جداگانہ طرز انتخاب اور مسیحی اقلیت

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۷ ستمبر ۲۰۰۰ء

ان دنوں ملک میں جداگانہ طرز انتخاب یا مخلوط طریق انتخاب کی بحث چل رہی ہے اور مختلف حلقوں کی طرف سے یہ مطالبہ مسلسل دہرایا جا رہا ہے کہ جداگانہ طریق انتخاب کے ذریعہ اقلیتوں کو اسمبلیوں میں الگ نمائندگی دینے کی بجائے مخلوط طرز انتخاب اختیار کیا جائے اور اقلیتوں کی جداگانہ نمائندگی کا سلسلہ ختم کر دیا جائے۔

ہمارے نزدیک اس مہم کے اصل محرک دو ہیں۔ ایک محرک وہ بین الاقوامی سیکولر لابی ہے جو پاکستان کی نظریاتی اسلامی حیثیت کو ختم یا کم از کم کمزور کر دینے کے درپے ہے۔ چونکہ جداگانہ طرز انتخاب سے مذہبی تشخص اجاگر ہوتا ہے اس لیے مذکورہ بالا مقصد کے حصول کے لیے اس کا خاتمہ ضروری سمجھا جا رہا ہے۔ جبکہ دوسرا محرک قادیانی گروہ ہے جس نے دائرہ اسلام سے خارج ہونے کے بارے میں امت مسلمہ کے اجماعی فیصلے کے ساتھ ساتھ منتخب پارلیمنٹ کا وہ دستوری فیصلہ تسلیم کرنے سے بھی انکار کر رکھا ہے جو 1974ء میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کے لیے قومی اسمبلی نے پاس کیا تھا۔ اس فیصلے کے حوالہ سے اسمبلیوں میں قادیانیوں کے لیے الگ نشستیں مخصوص ہیں جنہیں قبول کرنے کی صورت میں دستوری فیصلہ خودبخود تسلیم ہو جاتا ہے۔ اسی لیے قادیانی جماعت نے انتخابات کا بائیکاٹ کر رکھا ہے اور اس کی طرف سے بین الاقوامی سطح پر مسلسل یہ مہم چلائی جا رہی ہے کہ پاکستان میں جداگانہ طرز انتخاب کو ختم کیا جائے تاکہ وہ بنیاد ہی باقی نہ رہی جو دستوری طور پر قادیانیوں کو مسلمانوں سے الگ ظاہر کرتی ہے اور جس کو قبول کرنے سے دستور کا فیصلہ خودبخود تسلیم ہو جاتا ہے۔

سیکولر لابیوں اور قادیانیوں کی طرف سے جداگانہ طرز انتخاب کی مخالفت تو سمجھ میں آتی ہے لیکن ملک کے بعض مسیحی حلقوں کا اس میں شریک ہونا ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ ہم اس کالم میں متعدد بار اس امر کا اظہار کر چکے ہیں کہ مسیحی اقلیت اگر بین الاقوامی سیکولر لابیوں، این جی اوز اور قادیانیوں کی سازشوں سے بالاتر ہو کر خود اپنے مفاد میں سوچے تو اس کے لیے جداگانہ طرز انتخاب میں ہی فائدہ ہے جس کے تحت مسیحیوں کو اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا موقع مل جاتا ہے اور اسمبلیوں میں ان کے نمائندوں کی اچھی خاصی تعداد پہنچ جاتی ہے۔ ورنہ مخلوط طرز انتخاب کے ذریعہ تو وہ اس مجموعی تعداد کا دسواں حصہ بھی منتخب نہیں کر اسکتے جو جداگانہ طرز انتخاب کی صورت میں مسیحی نمائندوں کو اسمبلیوں میں حاصل ہوتا ہے۔

اگر ملک میں مسلم مسیحی کشمکش فرض کر کے اس کے تناظر میں دیکھا جائے تو بھی مسلمانوں یا ان کے دینی حلقوں کا مفاد اس میں ہے کہ اسمبلیوں میں مسیحیوں کے نمائندے کم سے کم ہوں تاکہ وہ کوئی سیاسی دباؤ منظم نہ کر سکیں اور کسی الجھن کا باعث نہ بن سکیں اور یہ مقصد مخلوط طرز انتخاب کی صورت میں بطریق احسن حاصل ہو جاتا ہے۔ جبکہ جداگانہ طرز انتخاب کے ذریعے اسمبلیوں میں مسیحی نمائندوں کا اچھا خاصا جتھا بن جاتا ہے جو مسلسل پریشانی کا باعث بنا رہتا ہے۔ مگر تعجب کی بات ہے کہ مسلمانوں کے دینی حلقے اس سیاسی مفاد کو قربان کرتے ہوئے جداگانہ طرز انتخاب کے اصولی موقف پر زور دے رہے ہیں جبکہ اس کے برعکس بہت سے مسیحی قائدین اپنی کمیونٹی کے سیاسی مفاد اور اصولی موقف دونوں کو نظر انداز کرتے ہوئے مخلوط طرز انتخاب کا مطالبہ کر کے بین الاقوامی سیکولر لابیوں اور قادیانیوں کی تقویت کا باعث بن رہے ہیں۔

اس پس منظر میں مسیحی اقلیت کے بعض سنجیدہ رہنماؤں کی طرف سے یہ آواز اٹھنا شروع ہوگئی ہےکہ مسیحی کمیونٹی اپنے مذہبی و سیاسی مفادات کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لے اور بیرونی لابیوں کی ہاں میں ہاں ملانے کی بجائے مسیحی برادری کی ضروریات اور مفادات کو سامنے رکھ کر اپنے موقف کا تعین کرے اور جداگانہ طرز انتخاب کی مخالفت کر کے خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی نہ مارے۔ اس سلسلہ میں مسیحی جریدہ ماہنامہ کلام حق گوجرانوالہ نے اگست 2000ء کی اشاعت میں چیف ایگزیکٹو جنرل پرویز مشرف کے نام اپنے مدیر محترم کا کھلا مکتوب شائع کیا ہے جو ہم اس امید کے ساتھ نقل کر رہے ہیں کہ چیف ایگزیکٹو اس کا سنجیدگی کے ساتھ جائزہ لیں گے اور مسیحی کمیونٹی کے دیگر رہنما بھی معروضی صورتحال پر ٹھنڈے دل و دماغ کے ساتھ غور کر کے اپنے موقف کا ازسرنو تعین کریں گے۔

’’جناب عالی! پاکستان کی اقلیتوں کے لیے آپ کی اس یقین دہانی پر ہم برابر کے شہری ہونے کی حیثیت سے تمام حقوق اور تحفظات رکھتے ہیں، ہم آپ کے مشکور ہیں اور آپ کی توجہ ایک نہایت سنگین مسئلہ کی طرف دلانا چاہتے ہیں:

