الجزیرۃ ٹی وی ۔ عالمی ابلاغیاتی گھٹن میں تازہ ہوا کا جھونکا

مجلہ/مقام/زیراہتمام: 
روزنامہ اوصاف، اسلام آباد
تاریخ اشاعت: 
۲۵ اکتوبر ۲۰۰۱ء
اصل عنوان: 
عالمی ابلاغیاتی گھٹن میں تازہ ہوا کا جھونکا

لندن کے ایک اخبار کی خبر ہے کہ امریکی حکومت نے عربوں کے سامنے اپنے موقف اور پوزیشن کی وضاحت کے لیے الجزیرہ ٹی وی پر وقت خریدنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ خبر پڑھتے ہی ورلڈ اسلامک فورم کے چیئرمین مولانا محمد عیسیٰ منصوری نے مجھے برمنگھم فون کیا اور اس بات پر خوشی کا اظہار کیا کہ میڈیا وار میں بھی بحمد اللہ تعالیٰ مسلمان اس سطح پر آگئے ہیں کہ الجزیرہ ٹی وی نہ صرف مغربی ذرائع ابلاغ کا مقابلہ کر رہا ہے کہ بلکہ امریکہ تک کو اس سے استفادہ کرنے کی ضرورت محسوس ہو رہی ہے۔

الجزیرہ ٹی وی خلیج عرب کی ریاست قطر کا ایک پرائیویٹ ٹی وی چینل ہے جس کی نشریات عربی میں ہوتی ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ اس نے خبروں تک رسائی اور انہیں بروقت دنیا کے سامنے لانے کی تکنیک میں اس حد تک محنت اور تکنیکی مہارت کا مظاہرہ کیا ہے کہ مغرب کے اکثر ٹی وی چینل افغانستان کے بارے میں اس کے حوالہ سے خبریں دینے پر مجبور ہیں۔ اگرچہ اس میں بنیادی طور پر اس بات کا بھی دخل ہے کہ طالبان حکومت نے صرف الجزیرہ ٹی وی کو ہی افغانستان میں رپورٹنگ کی اجازت دے رکھی ہے لیکن اس کے ساتھ ذہانت، تکنیک اور ضروری وسائل کے بروقت استعمال نے الجزیرہ کو عالمی ذرائع ابلاغ کی صف میں لا کھڑا کیا ہے۔

یہاں (برطانیہ) کے عام مسلمان جب سی این این اور بی بی سی سمیت بہت سے ٹی وی چینلوں پر ’’خاص بالجزیرۃ‘‘ کی پٹی کے ساتھ روزانہ خبریں اور رپورٹیں دیکھتے ہیں تو انہیں خوشگوار حیرت ہوتی ہے اور اس بات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہیں کہ ذرائع ابلاغ کی صف میں ایک چینل ایسا بھی شامل ہے جو اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں مغربی ذرائع ابلاغ کے یکطرفہ پراپیگنڈے اور رپورٹنگ کو بیلنس کر سکتا ہے۔ جبکہ بہت سے لوگوں کا تاثر یہ ہے کہ اس بار امریکی حملوں اور افغانستان کے خلاف مغربی مہم کے بارے میں عالمی رائے عامہ کے ایک بڑے حصے نے جو احتجاجی روش اختیار کی ہے اور خاص طور پر عرب ممالک میں احتجاج و اضطراب بلکہ مزاحمت و انکار کے جو رجحانات ابھر رہے ہیں ان کے پس منظر میں بھی الجزیرہ ٹی وی کی کاوش کارفرما نظر آرہی ہے۔

میں نے الجزیرہ ٹی وی دیکھا ہے اور مجھے اس کی یہ روش پسند آئی ہے کہ اس نے مغربی چینلوں کی طرح تصویر کا صرف ایک رخ پیش کرنے کی بجائے تمام متعلقہ پہلوؤں کو اپنے ناظرین کے سامنے رکھا ہے۔ حتیٰ کہ جہاں عرب مجاہد اسامہ بن لادن کا انٹرویو پیش کیا ہے وہاں برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر کو بھی اپنے نقطۂ نظر کی وضاحت کا پورا موقع فراہم کیا ہے۔ اس کی متوازن پالیسی کی وجہ سے اس پر لوگوں کا اعتماد بڑھا ہے اور اسے بہت سے دیگر ٹی وی چینلز کے لیے خبروں اور رپورٹوں کے ماخذ کی حیثیت حاصل ہوگئی ہے۔

