مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۲۷ اکتوبر ۲۰۱۶ء

سہ ماہی ’’المظاہر‘‘ کوہاٹ کے احباب کی طرف سے فرمائش کی گئی ہے کہ حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کی خدمات پر اس علمی مجلہ کی جس خصوصی اشاعت کا اہتمام کیا جا رہا ہے اس کے لیے میں بھی کچھ لکھوں۔ ابتداء میں اس حوالہ سے تردّد رہا کہ حضرت شہیدؒ سے براہ راست تعارف یا ملاقات کا کوئی منظر یاد نہیں ہے اس لیے زیادہ معلومات نہیں رکھتا اور معلومات کے بغیر کچھ لکھنا میرا معمول نہیں ہے۔ حضرت مولانا مفتی احمد الرحمنؒ کے دور میں بنوری ٹاؤن میں میرا اکثر آنا جانا رہتا تھا، اگر حضرت مولانا محمد امین شہیدؒ اس دور میں وہاں تھے تو یقیناًملاقات و گفتگو ہوئی ہوگی لیکن ذہن میں مستحضر نہیں ہے۔ لیکن جب اس فرمائش کی تعمیل کے لیے معلومات حاصل کرنا شروع کیں تو بہت سے ایسے پہلو سامنے آئے کہ حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کے بارے میں کچھ نہ کچھ لکھنا اور ان کو خراج عقیدت پیش کرنے والوں میں شامل ہونا میرے لیے واجب کا درجہ اختیار کر گیا ہے۔

مولانا شہیدؒ کا سب سے بڑا اعزاز یہ تھا کہ وہ محدث العصر حضرت مولانا سید محمد یوسف بنوری قدس اللہ سرہ العزیز کے صرف شاگرد ہی نہیں بلکہ علمی و تحقیقی کاموں میں ان کے معاون اور خدمت گار بھی تھے۔ بالخصوص ’’مسانید الامام الاعظمؒ ‘‘ پر ان کا تخصص کا مقالہ اور امام طحاویؒ کی ’’شرح معانی الآثار‘‘ کے حوالہ سے ان کا تحقیقی کام حضرت السید بنوریؒ کے علمی ذوق و مشن کے ساتھ ان کی مناسبت تامہ کا اظہار ہے۔

طحاوی شریف کے ساتھ تھوڑی بہت آشنائی مجھے بھی حاصل ہے کہ جامعہ نصرۃ العلوم گوجرانوالہ میں ایک عرصہ سے دورۂ حدیث کے اسباق میں طحاوی شریف کے چند ابواب کی تدریس کا مسلسل شرف رکھتا ہوں اور طلبہ سے یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ میری طالب علمانہ رائے میں امام طحاویؒ کو فقہی مجادلہ اور حنفیت کے دفاع کے ذوق و اسلوب میں باقی حضرات پر بوجوہ تفوق حاصل ہے۔ چنانچہ ان کے چند امتیازات کا حوالہ دے کر طلبہ کو تلقین کیا کرتا ہوں کہ فقہی مجادلہ اور استدلال و استنباط کے ذوق و اسلوب کے ساتھ ساتھ فقہی اختلافات کی حدود اور مسائل کی درجہ بندی بھی امام طحاویؒ سے سیکھیں اور افراط و تفریط سے بچنے کے لیے اسے راہنما بنائیں۔

