں۔ ورنہ ذاتی معاونت و مشاورت سمجھتے ہوئے ان گزارشات کا سنجیدگی کے ساتھ مطالعہ ضرور فرمایا جائے، بے حد شکریہ۔

اخبارات میں شائع ہونے والی تفصیلات کی روشنی میں اس کیس کا بنیادی طور پر توجہ طلب نکتہ یہ نظر آتا ہے کہ کیا کوئی عاقلہ بالغہ مسلمان لڑکی اپنے خاندان یا ولی اور سرپرست کی رضامندی کے بغیر اپنا نکاح خود کر سکتی ہے؟ اس سلسلہ میں علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے ’’فیض الباری علیٰ صحیح البخاری‘‘ میں فقہی مذاہب کی جو تفصیل بیان کی ہے اس کا خلاصہ درج ذیل ہے:

  1. حضرت امام مالکؒ ، حضرت امام شافعیؒ ، اور حضرت امام احمد بن حنبلؒ کا ارشاد گرامی یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ کنواری لڑکی ولی کی رضامندی اور اجازت کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی، بلکہ ولی کی اجازت اور رضا کی صورت میں بھی ایجاب و قبول کا اختیار لڑکی کو حاصل نہیں ہے بلکہ اس کی طرف سے یہ ذمہ داری ولی سر انجام دے گا۔
  2. احناف میں سے حضرت امام ابویوسفؒ اور حضرت امام محمدؒ کا فتویٰ یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی ولی کی رضا کے بغیر نکاح نہیں کر سکتی، البتہ ولی کی رضا اور اجازت کی صورت میں ایجاب و قبول وہ خود کر سکتی ہے۔
  3. امام اعظم حضرت امام ابوحنیفہؒ کا مذہب یہ ہے کہ عاقلہ بالغہ لڑکی اپنا نکاح ولی کی اجازت کے بغیر بھی کر سکتی ہے۔ البتہ اسے اس طرح اپنا نکاح کرنے کی صورت میں ’’کفو‘‘ کے تقاضوں کا لحاظ رکھنا ہوگا اور اگر اس نے ولی کی اجازت کے بغیر ’’غیر کفو‘‘ میں نکاح کر لیا تو ولی کو نہ صرف اعتراض کا حق ہے بلکہ وہ تنسیخ نکاح کے لیے عدالت سے رجوع کر سکتا ہے۔
  4. ’’کفو‘‘ کا مفہوم فقہائے کرام کے ارشادات کی روشنی میں یہ ہے کہ کسی لڑکی کا نکاح ایسی جگہ نہ ہو جہاں لڑکی کا ولی اور اہل خاندان اپنے لیے عار محسوس کریں۔ کفو کے اسباب فقہائے کرامؒ نے اپنے اپنے عرف اور ذوق کے مطابق مختلف بیان کیے ہیں جن سب کا خلاصہ یہ ہے کہ لڑکی اور اس کا خاندان جس سوسائٹی میں رہتے ہیں وہاں کے عرف اور معاشرتی روایات کے مطابق جو بات بھی ان کے لیے باعث عار سمجھی جاتی ہو کفو کے اسباب میں شامل ہوگی۔ کیونکہ کفو کی علت سب فقہاء نے ’’دفع ضرر عار‘‘ بیان کی ہے اور عار کے اسباب ہر معاشرہ اور عرف میں مختلف ہوتے ہیں۔
  5. اس تفصیل کی روشنی میں دیکھا جائے تو حضرت امام ابوحنیفہؒ کا موقف سب سے زیادہ قرین انصاف اور متوازن معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس میں لڑکی اور اس کے ولی دونوں کی رائے کا لحاظ رکھا گیا ہے اور اسی بنیاد پر علامہ سید محمد انور شاہ کشمیریؒ نے امام اعظمؒ کا مذہب یہ بیان کیا ہے کہ نکاح میں لڑکی اور اس کے ولی دونوں کی رضا کا اکٹھا ہونا ضروری ہے۔ اور یہ بات انصاف کے تقاضوں کے مطابق ہے اس لیے کہ نکاح صرف دو افراد کے باہمی تعلق کا نام نہیں بلکہ دو خاندانوں کے باہمی تعلقات، معاشرہ میں ان کی عزت و وقار، اولاد کی کفالت و تربیت ، اور ایک نئے تشکیل پانے والے خاندان کے مستقبل کے معاملات اس نکاح سے وابستہ ہیں۔ اور اصول یہ ہے کہ کسی فیصلہ سے جتنے لوگ بھی متاثر ہوتے ہوں فیصلہ کرتے وقت ان سب کے مفادات کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے۔
  6. ویسٹرن سولائزیشن نے اسی مقام پر دھوکہ کھایا ہے کہ مغربی دانشوروں نے فرد کی آزادی اور عورت کے حقوق کے پرفریب عنوان کے ساتھ نکاح کو دو افراد کا معاملہ قرار دے کر اس کے باقی لوازمات و نتائج کو نظر انداز کر دیا جس کا نتیجہ یہ ہے کہ آج مغربی معاشرہ خاندانی زندگی کے نظام اور رشتوں کے تقدس سے محروم ہو چکا ہے۔ اور مغرب کا فیملی سسٹم انارکی کی آخری حدوں کو چھو رہا ہے جس کا ذکر چوٹی کے مغربی دانشوروں کی زبان پر بھی انتہائی حسرت کے انداز میں ہونے لگا ہے۔