مولانا محمد عیسیٰ منصوری کی خوشی کی ایک وجہ اور بھی ہے کہ وہ اور راقم الحروف گزشتہ دس برس سے ’’ورلڈ اسلامک فورم‘‘ کے پلیٹ فارم سے چیخ و پکار کر رہے ہیں کہ آج کا دور میڈیا کا دور ہے جس میں میڈیا اور لابنگ جنگی ہتھیاروں کی حیثیت اختیار کر گئے ہیں۔ منصوری صاحب تو میڈیا کو کسی بھی جنگ کا ’’مقدمۃ الجیش‘‘ یعنی ہراول دستہ قرار دیتے ہیں۔ امر واقع بھی یہی ہے کہ اگر آج کی ترقی یافتہ اقوام کسی ملک یا قوم کے خلاف جنگ کا فیصلہ کرتی ہیں تو پہلے میڈیا اور پروپیگنڈا کی طاقت سے اسے دنیا کے سامنے مجرم کی حیثیت سے پیش کرتی ہیں اور پھر اسے بدنامی کے شکنجے میں پوری طرح کس کر ہتھیاروں کی ضرب لگانا شروع کرتی ہیں۔ خلیج کی جنگ میں ایسا ہی ہوا تھا اور اب بھی مغرب کا یہی ارادہ اور پروگرام تھا مگر الجزیرہ ٹی وی آڑے آگیا اور اس نے تصویر کا دوسرا رخ اس خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا کہ اب مغربی حکومتوں اور ذرائع ابلاغ کے لیے بھی یکطرفہ بات کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ حتیٰ کہ حکومت نے امریکی ریڈیو اور ٹی وی چینلز پر امارت اسلامی افغانستان کے امیر ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن کے انٹرویو نشر کرنے پر پابندی لگانا چاہی تو ان کے لیے اس پابندی کو قبول کرنا ممکن نہ رہا۔

اس سے قبل یہ خبر بھی سامنے آچکی ہے کہ امریکی وزارت خارجہ نے وائس آف امریکہ کو ہدایت کی ہے کہ طالبان حکومت کے امیر ملا محمد عمر اور دیگر طالبان لیڈروں کے بیانات نشر نہ کیے جائیں کیونکہ امریکی حکومت اسے مناسب نہیں سمجھتی۔ اس کے جواب میں وائس آف امریکہ کے صحافیوں نے اے آزادیٔ رائے اور اظہار رائے کے حق کے منافی قرار دیتے ہوئے اس پر احتجاج کیا ہے۔ الجزیرہ ٹی وی اور وائس آف امریکہ کے بارے میں امریکی حکومت کے اس طرز عمل سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ رائے اور اس کے اظہار کی آزادی کا نعرہ مغرب کے نزدیک کسی اصول یا اخلاق کے حوالہ سے نہیں بلکہ ہتھیار کے طور پر لگایا جاتا ہے۔ اور اس کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ جو بات مغرب کے حق میں ہو اسے پیش کرنے اور پھیلانے میں کوئی رکاوٹ نہ ہو لیکن جو بات مغرب کے مفاد کے خلاف ہو تو اس میں کلام ہے کہ اس کے اظہار کی آزادی ملنی چاہیے یا نہیں۔

