جمعہ کی چھٹی اور راجہ صاحب کا فلسفہ

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۵ و ۲۸ جولائی ۲۰۰۰ء

راجہ انور صاحب نے اپنے مضمون میں جمعہ کی چھٹی کا ذکر کیا ہے، میثاق مدینہ کا حوالہ دیا ہے، کسی مسلم مملکت کو ’’اسلامی‘‘ قرار دینے پر اعتراض کیا ہے، اور جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی قائم کردہ ریاست کو ’’دولۃ العربیۃ‘‘ کے طور پر پیش کرنے کی کوشش فرمائی ہے۔ اس لیے ان امور کے بارے میں کچھ معروضات پیش کرنا چاہتا ہوں۔

جمعۃ المبارک کی چھٹی

جمعہ کی چھٹی کے بارے میں راجہ صاحب کا ارشاد یہ ہے کہ اس پر بلاوجہ زور دیا جا رہا ہے حالانکہ اسلامی تاریخ میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ملتا۔ اس سلسلہ میں عرض ہے کہ دو مسئلے الگ الگ ہیں۔ ایک یہ کہ چھٹی ہونی چاہیے یا نہیں اور دوسرا یہ کہ اگر ہو تو کس دن ہو؟

جہاں تک پہلے نکتے کا تعلق ہے، یہ بات درست ہے کہ اسلام چھٹی کی بجائے کام کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ بلکہ میں یہ عرض کیا کرتا ہوں کہ اسلام کا مزاج یہ ہے کہ عام دنوں میں پانچ نمازوں کی پابندی ہے مگر عید کے دن ان میں کوئی کمی کرنے کی بجائے ایک نماز کا اضافہ کر دیا گیا ہے، اس لیے اگر سرے سے چھٹی نہ کی جائے اور ہفتہ کے ساتوں دن کام کیا جائے تو یہ اسلام کے مزاج کے زیادہ قریب ہے۔ لیکن جب ہم عزیمت کا یہ راستہ ترک کر کے رخصت پر آگئے ہیں اور چھٹی کرنا ہی چاہتے ہیں تو اس چھٹی کا تعین اسلامی روایات کے مطابق ہونا چاہیے۔ کیونکہ جب یہودی اس معاملہ میں اپنی مذہبی روایات کی پاسداری کرتے ہوئے ہفتہ کے روز چھٹی کرتے ہیں اور عیسائی اپنی مذہبی روایات کی وجہ سے اتوار کا دن چھٹی کے طور پر مناتے ہیں تو ہمیں بھی اس بات میں کوئی حجاب نہیں محسوس کرنا چاہیے کہ چھٹی کے لیے جمعہ کا دن مقرر کریں جسے جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ’’سید الایام‘‘ قرار دیا ہے اور اپنی زبان مبارک سے اس دن کے بہت سے فضائل اور خصوصیات بیان فرمائی ہیں۔

پھر اسلامی تاریخ بھی جمعہ کی چھٹی کے تصور سے خالی نہیں ہے۔ اس سلسلہ میں بھارت کے ممتاز محقق حضرت مولانا قاضی اطہر مبارک پوریؒ کی تصنیف ’’خیر القرون کی درسگاہیں‘‘ کا حوالہ دینا چاہوں گا جو شیخ الہند اکیڈمی دارالعلوم دیوبند انڈیا نے شائع کی ہے۔ اس میں صحابہ کرامؓ اور تابعینؒ کے دور کی علمی درسگاہوں کا تعارف کراتے ہوئے ’’جمعہ کی چھٹی‘‘ کا مستقل عنوان قائم کر کے بتایا گیا ہے کہ تعلیمی اداروں میں جمعہ کی چھٹی کا رواج امیر المومنین حضرت عمر بن الخطابؓ کے دور میں ہی ہوگیا تھا۔ انہوں نے اس سلسلہ میں تاریخی کتابوں کے حوالہ سے بتایا ہے کہ جب حضرت عمرؓ شام کے طویل سفر سے واپس آئے تو جمعرات کا دن تھا اور مدینہ منورہ کے لوگوں نے شہر سے باہر آ کر حضرت عمرؓ کا استقبال کیا جن میں بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل تھی۔ حضرت عمرؓ نے ان لوگوں کے ساتھ جمعہ کی شب مدینہ منورہ سے باہر بسر کی اور جب جمعہ کی صبح کو مدینہ منورہ میں داخل ہوئے تو اس روز قرآن کریم کے مدارس میں بچوں کو چھٹی کرنے کی اجازت دے دی جس کے بعد سے جمعہ کے روز چھٹی کا رواج ہوگیا۔

