جہاد کے حوالے سے راجہ صاحب کی الجھن

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۱۵ مئی ۲۰۰۰ء

راجہ انور صاحب محترم کو روسی استعمار کی فوج کشی کے خلاف افغان عوام اور علماء کا جہاد سمجھ نہیں آرہا لیکن وہ برطانوی استعمار کے خلاف متحدہ ہندوستان کے مختلف گروپوں کی عسکری جدوجہد کو جہاد تسلیم کرنے کے لیے تیار ہیں۔ راقم الحروف نے یہی سوال کیا تھا کہ ان دونوں میں فرق کیا ہے کہ ایک کو جہاد کہا جائے اور دوسرے کو جہاد تسلیم کرنے سے انکار کر دیا جائے؟ راجہ صاحب نے لکھا ہے کہ

’’جہاں مسلم ریاست اپنا وجود یا اپنا اقتدار اعلیٰ کھو دے وہاں عوامی حمایت (اجتہاد) کے ذریعے مسلح تحریک آزادی (یعنی جہاد) کا آغاز تو کسی حد تک قابل فہم معاملہ ہے لیکن جہاں مسلم ریاست مکمل طور پر اپنا وجود رکھتی ہو اور اس کا اقتدار اعلیٰ بھی کلیتاً اس کے پاس ہو وہاں جہاد کا اعلان کون کرے گا؟‘‘

گویا اس طرح راجہ صاحب محترم نے متحدہ ہندوستان میں برطانوی سامراج کے خلاف مسلمانوں کے جہاد آزادی اور روسی استعمار کے خلاف افغان عوام کے جہاد میں فرق ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ یہاں بھی تاریخی تناظر اپنی اصلی شکل میں ان کے سامنے نہیں ہے اس لیے کہ متحدہ ہندوستان میں جب شاہ ولی اللہ دہلویؒ کے جانشین حضرت شاہ عبد العزیز محدث دہلویؒ نے ہندوستان کو دارالحرب قرار دے کر انگریزوں کے خلاف جہاد کا فتویٰ صادر کیا تھا اس وقت دہلی میں مغلوں کی بادشاہت ابھی قائم تھی، حکم و قانون مغل بادشاہ کے نام سے ہی نافذ ہوتا تھا اور ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوجیں اسی طرح مغل بادشاہ کی معاونت کے عنوان سے دہلی پر مسلط تھیں جس طرح ببرک کارمل کی حمایت و حفاظت کے نام سے روسی فوجیں کابل میں براجمان ہوگئی تھیں۔ دہلی کے مغل حکمران شاہ عالم ثانی اور کابل کے کمیونسٹ حکمران ببرک کارمل کے ’’اقتدار اعلیٰ‘‘ کی نوعیت ایک جیسی تھی اور دونوں کی قوت نافذہ غیر ملکی اور غیر مسلم مسلح افواج کی صورت میں مسلم ریاست کے وجود اور اس کے اقتدار اعلیٰ کو گھن کی طرح چاٹ رہی تھی۔ اس لیے اگر دہلی میں مغل بادشاہ کے موجود ہوتے ہوئے شاہ عبد العزیز دہلویؒ کا فتویٰ جہاد درست تھا تو کابل میں ببرک کارمل کی حکومت کے باوجود افغان علماء کا فتویٰ جہاد بھی درست تھا اور دونوں کی اصولی اور شرعی حیثیت میں کوئی فرق نہیں ہے۔

راجہ صاحب محترم نے سوال کیا ہے کہ کیا کسی جنگ کے ’’جہاد‘‘ ہونے کے لیے صرف علماء کا فتویٰ ہی کافی ہے؟ اور اگر ایسا ہے تو پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے والی تین جنگوں میں جہاد کا فتویٰ کس نے دیا تھا؟