  1. 1956ء کے آئین میں اقلیتوں کو جداگانہ انتخاب سے اپنے نمائندے خود منتخب کرنے کا حق دیا گیا تھا جس کی وجہ سے ہماری قومی و صوبائی سطح پر نمائندگی ممکن ہو سکی۔
  2. 1958ء کے بعد ہم سے یہ حق چھین لیا گیا اور 1970ء کے مخلوط انتخاب کی وجہ سے اقلیتیں قومی اور صوبائی سطح پر حق نمائندگی سے محروم رہیں۔
  3. 1973ء کا آئین ایک ایسے شخص نے مرتب کروایا جو صرف اپنی ذاتی اور خاندانی حکومت چاہتا تھا اور اس کے لیے اس نے مشرقی پاکستان تک کی قربانی دے دی۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد قانونی طور پر مغربی پاکستان کی قومی اسمبلی کا کوئی جواز نہیں تھا۔ یوں 1973ء کا آئین ایک غیر نمائندہ ’’آمر‘‘ جو صدر بھی تھا اور دنیا کا واحد سولین مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر بھی تھا، نے اپنے اقتدار کے تحفظ کے لیے مرتب کروایا۔ 1973ء کا آئین آمریت کی دستاویز ہے جس پر ’’مارشل لاء‘‘ کی آڑ پر دستخط کروائے گئے اور اس میں اقلیت کا کوئی نمائندہ شامل نہ تھا۔ یوں 1973ء میں آئینی طور پر اقلیتوں کو نظر انداز کیا گیا اور اقلیتیں بدترین محرومی کا شکار ہوگئیں کیونکہ اس سے پیشتر 1972ء میں تمام تعلیمی اداروں کو جبرًا قومی تحویل میں لے کر اقلیتوں کی کم توڑ دی گئی۔
  4. 1975ء میں جنرل ضیاء الحق نے اقلیتوں کی زبوں حالی دیکھتے ہوئے اقلیتوں کے لیے جداگانہ انتخابات کے ذریعے قومی، صوبائی اور بلدیاتی سطح پر انہیں نمائندگی کا حق دیا جو 1997ء میں آخری بار استعمال ہوا۔
  5. اقلیتی نمائندوں کا خمیر بھی اسی مٹی سے اٹھا ہے لہٰذا اگر چند اقلیتی نمائندے اقلیتوں کی توقع پر پورے نہیں اتر سکتے تو اکثریتی نمائندوں کے متعلق شکایات بھی کم نہیں ہیں۔
  6. مخلوط انتخابات میں کسی اقلیتی امیدوار کا کامیاب ہونا ممکن نہیں ہے۔ یہ ایک ایسی تلخ حقیقت ہے جس کو جھٹلانا ممکن نہیں اور مخلوط طرز انتخاب سے اقلیتیں محرومی کے اسی اندھیرے میں ڈوب جائیں گی جس اندھیرے میں وہ ستائیس برس گزار چکی ہیں۔
  7. کیتھولک بشپس کانفرنس مسیحیوں سمیت کسی بھی اقلیت کی نمائندہ تنظیم نہیں بلکہ ان کے اراکین ’’روم‘‘ سے نامزد کیے جاتے ہیں۔ لہٰذا جو خود نامزد کیے گئے ہیں وہ انتخابات کی بات کرنے کا حق نہیں رکھتے۔

جناب عالی! جداگانہ انتخابات ہی اقلیتوں کو بھی ’’آواز‘‘ دے سکتے ہیں، مخلوط انتخابات سے ہماری ’’آواز‘‘ دب جائے گی اور ہم گمنامی کے اندھیرے میں غرق ہو جائیں گے۔ جداگانہ انتخاب میں کیتھولک بشپس کانفرنس نے فرقہ واریت کے جس خدشے کا اظہار کیا ہے وہ بالکل بے بنیاد ہے۔ دراصل یہ مخلوط انتخابات کے ذریعے ’’چور دروازے‘‘ سے اپنے مخصوص عزائم کے لیے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے کی سازش ہے۔ 1956ء سے قبل یہی لوگ جداگانہ انتخابات کے لیے مطالبات کرتے رہے ہیں اور اب مخلوط انتخابات کا مطالبہ کر رہے ہیں جو مستقبل میں اقلیتوں کی حق تلفی کا رونا رو کر وطن عزیز کو دنیا بھر میں بدنام کرے گا۔ اور اب بھی یہی گروہ ’’انسانی حقوق‘‘ کی آڑ میں پاکستان کو بدنام کرنے کی مکروہ کوشش میں دن رات ایک کیے ہوئے ہے۔

جناب عالی! مندرجہ بالا حقائق کی روشنی میں وطن عزیز کے استحکام و سلامتی اور اکثریت و اقلیتوں کے درمیان برادرانہ تعلقات کی اہمیت کے پیش نظر اقلیتوں کا یہ حق بحال رکھیں کہ وہ اپنے نمائندے خود منتخب کریں۔ کیونکہ آئین اپنے سارے احترام کے باوجود ’’صحیفہ آسمانی نہیں‘‘ جس میں تبدیلی نہ لائی جا سکے اور نہ ہی اس سے نظام ریاست کے بنیادی ڈھانچے پر کوئی اثر پڑتا ہے۔

العارض
ڈاکٹر پادری میجر (ر) تیمتھیس ناصر
ماڈریٹر یونائیٹڈ پریسٹرین چرچ آف پاکستان