کتاب میں معروف استاد ایوب بن حسن رافعیؒ کا یہ قول نقل کیا گیا ہے کہ ہم جمعہ کے روز مدرسہ کے بچوں کے ساتھ مدینہ منورہ سے باہر نکلا کرتے تھے اور بچے کھیل کود اور گھڑ سواری کے ساتھ جی بہلایا کرتے تھے۔ اس روایت میں حضرت مصعب بن زبیرؓ کے بچوں کی گھڑ سواری کا بھی ذکر ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ معمول صحابہ کرامؓ کے آخری دور کا ہے۔ قاضی اطہر مبارک پوریؒ نے تابعینؒ کے دور کے ایک محاورہ کا ذکر کیا ہے جو قرآن کریم کے ایک استاد ابن مجاہدؒ نے کسی بھاری بھر کم شخص کو دیکھ کر کہا کہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بوجھل ہے جتنا ہفتہ کا دن بچوں کے لیے بوجھل ہوتا ہے۔ یعنی جمعہ کی چھٹی گزار کر ہفتہ کے روز صبح تعلیم کے لیے مدرسہ میں جانا بچوں کے لیے بہت بوجھل اور گراں ہوتا ہے اور محاورہ میں اسی پس منظر میں ایک بوجھل آدمی کے موٹاپے کا ذکر کیا گیا ہے۔

الغرض جمعہ کا دن نہ صرف فضیلت اور امتیاز والا ہے بلکہ قرون اولیٰ میں اس دن کی چھٹی کا تصور بھی موجود ہے۔ اس لیے اگر ہم نے چھٹی کرنی ہے تو اس کے لیے جمعہ کا دن ہی زیادہ موزوں ہے اور آج کے بین الاقوامی تناظر میں ملی حمیت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ہم جمعہ کے دن کو ہفتہ وار چھٹی کا دن قرار دیں۔

راجہ صاحب محترم نے جمعہ کی چھٹی پر ایک اعتراض یہ بھی کیا ہے کہ مغربی ممالک ہفتہ اور اتوار دو دن چھٹی کرتے ہیں جبکہ ہم جمعہ کی چھٹی کریں گے تو ان کے ساتھ تجارتی اور دفتری روابط میں تین دن کا انقطاع آجائے گا اس لیے ہمیں اس انقطاع کا دائرہ زیادہ وسیع نہیں کرنا چاہیے ورنہ ہمارے تجارتی نقصانات میں اضافہ ہو جائے گا۔ میرے خیال میں راجہ صاحب محترم نے تجارتی اور دفتری روابط کے مجموعی تناظر پر نظر نہیں دوڑائی ورنہ یہ بات ان کی نگاہ سے اوجھل نہ رہتی کہ یہ مشکل تو ہمیں روزمرہ معاملات میں بھی درپیش ہے۔ مثلاً جاپان کے ساتھ ہمارے وقت کا چار گھنٹے کا فرق ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جاپان کے صنعتی ادارے اور دفاتر ہم سے چار گھنٹے پہلے کھل جاتے ہیں اور چار گھنٹے پہلے بند ہو جاتے ہیں اور ہمیں ان کے ساتھ (براہ راست یعنی ای میل وغیرہ کے علاوہ) روابط کے لیے روزانہ صرف چار گھنٹے ملتے ہیں۔ اسی طرح برطانیہ کے ساتھ ہمارا چار گھنٹے کا فرق ہے کہ ہمارے دفاتر اور فیکٹریاں برطانیہ سے چار گھنٹے پہلے کھلتے اور چار گھنٹے پہلے بند ہوتے ہیں اور ان کے ساتھ بھی ہمیں صرف چار گھنٹے فوری رابطہ کے لیے ملتے ہیں۔ جبکہ ہمارے اقتصادی قبلہ و کعبہ امریکہ بہادر کے ساتھ ہمارے وقت کا فرق نو سے بارہ گھنٹے کا ہے کہ نیویارک ہم سے نو گھنٹے اور لاس اینجلس بارہ گھنٹے پیچھے ہے اس لیے امریکہ کے دفاتر اور فیکٹریوں کے ساتھ تو ہمیں اپنے دفتری اوقات میں سرے سے رابطہ کا کوئی وقت ہی نہیں ملتا۔

اس تناظر میں اگر راجہ انور محترم کے فلسفہ کو قبول کیا جائے تو اپنا وقت بچانے کے لیے ہمیں اپنے اوقات کار کی درجہ بندی کرنا ہوگی۔ جاپان کے لیے سحری کے وقت دفتر کھولنا ہوں گے، برطانیہ کے لیے عشاء تک دفتر کھلے رکھنا ہوں گے، اور امریکہ کے لیے رات کو دفتر اور فیکٹریاں کھولنے کا شیڈول طے کرنا ہوگا۔ ورنہ جمعہ کی چھٹی کی صورت میں تو ہمارے صرف چار گھنٹے فی ہفتہ حرج ہو سکتے ہیں مگر اس وقت عملاً روزانہ چار گھنٹے اور امریکہ کے حوالہ سے آٹھ گھنٹے ضائع ہو رہے ہیں، کیا راجہ انور صاحب اس الجھن کا کوئی حل پیش فرمائیں گے؟