گوجرانوالہ کی مرکزی جامع مسجد میں جہاں میں گزشتہ نصف صدی سے خطابت کے فرائض سر انجام دے رہا ہوں شیخ الہند حضرت مولانا محمود حسن دیوبندیؒ کے ایک نامور شاگرد محدث گوجرانوالہ حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ گزشتہ صدی عیسوی کے تیسرے اور چوتھے عشرہ میں خطیب رہے ہیں اور گوجرانوالہ کی سب سے قدیمی درسگاہ ’’مدرسہ انوار العلوم‘‘ انہوں نے ہی ۱۹۲۶ء میں قائم کی تھی۔ ان کا علمی ذوق حدیث و فقہ میں بہت بلند تھا۔ ان کے دو وقیع علمی کاموں میں بخاری شریف کے اطراف پر ان کی تصنیف ’’النبراس الساری‘‘ شائع ہو کر علمی حلقوں سے خراج تحسین وصول کر چکی ہے جبکہ طحاوی شریف کی تخریج پر بھی انہوں نے اس دور میں کام کیا تھا جس کا مسودہ میں نے دیکھا ہے۔ ان کی وفات کے بعد ان کے بھتیجے حضرت مولانا مفتی عبد الواحدؒ فاضل ڈابھیل ان کے جانشین بنے جبکہ حضرت مفتی صاحبؒ نے اپنی زندگی کے آخری ایام میں مجھے اپنی خدمت و نیابت کے لیے شریک کار بنا لیا تھا اور بحمد اللہ تعالیٰ ان کے بعد بھی اسی خدمت پر مامور ہوں۔ امام طحاویؒ کی ’’شرح المعانی الآثار‘‘ پر حضرت مولانا عبد العزیز سہالویؒ کے اس وقیع تحقیقی کام کی علمی حلقوں میں خاصی شہرت تھی۔ والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدرؒ اکثر اس کا ذکر کیا کرتے تھے بلکہ میری معلومات کے مطابق حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ نے بھی مولانا مفتی عبد الواحدؒ سے تقاضہ کیا تھا کہ اس کام کا مسودہ اشاعت کے لیے ان کے حوالہ کر دیں لیکن مفتی صاحب مرحوم کی تمنا تھی کہ وہ اشاعت کی خدمت خود سرانجام دیں۔ انہوں نے اس کی کتابت مکمل کرالی تھی جس کی پروف ریڈنگ حضرت مولانا قاضی حمید اللہ خانؒ نے کی تھی جو اس زمانہ میں مدرسہ انوار العلوم کے صدر مدرس تھے۔ میں نے وہ مسودہ دیکھا تھا اور اس کی تھوڑی بہت ورق گردانی بھی کی تھی لیکن اس کے بعد اس کا کچھ پتہ نہ چل سکا کہ وہ کہاں ہے۔ مولانا مفتی عبد الواحدؒ کی علالت و وفات کے بعد تو وہ قصۂ پارینہ ہی بن گیا۔ اب حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کی علمی خدمات میں طحاوی شریف کا تذکرہ پڑھ کر یہ سارا قصہ مجھے یاد آگیا اور میں نے ریکارڈ میں شامل کرنے کے لیے اس کا مختصر حوالہ دے دیا ہے۔

مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کی ’’نثر الازھار شرح شرح معانی الآثار‘‘ میں نے دیکھی نہیں ہے مگر مولانا محمد یوسف لدھیانوی شہیدؒ کے قلم سے اس کا تذکرہ اور خصوصیات پڑھ کر اس کی زیارت و استفادہ کا شوق کئی گنا بڑھ گیا ہے۔

مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کے بارے میں یہ معلوم کر کے بھی ان کے ساتھ طبعی مناسبت محسوس ہوئی کہ وہ اپنے شیخ مکرم حضرت السید مولانا محمد یوسف بنوریؒ کی طرح درس نظامی کے مروجہ نصاب کو مزید بہتر بنانے کے خواہاں تھے اور نصابی کتابوں کے انتخاب میں ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ کا ذوق رکھتے تھے۔ حضرت بنوریؒ نے اس حوالہ سے جو کچھ لکھا ہے وہ پڑھ کر میرا ذوق بھی یہی چلا آرہا ہے کہ نصابی کتب کے انتخاب میں کسی ایک فہرست پر جمے رہنے کی بجائے ’’خوب سے خوب تر کی تلاش‘‘ کا عمل مسلسل جاری رہنا چاہیے۔ اور اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہ نصابی علوم کی مروجہ کتابوں کے مصنفین کے بعد ان علوم میں جو ارتقاء ہوا ہے اس سے اپنے طلبہ کو وابستہ رکھنے کے لیے ہر علم و فن میں کوئی نہ کوئی جدید کتاب بھی شامل نصاب ہونی چاہیے اور ہمارے فضلاء اور مدرسین کو علوم و فنون میں مسلسل ارتقاء سے بے خبر اور لاتعلق نہیں رہنا چاہیے۔

مولانا محمد امین شہیدؒ کا یہ ذوق و اسلوب بھی یقیناًقابل توجہ بلکہ لائق تقلید ہے کہ اہل سنت کے عقائد و حقوق کے تحفظ اور حضرات صحابہ کرامؓ کے ناموس کے دفاع کی جدوجہد کو علمی و فکری بنیادوں پر منظم ہونا چاہیے اور اس سارے کام کو محض تحریکی اور جذباتی ماحول کی نذر نہیں کر دینا چاہیے۔ اس حوالہ سے میری گزارش یہی ہوتی ہے کہ امام اہل سنت حضرت مولانا عبد الشکور لکھنویؒ کے ذوق و طرز کے احیاء کی ضرورت ہے اور نہ صرف پاکستان بلکہ مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال اور مستقبل کے خدشات و خطرات کو سامنے رکھتے ہوئے ترجیحات کا ازسرنو تعین وقت کا اہم ترین تقاضہ ہے۔

حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کے بارے میں یہ معلوم کر کے مجھے ’’میں نے یوں جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے‘‘ کی کیفیت اپنے دل میں محسوس ہونے لگی کہ انہوں نے افغان طالبان اور کمانڈر احمد شاہ مسعود شہیدؒ کے درمیان صلح کرانے کی کوشش کی تھی۔ یہ خواہش ایک دور میں مجھے بھی ستاتی رہی ہے اور میں نے اس کا بعض مواقع پر اظہار بھی کیا ہے۔ بلکہ ایک موقع پر قندھار میں حضرت مولانا محمد نبی محمدیؒ کے ساتھ ملاقات کے دوران ان سے عرض کیا تھا کہ روسی جارحیت کے خلاف جنگ لڑنے والے مجاہدین کے تمام گروپوں کو افغانستان کے مستقبل کے بارے میں مل کر فیصلہ کرنا چاہیے اور اب بھی میری رائے یہ ہے کہ اس کے بغیر شاید افغانستان کو موجودہ دلدل سے نہ نکالا جا سکے۔

کمانڈر احمد شاہ مسعود شہیدؒ کے بارے میں یہ بات میں ایک عرصہ قبل لکھ چکا ہوں کہ علماء کرام کے ایک وفد کے ہمراہ پروفیسر صبغۃ اللہ مجددی کے دور صدارت میں مجھے کابل جانے کا اتفاق ہوا تو اس وقت احمد شاہ مسعود وزیر دفاع تھے۔ انہوں نے مولانا فداء الرحمن درخواستی اور راقم الحروف کو یہ کہہ کر اپنا مہمان بنا لیا تھا کہ میں حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستیؒ کا شاگرد ہوں اور ان کے دورۂ تفسیر میں خانپور میں شریک ہو چکا ہوں۔ میری اس بات سے بہت سے دوستوں کو شاید اتفاق نہ ہو مگر پورے شرح صدر کے ساتھ میری دیانتدارانہ رائے یہ ہے کہ جن جہادی گروپوں نے روسی جارحیت کے خلاف جہاد میں حصہ لیا تھا اور آپس میں متحدہ محاذ بھی بنا لیا تھا ان کو دوبارہ اکٹھے ہونا چاہیے اور مل جل کر جہاد افغانستان کے منطقی نتائج کے حصول اور افغانستان کی آزادی و خودمختاری کے لیے مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرنا چاہیے۔

بہرحال حضرت مولانا محمد امین اورکزئی شہیدؒ کی زندگی اور خدمات پر سہ ماہی ’’المظاہر‘‘ کی خصوصی اشاعت کا خیرمقدم کرتے ہوئے دعاگو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اس کاوش کو قبول فرما کر زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے نافع بنائیں اور حضرت شہیدؒ کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام سے نوازیں، آمین یا رب العالمین۔