نفاذ اسلام کی جدوجہد اور اسلامی نظریاتی کونسل کے مسودات

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اسلام، لاہور
تاریخ اشاعت: 
۸ نومبر ۲۰۱۶ء

ملی یکجہتی کونسل پاکستان کے گزشتہ دنوں منصورہ میں منعقد ہونے والے سربراہی اجلاس میں شرکت کے حوالہ سے اپنے تاثرات ایک کالم میں ذکر کر چکا ہوں، اس کے بعد کونسل کے سیکرٹری جنرل جناب لیاقت بلوچ کی طرف سے مکتوب موصول ہوا کہ سربراہی اجلاس میں اسلامی نظریاتی کونسل کی سفارشات پر قانون سازی کے امکانات اور طریق کار کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس کی مسؤلیت راقم الحروف کے سپرد کی گئی ہے۔ میری متنوع مصروفیات اور جسمانی عوارض کا حال یہ ہے کہ بہت سے کاموں سے جی چاہتے ہوئے بھی معذرت اور گریز کا راستہ اختیار کرنے پر خود کو مجبور پاتا ہوں مگر نفاذ اسلام اور تحفظ ختم نبوت کے دو محاذ ایسے ہیں کہ کسی خدمت کا موقع ملنے پر اس سے گریز میرے بس میں ہی نہیں رہتا۔ چنانچہ اس ذمہ داری کو قبول کرتے ہوئے میں نے تھوڑے بہت کام کا آغاز کر دیا ہے۔ 3 نومبر کو عزیزم حافظ شفقت اللہ کے ہمراہ اسلام آباد میں اسلامی نظریاتی کونسل کے ہیڈکوارٹر میں حاضری دے کر کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق اور رکن جناب جسٹس (ر) محمد رضا سے تفصیلی مشاورت کی سعادت حاصل کی ہے۔ ڈاکٹر حافظ اکرام الحق کے ساتھ تو اکثر ملاقات ہوتی رہتی ہے مگر جسٹس موصوف کے ساتھ یہ پہلی ملاقات تھی جو خاصی خوشگوار اور حوصلہ افزا ثابت ہوئی۔

جسٹس (ر) محمد رضا محترم پاکستان کے لاء سیکرٹری رہے ہیں، اب اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن ہیں اور اسلامائزیشن کے اس علمی، فکری اور تحقیقاتی کام میں معاونت کے لیے رضاکارانہ طور پر روزانہ دفتر تشریف لاتے ہیں۔ مضبوط دینی و قومی ذہن رکھتے ہیں اور اسلامائزیشن کی جدوجہد کی مرحلہ وار تاریخ اور اس کام کی نزاکتوں و ضروریات سے باخبر ہیں۔ مختلف مسائل پر ان سے گفتگو ہوئی اور اندازہ ہوا کہ کام ترتیب اور سلیقے سے کیا جائے تو اس کارِ خیر کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات پر بہت حد تک قابو پایا جا سکتا ہے۔

اس موقع پر کونسل کے سیکرٹری ڈاکٹر حافظ محمد اکرام الحق یاسین نے کونسل کی شائع کردہ ایک کتاب مرحمت فرمائی جو 1962ء سے 2013ء تک کونسل کی سرگرمیوں، سفارشات اور قانونی مسودات کا ایک جامع اور معلوماتی اشاریہ ہے اور اسلامائزیشن سے دلچسپی رکھنے والے راہنماؤں، علماء کرام، کارکنوں، وکلاء اور محققین کے لیے گراں قدر تحفہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے اپنی ایک زیر طبع کتاب کا مسودہ بھی دکھایا جو اسلامی نظریاتی کونسل کی اب تک کی سفارشات کا خلاصہ پیش کرتی ہے اور پاکستان میں نفاذ اسلام کے لیے مسلسل جاری جدوجہد کے مختلف مراحل کا احاطہ کرتی ہے۔ یہ مسودہ میں پہلے دیکھ چکا تھا اور ڈاکٹر صاحب محترم کی فرمائش پر میں نے اس کا پیش لفظ بھی تحریر کیا ہے۔ اس وقیع علمی، تحقیقی اور فکری جدوجہد پر کونسل کے چیئرمین مولانا محمد خان شیرانی، سیکرٹری ڈاکٹر حافظ اکرام الحق اور دیگر ارکان بالخصوص جسٹس (ر) محمد رضا شکریہ اور تبریک کے مستحق ہیں۔ زیر طبع کتاب کے بارے میں پیش لفظ کے طور پر جو گزارشات میں نے پیش کیں وہ درج ذیل ہیں۔