اسلامی ریاست کی اصطلاح اور اس کا پس منظر

راجہ انور محترم نے اپنے مضمون میں اسلامی ریاست کی ہیئت ترکیبی کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا ہے اور میثاق مدینہ، دولت العربیہ اور کسی ریاست کو اسلامی قرار دینے کے عنوانات کے ساتھ یہ تاثر دینے کی کوشش فرمائی ہے کہ اسلام ایک فرد کا شخصی معاملہ ہے اور اس کا سوسائٹی اور ریاست کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے، اس لیے کسی ایک شخص کو تو مسلمان قرار دیا جا سکتا ہے مگر کسی ریاست کو اسلامی قرار دینا ان کے بقول خود اسلامی روایات کے منافی ہے۔

اس سلسلہ میں سب سے پہلے ’’میثاق مدینہ‘‘ کا ذکر کرنا چاہوں گا جسے ہمارے جدید تعلیم یافتہ دانشور ایک مسلم ریاست کا دستور قرار دے کر آج بھی ایک آئیڈیل دستوری دستاویز کے طور پر پیش کرتے ہیں مگر یہ بات سراسر غلط فہمی پر مبنی ہے۔ کیونکہ میثاق مدینہ کسی منظم ریاست کا دستور نہیں بلکہ مدینہ منورہ کے مختلف قبائل کے ساتھ اکٹھے رہنے کا ایک عبوری معاہدہ تھا جو جناب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کے بعد مدینہ منورہ کے قبائل کے ساتھ کیا تھا اور بالآخر ’’ریاست مدینہ‘‘ کی تشکیل پر منتج ہوا تھا۔ چونکہ اس وقت تک قرآن کریم کی احکام و قوانین والی آیات نازل نہیں ہوئی تھیں اس لیے آنحضرتؐ نے کام چلانے کے لیے میثاق مدینہ اور مواخات جیسے اقدامات کیے جن کی حیثیت عبوری تھی اور جوں جوں قرآن کریم میں احکام و قوانین نازل ہوتے گئے ہجرت کے بعد ابتدائی دور میں کیے جانے والے اقدامات خودبخود ختم ہوتے چلے گئے۔ اس لیے میثاق مدینہ کی حیثیت دستوری زبان میں فائنل اور مکمل دستور کی نہیں بلکہ ابتدائی اور عبوری دستوری معاہدہ کی ہے اور اسے آج کے دور میں کسی مسلم مملکت کے لیے دستور سازی کی حتمی بنیاد قرار نہیں دیا جا سکتا۔ کیونکہ اگر میثاق مدینہ کو ہی دستور سازی کی واحد بنیاد تسلیم کیا جائے تو اس کے بعد دس سال تک مسلسل نازل ہونے والی قرآنی آیات اور اسلامی قوانین و احکام کے ایک بڑے حصے کو نظر انداز کرنا پڑے گا۔ جبکہ بعد میں نازل ہونے والی آیات و احکام کو میثاق مدینہ کے ساتھ ایڈجسٹ کیا جائے تو اسے اسلامی دستور سازی کی واحد بنیاد قرار دینا ممکن نہیں رہتا۔ چنانچہ اسلامی دستور سازی کی حتمی بنیاد قرآن و سنت کی وہ آخری شکل ہے جو جناب رسول اللہؐ کی حیات طیبہ کے وصال تک مکمل ہوتی رہی اور جس کی عملی صورت خلافت راشدہ کی صورت میں تاریخ کے ریکارڈ میں محفوظ ہے۔

راجہ صاحب نے جسٹس عبد الوحید صدیقی کے حوالہ سے ’’دولت العربیہ‘‘ کی بات بھی کی ہے لیکن وہ اس بات کو نظر انداز کر گئے ہیں کہ خود قرآن کریم نے جناب نبی اکرمؐ کی نبوت کو صرف عربوں کے لیے نہیں بلکہ پوری نسل انسانی کے لیے عام قرار دیا ہے اور واشگاف الفاظ میں آنحضرتؐ کی تعلیمات اور اسوہ کو قیامت تک کے لیے تمام نسل انسانی کی راہ نمائی کا واحد سرچشمہ بتایا ہے۔ جبکہ جناب رسول اللہؐ نے حجۃ الوداع کے خطبہ میں عرب و عجم اور کالے و گورے کے فرق کی نفی کرتے ہوئے ساری نوع انسانی کے لیے رہنما اصول پیش فرمائے ہیں۔ راجہ صاحب شاید اس بات کا ادراک نہیں کر سکے کہ اسلام میں حکومت کا تصور ہی نبوت کی نیابت اور نمائندگی کا ہے۔ اور اسلام کے سیاسی نظام کے لیے ’’خلافت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جو بعد کے کسی دور میں وضع نہیں کی گئی بلکہ خود قرآن کریم اور آنحضرتؐ نے اسلامی حکومت کے لیے خلافت کی اصطلاح ارشاد فرمائی ہے۔