راجہ صاحب سے گزارش ہے کہ کسی جنگ کے جہاد ہونے کا پہلا درجہ یہ ہے کہ باقاعدہ اسلامی ریاست قائم ہو اور امیر المومنین کی طرف سے جہاد کا اعلان کیا جائے۔ لیکن جہاں اسلامی ریاست موجود نہ ہو یا مسلم حکمران خود غیر مسلم اور حملہ آور قوتوں کا یرغمال ہو جائے وہاں اعلان جہاد کا یہ فریضہ علمائے کرام کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ یہ ایک مسلمہ فقہی اصول ہے اور بہت سے ایسے شرعی احکام میں جن کا نفاذ حکومت پر موقوف ہے مگر کوئی اسلامی حکومت موجود نہیں ہے یا مسلم حکومت اس ذمہ داری کو قبول کرنے سے گریز کر رہی ہے، مثلاً اقامت صلوٰۃ، اقامت جمعہ و عیدین، نکاح و طلاق کے تنازعات، اور زکوٰۃ کی وصولی و صرف وغیرہ جیسے معاملات، تو ان میں خلاء کو قبول نہیں کیا جائے گا اور احکام کے تسلسل کو باقی رکھنے کے لیے علمائے کرام اس فریضہ کو سنبھال لیں گے اور ہر دور میں علماء نے اس ذمہ داری کو قبول کیا اور نبھایا ہے۔ اسی طرح جہاں مسلم حکومت موجود نہ ہو یا موجود ہو لیکن کافروں کے نرغے میں ہو اور اس وقت کے معروضی حالات جہاد کا تقاضا کرتے ہوں تو علماء کا فریضہ بن جاتا ہے کہ وہ اس خلاء کو پر کریں اور ایسی صورت میں ان کے اعلان اور فتویٰ سے ہی کوئی جنگ ’’شرعی جہاد‘‘ کی حیثیت اختیار کرے گی۔

جہاں تک تین پاک بھارت جنگوں کا تعلق ہے تو راجہ انور ان کے حوالہ سے بھی اپنا ریکارڈ درست کر لیں کہ پہلی جنگ میں باقاعدہ جہاد کا فتویٰ دیا گیا تھا جس سے مولانا مودودیؒ نے اختلاف کیا تھا لیکن میرا اندازہ ہے کہ جہاد کشمیر کی شرعی حیثیت سے مولانا مودودیؒ کا یہ اختلاف تو راجہ صاحب محترم کو ضرور یاد ہوگا لیکن جس فتویٰ جہاد سے انہوں نے اختلاف کیا تھا وہ راجہ صاحب کے ذہن کے کسی گوشے میں شاید محفوظ نہ ہو اس لیے بطور یاد دہانی میں نے اس کی طرف اشارہ کر دیا ہے۔

1965ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی علمائے کرام نے جہاد کا باقاعدہ فتویٰ صادر کیا تھا اور دیگر علمائے کرام کے علاوہ دو رسالے تو مجھے اچھی طرح یاد ہیں جو اس وقت کے دو بڑے علماء نے اسی مسئلہ پر لکھے تھے۔ ایک رسالہ ’’جہاد‘‘ کے نام سے مفتی اعظم پاکستان حضرت مولانا مفتی محمد شفیع دیوبندیؒ نے لکھا تھا جو اب بھی چھپ رہا ہے جبکہ دوسرا رسالہ ’’شوق جہاد‘‘ کے عنوان سے میرے والد محترم حضرت مولانا محمد سرفراز خان صفدر نے تحریر کیا تھا۔ ضیاء الحق مرحوم 1965ء کی جنگ کے دوران ضلع سیالکوٹ میں نندی پور کے مقام پر تعینات تھے اور کبھی کبھار جمعہ کی نماز پڑھنے کے لیے گکھڑ میں حضرت والد صاحب کے پاس آجاتے تھے، ان کی فرمائش پر والد صاحب نے یہ رسالہ لکھا تھا اور بٹ دری فیکٹری گکھڑ کے مالک حاجی اللہ دتہ صاحب مرحوم نے کئی ہزار کی تعداد میں اسے چھپوا کر ضیاء الحق مرحوم کو فوجی جوانوں میں تقسیم کرنے کے لیے دیا تھا۔

اسی طرح 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں بھی علمائے کرام کے مختلف حلقوں نے اس جنگ کو جہاد قرار دینے کا فتویٰ صادر کیا تھا۔ جمعیۃ علمائے اسلام پاکستان کی مجلس شوریٰ کی طرف سے اس جنگ کو جہاد قرار دینے کے اعلان تو مجھے بھی یاد ہے جسے خود میں نے اخبارات کے لیے رپورٹ کیا تھا اور قومی اخبارات نے اسے شائع کیا تھا۔