بعد الحمد والصلوٰۃ۔ چند سال پہلے کی بات ہے کہ کراچی میں ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل کے پروگرام کے لیے مجھے بلایا گیا، پروگرام کا موضوع یہ تھا کہ ’’کیا پاکستان میں نفاذ شریعت کا مطالبہ اور جدوجہد کرنے والے حلقوں نے کوئی ہوم ورک بھی کر رکھا ہے یا یہ محض ایک جذباتی نعرہ ہی ہے؟‘‘ اس پروگرام کے اینکر نے انتہائی تیکھے لہجے میں یہ سوال کیا اور محفل میں شریک ایک بزرگ کی طرف رخ پھیر کر ان سے جواب کے متقاضی ہوئے۔ مجھے اس طریق واردات کا پہلے سے اندازہ تھا اور یہ بھی معلوم تھا کہ جن صاحب سے سوال کا جواب مانگا جا رہا ہے ان کی اس حوالہ سے تیاری نہیں ہے، اس لیے میں نے تھوڑی سی سختی کے ساتھ مداخلت کی اور کہا کہ اس سوال کا جواب میں دوں گا۔ چونکہ پروگرام لائیو تھا اس لیے وہ زیادہ مزاحمت نہ کر سکے اور میرا جواب انہیں سننا پڑا۔

میں نے عرض کیا کہ نفاذ شریعت کے حوالہ سے پاکستان کے علماء کرام اور دینی حلقوں کا ہوم ورک اور فائل ورک اس قدر مکمل اور جامع ہے کہ دنیا کے کسی بھی حصہ میں نفاذ اسلام کے لیے پیش رفت ہو تو ہمارا یہ ہوم ورک اس کے لیے بنیادی اور اصولی راہنمائی فراہم کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ طالبان کے دور حکومت میں مجھے قندھار جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے ان کے ذمہ دار حضرات کے سامنے تجویز رکھی کہ وہ اس سلسلہ میں پاکستان میں اب تک ہونے والے ہوم ورک سے استفادہ کریں اور اسے سامنے رکھ کر افغانستان کے ماحول اور ضروریات کے دائرے میں اسلامائزیشن کی طرف پیش رفت کریں۔ ٹی وی چینل کے مذکورہ پروگرام میں اس حوالہ سے میں نے تین کاموں کا ذکر کیا:

  1. پرائیویٹ سطح پر مختلف مکاتب فکر کے اکابر علماء کرام کی مشترکہ کاوشیں جو ۲۲ دستوری نکات اور اس طرز کی دیگر بہت سی دستاویزات کی صورت میں موجود ہیں اور جن پر تمام مکاتب فکر آج بھی متفق ہیں۔
  2. حکومتی سطح پر قیام پاکستان کے بعد علامہ محمد اسدؒ کی راہنمائی میں قائم ہونے والے ادارہ اور اس کے بعد تعلیمات اسلامیہ بورڈ، اسلامی مشاورتی کونسل، اور اسلامی نظریاتی کونسل کی مسلسل محنت اور ان کی وقیع رپورٹیں۔
  3. وفاقی شرعی عدالت اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینچ کے متعدد اہم فیصلے جو نفاذ شریعت کے لیے اصولی اور عملی بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

میری طالب علمانہ رائے میں اگر ان تین دائروں کی علمی کاوشوں کو منظم اور مرتب انداز میں سامنے لایا جائے تو اسلامی جمہوریہ پاکستان میں نفاذ اسلام کے بارے میں اور کسی طرف دیکھنے کی ضرورت ہی باقی نہیں رہ جاتی۔ ہمارے ہاں جو کمی ہے وہ راہنمائی کی نہیں بلکہ عملی اقدامات کے لیے سنجیدگی کی ہے اور ہمیشہ یہ غیر سنجیدگی ہی شرعی قوانین کے نفاذ میں حائل رہی ہے۔

