اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
ماہنامہ الشریعہ، گوجرانوالہ
تاریخ اشاعت: 
مئی ۲۰۰۸ء

شعر پڑھنے،سننے اور اس سے حظ اٹھانے کا ذوق بحمد اللہ تعالیٰ شروع سے رہا ہے مگر شعر گوئی کبھی زندگی کا معمول نہ بن سکی۔ طالب علمی کے دور میں گوجرانوالہ کے معروف شعرا اثر لدھیانوی مرحوم، عزیز لدھیانوی مرحوم، راشد بزمی مرحوم، بیکس فتح گڑھی مرحوم، شاکر سہارنپوری مرحوم، شہید جالندھری مرحوم اور طالب اعوان جیسے دوستوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا رہا۔ شاعروں میں اہتمام سے شریک ہوتا اور ادبی مجالس سے استفادہ کرتا تھا۔ ایک بار اثر لدھیانوی مرحوم نے ایک طرحی مشاعرہ میں کچھ پڑھنے پر مسلسل اصرار بھی کیا جس کا طرح مصرع تھا:

وفور کرب وغم سے خون دل بھی ہو گیا پانی

مگر دو تین روز کی مسلسل مغز کھپائی کے باوجود ایک مصرع سے زیادہ نہ کہہ سکا جو یہ تھا:

خدایا کب تھمے گی ظالموں کی یہ ستم رانی

اس ناکامی کا اس قدر صدمہ ہوا کہ اس مشاعرہ میں شرکت کا حوصلہ بھی نہ کر سکا اور یہ باب ہمیشہ کے لیے بند کر دیا۔ اس کے کم وبیش ربع صدی بعد حضرت مولانا محمد عبد اللہ درخواستی قدس اللہ سرہ العزیز کی وفات اور ان کے جنازے میں شریک نہ ہو سکنے کے صدمہ نے بے ساختہ چند اشعار کا روپ دھار لیا جو بعض جرائد میں شائع ہو چکے ہیں۔ اور اب ایک طویل عرصہ کے بعد عم مکرم حضرت مولانا صوفی عبد الحمید سواتی نور اللہ مرقدہ کی وفات پر ان کے ساتھ عقیدت ومحبت مندرجہ ذیل اشعار کی شکل میں نوک قلم پر آگئی ہے۔ ’’اشعار موزوں ہو گئے‘‘ کا جملہ عمداً استعمال نہیں کر رہا کہ وزن، قافیہ اور ردیف کے فن سے قطعی طو رپر نا آشنا ہوں اور قارئین سے درخواست ہے کہ منظوم تاثرات کو فن کے آداب و رموز کے حوالے سے جانچنے کی بجائے صرف عقیدت اور جذبات کے اظہار کے پہلو سے ہی پڑھا جائے۔

اک مرد حر تھا خلد کی جانب رواں ہوا
خاکی تھا، اہل دیں میں تھا، جنت مکاں ہوا

عبد حمید بھی تھا جو وہ عبد الحمید تھا
اسی عبدیت کی راہ میں خلد آشیاں ہوا

’’چیڑاں ڈھکی‘‘ سے اترا تو پہنچا وہ دیوبند
قسام علم اس پر جب مہرباں ہوا

توحید رب کا عمر بھر مناد تھا وہ شخص
جہل وشرک کی حرکتوں پہ نوحہ خواں ہوا

سنت کی پیروی ہی بنا اس کا ذوق وشوق
بدعت سے نفرتوں کا وہ اک نشاں ہوا

کوفہ کے بوحنیفہؒ کا وہ پیروکار تھا
اور اس کے علم وفضل کا وہ مدح خواں ہوا

تھا دہلوی ولیؒ کی وہ حکمت کا ترجماں
اور اس کے جہد وعمل کا وہ قصہ خواں ہوا

مدنی حسین احمدؒ جو تھا اس کا شیخ خاص
پھر اس کی ادائے ناز کا وہ نغمہ خواں ہوا

صفدر کے ساتھ تھا وہ اور اس کا تھا دست راست
اس کے مشن میں غافلِ سود وزیاں ہوا

ہے اس کی محنتوں کا ثمر ’’نصرت العلوم‘‘
اور اس کے فیض کا ہے یہ چشمہ رواں ہوا

ہے راشدی بھی برکتوں کا اس کی خوشہ چیں
وہ جو کہ اب ہے عازم سوے جناں ہوا