خلافت کا معنیٰ نیابت ہے اور اس کی وضاحت حضرت شاہ ولی اللہ دہلویؒ نے اس طرح کی ہے کہ خلیفہ اس مسلم حکمران کو کہتے ہیں جو جناب نبی اکرمؐ کی نیابت کرتے ہوئے ریاستی امور و فرائض کو سرانجام دے جیسا کہ خلفاء اسلام ہر دور میں کرتے چلے آئے ہیں۔ اس لیے جب نبوت کی نیابت کا نام خلافت ہے تو اس کا دائرہ بھی نبوت ہی کی طرح وسیع ہوگا اور اسے کسی علاقہ کے ساتھ مخصوص کرنا قرآن و سنت کی ان تمام تعلیمات اور ارشادات کی نفی کے مترادف ہوگا جو جناب رسول اللہؐ کی نبوت اور تعلیمات کو پوری نسل انسانی کے لیے عام قرار دیتے ہیں۔ کیونکہ اس طرح اسلام کے عالمگیر دین ہونے کے عقیدہ کی ساری عمارت دھڑام سے زمین پر آپڑے گی۔

راجہ صاحب تھوڑی دیر کے لیے غور فرمائیں کہ اگر ان کے یا جسٹس صدیقی صاحب کے بقول اسلامی خلافت کو ’’دولت عربیہ‘‘ قرار دے دیا جائے تو یہ خلافت جس نبوت کی نیابت کر رہی ہے اسے بھی عربیت کے دائرہ میں محدود ماننا پڑے گا۔ یعنی نعوذ باللہ یہ کہنا پڑے گا کہ نبی اکرمؐ صرف عربوں کے نبی تھے اور ان کا لایا ہوا انقلاب ’’عرب انقلاب‘‘ تھا۔ جبکہ یہی وہ بات ہے جو مغرب کے یہودی اور مسیحی مستشرقین صدیوں سے ہمارے ذہنوں میں ڈالنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ حضرت محمدؐ کا انقلاب بہت اچھا تھا اور اس نے انسانیت کی بڑی خدمت کی لیکن وہ عرب انقلاب تھا اور اس کی بنیاد پر جو کلچر دنیا میں متعارف ہوا وہ عرب کلچر تھا جو اپنی طبعی مدت پوری کر چکا ہے، اس لیے مسلمانوں کو اس پر اصرار کرنے کی بجائے اس نئے کلچر کو قبول کرلینا چاہیے جو ان کے سامنے مغرب پیش کر رہا ہے کیونکہ وہی مغربی کلچر اب گلوبل کلچر بننے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ مگر اسلام اپنی تعلیمات اور تاریخ دونوں حوالوں سے ان مستشرقین کے اس دعوے کی نفی کرتا ہے اور اسے قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

جہاں تک کسی ریاست کو اسلامی قرار دینے کا تعلق ہے راجہ صاحب محترم سے زیادہ کون جانتا ہے کہ یہ ایک دستوری اصطلاح ہے جس کی تاریخ بہت مختصر ہے۔ جس دور کی راجہ صاحب بات کر رہے ہیں وہ دستوری اصطلاحات اور دستوری زبان سے بہت پہلے کا دور ہے اور اس دور کے معاملات کو آج کی دستوری زبان اور اصطلاحات پر پرکھنا ایسا ہی ہے جیسے کوئی یہ کہہ دے کہ چونکہ جناب رسول اللہؐ اور خلفاء راشدینؓ نے اپنی مجلس شوریٰ کے لیے پارلیمنٹ کی اصطلاح استعمال نہیں کی تھی اس لیے آج کسی اسلامی ملک کی مجلس شوریٰ کو پارلیمنٹ کہنا اسلامی روایات سے مطابق نہیں رکھتا۔ اسلامی تاریخ ہمیں یہ بتاتی ہے کہ جناب نبی اکرمؐ نے جو ریاست قائم کی اس کی بنیاد قرآن کریم پر تھی اور آپؐ کی نیابت میں جو خلافت قائم ہوئی وہ قرآن کریم کے ساتھ ساتھ جناب رسول اللہؐ کی سنت و احکام کی بھی نمائندگی کرتی ہے۔