البتہ ان علمی کاوشوں اور اجتہادی مساعی کے وقیع اور جامع ہونے کے ساتھ ساتھ جہاں اس بات کی ضرورت ہے کہ انہیں فنی زبان و اسلوب کے ساتھ عوامی انداز میں منتقل کر کے منظم اور مرتب صورت میں سامنے لایا جائے، وہاں اس بات کا خلاء بھی میرے جیسے نظریاتی کارکنوں کو محسوس ہوتا ہے کہ ان علمی و اجتہادی مساعی کے واقعاتی پس منظر اور مراحل کو بھی واضح کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ علمی و فکری دنیا میں کسی بھی ارتقاء و تبدیلی اور تشکیلِ نو کے سماجی تناظر اور واقعاتی پس منظر کو سمجھے بغیر اس کی افادیت و اہمیت کا پوری طرح ادراک نہیں کیا جا سکتا۔ اور یہ الجھن صرف مذکورہ بالا علمی اداروں کے کام میں نہیں بلکہ ہمارے مفتیان کرام کے ان شخصی فتاویٰ کے بارے میں بھی درپیش ہے کہ ماحول، عرف اور تعامل میں تبدیلی کے باعث کسی مسئلہ میں روایتی موقف سے ہٹ کر کوئی رائے اختیار کی جاتی ہے تو وجہ واضح نہ ہونے کی وجہ سے وہ رائے کنفیوژن کا باعث بن جاتی ہے۔

چنانچہ اسلامی نظریاتی کونسل، وفاقی شرعی عدالت، اور سپریم کورٹ کے شریعت ایپلیٹ بینچ جیسے اداروں کے علمی اور اجتہادی فیصلوں کے ساتھ ساتھ ان کے واقعاتی پس منظر، سماجی ضرورت اور ضرورت و تعامل کے تقاضوں کو عام فہم انداز میں واضح کرنا بھی ضروری ہے۔ اور میرے خیال میں تاریخی پس منظر اور واقعاتی ماحول کے مرحلہ وار تذکرہ سے یہ ضرورت کسی حد تک پوری ہو جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ایک بات اور بھی توجہ طلب ہے کہ پاکستان میں نفاذ اسلام کی جدوجہد کے بارے میں سیکولر حلقوں کی طرف سے تسلسل کے ساتھ یہ بات دہرائی جا رہی ہے کہ یہ محض ایک سیاسی نعرہ تھا جو تحریک پاکستان میں عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لیے لگایا گیا تھا جبکہ پاکستان کے قائدین کے ذہن میں اس کے لیے کوئی باقاعدہ اور مربوط پروگرام نہیں تھا اور نہ ہی وہ پاکستان میں شرعی احکام و قوانین کے عملی نفاذ کے لیے سنجیدہ تھے۔ سیکولر حلقوں کے اس موقف سے تحریک پاکستان کی قیادت کے فکری اور اخلاقی معیار کے بارے میں کیا تاثر قائم ہوتا ہے، وہ اس سے بے پروا ہو کر اس بات کو ہر سطح پر اور ہر موقع پر دہراتے چلے جا رہے ہیں۔ اس بے بنیاد اور غیر معقول موقف کی حقیقت واضح کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ قیام پاکستان سے قبل اور اس کے بعد تحریک پاکستان کے قائدین کی طرف سے کی جانے والی کوششوں کو منظم انداز میں سامنے لایا جائے تاکہ تحریک پاکستان کی قیادت پر لگائے جانے والے اس الزام کو صاف کیا جا سکے کہ انہوں نے محض مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے سیاسی طور پر پاکستان میں نفاذ اسلام کا نعرہ لگا دیا تھا۔

اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان کے سیکرٹری محترم ڈاکٹر حافظ اکرام الحق ہم سب کی طرف سے شکریہ و تبریک کے مستحق ہیں کہ انہوں نے اس کام کا بیڑا اٹھایا ہے اور زیر نظر کتاب میں مرحلہ وار تاریخی حقائق کو مرتب کر کے اس گرد و غبار کو صاف کر دیا ہے جو نفاذ اسلام کے بارے میں تحریک پاکستان کے قائدین کے موقف اور کردار کے حوالہ سے مسلسل اڑایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ انہیں جزائے خیر سے نوازیں اور ان کی اس تحقیقی کاوش کو زیادہ سے زیادہ نافع بنائیں، آمین یا رب العالمین۔