اس سلسلہ میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ کی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن کے دورہ پاکستان کے موقع پر شائع ہونے والی اس خبر کا حوالہ دینا ضروری خیال کرتا ہوں کہ:

’’امریکی خاتون اول مسز ہیلری کلنٹن اسلام آباد کالج فار گرلز کی اساتذہ اور طالبات کے ساتھ گھل مل گئیں اور ان سے ایک گھنٹے سے زیادہ بے تکلفانہ گفتگو کی۔ ہیلری کلنٹن نے طالبات سے ان کے مسائل دریافت کیے۔ طالبات نے دوستانہ انداز میں کلنٹن کی اہلیہ کو سب مسائل بتائے۔ فورتھ ایئر کی طالبہ نائلہ خالد نے امریکی خاتون اول سے پوچھا کہ امریکی طالبات کا بنیادی مسئلہ کیا ہے؟ اس پر امریکہ کی خاتون اول نے کھل کر گفتگو شروع کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی طالبات کا مسئلہ تعلیم کی مناسب سہولیات کا فقدان ہے، تعلیمی اداروں میں فنڈز کی کمی کا مسئلہ ہے، مگر امریکہ میں ہمارا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ وہاں بغیر شادی کے طالبات اور لڑکیاں حاملہ بن جاتی ہیں۔ اس طرح بے چاری لڑکی ساری عمر بچے کو پالنے کی ذمہ داری نبھاتی ہے۔ ایک دوسری طالبہ وجیہہ جاوید نے کہا کہ اس مسئلہ کا کیا حل ہے؟ اس پر ہیلری کلنٹن نے کہا کہ اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ نوجوان لڑکے لڑکیوں کو خواہ وہ عیسائی ہوں یا مسلمان اپنے مذہب اور معاشرتی اقدار سے بغاوت نہیں کرنی چاہیے۔ مذہبی و سماجی روایات اور اصولوں کے مطابق شادی کے بندھن میں بندھنا چاہیے۔ اپنی اور اپنے والدین کی عزت و آبرو اور سکون کو غارت نہیں کرنا چاہیے۔ مسز ہیلری کلنٹن نے کہا کہ وہ اسلام اور عیسائیت کی شادی کے خلاف نہیں ہیں، انہوں نے کہا کہ پاکستان میں مذہبی روایات کا احترام کرتے ہوئے شادی ہوتی ہے اس لیے یہاں لڑکیوں کے مسائل کم ہیں۔‘‘ (جنگ لاہور ۲۸ مارچ ۱۹۹۵ء)

اس پس منظر میں آنجناب سے میری استدعا یہ ہے کہ مسلمانوں کے خاندانی معاملات کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ کرتے وقت اسلامی احکام و قوانین، معاشرتی روایات، اور عدالتی نظائر کے ساتھ ساتھ مغربی معاشرہ میں فیملی سسٹم کی تباہی کے اسباب کو بھی سامنے رکھا جائے۔ کیونکہ یہ کوئی دانشمندی کی بات نہیں ہوگی کہ مغرب جس دلدل سے واپسی کے راستے تلاش کر رہا ہے ہم آزادی اور حقوق کے نام نہاد مغربی فلسفہ کی پیروی کے شوق میں قوم کو اسی دلدل کی طرف دھکیلنا شروع کر دیں۔ امید ہے کہ آپ ان معروضات پر ضرور توجہ فرمائیں گے۔ بے حد شکریہ۔

والسلام: ابوعمار زاہد الراشدی، خطیب مرکزی جامع مسجد گوجرانوالہ

نوٹ: لاہور کے مختلف مکاتب فکر کے سرکردہ علمائے کرام نے جن میں جامعہ اشرفیہ کے مولانا عبد الرحمان، مولانا فضل رحیم، مولانا مفتی شیر محمد علوی، جامعہ رضویہ ماڈل ٹاؤن کے مولانا مفتی غلام سرور قادری، جامعہ نعیمیہ گڑھی شاہو کے ڈاکٹر محمد سرفراز نعیمی، جمعیۃ اہل حدیث کے مولانا حافظ عبد الرحمان مدنی، مولانا حافظ صلاح الدین یوسف، اور جامع مسجد خضرا سمن آباد کے خطیب مولانا عبد الرؤف فاروقی کے علاوہ جامعہ المنتظر کے مفتی صاحب بھی شامل ہیں، اس مکتوب پر دستخط کر کے اسے علمائے کرام کام تفقہ موقف قرار دیا ہے اور ہائی کورٹ سے درخواست کی ہے کہ اس مقدمہ میں علمائے کرام کو بھی اپنے موقف کی وضاحت کا موقع دیا جائے۔