ملا محمد عمر اور اسامہ بن لادن کو ہی لے لیجیے کہ اگر امریکی حکومت کے موقف کو وقتی طور پر تسلیم کر لیا جائے تو بھی ان کی حیثیت صرف ملزم کی بنتی ہے کہ امریکہ نے ان پر ایک فرد جرم عائد کی ہے۔ اسے نہ کسی عدالت میں ٹرائیل کیا گیا ہے، نہ کسی فورم پر اس کے ثبوت پیش کیے گئے ہیں، اور نہ ہی دوسرے فریق کو صفائی کا موقع دیا گیا ہے۔ لیکن امریکی قیادت نے یہ سارے مراحل از خود طے کر کے یعنی خود ہی مدعی، خود ہی گواہ اور خود ہی جج بن کر سزا دینے کے لیے کوڑے بھی برسانے شروع کر دیے ہیں۔ اور امریکہ بہادر کو اصرار ہے کہ جنہیں وہ ملزم قرار دے رہا ہے انہیں اپنی بات کہنے کا موقع نہ دیا جائے اور دنیا کا کوئی ریڈیو یا ٹی وی ان کا کوئی بیان یا انٹرویو نشر نہ کرے جس کے ذریعہ وہ اپنے موقف اور پوزیشن کی وضاحت کر رہے ہوں، اپنے اوپر لگائے گئے الزامات کی نفی کر رہے ہوں، اور اپنی صفائی پیش کر رہے ہوں۔

اب عالمی منظر بدل چکا ہے، لوگ دوسری طرف بھی دیکھ رہے ہیں، ان کی باتیں بھی سن رہے ہیں اور ان کے موقف اور مجبوریوں پر بھی غور کر رہے ہیں۔ اس لیے طاقت، طاقت او رمحض طاقت کے بل پر دنیا سے کوئی بات منوانا ممکن نہیں رہا۔ اور امریکہ بہادر کو یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ طاقت اور اسلحہ کے بل پر کسی کو وقتی طور پر دبا لینا، عارضی طور پر چپ کرا دینا، اور کچھ عرصہ کے لیے اٹھنے کے قابل نہ رہنے دینا تو ممکن ہے اور شاید افغانستان میں امریکہ ایسا کر بھی گزرے لیکن دباؤ، دھمکی اور تشدد کے ذریعہ سے کسی سے بات منوا لینا ممکن نہیں ہے۔ خلیج میں اس نے تجربہ کر لیا ہے جہاں اس نے عراق پر مسلسل بمباری کر کے اسے تباہ حال کر دیا اور جہاں اس کی فوجیں آج بھی براجمان ہیں۔ لیکن اس کے سب سے بڑے اتحادی ملک سعودی عرب کی طرف سے فوجی اڈے دینے سے انکار اور برطانوی وزیراعظم ٹونی بلیئر کو سعودی عرب کے دورہ سے روک دینے اور نیز چھوٹی سی ریاست قطر میں میڈیا کے اتنے بڑے مورچے کا قیام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ خلیج کے حوالہ سے اس کی پالیسیاں دولت کی لوٹ مار سے زیادہ آگے نہیں بڑھ سکیں اور اس خطہ میں اس کا مستقل ایجنڈا آج بھی سوالیہ نشان بنا ہوا ہے۔ اس لیے امریکہ اگر اس تجربہ کو وسطی اور جنوبی ایشیا میں بھی دہرانا چاہتا ہے تو بڑے شوق سے دہرائے لیکن یہ بات اسے نوٹ کر لینی چاہیے کہ نتائج کے لحاظ سے یہ تجربہ بھی پہلے سے مختلف نہیں ہوگا بلکہ اس کا دورانیہ بھی شاید اس سے بہت کم ہو۔

خیر بات الجزیرہ ٹی وی کی ہو رہی تھی کہ اس نے عالمی میڈیا کے محاذ پر مغربی ذرائع ابلاغ کی یکطرفہ مہم کا راستہ روک دیا ہے اور اب اس نے ایک ماہ بعد انگلش چینل کے آغاز کا اعلان کر کے ایک قدم اور آگے بڑھا دیا ہے جس پر ہم الجزیرہ ٹی وی کے کارپردازان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں اور دعاگو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی اس خدمت کو قبولیت سے نوازے اور اس عظیم مورچے کو نظر بد سے محفوظ رکھتے ہوئے عالم اسلام اور عرب دنیا کی زیادہ دیر تک خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، آمین یا رب العالمین۔

درجہ بندی: