حضرت صوفی عبد الحمیدؒ سواتی

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۸ء

مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ کے بانی حضرت مولانا صوفی عبد الحمید خان سواتی نور اللہ مرقدہ ۶ اپریل ۲۰۰۸ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے ہیں، انا للہ وانا الیہ راجعون۔وہ شیخ الحدیث حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم کے چھوٹے بھائی اور راقم الحروف کے چچا محترم تھے۔ انھوں نے ہجری اعتبار سے ۹۴ برس کے لگ بھگ عمر پائی اور تمام عمر علم کے حصول اور پھر اس کے فروغ میں بسر کر دی۔ وہ اس دور میں ماضی کے ان اہل علم وفضل کے جہد وعمل، زہد وقناعت اور علم وفضل کا نمونہ تھے جن کا تذکرہ صرف کتابوں میں رہ گیا ہے اور جن کے دیکھنے کو اب آنکھیں ترستی ہیں۔

ان کا تعلق مانسہرہ کے علاقہ میں آباد سواتی پٹھان قوم سے تھا۔ وہ ۱۹۱۷ء میں شنکیاری سے چند میل آگے کڑمنگ بالا کے پہاڑ کی چوٹی پر واقع ’’چیڑاں ڈھکی‘‘ میں جناب نور احمد خان مرحوم کے گھر میں پیدا ہوئے۔ والدہ محترمہ کا بچپن میں انتقال ہو گیا تھا۔ کچھ عرصہ بعد والد محترم کا بھی انتقال ہو گیا اور وہ اپنے برادر بزرگ حضر ت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے ہمراہ قریہ قریہ مختلف مدارس میں گھوم کر علم کی پیاس بجھاتے رہے۔ دونوں بھائیوں نے بفہ، ملک پور، کھکھو، لاہور، وڈالہ سندھواں، جہانیاں منڈی، گوجرانوالہ اور دیگر مقامات کے متعدد مدارس میں اکٹھے دینی تعلیم حاصل کی اور ۱۹۴۱ء میں دارالعلوم دیوبند پہنچے جہاں انھوں نے شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی قدس اللہ سرہ العزیز اور دیگر اکابر علمائے کرام سے کسب فیض کیا اور سند فراغت حاصل کر کے عملی جدوجہد کا میدان سنبھال لیا۔

حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نے حیدر آباد دکن کے طبیہ کالج اور لکھنو کے دار المبلغین میں امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنوی سے بھی تعلیم پائی اور گوجرانوالہ واپس آنے کے بعد کھیالی اور کرشنا نگر (محلہ فیصل آباد) کی بعض مساجد میں کچھ عرصہ دینی خدمات سرانجام دیں اور چوک نیائیں میں مطب کا آغاز کیا، مگر قدرت نے ان کے حصے میں ایک بڑی دینی خدمت رکھی تھی کہ ۱۹۵۲ء میں مفتی شہر حضرت مولانا مفتی عبد الواحد صاحب رحمہ اللہ تعالیٰ (جو ان کے استاذ بھی تھے) اور دیگر علماے کرام کے مشورے سے چوک گھنٹہ گھر کے قریب ایک بڑے جوہڑ کے کنارے مدرسہ نصرۃ العلوم کے نام سے دینی درسگاہ اور جامع مسجد نور کے نام سے مسجد کی تعمیر کا آغاز کر دیا۔ انھیں اس کار خیر میں حضرت مولانا احمد علی لاہوری، حضر ت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی اور حضرت مولانا مفتی عبد الواحد جیسے اکابر علماے کرام کی سرپرستی اور برادر بزرگ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کی رفاقت حاصل تھی اور مخلص رفقا کی ایک ٹیم بھی میسر آ گئی جنھوں نے خلوص ومحنت کے ساتھ اس گلشن علم کی ایسی آبیاری کی کہ اللہ رب العزت نے مدرسہ نصرۃ العلوم کو ملک کے بڑے دینی مدارس اور علمی مراکز کی صف میں کھڑا کر دیا اور آج دنیا کا کوئی علاقہ ایسا نہیں ہے جہاں مدرسہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ سے براہ راست یا بالواسطہ فیض پانے والے علمائے کرام دینی جدوجہد کے کسی نہ کسی شعبے میں مصروف عمل نہ ہوں۔

حضرت صوفی صاحب ایک کامیاب مدرس، حق گو خطیب، باعمل صوفی اور بے باک دینی راہ نما تھے جن سے لاکھوں افراد نے استفادہ کیا اور ہزاروں علما نے تربیت پائی۔ وہ اپنے ذوق کے حوالے سے حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے مشن کے علمبردار اور ان کی حکمت وفلسفہ کے شارح تھے جس کی جھلک ان کی تین درجن سے زائد تصانیف اور ہزاروں خطبات ودروس میں جابجا پائی جاتی ہے۔

راقم الحروف نے حفظ قرآن کریم کے بعد درس نظامی کی تعلیم حاصل کرنے کا بیشتر دور ان کی نگرانی میں گزارا ہے، حدیث وفقہ، ادب وتاریخ اور حکمت ولی اللہٰی کے شعبے میں بیسیوں کتابیں ان سے براہ راست پڑھی ہیں اور فکری وذہنی دنیا میں ان سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انھوں نے ساری زندگی مدرسہ کے مکان میں گزار دی اور کم وبیش نصف صدی تک گوجرانوالہ کی خدمت کرنے کے باوجود اس شہر میں اپنے لیے ایک ذاتی مکان نہ بنا سکے۔ وہ زہد وقناعت میں اپنے ا ن بزرگوں کا عملی نمونہ تھے جن کا وہ اپنے بیانات، مضامین اور دروس میں اکثر تذکرہ کرتے تھے اور اپنے شاگردوں کو ان بزرگوں کی خدمات وفیوضات سے آگاہ کیا کرتے تھے۔

وہ حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے بعد شیخ الاسلام حضرت مولانا سید حسین احمد مدنی اور مفکر انقلاب حضرت مولانا عبید اللہ سندھی کے ساتھ سب سے زیادہ عقیدت رکھتے تھے اور ان کے علوم وافکار اور روایات کے تذکرہ کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے۔ حضرت مولانا سندھیؒ کے بارے میں ناقدین اور نادان دوستوں کی طرف سے دو طرفہ طور پر پھیلائے جانے والے شکوک وشبہات کا ازالہ کرنے میں انھوں نے بطور خاص محنت کی اور تاریخ کا قرض ادا کیا۔ وہ مسلکاً متصلب دیوبندی تھے اور علماے دیوبند کے علمی وفکری مسلک ومنہج سے نئی نسل کو متعارف کرانے میں نہ صرف اپنے برادر بزرگ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر کے معاون اور دست راست تھے بلکہ اس حوالے سے خود بھی ایک مستقل ذوق اور اسلوب رکھتے تھے۔

حکیم الاسلام حضرت مولانا قاری محمد طیبؒ نے ایک مقام پر دیوبندی مسلک کا تعارف کراتے ہوئے فرمایا ہے کہ شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ اور شیخ اکبر امام محی الدین ابن عربی کے افکار وتعلیمات کا امتزاج قائم کیا جائے تو اس کا نام دیوبندیت ہے۔ میں اس حوالے سے عرض کیا کرتا ہوں کہ ہمارا گھرانہ بحمد اللہ تعالیٰ اس کا صحیح نمونہ ہے کہ حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر دامت برکاتہم پر ابن تیمیہؒ کا رنگ غالب ہے جبکہ حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی ؒ ابن عربیؒ کے ذوق کی نمائندگی کرتے ہیں۔ دونوں کے فکر وذوق میں ایک واضح تنوع پایا جاتا ہے مگر ایک حسین امتزاج بھی موجود ہے اور اس تنوع اور امتزاج کے بعض واقعات کا میں خود بھی شاہد ہوں جو حضرت صوفی صاحب کے کسی تفصیلی تذکرہ میں مناسب موقع پر ان شاء اللہ پیش کیے جائیں گے۔

حضرت صوفی صاحب نے دینی، علمی، عملی اور فکری شعبوں میں جو خدمات سرانجام دی ہیں اور خلوص وللہیت کے ساتھ سعی ومحنت کا جو نمونہ پیش کیا ہے، اس کا ایک ایک پہلو تاریخ اور نئی نسل کی امانت ہے کہ قومیں ایسے ہی لوگوں سے راہ نمائی حاصل کر کے اپنی راہیں متعین کیا کرتی ہیں۔ خدا کرے کہ ہم اس امانت کو صحیح طور پر نئی نسل اور تاریخ کے سپرد کرنے میں کامیاب ہوں، آمین۔ سردست ان جذبات غم کے اظہار کے ساتھ قارئین سے ملتمس ہوں کہ وہ حضرت صوفی صاحب کی مغفرت اور جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام کے لیے دعا کے ساتھ ساتھ بارگاہ ایزدی میں بطور خاص دست بدعا ہوں کہ اللہ رب العزت حضرت صوفی صاحب کے فرزند وجانشین مولانا حاجی محمد فیاض خان سواتی اور ان کے برادران مولانا محمد ریاض خان سواتی اور مولانا محمد عرباض خان سواتی نیز ہم جیسے دیگر پس ماندگان کو ان کے مشن کو آگے بڑھانے اور ان کی حسنات کا سلسلہ جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائیں اور ہر قسم کے شر سے حفاظت کرتے ہوئے دین حق کے فروغ اور سربلندی کے لیے آخر دم تک خدمات سرانجام دینے کے مواقع نصیب کریں اور خلوص ومحنت کے ساتھ اس کے لیے پیش رفت کرنے کی توفیق سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